New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 03:06 AM

Urdu Section ( 29 Apr 2018, NewAgeIslam.Com)

?The Kathua Rape-And-Murder Case: Why See It Through The Prism Of Religion کٹھوہ عصمت دری اور قتل معاملہ: اسے مذہب کے آئینے سے کیوں دیکھا جائے؟

 

 

 

 

غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

17 اپریل 2018

کشمیر کے کٹھوہ ضلع میں بدکاری کا شکار ہونے والی ایک 8 سالہ بچی آصفہ بانوں کا سفاکانہ قتل ایک بے حد خوفناک حادثہ ہے۔ اس معاملے کی تفصیلات دل دہلا دینے والی ہیں۔ لیکن شرم ناک بات یہ ہے کہ عصمت دری کا یہ جرم ایک فرقہ وارانہ اور مذہبی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس معاملے کو مبینہ طور پر ہندو مسلم رسہ کشی کا رنگ دے دیا گیا ہے۔ کٹھوہ معاملے کو فرقہ ورانہ رنگ دینے والے عناصر کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مشتبہ افراد ہندو ہیں اور عصمت دری کا شکار ہونے والی آٹھ سالہ بچی ایک مسلم گھرانے سے تھے۔ اس طرح یہ معاملہ ایک بدترین شکل اختیار کر چکا ہے جس نے اس ملک کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کر دیا ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ خانہ بدوش مسلم بکروال گجر کی چھوٹی بیٹی آصفہ بانو کے ساتھ یہ دردناک واقعہ حادثاتی طور پر پیش نہیں آیا ہے۔ بلکہ اس خانہ بدوش مسلم قبیلے کو علاقے سے باہر نکالنے کے مقصد سے اس الم ناک حادثے کو کچھ مقامی جرم پیشہ افراد نے ایک ریٹائرڈ سرکاری اہلکار، اس کے بیٹے اور اس کے ایک نابالغ بھتیجے کے ساتھ مل کر انجام دیا تھا۔

جموں کے کٹھوا ضلع میں گوجر بکروال برادری ایک بڑی تعداد میں مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ لہٰذا وہ اس علاقے میں ایک چھوٹی اقلیت ہیں۔ چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں جمو و کشمیر پولیس نے جو 15 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائر کی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کٹھوا کے اندر عصمت در اور قتل کی اس واردات کو اس علاقے سے مسلم بکروال برادری کو اکھاڑ پھینکنے کے مقصد سے انجام دیا تھا۔ اس چارج شیٹ میں اس حقیقت کو طشت از بام کیا گیا ہے کہ آصفہ کا اغوا ، اس کی عصمت دری اور آخر کار اس کا قتل ایک بھیانک منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ تھا تاکہ اس کے خانہ بدوش قبیلے کے اند ر خوف و سراسیمگی کا ماحول پیدا کیا جائے اور اسے وہاں سے نکال باہر کیا جائے۔ سب سے پہلے اس بچی کو اغوا کیا گیا ، پھر اسے منشیات دی گئی ، پھر اسے ایک مندر میں قید رکھا گیا اور اس کے بعد پوری درندگی کے ساتھ بار بار اس کی عصمت دری کی گئی اور پھر آخر کار بےدردی کے ساتھ اسے قتل کر دیا گیا۔

ان دونوں فرقوں کے درمیان اکثر زمین اور مسلم چرواہوں کے مویشیوں کی جانب سے کھیتی اور غلے کے نقصان پر چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں اور کٹھوا ضلع کے ہیرا نگر علاقے کے ہندو باشندے اکثر ان پر گائے ذبح کرنے کے الزامات لگاتے رہتے تھے۔ لہذا، بڑی افسوسناک بات ہے کہ آصفہ کی عصمت دری معاملے کو بھی "گائے ذبح کرنے" سے جوڑا جا رہا تھا۔

