New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 02:05 PM

Urdu Section ( 29 March 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Khuda Bakhsh Oriental Library, Patna's founder, Khan Bahadur, Maulvi Khuda Bakhsh Khan خدا بخش اورینٹل لائبریری پٹنہ کے بانی خان بہادر مولوی خدا بخش خان


 

 

29 مارچ ، 2015

دبستان عظیم آباد کی عظمت کا بلند ترین مینار .... یہ عنوان اگر کسی فردِ وحید پر صادق آتاہے تو وہ ہیں ، مشرق دنیا کے مہتم بالشان کتب خانہ ‘ خدا بخش لائبریری پٹنہ’ کے بانی مولوی خدا بخش خان ۔ یہ محض ایک لائبریری نہیں، ایک سر چشمہ ہے علوم و فنون  اور دانش و حکمت کا جو سوا سو برسوں سے جاری ہے۔ مولوی صاحب کا شمار تاریخ کی ان غیر معمولی شخصیات میں ہوتا ہے جن کی حیات ، عمل اور کارنامے دوام حاصل کرلیتی ہیں ، مولوی خدا بخش کی شخصیت نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی ملت اسلامیہ کے قابل فخر و ناز ہے۔ ان کی خدمات متقاضی ہیں کہ ہم ان کا ذکر بار بار کریں ، نصاب کی کتابو ں میں شامل کر کے نئی نسل کو آگاہ کریں، شعر و ادب کی شخصیات کی طرح تحقیق کا موضوع بنائیں ۔ ہمارایہ عمل اس مقدس فریضہ کی ادائیگی میں ایک قدم ہوگا جو مدینۃ العلم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت اسلامیہ پر نافذ فرمایا ہے کہ ‘‘ علم کا سیکھنا ہر مسلم مرد عورت پر فرض ہے۔’’

دبستان عظیم آباد کی سات صدیوں سے زیادہ طویل وقیع تاریخ ایک لا محدود کہکشاں ہے جس میں انگشت ماہ و انجم اپنی تا بانیوں سے مختلف ادوار کو روشن کررہے ہیں ۔ علم و آگہی کی اس نورانی انجمن میں مولوی خدا بخش اپنی نرالی شان اور انفرادی تنویر کےساتھ سب سے الگ ،سب سے نمایاں اور ممتاز نظر آتے ہیں، چہ جائیکہ وہ کوئی بڑے شاعر تھے ، نہ ادیب او رنہ دانشور ، نہ کسی ریاست کے حکمراں ، نہ سیٹھ نہ ساہوکار، البتہ علم سےمحبت، ملت کے درد اور ایمان کی دولت نے انہیں وہ قوت بخش دی اور ایسا عظیم کار نامہ کر گئے جس کی توفیق اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں کو ہی عطا فرماتاہے۔

مولوی خدا بخش خاں کو علم و ادب سے محبت اپنے والد جناب محمد بخش خاں سے وراثت میں ملی ۔ محمد بخش خاں کے بارےمیں مذکور ہے کہ ان کے جدِ اعلیٰ قاضی ہسبۃاللہ صدیقی علمائے اسلام کی اس کمیٹی کے رکن تھے جو فتاویٰ عالمگیری کی تدوین کے لئے حضرت شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی سربراہی میں شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کی تھی ۔ عالمگیر کے انتقال کے بعد زمانۂ زوال و انتشار میں قاضی صاحب دہلی سے ترک وطن کر کے بہار پہنچے اور بمقام اوکھی ( چھپرہ ضلع سارن) میں سکونت اختیار کی تھی ۔

خدا بخش کے والد اور ان کا کنبہ اس وقت چھپرہ میں مقیم تھا، جہاں 2 اگست 1842 ء کو خدا بخش کی ولادت ہوئی ۔ پیدائش کے تھوڑے ہی دن بعد ان کا خاندان بانکی پور منتقل ہوگیا ۔ یہاں والد بزرگوار کی نگرانی کےمطابق ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ۔ محمد بخش اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ماتحت چلنے والے عدلیہ نظام میں وکیل تھے ۔ ظاہر ہے کہ وہ انگریزوں کے قوانین کے ماہر تھے ۔ غدر سے تین سال قبل 1854 ء میں پٹنہ کے انگریز ڈسٹرکٹ جج مسٹر ٹراورس سے محمد بخش صاحب کا دوستانہ تعلق تھا، انہوں نے بچے خدا بخش کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے اسے پٹنہ ہائی اسکول میں داخل کرانے کا مشورہ دیا ۔ خدا بخش کی اسکولی تعلیم اسی اسکول میں جاری تھی کہ 1857 ء کا انقلاب برپا ہوگیا، جس نے تقریباً سارےملک کو اپنی لپیٹ میں لےلیا ۔ 1859 ء میں پٹنہ ہائی اسکول نیست و نابود ہوگیا تو ان کے روشن خیال والد نے تعلیم پوری کرنے کےلیے کلکتہ بھیج دیا ۔ وہاں نواب امیر علی خاں نے سرپرستی کی اور اپنے گھر میں بڑی محبت سے رکھا ۔ تین سال کلکتہ میں رہ کر انہوں نے 1861ء میں انٹرنس پاس کیا ۔ وہ کلکتہ یونیورسٹی میں داخل ہوکر آگے تعلیم جاری رکھناچاہتے تھے لیکن کلکتہ کی آب و ہوا ان کی صحت کےموافق نہیں تھی اور وہ اکثر بیمار رہنے لگے ۔ مجبوراً وہ بانکی پور واپس آگئے اور قانون پڑھنےلگے ۔ اس زمانہ میں لاء میں داخلہ کے لیے گریجویشن کی شرط نہیں تھی، وہ قانون کی تعلیم میں مصروف ہی تھے کہ ان کے والد کی صحت اس طرح خراب ہوئی کہ وہ جسمانی طور پر معذور ہوگئے ، وکالت کے جو آمدنی تھی مسدود ہوگئی، گھر بد حالی کاشکار ہوگیا ، لیکن ان صبر آزما حالات میں بھی خدا بخش نے ہمت نہیں ہاری ، وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دوسرے محنت سے کام کرکے کسی نہ کسی طرح گھر کا خرچ چلاتے رہے اور بالآخر انہوں نے قانون کی سند حاصل کرلی ۔ سب سے پہلے انہو ں نے نائب منصف کی خالی جگہ کے لیے درخواست دی جس میں کامیابی نہیں ملی ۔ لیکن کچھ دن بعد ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں پیشکار کے منصب پر ان کا تقرر ہوگیا ۔ مگر کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ انہیں انگریز ڈسٹرکٹ جج سے نا اتفاق کی بنا پر ملازمت چھوڑنی پڑی ، اس کےبعد انہیں ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز کی ملازمت ملی لیکن حالات ایسے ہوئے کہ یہ نوکری بھی ترک کرنی پڑی ۔ کئی برس طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہوئے آخر 1868 میں انہوں نے پٹنہ عدالت میں وکالت شروع کی ۔ اس پیشے میں ان کی لیاقت او رمحنت رنگ لائی ، ایک کے بعد ایک مقدمات میں کامیابی سے دور دور تک شہرت ہوگئی اور روپے کی بارش ہونے لگی، ضلع کے نامور وکیلوں میں ان کا شمار ہونے لگا ۔

