New Age Islam
Tue Nov 30 2021, 01:27 AM

Urdu Section ( 21 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Iqbal and Nanak: Two devotees of Tawheed اقبال اور نانک: توحید کے دو متوالے

گل محمد رعنا

19 نومبر،2021

نومبر کامہینہ برصغیر کی دو عظیم شخصیات کا مہینہ ہے۔9 نومبر اقبال ڈے کے طو رپر منایا جاتاہے۔ جبکہ 19 نومبر کو گرونانک جینتی منائی جاتی ہے۔ اس حیثیت میں دونوں کی یاد ایکے بعد دیگرے تازہ کی جاتی ہے۔ دونوں کا آپس میں قریبی تعلق رہاہے۔ ایک یہ کہ دونوں پنجاب کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں کی زبان ایک ہے۔ دونوں ایک ہی ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ دونوں کے خیالات میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ نانک اور اقبال دونوں سخت وطن پرست رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں توحید کے نظریے سے متاثر رہے ہیں۔ جس طرح اقبال کو مسلمانوں کے اندر جدید نظریہ سازی کا موجد قرار دیا جاتاہے۔ اسی طرح نانک کو سکھ مت کا بانی سمجھا جاتاہے۔ نانک اصل میں ایک ہندو فیملی کے اندر پیدا ہوئے تھے۔ لیکن ہندو مت سے ہم آہنگ نہ ہوسکے اور اپنا ایک الگ نظریہ اپنایا او رقائم کیا۔ اقبال کے آبا و اجداد بنیادی طور پر کشمیر پنڈت تھے او رمبینہ طور پر سپروذات سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ مسلمان ہوگئے۔اقبال ان کے یہاں پیدا ہوئے تو اسلام کے منجمد تصور سے باغی ہوکر ایک متحرک اسلام پیش کیا اور مسلم وطن کے لئے نیا نظریہ پیش کیا۔ اس طرح سے ایک نئے نظریے کے بانی بن گئے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اقبال او رنانک دونوں توحید کے بڑے مبلغ ثابت ہوئے۔دونوں کے درمیان ایک طویل فاصل رہا ہے۔ ا س کے باوجود دونوں کے نظریات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

اقبال اور نانک

----

اقبال نے یورپ جاکر وہاں کی زندگی کو قریب سے دیکھا۔ ا س کی تیز رفتار ی اور ٹکنالوجی سے سخت متاثر ہوا۔ اس کو اپنانے پر زور دیا۔لیکن اس دوران ان کا اپنے دین پر ایمان پختہ تر ہوگیا۔ مغرب کی نظریہ سازی کی کھل کر مخالفت کی اور پرسوز انداز میں مسلم امت کو دین سے جڑ جانے پر زور دیا۔ اردو اور فارسی شاعری کے علاوہ انگریزی سے مدد لی او راپنی شاعری سے نوجوان نسل کو دین کی طرف راغب کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ ان سے پہلے نانک نے بھی پنجابی شاعری کا سہارا لیا اور گروبانی کے ذریعے ایک بڑے طبقے کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ اس دوران دونوں نے توحید کی بنیادی تعلیمات کو مرکزی حیثیت دی اور اس سے کہیں بھی فرار اختیار نہ کیا۔ اقبال نے نانک کو خراج پیش کرتے ہوئے لکھا:

پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

ہند کو اک مرد کامل نے جگا یا خواب سے

اس کے ساتھ ہی اقبال کو قوم سے یہ شکایت رہی کہ انہوں نے نانک کے اس پیغام کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ اقبال کو دلچسپی کرونانک سے تھی یا توحید کے فلسفے سے۔ یہ ایک الگ مکالمہ ہے جس پر دو رائے ہوسکتی ہیں۔ اس کے باوجود یہ بات نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں کے اندر تڑپ ایک جیسی تھی۔ دونوں چاہتے تھے کہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوکر دنیا کی تیز رفتاری کامقابلہ کرسکیں۔ گرونانک کو بت پرستی سے سخت نفرت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہندو فیملی میں جنم لینے کے باوجود انہوں نے ماتھے پر کبھی تلک لگایا نہ ان جیسا لباس پہنا۔ انہوں نے اپنے لئے اپنا ایک طرز زندگی ایجاد کیا اور اختیار بھی کیا۔اقبال کو ان کی یہ بات بڑی پسند آئی اور ان کے اس پیغام کو قبول نہ کرنے والوں کو بہت ہی بدقسمت قرار دیا۔ بہت سے لوگوں نے اس بات پر علامہ کو آڑے ہاتھوں لیا کہ انہوں نے بابا نانک کو ایک مرد کامل قرار دیا۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنی بات سے رجوع کرکے اپنے الفاظ واپس نہیں لئے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ انہیں نانک کی بنیادی تعلیمات سے بڑی رغبت تھی۔ اقبال کو ایک طرف اپنے مرشد جلا ل الدین رومی، دوسری طرف شاہ مجد دالف ثانی اور ساتھ ہی ساتھ گرونانک سے بھی بڑی قریبی تعلق رہا ہے۔اقبال نے جن اکابر سے اثر لیا ہے ان کی زبان او ربیان اقبال کی زبان سے الگ تھی۔ لیکن نانک ان کے ہم وطن اورہم زبان تھے۔ انہوں نے اس زبان کے تاثر و بہت حد تک سمجھا او رقبول کیا۔ ایسا نہیں کہ اقبال کو اس مذہب سے کوئی شناسائی تھی جس کے بہت آگے جاکر گرونانک بانی کہلائے گئے۔ لیکن نانک کی پنجابی میں کئی شاعری کو انہوں نے ان کے فلسفے سے ہم آہنگ کر کے بہت حد تک سمجھ لیا۔

گرونانک کی جو سب سے نمایاں خصوصیت ہے وہ ان کی مذہبی رواداری ہے۔ نانک نے کبیر اوراپنے وقت کے دوسرے صوفیا سے فیض حاصل کرکے ایک ایسے طبقے کی بنیاد ڈالی جو سب سے آزاد خیال طبقہ مانا جاسکتا ہے۔ ان کے قائم کئے گئے دائرے میں آج بھی کسی بھی خیال اور نظریے کے لوگوں کو ٹھہرنے کے لئے جگہ پائی جاتی ہے۔ یہ نانک کے قائم کئے گئے اصولوں کی وجہ سے ہے کہ آج تک یہاں ہر فرقے اور مذہب کے لوگوں کے لئے سہولیات پائی جاتی ہیں۔ بعد میں سکھوں کے جو نئے گروہ پیدا ہوئے ان کے وقت کی حکومت کے ساتھ سب سے زیادہ تنازع رہا۔ انہیں قتل کیا گیا اور گردنیں اڑائی گئیں۔ اس کے باوجود یہاں ایک ایسا فلسفہ تشکیل پایا جہاں مذہبی بید بھاؤ کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے گرودواروں، سنگھ سبھاؤں اور خیراتی اداروں سے ہر کسی کوسہولت ملتی ہے۔ یہ ایسا پنتھ ہے جہاں اقبال کے اس خیال کی عملی ترجمانی ملتی ہے کہ

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

19 نومبر،2021، بشکریہ: روزنامہ چٹان، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/iqbal-nanak-devotees-tawheed/d/125815

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..