شروع میں تو کسی نے آصفہ کے ساتھ پیش آئے اس درد ناک حادثے پر کوئی توجہ دینے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ ملک کے مین اسٹریم (mainstream) نیوز چینلوں پر چلنے والے پروگراموں کی بات تو در کنار ، جمو و کشمیر کے اکثر انگریزی اخبارات نے بھی مکمل طور پر اس واقعے کو نظر انداز کر دیا تھا۔ انہوں نے اس واردات کی رپورٹنگ اپنے اس مزعومہ خیال کی بنیاد پر ضروری نہیں سمجھی کہ یہ بھی ایک چھوٹی بچی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے دیگر عمومی معاملات کی طرح ایک معاملہ ہے۔ لیکن جمو و کشمیر میں بڑے پیمانے پر شائع ہونے والے صرف ایک اردو اخبار نے سب سے پہلی بار اس آٹھ سالہ بکروال لڑکی آصفہ کے دردناک قتل کی خبر ایک تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ اس کے بعد دیگر اخبارات اور نیوز چینلوں نے بھی اس قتل کی جانچ کا مطالبہ اٹھایا۔

اب، جبکہ راہل گاندھی نے کٹھوا عصمت دری معاملے کے خلاف اپنے ملک گیر احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں ، تو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس معاملے پر اپنی چپی آخر کار توڑ ہی دی ہے۔ انہوں نے آصفہ کی عصمت دری اور اس کے قتل کے معاملے کو "دل و دماغ کو جھنجھوڑ دینےوالا واقعہ قرار دیا ہے "، اور انہوں نے پورے ملک کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ کوئی مجرم چھوڑا نہیں جائے گا۔ وزیر اعظم مودی نے وعدہ کیا ہے کہ "ہماری بیٹیوں کو انصاف ضرور ملے گا"۔ لیکن لوگوں کو اس بات کی تشوریش ہے کہ کیا آصفہ کو مکمل انصاف مل پائے گا۔ اس لئے کہ اس کے ساتھ مکمل انصاف صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب اس کی عصمت دری کے مجرموں کو تختہ دار پر چڑھا دیا جائے جیسا کہ ملکی سطح پر لوگوں کی اتفاق رائے اس پر قائم ہو رہی ہے۔

اس عصمت دری اور قتل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے تقریبا تمام ہندوستانی برادیاں اس بات پر ایک قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اس جرم کو انجام دینے والے مجرمین کو ایک عبرت ناک سزا دی جائے۔ وہ اس بات کا مظاہرہ کرنے کے لئے جگہ جگہ جمع ہو رہے ہیں کہ ہندوستانی عوام کا ضمیر اب بھی زندہ ہے۔ اور ہم انصاف کے لئے اور ان قوتوں کو شکست دینے کے لئے متحد ہوں گے اور ایک ساتھ کھڑے ہوں گے جو امن اور سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اور جو اس ملک کی پر امن فضا کو مسموم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خاص طور پر مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے (پروٹیکشن آف چلڈرین فروم سیکسول آفینسیس ‘‘POCSO’’) یعنی کم عمر بچوں کے لئے جنسی زیادتی سے تحفظ کے ایکٹ میں ترمیم کر کے 12 سال سے کم عمر کی بچی کے ساتھ بدکاری کرنے والوں کے لئے سزائے موت کا اعلان کیا ہے ، جبکہ جمو وکشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہماری حکومت بھی اسی طرح کا"نیا قانون" بنائے گی۔ مینکا گاندھی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ "منسٹری آف ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ (Ministry of Women and Child Development) پروٹیکشن آف چلڈرین فروم سیکسول آفینسیس ‘‘POCSO’’ میں ترمیم لانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں 12 سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں سزائے موت کی تجویز رکھی جائے گی۔"

لہٰذا ، چھوٹی کشمیری مسلم بچی آصفہ کے ساتھ عصمت دری اور دردناک قتل کے اس حادثہ نے اب لوگوں کی آنگھیں کھول دی ہیں۔ لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں کہ اس پورے معاملے کو دونوں طرف کی فرقہ پرست طاقتیں اور اپنے خفیہ مقاصد کی تکمیل کے لئے کچھ نیوز ایجنسیاں ہندو مسلم رسہ کشی کے نظریہ سے پیش کر رہی ہیں۔ یہ افسوسناک حقیقت معاشرے کے ان رہنماؤں کے لئے ایک زبردست جھٹکا ہے جو یہ مانتے ہیں کہ مسلمانوں کی بےاطمینانی اور ان کی بےیقینی کی کیفیت کو کم کرنے کے لئے بہت کم اقدامات اٹھائے گئے ہیں –اور یہ کہ عصمت دری کا شکار ہونے والی 8 سالہ وہ بچی ایک اقلیت مسلم خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے ہندو ہیں ۔ ناگزیر طور پر اسی سے ملک بھر میں ایک قسم کی 'مسلم مظلومیت' کی ذہنیت پیدا ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ سماجی ماہرین کا ایک طبقہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اس معصوم لڑکی کو صرف اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ گوجر اور بکروال قبائلی برادری سے تعلق رکھنے کے علاوہ ایک 'مسلم کی بیٹی' بھی تھی۔