خدا بخش کے والد محمد بخش ایک صاحب علم و فضل انسان تھے ، ان کے پاس 1400 نایاب مخطوطے موجود تھے جو انہیں اپنے بزرگوں سے وراثت میں ملے تھے ۔ انہوں نے اس خاندانی وراثت کی پوری زندگی حفاظت کی ۔ وہ ان کتابوں کی چھوٹی سی لائبریری کو کتب خانہ محمدیہ کہتے تھے جن سے کوئی بھی استفادہ کر سکتا تھا ۔ دراصل وہ کتب خانہ محمدیہ کے نام سے ایک بڑی لائبریری بنانے کا عزم رکھتے تھے ۔ زندگی کےآخری ایام میں انہوں نے بیٹے خدا بخش کو وصیت کی کہ ‘‘ ان کتابوں میں اضافہ کر کے ایک کتب خانہ قائم کر کے قوم کو وقف کرناان کا خواب تھا جو پورانہ ہوسکا، پیارے بیٹے! اگر تم میری یہ خواہش پوری کرسکو تو میری روح کو سکون ملے گا ۔’’

والد کے انتقال کے بعد سعادت مند بیٹے نے باپ کی وصیت کو زندگی کامقصد بنا لیا ۔ خدا بخش نے وکالت کے میدان میں زبردست کامیابی حاصل کی ۔ وہ ہزاروں روپیہ کمانے لگے، اسی کے ساتھ کتابیں جمع کرنے کاشوق بھی جوان ہوتا گیا ۔انہوں نے جو بھی اچھی کتاب جہاں اور جس قیمت پر ملی خرید لی اور والد کی خاندانی کتابوں کاذخیرہ بڑھتا چلا گیا ۔ 1880 میں وہ پٹنہ کی عدالت میں سرکاری وکیل مقرر ہوئے، ان کی بےپناہ لیاقت، سماجی و ملّی خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے انہیں ‘ خان بہادر’ کا اعزاز دیا ۔ یہ اس زمانے میں کسی بھی ہندوستانی کے لیے بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا ۔ خدا بخش ایک پابند شریعت اور عبادت گزار انسان تھے، ان کی دینی زندگی اور اسلامی وضع قطع کی وجہ سے ہی انہیں لوگ مولوی صاحب کہہ کر مخاطب کرتے تھے ۔

خان بہادر مولوی خدا بخش نے 27 برسوں تک وکالت کی اور اس پیشے میں کامیابی کے پرچم نصب کردیئے ۔ انہوں نے خوب دولت کمائی، لیکن جو کچھ کمایا کتابوں پر صرف کردیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب غدر کے ہنگاموں میں اودھ اور دہلی کے وہ عظیم الشان کتب خانے برباد ہوچکے تھے جن میں مغل سلاطین نے علم و حکمت کی انمول کتابیں جمع کی تھیں، مسلمانوں کی یہ سب سے بڑی علمی ، تہذیبی اور دینی مصوری اور خطاطی کے شاہکار نمونے تلف ہوگئے ۔ زیادہ تر انگریزوں نےلوٹ کر اپنے ملک بھیج دیئے کچھ ہمہ شمہ اور چور ڈاکوؤں کے ہاتھ لگیں ۔ ان عظیم الشان علمی خزانوں کی تباہی کا خدا بخش کے ذہن پر گہرا اثر پڑا تھا ۔ والد مرحوم کی وصیت کے ساتھ ساتھ یہ ملّی جذبہ بھی شدید تر ہوتا گیا ۔ اب انہوں نے ٹھان لیا تھا کہ جیسے بھی ہو وہ ایک ایسا عظیم الشان کتب خانہ قائم کریں گے جس میں قرآن کریم ، تفاسیر و تراجم ، سیرت مطہرہ، اسلامی تاریخ ، فقہ، شریعت اسلامی، فلسفہ، صوفیا و صالحین سےمتعلق اہم کتب کےعلاوہ دیگر علوم وفنون کے نادر مخطوطے جمع ہوں گے اور 1890 ء میں ان کے ارادے کی تکمیل ہوگئی ۔ انہوں نے 80 ہزار روپیہ خرچ کر کے لائبریری کی شاندار دو منزلہ عمارت تعمیر کرائی ۔ اب تک ہزار ہاکتابوں کا ذخیرہ جمع ہو چکاتھا جس پر لاکھوں روپیے صرف ہوچکے تھے ۔ کتب خانہ پورے اہتمام کےساتھ قائم ہوگیا، جس پر انہو ں نے اپنی زندگی کی ساری پونجی صرف کردی تھی ۔

