گریس مبشر،
نیو ایج اسلام
12 جنوری 2024
دہشت گرد
تنظیموں کا ایک متحرک وجود ہے جس کا فروغ کئی
برسوں میں ہوا ہے۔ دہشت گرد تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کے لیے تکنیکی
انقلاب سے فائدہ اٹھایا ہے۔ آن لائن بنیاد پرستی کی اشاعت کے خلاف جنگ کا مقصد صرف
ان کی آوازوں کو دبانا نہیں ہے، بلکہ ان کی آواز میں آواز ملانا ہے جو رواداری، تفہیم
اور امن کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
اہم نکات:
1. دہشت گرد جماعتیں بھرتی
کرنے اور بنیاد پرستی کی اشاعت کے لیے آن لائن پلیٹ فارموں کا استعمال کر رہی ہیں۔
2. اس نظام سے انہیں زیادہ
لچک اور عوام پر گرفت مضبوط کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر ہوتے ہیں۔ جدید طرز
کے دہشت گرد گروہ اکثر وسیع پیمانے پر چھوٹی
چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کا مواصلاتی نظام انتہائی منظم اور مربوط
ہوتا ہے۔
3. آن لائن پلیٹ فارموں
کی عالمی سطح پر گرفت نے سرحدوں، ثقافتوں اور زبانوں سے بالاتر ہو کر دہشت گردوں کو
اپنی توسیع کا موقع فراہم کیا ہے۔
4. بنیادی بات انتہا پسندی
کے پروپیگنڈے میں ڈیجیٹل اسپیس کی طاقت کو تسلیم کرنا نہیں ہے، بلکہ جوابی بیانیہ،
تعلیم اور قوم کو متحرک کرنے میں اس کی طاقت کو تسلیم کرنا ہے۔
------
آج کی باہم مربوط دنیا میں، انٹرنیٹ
اور سوشل میڈیا مواصلات، معلومات اور یہاں تک کہ لوگوں کی ذہن سازی کا طاقتور ہتھیار
بن چکے ہیں۔ اگرچہ اس کے فوائد بے پناہ ہیں، لیکن اس کا ایک ہولناک نتیجہ سامنے آیا
ہے: دہشت گرد گروہ ان پلیٹ فارموں کو بھرتی کرنے اور انتہاپسندی پھیلانے کے لیے استعمال
کر رہے ہیں۔
ایک ورچوئل دنیا تک فوری رسائی
کے ماحول میں پرورش پانے والی نسل کے بارے میں سوچیں، جہاں خفیہ طور پر انتہا پسند
نظریات کی اشاعت کی جا سکتی ہے۔ آئی ایس آئی ایس جیسے دہشت گرد گروہوں نے اس ڈیجیٹل
گیم میں مہارت حاصل کر لی ہے، جو جاذب نظر ویڈیو اور مؤثر پیغامات کے ذریعے پوری دنیا
کے کمزور ذہن والے افراد کو اپنی گرفت میں لیتے ہیں۔
ان کے اثرات سے بچنا ناممکن
ہے۔ سوشل میڈیا جس کی عالمی سطح پر رسائی ہے، منصوبہ بند بیانیے کو شائع کرنے کا موقع
اور اس کے کارندوں کو خفیہ انداز میں اپنے مشن کو آگے بڑھانے کا ایک محفوظ پلیٹ فارم
فراہم کرتا ہے۔ چونکہ اس کے اندر روایتی اندازِ مزاحمت کو شکست دینے اور لوگوں کے دل
و دماغ میں براہ راست اپنے نظریات کا زہر ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے اسی لیے مذموم ایجنڈا
رکھنے والوں کے لیے یہ ایک طاقتور ہتھیار ہے۔
لیکن آن لائن بڑھتی ہوئی انتہاپسندی
کے خلاف جنگ کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔ دائرہ اختیار کی پیچیدگیوں سے لے کر انتہاپسندانہ
مواد کی کثرت تک، چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔ پھر بھی، امید کی کرن ابھی بھی موجود ہے:
· انٹرنیٹ صارفین کو آگاہ کرنا اور انہیں بااختیار
بنانا: ڈیجیٹل دنیا کو ایک جوابی بیانیہ کا میدان جنگ بنایا جائے، تاکہ امن و ہم اہنگی
کی آوازیں نفرت کی سرگوشیوں کو ختم کر دیں۔
· صارفین کو میڈیا کے حوالے سے باشعور اور آگاہ
کرنا: آن لائن مواد کا تنقیدی جائزہ لینے اور ان کی ہیرا پھیری کا سد باب کرنے کے وسائل
و ذرائع سے صارفین کو لیس کرنا۔
· قانون سازی اور پالیسی سازی کی سطح پر مداخلتیں:
اعتدال پسندی کی فراہمی، نقصان دہ سائٹوں کو بند کرنا، اور متبادل بیانیہ کو فروغ دینا۔
بنیادی بات انتہا پسندی کے پروپیگنڈے