رائزنگ کشمیر (Rising Kashmir) کے ایڈیٹرز حامد اور دانش بن نبی نے یہ دعوی کیا ہے کہ: "ہم نے لبرل اور سیکولر جماعتوں سے یہ سوال پوچھا کہ : ایک آٹھ سالہ مسلم لڑکی کی عصمت دری اور قتل میں نئی بات کیا ہے؟ اور جیسا کہ ہم نے پہلے ہی ذکر کیا تھا، انہوں نے کہا کہ "اس میں لفظ 'مسلم' نظر انداز کیا جا سکتا ہے"۔ ہمارا اختلاف اسی موقف سے ہے: اگر وہ 8 سالہ لڑکی مسلم نہیں ہوتی تو نہ اس کی عصمت دری کی جاتی اور نہ ہی اسے قتل کیا جاتا۔ "

لیکن اس درد ناک معاملے میں باشعور ہندوستانی شہریوں کو مسلم یا ہندو سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ البتہ وہ باطل مذہبی شناخت کے بہروپ میں ظلم و ستم کی اس انتہاء سے فکرمند ہیں۔ ان کی فکر صرف مذہبی بنیادوں پر تمام اختلافات سے اوپر اٹھ کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکار ہونے والوں کے لئے تمام لوگوں کی خاموشی کو توڑنا ہے۔

راقم السطور سے گفتگو کرتے ہوئے لکھنؤ کے ایک مسلم مفکر اور مسلم ایرا (Muslim Era) کے ایڈیٹر ان چیف یونس موہانی نے ایک تلخ سوال پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا: "کیا یہ 'لبرل اور ترقی پسند' ہندوستان کی نئی روایت ہے جہاں صحافی عصمت دری اور قتل کے اس سنگین جرم کو مذہب کی عینک دیکھ رہے ہیں؟

ایک ہندوستانی مؤرخ اور (Where Stones Speak) کے مصنف رانا صفوی لکھتے ہیں: "اس لڑکی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے دردناک حادثے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ، صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ بچی تھی ، اس وجہ سے نہیں کہ وہ مسلمان تھی ، یا اس محض اس سبب سے نہیں کہ اس کا مذہب نہ ہی یہاں ہے اور نہ وہاں۔ بلکہ اس دردناک حادثے نے نفرت کا جو ننگا ناچ پیش کیا ہے اس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس قدر زہر آلود نفرت کہ جس نے ایک مندر کے اندر اس چھوٹی سی جان کے ساتھ بدکاری کرنے سے پہلے مجرموں کو ایک بار سوچنے کی بھی مہلت نہ دی کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔"

dailyo.in/voices/8-yr-old-raped-kathua-gang-rape-murder-jammu-lawyers-muslim-bakarwal-child-sedated-killed-j-k-police/story/1/23454.html

جب بدنام زمانہ کیس نربھیا معاملہ سامنے آیا تھا تب عام ہندوستانیوں نے ان بدکاروں کے مذہب یا ن کی ذات سے کوئی سروکار نہیں رکھا اور لوگ اسے اس ملک کی بیٹی سمجھ کر مظلوم کے ساتھ کھڑے تھے۔ ایک بار پھر وہ ہندوستان کی ایک اور بیٹی کے لئے کمر بستہ بیک زبان انصاف کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ ملک کے کئی حصوں میں منعقدہ احتجاجی مظاہروں میں دوٹوک انداز میں لوگوں نے یہ کہا ہے کہ کٹھوا کی 8 سالہ مسلم بچی اور اناؤ کی 18 سالہ ہندو لڑکی دونوں ‘‘درندہ صفت’’ انسانوں کا شکار ہوئی ہے اور ایسے لوگوں کا نہ تو کسی بھی مہذب معاشرے کوئی رشتہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی مذہبی برادری سے ان کا کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔

تاہم، جمو و کشمیر میں یہ خوف اپنے پاؤں پسار رہا ہے کہ کہیں آصفہ کے معاملے سے یہاں فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی وباء نہ پھیلنے لگ جائے۔ در حقیقت کٹھوہ معاملے کے بعد اس علاقے کے دو خطوں کے درمیان ایک نظریاتی اختلاف سامنے آیا ہے - آزاد جمو کے ساتھ ایک آزاد ملک کے لئے وہاں کی مسلم اکثریت لڑ رہی ہے جبکہ وہاں کا ہندو اکثریتی خطہ کشمیر کو مکمل طور پر ہندوستان کا حصہ بنانے کے لئے برسر پیکار ہے۔ اس طرح، ہندو اکثریتی جموں اور مسلم اکثریتی علاقے کشمیر کے درمیان سماجی، سیاسی اور ثقافتی دوریاں بڑھی ہیں۔

در حقیقت کٹھوہ میں 8 سالہ آصفہ بانو کے ساتھ عصمت دری اور اس کا بہیمانہ قتل کی واردات ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انجام دی گئی تھی جس کا خاص مقصد بکروال برادری کو نشانہ بنانا اور انہیں دہشت زدہ کرنا تھا۔ کٹھوہ کا جانکاہ حادثہ ہندوستان میں پیش آنے والے اکثر عصمت دری کے معاملات سے مختلف تھا، لیکن یہ حادثہ داعش کی ان کارستانیوں سے بالکل مشابہ تھا جو انہوں نے اپنے سابقہ مقبوضہ علاقوں میں پوری یزیدی برادری کو دہشت زدہ کرنے کے لئے عراق اور شام میں نوجوان یزدی لڑکیوں کے ساتھ کیا تھا۔ لہٰذا ، ہندوستان کے اندر اس نوعیت کی عصمت دری کا یہ ایسا پہلا واقعہ تھا جس کی منصوبہ بندی کشمیر کے ایک نسلی گروہ کو شکست دینے کے لئے ایک جنگی حربہ کے طور پر بہیمانہ انداز میں کی گئی تھی۔

لیکن عصمت دری کے اس معاملے کے سیاسی مضمرات کو سمجھتے ہوئے ہمیں عصمت دری کے ہر ایک واقعے کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ کیا عصمت دری کے الزام میں اگر کوئی مسلمان گرفتار کیا جائے تو مسلمانوں کو کھلے یا خفیہ طور پر اس کی حمایت میں آنا چاہئے؟ لیکن پریشانی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب نہ صرف یہ کہ خاندان کے اراکین بلکہ اس برادری کے ایم ایل اے اور دیگر قائدین بھی مجرم کی حمایت میں آگے آتے ہیں۔

یہ بتاتے ہوئے بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ سیاسی قوتوں نے کٹھوہ معاملے میں فرقہ وارانہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نےاس معاملے کو پوری دریدہ ذہنی کے ساتھ "ہندو مسلم" رنگ دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں چھوڑا۔ ایک ہندوستانی ناول نگار انورادھا رائے لکھتی ہیں:

‘‘کشمیر کے قانون سازوں نے پولیس اہلکار کو عصمت دری کے الزام میں گرفتار ہونے سے بچانے کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے۔ عورتوں نے بھی بدکاروں کو بچانے کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے: کیونکہ وہ ہندو ہیں اور جس بچی کی عصمت لوٹی گئی اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا وہ ایک مسلمان چرواہے کی بیٹی تھی۔ جب ذہنی پراگندگی اور ظلم و ستم کی سطح اس حد تک گر جائے تو مایوسی کے ساتھ آہ بھرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچ جاتا ہے۔ لیکن جب غم و غصہ بڑھ جائے تو ناامیدی ختم ہو جاتی ہے۔"

thewire.in/communalism/no-more-calmly-sailing-by-not-after-what-happened-in-kathua

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/the-kathua-rape-and-murder-case--why-see-it-through-the-prism-of-religion?/d/114953

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/?the-kathua-rape-and-murder-case--why-see-it-through-the-prism-of-religion--کٹھوہ-عصمت-دری-اور-قتل-معاملہ--اسے-مذہب-کے-آئینے-سے-کیوں-دیکھا-جائے؟/d/115086

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..