14 جنوری، 1891ء کو خان بہادر خدا بخش صاحب نے اپنی عمر بھر کی محنت سے تیار کتب خانہ قانون وقف نامہ کے ذریعہ باقاعدہ عوام کے لیے وقف کردیا ۔ 5 اکتوبر 1891 کو اور ینٹل پبلک لائبریری کے طو رپر اس کا افتتاح سر چارلس کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔ وقف کی شرائط میں یہ التزام تھا کہ لائبریری کی تولیت اور انتظامیہ کے سربراہ وہ خود ہوں گے اور ان کے بعد ان کے ورثا یہ ذمہ داری نبھاتے رہیں گے ۔ ان کی غیر معمولی خدمت کے اعتراف میں انہیں انگریز حکومت نے ‘ سی آئی ای’ کے خطاب سےسرفرام کیا ۔ یہ خطاب اس عہد میں راجوں نوابوں او ربہت بڑی شخصیتوں کو دیا جاتا تھا ۔

وکالت اور زندگی کی مصروفیات کےساتھ کتابوں سے عشق جنون کی حد تک بڑھتارہا ۔ خان بہادر خدا بخش کی لیاقت اور کامیابیوں کی شہرت نظام دکن تک پہنچی ، نظام نےانہیں تین سال کی مدت کے لیے ریاست کے چیف جسٹس کے عہدے کی پیشکش کی جسےانہو ں نے قبول کرلیا ۔ اپنے انصاف کےلیے وہ دکن کے خواص و عوام میں مشہور ہوئے ۔ عہد رسالت کی مدت ختم ہونے پر آپ پٹنہ واپس آگئے ۔

کتابیں جمع کرنے کےسلسلے میں نواب رامپور ان کے حریف ثابت ہوئے تھے، وہ انگریزوں کے پسندیدہ اور وافادار والی ریاست تھے، ان کے پاس دولت کی کمی نہیں تھی ، وہ اپنی نامور ی کے لیے یہ کررہے تھے ، جب کہ خدا بخش نیک نیتی سےدین اور ملت کی خدمت کے لیے کمر بستہ تھے ۔ انہیں اپنی مقدس مہم کے دوران بار ہا یہ ادراک ہوا کہ ان کے نیک عزائم کے ساتھ تائید غیبی شامل ہے۔ انہیں محمد مکی نامی عربی مخطوطات کاماہر عالم تھا، مولوی خدا بخش نے ان صاحب کو پچاس روپے ماہوار اور کمیشن کے عوض ملازم رکھ لیا جس کی ڈیوٹی تھی کہ وہ تمام ممالک اسلامیہ میں نادر کتابیں تلاش کر ے او رکتب خانے کے لیے حاصل کرے ۔ یہ بہت بڑی کوشش تھی جس سینکڑوں نایاب اور لاثانی کتابیں ان کو حاصل ہوئیں ۔ انہوں نے پورے ملک میں یہ اعلان کردیا تھاکہ جو بھی کوئی کتاب فروخت کرنے کے لیے پٹنہ لائے گا اس کی خرید ہویا نہ ہو ، کتب خانہ انہیں دو طرفہ کرایہ آمد و رفت ادا کرے گا ۔ یہ ترکیب بہت کارگر رہی، دور دراز سے کتابیں لے کر پٹنہ پہنچنے والوں کا تانتا لگ گیا ۔ بہت سےایسے واقعات بھی مولوی صاحب کو پیش آئے جنہیں انہو نے صد فیصد غیبی امداد پر محمول کیا ۔

ایک دن حیدر آبا دکے بازا رسے گزر رہے تھے، ایک جگہ انہوں نے کتابوں کا ڈھیر لگا دیکھا، وہ گاڑی سے اُتر کر وہاں پہنچے اور پورے ڈھیر کی قیمت دریافت کی، وہ ایک چالاک کباڑی تھا، اس نے کہا، ویسے تو ان کتابوں کو میں تین روپے میں بیچ ڈالتا لیکن آپ قدر دان لگتے ہیں اس لیے بیس روپے میں لوں گا، مولوی صاحب نے بیس روپے وہ ڈھیر خرید لیا ۔ اس میں ایسی اہم کتابیں تھیں کہ نظام حیدر آباد نے چار سو روپیہ میں خرید ناچاہا لیکن انہوں نے معذرت کرلی ۔

پٹنہ کے انگریز ڈسٹرکٹ جج مسٹر ایلیٹ نے مولوی خدا بخش سے ایک نایاب مخطوطہ ’ قصا ئد کمال الدین اصفہانی’ عاریۃً مانگ لیا، بعد میں ان کی نیت خراب ہوگئی اور کئی بار تقاضہ کرنے کے باوجود واپس نہیں کیا ۔ ایک دن جب جج صاحب کو ولایت روانہ ہونا تھا ، انہوں نے پنی پسندیدہ کتابیں ایک صندوق میں بند کیں اور باقی کتابیں دوسرے صندوق میں بھر کر وہیں چھوڑ دیں ۔ وہ جب ولایت پہنچے تو معلوم ہواکہ اصل کتابوں کا صندوق ہندوستان میں ہی رہ گیا اور بیکار کتابیں لے آئے ۔ وہ اصل کتابیں خان بہادر کے پاس فروخت ہونے پہنچیں اور ان کی کتاب بمعہ اعلیٰ ترین کتابوں کے پھر کتب خانہ کی رونق بن گئی ۔