میں ڈیجیٹل اسپیس کی طاقت کو تسلیم کرنا نہیں ہے، بلکہ جوابی بیانیہ، تعلیم اور قوم
کو متحرک کرنے میں اس کی طاقت کو تسلیم کرنا ہے۔ یہ دلوں اور دماغوں کی جنگ ہے، اور
اسے جیتنے کے لیے فعال مشغولیت، باہمی تعاون، اور انٹرنیٹ کی طاقت کو اچھے طریقے سے
استعمال کرنے کے عزم کی ضرورت ہے۔
یاد رکھیں، آن لائن بنیاد پرستی
کے خلاف جنگ کا مقصد صرف ان کی آوازوں کو دبانا نہیں ہے، بلکہ ان کی آواز میں آواز
ملانا ہے جو رواداری، افہام و تفہیم اور امن کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ آئیے ڈیجیٹل دنیا
کو امید کی کرن بنائیں، افزائش نفرت کی جگہ نہیں۔
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بنیاد
پرستی کی اشاعت کے لیے دہشت گردوں کے طریقے اور حیلے
دہشت گرد تنظیمیں ایک متحرک وجود
ہیں جس کا فروغ کئی برسوں میں ہوا ہے۔ روایتی طور پر، یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان کے پاس
ایک مرکزی درجہ بند ڈھانچہ ہے جس کے قائدین پوری تنظیم کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس ڈھانچے
نے قائدین کا ایک مضبوط نظام قائم کیا، لیکن اہم افراد یا اکائیوں کی ناکامی کی صورت
میں اس سے خلل کا خطرہ بھی بڑھ گیا۔
تاہم، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی
آمد کے ساتھ، منظرنامہ بالکل ہی بدل گیا ہے۔ ان مشینی ترقیات نے معلومات کے تبادلے
کو تیز کیا ہے، جس سے بہت سی دہشت گرد تنظیموں کو نیٹ ورک کے طرز پر تنظیمی ڈھانچہ
کی تشکیل کا حوصلہ ملا ہے۔ اس نظام سے انہیں زیادہ لچک اور عوام پر گرفت مضبوط کرنے
کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر ہوتے ہیں۔ جدید طرز کے دہشت گرد گروہ اکثر وسیع پیمانے پر چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں اور
ان کا مواصلاتی نظام انتہائی منظم اور مربوط ہوتا ہے۔
1. اہرام سے ویب تک:
دہشت گردوں کے تنظیمی ڈھانچے میں
اس تبدیلی کی مثال 2015 میں پیرس میں ہونے والے چارلی ہیبڈو حملے سے عیاں ہے، جہاں
دہشت گردوں نے مختلف انتہا پسند گروہوں سے تعلقات رکھتے ہوئے آزادانہ طور پر اپنا کارنامہ
انجام دیا۔ اس معلوماتی انقلاب نے دہشت گرد گروہوں کو جنگ کے روایتی طرز سے ہٹ کر سماجی
سطح پر اختلاف و انتشار پر زیادہ توجہ دینے کے قابل بنا دیا۔ وہ برانڈ مینجمنٹ، پروپیگنڈا،
اور نئے افراد کو بھرتی کرنے کے لیے رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے سوشل میڈیا اور
انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔
2. معلومات کی جنگ:
خلاصہ یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیموں
کے ابھرتے ہوئے اس ڈھانچے نے، جن کا سہارا یہ آن لائن پلیٹ فارم ہیں، خود کو زیادہ
خود مختار اور باہم مربوط بنا لیا ہے، جو معاشروں اور افراد کو متاثر کرنے کے لیے معلومات
کے استعمال پر زور دیتے ہیں۔
3. عالمی گرفت:
مزید برآں، آن لائن پلیٹ فارموں
کی عالمی سطح پر گرفت نے سرحدوں، ثقافتوں اور زبانوں سے بالاتر ہو کر دہشت گردوں کو
اپنی توسیع کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ ماقبل کی الگ الگ دہشت گرد تنظیموں کے درمیان
عالمی اتحاد کی تشکیل میں واضح ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی
سے لوگوں کا بیعت کرنا ہے۔ سوشل میڈیا، جغرافیائی اور حفاظتی رکاوٹوں کو عبور کرتے
ہوئے، آن لائن ویڈیوز کے ذریعے وفاداری کا عہد کرنے میں جنوبی مشرقی ایشیا کے دہشت
گرد گروہوں، مثلا ماؤت، ابو سیاف، کتبت انصار
الشریعہ، اور مجاہدین انڈونیشین تیمور، کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر کام
کرتا ہے۔ اس طرح کا عہد و پیمان آن لائن ویڈیوز کے ذریعے بھی کیا جاتا۔
4. جعلی پیغامات:
دہشت گرد گروہوں کا یہ طرز اس بات
کا ثبوت ہے کہ کس طرح انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا دہشت گرد گروہوں کو عالمی نیٹ ورک کے
طور پر کام کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ان گروہوں سے جڑے افراد اور اراکین
مزید خود مختاری کے ساتھ اپنے کام سرانجام دیتے ہیں۔ مرکزی پیغامات کو آزادانہ طور
پر مقامی بیانیہ سے ہم آہنگ اور مقامی آبادی کے لیے مخصوص عوامل کے پیش نظر، تشکیل
دیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، داعش نے مختلف خطوں میں میڈیا اکائیاں قائم کیے ہیں،
جن کا کام اپنے سامعین کی ہی زبان اور ثقافتی لب و لہجے میں نفیس اور مقامی سیاق و
سباق کے مطابق پروپیگنڈہ مواد تیار کرنا اور انہیں شائع کرنا ہے۔
ان متحرک نیٹ ورکوں کا مقابلہ کرنے
کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے جو
آن لائن پلیٹ فارموں کے منفرد فوائد - ان کی عالمی گرفت، پردہ پوشی اور آسان مواصلاتی
سہولیات کا جواب بن سکے۔ اس میں میڈیا کے متعلق جانکاری کو فروغ دینا اور مثبت انداز
میں انتہا پسندانہ بیانیے کا مقابلہ کرنا شامل ہے۔
الفاظ سے پرے: بصری کہانی کیسے
جدید دہشت گردی کو کو فروغ دیتی ہے۔
دہشت گرد گروہوں نے صرف مواصلات
کے لیے انٹرنیٹ کا اغوا ہی نہیں کیا، بلکہ انہوں نے دل موہ لینے اور بھرتی کرنے کے
لیے بصری قصہ گوئی کے فن میں بھی مہارت حاصل کر لی ہے۔ اب وہ مندمل پروپیگنڈہ فلموں
تک ہی محدود نہیں رہے، بلکہ ہائی ڈیفینیشن کیمرے، صاف و شفاف ایڈیٹنگ سوفٹ ویئر، اور
یہاں تک کہ ویڈیو گیم کے ذریعے بھی ایسے بیانیے کی تشہیر کرتے ہیں جو کمزور سامعین
کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔
ہالی وڈ کی فلموں کے طرز پر اعلیٰ
معیار کی ویڈیو کا تصور کریں، جو ان کے علاقے کے اندر کی زندگی کو ایک سنسنی خیز مہم
جوئی کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو بیرونی دنیا کی بدعنوان اور غیر منصفانہ تصویر کے
برعکس ہے۔ یہ طاقتور مرکب موجودہ دور کی کمزوریوں اور خواہشات پر اثر انداز ہوتا ہے،
اور ممکنہ طور پر ایسے متعدد عوامل کو جنم دیتا ہے جو بنیاد پرستی کا باعث بن سکتے
ہیں۔
مقامی یورپی زبانوں میں الحیات
میڈیا کی ایچ ڈی ویڈیو یاد ہیں؟ اپنی صفوں میں ایک بظاہر اطمینان بخش وجود کے طور پر
پیش کرتے ہوئے، انہوں نے ثقافتی مشابہت اور مذہبی امنگوں کا استحصال کرتے ہوئے نوجوان
مسلمانوں اور اسلام قبول کرنے والوں کو نشانہ بنایا۔ اس کا اثر ناقابل تردید ہے، اس
قسم کی دلکش ویڈیوز نے مبینہ طور پر حقیقی زندگی میں بنیاد پرستی کی اشاعت میں اپنا
کردار ادا کیا ہے۔
دہشت گرد مروجہ ثقافت کی طاقت کو
سمجھتے ہیں۔ "سلیل السوارم" کو ہی لیں، ایک داعش سے منسلک ویڈیو گیم جسے
مشہور گیم فرسٹ پرسن شوٹرز کے طرز پر بنایا گیا ہے۔ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارموں پر
منصوبہ بند انداز میں جاری کیا گیا، جس کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں تک پہنچنا تھا، جس
سے تفریح اور انتہا پسندانہ نظریے کے درمیان فرق دھندلا ہو جاتا ہے۔ واقف جگہوں میں
دراندازی کرنے اور پہلے سے موجود مفادات سے فائدہ اٹھانے کی یہ کوشش ان گروہوں کی ابھرتی
ہوئی حکمت عملی کو نمایاں کرتی ہے۔
ان طریقوں کی تاثیر ان کی
رسائی اور جذباتی اپیل میں مضمر ہے۔ نفیس بصری اور تعاملی عناصر مثلا گیم، فکری دفاع