ایک بات کتب خانہ سے بہت سی کتابیں چوری ہوگئیں ۔ چور ایک جلد ساز تھا جو کتابیں فروخت کرنےلاہور پہنچا اور ایک کتب فروش کو اونے پونے بیچ آیا ۔ اس تاجر کتب نے یہ سوچ کر کہ پٹنہ کے خان بہادر صاحب ان کی اچھی قیمت دیں گے لہٰذا وہ کتابیں لے کر پٹنہ آیا ۔ مولوی صاحب نے مناسب قیمت دے کر اپنی کتابیں خرید لیں، انہیں چور کا پتہ بھی لگ گیا جسے کیے کی سزا ملی ۔

عظیم تاریخ داں یدوناتھ سرکار اس دَور کے ان تمام ملکی و غیر ملکی اسکالرس میں شامل تھے جنہوں نے خدا بخش صاحب کی زندگی میں اس عظیم الشان لائبریری سے استفادہ کیا او رمولوی صاحب سے جن کی رسم و راہ رہی ، یدوناتھ سرکار نے خدا بخش سے ان کی وہ باتیں اپنے مضمون میں درج کی تھیں جن میں مولوی صاحب نے اپنے دو خوابوں کا ذکر کیا ہے ۔ یہ یدوناتھ سرکار کا بیان ہے لیکن مولوی خدا بخش کے بیان اور اپنے آقاومولیٰ کے نام پاک کی وابستگی پر ہم ان باتوں کو صد فیصد درست او رسچی مانتے ہیں ۔ یدوناتھ سرکار لکھتے ہیں کہ مولوی خدا بخش نےانہیں بتایا کہ ‘‘ شروع میں قلمی کے نسخے بہت دھیرے دھیرے آتے تھے، لیکن ایک رات ایک اجنبی خواب میں میرے پاس آیا، اور بولا کہ اگر تم کتابیں چاہتے ہو تو میرے ساتھ آؤ، میں اس کے پیچھے پیچھے چلا او رلکھنؤ کے امام باڑہ کی طرف ایک پرشکوہ عمارت میں پہنچ گیا، اور پھاٹک پر اس اجنبی کا انتظار کرنےلگا جو میرے ساتھ آیا تھا اور اندر چلا گیا تھا ، کچھ دیر بعد وہ اجنبی باہر آیا، مجھے ایک کمرے میں لے گیا، جس میں ایک نقاب پوش اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ اس اجنبی نے میری طرف اشارہ کر کے کہا ‘‘یہ شخص قلمی نسخے لینے آیا ہے ۔’’ نقاب پوش نے جواب دیا ‘‘ انہیں سب دے دو۔’’اس کےکچھ عرصہ بعد ہی میرے پاس قلمی نسخے بے تحاشہ آنے لگے ’’۔

اس خواب کو خدا بخش کی زبان سے بیان کر چکنے کے بعد ڈاکٹر سرکار نے قوسین میں لکھا ہے کہ رویت پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی تھی ۔

مولوی خدا بخش کا دوسرا خواب ڈاکٹر سرکار کے مضمون میں اس طرح آیا ہے : ‘‘ اس شب میں نے خواب میں دیکھا کہ میری لائبریری کی بغل کی گلی میں بہت سارے لوگ جمع ہیں، جب میں اپنے گھر سےباہر آیا تو لوگ مجھے دیکھ کر چلانے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی لائبریری میں تشریف لائیں ہیں اور آپ انہیں  لائبریری دکھانے کے لیے وہاں گئے بھی نہیں، میں جلدی سےقلمی نسخوں کے کمرے میں گیا ۔ میں جب وہاں پہنچا تو آپ تشریف لے جاچکے تھے ، لیکن حدیث کے دو قلمی نسخے ٹیبل پر کھلے پڑے تھے ، لوگوں نے مجھ سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی حدیثیں مطالعہ فرمارہے تھے ۔’’

( مقالہ : محمد بدیع الزماں، فکر و نظر ، علی گڑھ، بحوالہ مولوی خدابخش : حیات اور کارنامے شائع کردہ خدا بخش اورینٹل لائبریری ، ایڈیشن 2001، ص 152)

خدا بخش اورینٹل لائبریری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مولوی خدا بخش کی زندگی میں ہی یورپ کے کئی بڑے ماہرین علومِ مشرقیہ نے وہاں آکر استفادہ کیا ، لارڈ کرزن جب لائبریری کامعائنہ کرنے پٹنہ آیا تو اس نے خوشی اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا :

اگر فردوس برروئے زمیں است

ہمیں است ہمیں است و ہمیں است

علامہ شبلی نعمانی دو بار پٹنہ آئے او رلائبریری کے نادر و نایاب تاریخی مخطوطوں اور دستاویزوں کامطالعہ کیا ۔ ‘ دبدبہ سکندری ’ رام پور 1891 ء میں شائع اپنے تاثرانی مضمون میں انہوں نے لکھا ہے :

‘‘ ممالک اسلامیہ میں جو مقامات اسلامی تصنیفات کے مخزن سمجھے جاتے ہیں وہ حرمین قاہرہ ، دمشق اور قسطنطنیہ ہیں ۔ قاہرہ کے کتب خانہ ‘ خد یو’ کی فہرست  تین جلدوں میں شائع ہوئی ہے ۔ قسطنطنیہ میں کم از کم 60 کتب خا نے ہیں ، جن میں سے اکثر کی فہرستیں ‘ کشف الظنون ’ ( مطبوعہ لندن) کے اخیر میں ہیں ۔ حرمین کتب خانے ہم نے خود دیکھے ہیں اور ان سےفائدہ بھی اُٹھایا ہے۔ ہندوستان میں بھی چند عمدہ کتب خانے ہیں ۔ اگر چہ ان کتب خانوی کی حیثیتیں اور خصوصیتیں مختلف ہیں، اس وجہ سے ان میں موازنہ نہیں ہوسکتا تاہم اجمالاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولوی خدا بخش کاکتب خانہ جس کا ہم ذکر کررہے ہیں اپنی خصوصتوں کے لحاظ سے روم، مصر، عرب اور ہند کے نامور کتب خانوں کی صف میں جگہ پانے کےقابل ہے ۔’’

خدا بخش اورینٹل لائبریری کے خزانہ میں بیش بہااضافہ اس عہد کے بہت سے رؤسا اور اہل علم اصحاب کے تعاون سے بھی ہوا جنہوں نے اپنے ذاتی کتب خانے لائبریری کو تحفے میں عطا کردیئے ۔ لائبریری میں دنیا کی بہترین کتابوں کا شاندار کلیکشن دیکھ کر برٹش میوزیم نے ایک خطیر رقم کے عوض خریدنا چاہا تھا ، جس پر مولوی صاحب نے کہا تھا ‘‘ میں ایک غریب آدمی ہوں ، انہوں نے جس رقم کی پیشکش کی تھی وہ تو ایک غیرمعمولی رقم تھی لیکن میں پیسے کی خاطر اس سے دستبردار نہیں ہوسکتا ہوں جس کے لیے میرےباپ نے او رمیں نے اپنی زندگیاں وقف کردیں ’’۔ یہ کہتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگئے تھے ۔

اس لائبریری کی یہ تاریخ ہے کہ جس دن سے مولوی خدا بخش کے والد محمد بخش نے اپنی نجی کتابوں کے ذخیروں سے چھوٹی سی لائبریری شروع کی تھیں مشاہر عہد کی آمد شروع ہوگئی تھی ۔ بعد میں خدا بخش لائبریری کے قیام کے بعد تولا رڈ ڈلٹن ، لارڈ منٹو،علامہ شبلی، سر ظفر اللہ  ، لا رڈ ریڈنگ جون سمن، لارڈ ارون، جی سی بوس، گاندھی جی ، نواب حبیب الرحمٰن شیروانی ، راجہ محمود آباد، سی وی رمن، لارڈ ماؤنٹ بیٹن جیسی شخصیات نے بانی کتب خانہ کو ہدیۂ تبریک پیش کیا ۔ مسٹر کیمپ بیل ان کے قریبی دوست تھے ، انہیں کی وساطت سے سر چارلس لائل لائبریری آئے تھے ۔ سر چارلس نے ہی 1891 میں لائبریری کا افتتاح کیا تھا کیمپ بیل عربی ، فارسی اور اُردو کے ماہر تھے ۔ پنڈت جواہر لعل نہرو 1953 میں لائبربری دیکھنے پٹنہ آئے تھے، انہوں نے کہا ‘‘ فن کے ان حسین شہ پاروں کو دیکھ کر عجیب خوشی کا احساس ہوا، انہوں نے ( مولوی خدا بخش نے ) ہندوستان کی تاریخ کے ایک دور کو جاوداں کردیا ہے’’۔

خدا بخش لائبریری میں اسلامی علوم، طب یونانی، تذکرے ، تصوف ، تقابل ادیان، عہد وسطیٰ کی تاریخ ، جنوبی، مشرقی تاریخ، قرون وسطیٰ کے سائنسی علوم، تحریک آزادی اور قومی یکجہتی کا ادب، اُردو ، فارسی اور عربی ادبیات و موضوعات ہیں جو اس کےدائرہ اختصاص میں آتے ہیں ۔ اس کا خطی ذخیرہ بیس ہزار سے اوپر ہے جب کہ مطبوعات تقریباً دو لاکھ ہیں ۔ مزید برآں مجلد رسائل تقریباً ساڑھے سینتیس ہزار ہیں۔ شہنشاہ اکبر، تغلق، شاہجہاں اور شاہ عالم کے دور کے آٹھ سو سکے بھی یہاں موجود ہیں ۔ان کے علاوہ مائکرو فلمز ،مائکرو فشز ، سلائڈز، ویڈیو اور آڈیو کیسٹس خاصی تعداد میں ہیں ۔ یہاں کئی نادر اُصطرلاب بھی محفوظ ہیں ۔1965 ء میں مخطوطات 8487 اور مطبوعہ کتابیں 41411 تھیں جب کہ 13 مارچ 1999ء تک قلمی ذخیرہ کی تعداد 21101 اور مطبوعات 195538 تھیں ۔ 34 سال کے عرصے میں کتابوں کی تعداد میں ایک غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

لائبریری کا قلمی ذخیرہ ہی اس کا طرۂ امتیاز ہے۔ بعض مخطوطات تو یہاں ایسے نادر و نایاب ہیں کہ دنیا میں کہیں اور نہیں ملتے ۔ شاہوں او رنوابوں کےاہم مخطوطات اس لائبریری میں موجود ہیں ۔ عہد و سطیٰ کے بعض وہ مخطوطات جن پر باشاہوں کے دستخط او رمہریں ثبت ہیں یہاں کی زینت ہیں ۔ اکبری دور کے دلکش فن پارے اور خطاطی کے حسین نمونے ، ایرانی ، کشمیری اور راجستھانی دبستانِ فن کی تصویریں دیکھ کر بے ساختہ واہ نکلتی ہے ، کہاں تک ان کا ذکر ہو ۔دفتر کے دفتر سیاہ ہوجائیں مگر ان کا قصہ تمام نہ ہوگا ۔ صرف چند نو ادرکا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے ۔

یہاں قرآن شریف کے بعض بہت ہی نایاب نسخے ہیں ۔ خلافت عباسیہ کا ایک بے حد مشہور خطاط یا قوت مستعصمی کے ہاتھ کا لکھا ہوا نہایت ہی خوبصورت قرآن شریف کا نسخہ جس پر اس کے دستخط ہیں اور 668 ھ درج ہے ۔ یہ خطاطی کابہترین نمونہ ہے۔