کو مات دیتے ہیں، جذبات کو براہ راست متاثر کرتے ہیں اور پیش کردہ بیانیے سے تعلق کے
احساس کو فروغ دیتے ہیں۔ جدید خدوخال تشدد اور نظریہ کو افادیت بخش اور یہاں تک کہ
پرجوش ظاہر کرتے ہیں، جس سے ممکنہ طور پر ان حقائق کے حوالے سے نوجوانوں کا نظریہ متاثر
ہوتا ہے۔
گیموں اور ویڈیو کے علاوہ، دابق،
انسپائر، اور گیڈی مطانی جیسے شاندار اور جاذب نظر آن لائن میگزین دہشت گرد تنظیموں
کے لیے ڈیجیٹل ماؤتھ پیس کا کام کرتے ہیں۔ وہ اپنے نظریہ اور مشن کا خاکہ اور بھرتی
ہونے والوں کو عملی مشورے بھی پیش کرتے ہیں۔ یہ جاری بیانیہ گروہ اور مقصد کا احساس
پیدا کرتا ہے، جس سے آن لائن منظر نامے میں ان کی موجودگی کو مزید استحکام ملتا ہے۔
اس بصری حملے کا مقابلہ کرنے کے
لیے کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کے حوالے سے لوگوں کا شعور
بیدار کرنا، ایسے جوابی بیانیے کو فروغ دینا جو مثبت متبادل پیش کرتے ہوں، اور ذمہ
دارانہ مواد کی اعتدال پسندی کی حکمت عملی تیار کرنا، اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔ یاد
رکھیں، ہمیں اس نسل کی زبان بولنے کی ضرورت ہے، جو انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کا ایک
مضبوط متبادل پیش کرے۔
ڈیجیٹل دور
میں دہشت: آن لائن بھرتی کے مائن فیلڈ کا خاکہ
سوشل میڈیا ابلاغ و ترسیل کے دائرے
میں دو دھاری تلوار بن چکا ہے۔ جہاں یہ افراد کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ آپس میں رابطہ
قائم کریں اور معلومات کا اشتراک کریں، وہیں یہ دہشت گرد تنظیموں کو اپنے نظریات کو
پھیلانے اور کمزور افراد کو بھرتی کرنے کے لیے ایک زرخیز زمین بھی فراہم کرتا ہے۔
’’انٹرنیٹ کے بن لادن ‘‘انور
العولقی کا معاملہ ہی لے لیں۔ روایتی طریق پروپیگنڈہ کی محدودیت کو تسلیم کرتے ہوئے،
اس نے انگریزی بولنے والے سامعین پر اپنی گرفت قائم کرنے کے لیے فیس بک اور یوٹیوب
جیسے آن لائن پلیٹ فارموں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس نے دہشت گردی کے نیٹ ورکنگ
کے ایک نئے دور کی راہ ہموار کی، جہاں آئی ٹی کی مہارت اور آن لائن مارکیٹنگ، بھرتی
کے ہتھیاروں میں کلیدی ہتھیار بن گئے۔
سیتی خدیجہ جیسے لوگوں کا دلفریب
فیس بک پیج کے ذریعے داعش کی سلطنت میں خوبصورت اور عیش کوش زندگی کی تصویر پیش کرنا،
آن لائن ذرائعِ بنیاد پرستی کی عیارانہ نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مالی تحفظ، گروہ بندی،
اور مذہبی تکمیل کے ان کے بیانیے جو صبرا یا نفسی جیسے افراد سے مشابہت رکھتے ہیں،
افسوسناک طور پر تشدد کے جال میں گھسیٹے جا چکے ہیں۔
تاہم، بھرتی کا راستہ شاذ و نادر
ہی کوئی آسان ہوتا ہے۔ آن لائن پلیٹ فارم ابتدائی پروپیگنڈے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں،
جن کا مقصد لوگوں کی توجہ حاصل کرنا اور ان کے درمیان تعلق کا ایک احساس پروان چڑھانا
ہے۔ ایک بار جب لوگوں کی دلچسپی پیدا ہو گئی، تو بھرتی کرنے والے مزید محفوظ چینلوں
مثلا ٹیلیگرام، واٹس ایپ، یا ان جیسے مخصوص فورموں پر منتقل ہو جاتے ہیں جہاں انکرپٹڈ
کمیونیکیشن کی سہولت مہیا ہیں۔ اس قسم کے پلیٹ فارم مضبوط ذہن سازی کے لیے ایک محفوظ
پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں، جہاں ہم خیال افراد انتہا پسندانہ نظریات کو تقویت دیتے ہیں
اور عملی اقدامات کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
انکرپٹڈ ٹیکنالوجی سے اس میں مزید
پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ Skype جیسے پلیٹ فارم سکیور ویڈیو کال کی سہولت پیش کرتے