قرآن شریف کا ایک بہت بڑی تقطیع پر لکھا ہوا نہایت ہی مرصع اورمطلانسخہ ، شروع کے دو صفحات بے حد مزین ہیں ۔ بین السطور فارسی میں ترجمہ خط نستعلیق میں ہے۔

قرآن شریف کا ایک قدیم نسخہ جو خط کوفی میں ہے ، جگہ جگہ سے حروف اُڑگئے ہیں ، اس میں اعراب نہیں ہیں ۔ اس کے علاوہ خط کوفی میں سورۂ ابراہیم کی صرف تین آیتیں ہرن کی کھال پر لکھی ہوئی ہیں اور فریم کی ہوئی ہیں ۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں صحابہ کے زمانہ کے لکھے ہوئے ہیں ۔

ایک قدیم ترین نسخہ الر سالۃ القشر یہ ہے جس کی کتابیں مصنف کی زندگی میں ہوئی ۔ اس پر 438ھ درج ہے ۔ فارسی میں بہت نایاب نسخے یہیں محفوظ ہیں۔

تاریخ خاندان تیموریہ ، نستعلیق میں لکھا ہوا دنیا کا واحد نسخہ ہے ۔ یہ تیمور سے اکبر کےبائیسویں سال جلوس تک کی تاریخ ہے۔ اکبر کے دربار کے مشہور مصوروں کی بنائی ہوئی ایک سو بتیس تصویریں اس میں شامل ہیں ۔ مصوری کا ایک نے مثال نمونہ ۔ ہر تصویر کے نیچے تصویر بنانےوالے اور رنگ بھرنے والے کا نام درج ہے۔

‘ بادشاہ نامہ ’’ دو جلدوں میں ہے ۔ یہ شاہجہاں کی مکمل تاریخ ہے ۔ پچیس انتہائی خوبصورت تصویروں پر مشتمل ہے ۔ مصوری کا انمول نمونہ ہے ۔ اس میں چند عمارتوں کی تصویریں بھی شامل ہیں ۔آخری تصویر میں شاہجہاں کا جنازہ تاج محل جاتا دکھایا گیا ہے ۔ جارج پنجم اور ان کی ملکہ 1911 میں جب دہلی دربار میں آئے تو ان کے ملاحظہ کے لیے یہ پیش کیا گیا اور ان دونوں نے اس پر دستخط کیے ۔

 ‘ شہنشاہ نامہ ’ فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد ثانی کی تاریخ ہے۔ شاہجہاں کے زمانے میں یہ نسخہ ہندوستان پہنچا ۔ ا س پر مغل بادشاہوں اور شہزادوں کے اتنے دستخط ہیں کہ یہ صفحہ بھر گیا ہے۔ اس پر شاہجہاں کی بیٹی جہاں آرا بیگم کے بھی دستخط ہیں جو کسی اور نسخے پر نہیں ملتے ۔

محمود غزنوی کی مدح میں فردوسی کے ‘ شاہنامہ ’ کا بہت ہی خوبصورت مصور قلمی نسخہ کا بل و کشمیر کے گورنر علی مراد خاں سے شاہجہاں کے حضور اسے بطور تحفہ پیش کیا تھا ۔

 جامی کی مشہور کتاب ‘ یوسف زلیخا ’ جسے عبدالرحیم خان خاناں نے بیس ہزارو روپے خرچ کر کے جہانگیر کے لیے تیار کرائی تھی۔

‘ دیوان حافظ ’ جو خاندان مغلیہ میں فال نکالنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، اس پر ہمایوں او رجہانگیر کے تحریر اور دستخط ہیں۔

‘سفینۃ الاولیا’ دارالشکوہ کی تصنیف ان کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔

جہانگیر کا ‘جہانگیر نامہ’ نایاب کتا ب ہے جسے انہوں نے اپنے دربار کے سب سے بڑے کاتب سے لکھوا یا اور گو لکنڈہ کے بادشاہ قطب شاہ کو تحفتاً دیا تھا ۔ اورنگ زیب کے زمانے میں جب گولکنڈہ فتح ہوا تو ان کے بیٹے شہزادہ سلطان محمد کے قبضے میں یہ کتاب آئی، اس کے پہلے صفحے پر سلطان محمد کے دستخط ہیں۔ اس کاعکسی ایڈیشن مع مقدمہ لائبریری سے شائع ہوگیا ہے۔

الزہراوی کی ‘ کتاب التصریف ’ 1190 ء میں لکھی گئی ۔ یہ عمل جراحت پر مصور نسخہ ہے۔ اس میں جراحت کے جو آلات دکھائے گئے ہیں وہ آج بھی استعمال کیے جاتے ہیں ۔

مصحفی کے آٹھویں دیوان کا واحد نسخہ صرف خدا بخش لائبریری میں دستیاب ہے۔

شریمد بھگوت گیتا پران او رمہا بھارت کے فارسی تراجم محفوظ ہیں ۔ پالی او رسنسکرت میں کئی سو بھوج پتر موجود ہیں ۔ ان کے علاوہ کثیر تعداد میں مشاہیر کے خطوط بھی محفوظ ہیں۔ مثلاً  علامہ اقبال ، ڈاکٹر راجندر پرساد، مولانا ابوالکلام آزاد، اکبر الہٰ آبادی ، محمد علی جوہر ، ڈاکٹر ذاکر حسین اور جوش ملیح آبادی کے خطوط اُردو زبان میں دستیاب ہیں ۔ مطبوعہ ذخیرہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے ۔ انیسویں صدی کے ربع ثالث کے بعض اردو کے پرچے اور اخبارات موجود ہیں ۔ اردو ، انگریزی ، عربی اور فارسی میں تذکرے سینکڑوں کی تعداد میں دستیاب ہیں۔ قرآنیات ، حدیث وفقہ پر بڑی تعداد میں کتابیں لائبریری کی زینت میں اضافہ کررہی ہیں ۔( حبیب الرحمٰن چغاتی ، سابق ڈائریکٹر خدا بخش لائبریری)

خدا بخش اورینٹل لائبریری کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت ہند نے 1969 میں پارلیمنٹ میں قانون بنا کر اس کو قومی ادارہ کی حیثیت دے دی ۔ قانون  کے تحت یہ ایک خود مختار ادارہ ہے جس کے چئیر مین ریاست بہار کے گورنر ہوتے ہیں ۔ لائبریری میں 20 ہزار سے زائد عربی فارسی کے قدیم مخطوطات اور ڈھائی لاکھ کے قریب مطبوعات محفوظ ہیں ۔ لائبریری میں وقت کےساتھ مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ چھوٹی بڑی لائبریریوں کی کتابیں بھی یہاں کےذخیرے میں شامل کی جاتی رہی ہیں ۔ اُردو ادب کی نامور شخصیات کےکلیکشن خاص طور پر اُردو طلبا اور محققین کے لیے گراں بہا تحفہ کی حیثیت رکھتے ہیں، جیسے ‘ بہار شریعت ’ کا مدرسہ عزیز یہ کلیکشن ، پٹنہ کی درگاہ سلیمانیہ کا کلیکشن ، پروفیسر اختر اورینوی کا کلیکشن ، آل انڈیا ریڈیو پٹنہ کاکلیکشن ، مولانا سعید اکبر آبادی کا کلیکشن ،اے آر قدوائی کا کلیکشن وغیرہ ۔ ادارہ میں مطالعہ و تحقیق کے لیے یہاں آنے والوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔ محققین کو ان کے مطالبے پر ہر طرح کی کتابوں کی مائکرو فلم اور فوٹو اسٹیٹ کایہاں فراہم کرنے کا اہتمام سالہا سال سے کیا جارہا ہے ، لیکن کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد یہ خدمت بہت آسان ہوگئی ہے۔ساتویں آٹھویں دہائی میں لائبریری کو عالمی معیار کے مطابق ترقی یافتہ بنانے میں لائبریری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد رضا بیدار اور مسٹر حبیب الرحمٰن چغانی کے تاریخ ساز کردار ادا کیا ۔ ڈاکٹر عابد رضا بیدار نے بطور ڈائریکٹر اپنی 25 سالہ مدتِ کار کے دوران تصوف، طب، قرآنیات، ہندی الاصل مذاہب کے علاوہ برّ صغیر میں اردو مخطوطات پر تاریخ ساز سیمینار منعقد کیے ۔ انہوں نے اردو میں دانشوری، درسی کتابوں میں کھلواڑ ، مخطوطات کی تدوین ، ہندوستان سے اُپجے مذاہب او رہند ازبیک تاریخی رشتے کے موضوع پر بے حد اہم مذاکرات کرائے ۔ انہوں نے اپنے تحقیقی کاموں کے لیے استنبول ، سعودی عرب، پیرس، تاشقند، کراچی، لینن گراڈ ، مانچسٹر، باکو، اصفہان، شیراز ، انقرہ، قونیہ ، تہران ، مشہد ، دبئی، لندن ، آکسفورڈ ، ماسکو، قاہرہ او رگلاسگو وغیرہ شہروں کا سفر کیا جہاں انہوں نے عالمی سطح کے علمی اجتماعات میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ وہاں کے درسگاہوں اور کتب خانوں کا جائزہ لیا اور قیمتی تحقیقی مواد بھی حاصل کیا ۔ ڈاکٹر عابد رضا بیدار نے اردو تحقیق کے معیار کو تخلیق اور علمی سطح پر نئی جہت عطا کی ۔ انہوں نے  ‘‘ ہندوستان میں اسلام ’’ کی صورت حال پر 20 وقیع کتابیں ، ہندو ازم پر 12 کتابیں ، جین مت، سکھ مذہب اور بد ھ ازم پر ایک ایک تحقیقی و معلوماتی کتاب مرتب کی ۔ بہت بڑی تعداد میں انہوں نے نادر ونایاب قدیم مخطوطات کی دریافت کی او ر انہیں عصری معیار پر مدون کیا ۔ ہندوستان کی تحریک آزادی کی دستاویزوں اور حقائق پر مبنی 6 کتابیں ، اردو ، عربی، فارسی، مخطوطوں کی 20 فہرستوں کی تدوین ، پانچ اہم شخصتیوں کی سوانحی کتابیں ، پروفیسر سیّد حسن عسکری اور قاضی عبدالودود کے ریسرچ پیپرس پر مبنی بارہ جلد یں ، ہندوستانی مذاہب ،ادب و تہذیب پر 25 کتابیں دَیا نرائن نگم کے مشہور عالم جریدہ ‘ ز مانہ’ سےمنتخب کرکے شائع کیں ۔ اسی طرح سہ ماہی ‘ ہندوستانی ’ سےمذہب ، فلسفہ ، تمدن اور سماجیات پر 7 جلدوں پر مشتمل انتخاب شائع کیا ۔ مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ اقبال اور سر سید احمد خاں کی شخصیات او رکار ناموں پر مبنی متعدد کتابیں شائع کیں ۔ خدا بخش لائبریری کو عالمی معیار پر منظّم اور تمام جدید خوبیوں او رسہولتوں سے مرصع کرنے کے لیے انہوں نے آڈیو ویژول، آڈیو کلیکشن اور ویڈیو لائبریری سسٹم کا آغاز کیا ۔ انہوں نے الیکٹر انک وسائل سے لائبریری کو پوری طرح لیس کرنے میں شبانہ روز محنت کی ۔ آج خدا بخش لائبریری ان تمام سائنسی او رتکنیکی سہولتوں سے مزین ہے جو مغربی دنیا کی بڑی بڑی لائبریریوں کا طرۂ امتیاز ہیں ۔

ادارہ میں ملک و بیرون ملک کی یونیورسٹیوں کے طلباء اور اسکالرز کے لیے خصوصی اہتمام ہے۔ لائبریری اردو ادب او رتہذیب کے فروغ کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے ۔ لائبریری کے زیر اہتمام نہایت اہم علمی ادبی موضوعات پربین الاقوامی اہمیت کے سمینار ، ورکشاپ اور مشاعروں کے علاوہ مختلف موضوعات پر خصوصی لیکچرز کا اہتمام ہوتا رہتا ہے ، جن میں دنیائے، اردو کے نامور دانشوروں کو مدعو کیا جاتا ہے ۔ اشاعتی میدان میں لائبریری نے اردو ادب کی گر انقدر کتابیں بہت بڑی تعداد میں شائع کی ہیں ۔ لائبریری کے اشاعتی زمرے میں سب سے زیادہ اہم وہ سلسلہ ہے جس کے تحت عالمی اہمیت کی قدیم کتابوں کے تنقیدی ایڈیشن شائع کیے جاتے ہیں ۔

ادارے کی حصولیابیوں او رسر گرمیوں کے بارےمیں اطلاعات فراہم کرنے کے لیے ‘ خدا بخش لائبریری میں جرنل’ کے نام سے نہایت معیاری سہ ماہی جریدہ کی اشاعت 1977 ء سےجاری ہے۔ اب اکیسویں صدی یہ سہولت ادارے کی ویب سائٹ پر بھی آسانی سے دستیاب ہے۔

یہ مختصر تذکرہ تو محض مشتے نمونہ از خروارے ہے، کیونکہ لائبریری مخطوطات ، قدیم دستاویزات اور نایاب کتابوں کا اتنا بڑا خزانہ ہے کہ جس کی فہرست کئی جلدوں میں درج کی گئی ہے۔

اسلامی تہذیب ، دینی اقدار و روایات کے پاسدار خان بہادر مولوی خدا بخش اپنی نجی زندگی میں ایک راست گو، انسانیت نواز، غریبوں کے ہمدرد ، خوش خلق انسان تھے ، مذہبی تعصب اور تنگ نظری انہیں چھو بھی نہیں گئی تھی ۔ ہندو عوام و خواص میں ان کا بہت احترام تھا ۔ خدا بخش کے والد محمد بخش نے انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے ایک برہمن خاتون کا دودھ پیا تھا ۔ اپنے والد کی رضائی ماں کے احترام میں مولوی خدا بخش نے کبھی گائے کا گوشت نہیں کھایا، ان کی کوششوں سے کئی بار ہندو مسلم تنازعات ختم ہوئے او رشہر میں امن و آشتی کاماہول پیدا ہوا۔

جہا ں تک ان کے علم و فضل کا تعلق ہے اس کا اندازہ اس لیے محال ہے کہ لائبریری آنے والی شاید ہی کوئی اہم کتاب جو انہوں نے فراہم کی ان کے مطالعے سے بچی ہو۔ مولوی صاحب نے عربی فارسی مخطوطات کی ایک ضخیم فہرست ‘ محبوب الباب ’کے عنوان سے لکھی جو 500 صفحات پر محیط ہے، اس کتاب میں کتابوں اور انکے مصنفین کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے ، ایسا وقیع علمی کام وہی کرسکتا ہے جس کامطالعہ وسیع تر ہو ۔ آخر عمر میں انہیں شعر گوئی کا شوق بھی ہوگیا تھا، استاد الشعراء شاہ الفت حسین فریاد عظیم آبادی اور اس عہد کے مشاہیرسے ان کے قریبی روابط تھے ۔ 1902 ء میں نواب عشرتی کی تاریخ ساز ہفت روزہ مشاعرے میں مولوی صاحب بھی شریک تھے ۔ انہوں نے مشاعرے میں فن شاعری کے موضوع پر عالمانہ خطبہ ارشاد کیا تھا ۔

مولوی صاحب کی نجی زندگی سادگی ، قناعت اور نیکی کا آئینہ تھی ۔ انہوں نے تین نکاتی کیے ، تیسری بیگم راضیہ خاتون جمیلہ نامور شاعرہ گزری ہیں ، ان کے آٹھ دیو ان شائع ہوئے جو لائبریری میں موجود ہیں ۔ ( محترمہ جمیلہ کی شخصیت اور شاعری پر بھی انشاء اللہ مضمون پیش کروں گا۔)

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے، سطور بالا میں خان بہادر خدا بخش کی حیات اور کار ناموں کی یہ چند مختصر جھلکیاں ہی پیش کرنے کی گنجائش اخبار کے صفحے میں تھی، سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لیے ۔ مولوی خدا بخش 3 اگست 1908 کو دنیا ئے فانی سے رخصت ہوئے ۔ ابدی آرام گاہ عظیم الشان لائبریری کے احاطہ میں واقع ہے۔ مرحوم کاادارہ ایک عظیم صدقۂ جاریہ ہے جو یقیناً اپنے مؤسس کے جنتی ہونے کی ضمانت ہے۔

29 مارچ، 2015 بشکریہ : روز نامہ ہمارا سماج ، نئی دہلی

URL: https://newageislam.com/urdu-section/hamara-samaj-urdu-daily/khuda-bakhsh-oriental-library,-patna-s-founder,-khan-bahadur,-maulvi-khuda-bakhsh-khan--خدا-بخش-اورینٹل-لائبریری-پٹنہ-کے-بانی-خان-بہادر-مولوی-خدا-بخش-خان/d/102181

 

Loading..

Loading..