ہیں، جبکہ bitmessage.ch جیسی سروسیں گمنام ای میل کے تبادلے کو یقینی بناتی
ہیں۔ دہشت گرد جو ان وسائل و ذرائع سے واقف ہیں، ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں تاکہ گرفت
میں آنے کے کم سے کم خطرے کے ساتھ اپنی سرگرمیوں کو بآسانی انجام دے سکیں۔
آگے کا چیلنج ان ابھرتے ہوئے ہتھکنڈوں
کی پیش بندی میں ہے۔ حکومتوں اور آن لائن پلیٹ فارموں کو چاہیے کہ وہ دوقدم آگے رہیں
اور ممکنہ کمزوریوں خامیوں اور دن بہ دن سامنے آنے والی نئی نئی ٹیکنالوجی کا مسلسل
اندازہ لگاتے رہیں، جن کا خطرناک اور مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سدباب
کی مضبوط حکمت عملی جو مستقبل کے خطرات کو نظر میں رکھ کر تیار کی گئی ہو، آن لائن
انتہاپسندی کی اشاعت اور اس میں لوگوں کی شمولیت کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
حوالہ جات:
Al-Rawi, Ahmed, ‘Video Games,
Terrorism, and ISIS’s Jihad 3.0,’ Terrorism and Political Violence, 30(4),
2018, pp. 740-760
Archetti,
Cristina, ‘Terrorism, Communication and New Media: Explaining Radicalization in
the Digital Age,’ Perspectives on Terrorism, 9(6), 2015. Available at:
http://www.terrorismanalysts.com/pt/index.php/pot/article/view/401
European
Parliament, ‘Tackling the dissemination of terrorist content online’
(Provisional Edition), European Parliament, 2019. Available at:
https://www.europarl.europa.eu/doceo/document/TA-8-2019-0421_EN.pdf?redirect.
EUROPOL, ‘EU Internet Referral Unit - EU IRU,’ EUROPOL, 2019. Available at:
https://www.europol.europa.eu/about-europol/eu-internet-referal-unit-eu-iru?page=0
Kernan,
Erik R., ‘The Islamic State as a Unique Social Movement: Exploiting Social
Media in an Era of Religious Revival,’ Honors Thesis, University of Vermont,
2017. Available at:
https://scholarworks.uvm.edu/cgi/viewcontent.cgi?article=1227&context=hcoltheses.
Middle
East Media Research Institute (MEMRI), ‘Al-Shabab Al-Mujahideen’s Shahada News
Agency Launches Bot to Connect with Users on Telegram,’ MEMRI, 2017. Available
at:
https://www.memri.org/jttm/al-shabab-al-mujahideens-shahada-newsagency-launches-%E2%80%8Ebot-connect-users-telegram-%E2%80%8E.
Stalinsky,
Steven and R. Sosnow, ‘Germany-Based Encrypted Messaging App Telegram Emerges
as Jihadis’ Preferred Communications Platform,’ Part V of MEMRI Series:
Encryption Technology Embraced By ISIS, Al-Qaeda, Other Jihadis, September
2015- September 2016. The Middle East Media Research Institute, Inquiry and
Analysis Series Report No. 1291, 2016.
Tech
Against Terrorism, ‘Project Background (Online),’ Tech Against Terrorism, 2017.
Available at: https://www.techagainstterrorism.org/project-background/.
Twitter
Help Centre, ‘Terrorism and Violent Extremism Policy,’ Twitter Help Centre,
2019.
https://transparency.twitter.com/content/dam/transparency-twitter/download/2019-juldec/Twitter_Transparency-Rules_Enforcement_Jul-Dec-2019.pdf
English Article: Terrorist Recruitment and Communication Revolution:
The Double-Edged Sword of the Digital Age
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism