New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:55 PM

Urdu Section ( 17 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

The Broader Notion of Fasting In Islam روزہ کا آفاقی اسلامی مفہوم

 

غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام

روزہ بےشمار تاثیراتی قوتوں کا جامع ہے ۔ روحانیات ،ایمانیات ، عرفانیات ، اخلاقیات اور نفسیات سے اس کا ربط  پیہم ہے ۔ بالخصوص ماہ رمضان کے روزوں  کے امتیازات مسلم ہیں۔ ان کا سرمایھٔ افتخار قرآن کا مذکورہ فرمان ہے ۔ ‘‘یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوۡنَ ﴿183﴾ ترجمہ :‘‘اے ایمان والوتم پر روزے فر ض کیے گئے جیسے اگلوں پر فر ض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے۔’’ اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ دیگر آسمانی مذاہب اور الہامی ادیان میں بھی روزہ کا نظام رائج تھا ۔ آج بھی تقریباً ہر مذہب روزہ کی افادی  حیثیت کا معترف ہے ۔ بلکہ  کئی حد تک  غیر مسلم حضرات میں اس کا رواج  بھی قائم  ہے۔ مذہبی تواریخ  کے مطالعہ  سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مذاہب  کے روحانی رہنماؤں اور اکابرین  نے اس پر عملی طور پر زور دیا  ۔ البتہ  روزہ کے تعلق  سے ان کے تصو رات ، طریقے ، اغراض اور اسباب جداگانہ تھے ۔ چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں ہے۔‘‘ روزہ کے طریقے اور اغراض و مقاصد  قوم و ملک ، آب وہوا اور زمانی حالات کے باعث مختلف رہے ہیں ۔ مگر کوئی بھی معروف مذہبی  طبقہ قریب قریب ایسا نہیں  جس نے روزہ کی اہمیت کو معمولی  گردانا ہویا اس سے کلیتاً بیزاری  اخیتار کی ہو۔’’

نیز انسائیکلو پیڈیا میں صرف  زر تشتی  اور کنفیو شسی  مذاہب کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔ تاہم بعض مذہبی تواریخ  میں ملتا ہے کہ ز رتشتی مذہب کے یہاں بھی پروہتوں  کے لیے کم از کم پانچ روزوں  کی ادائیگی نا گریز ہے۔ موجودہ عیسائیت بھی اس کی تقدیس کی قائل ہے۔ خود بانی مسیحیت  نے چالیس دن کے روزے رکھے اور اپنے شاگردوں  کو بھی اس کی ترغیب دی۔ جس کے نتیجہ میں ابتدائی عیسائیوں نے کثرت  کے ساتھ روزے رکھے ۔ خود سینٹ پال بھی اس کے عادی تھے ۔ مگر موجودہ عیسائیوں  نے روزہ  کے متعلق  کوئی جدید نظریہ  یا مفہوم  پیش نہیں کیا ۔ فی زمانہ  یوروپی  ممالک میں روزہ  رکھنے  کا منشا ء اکثروبیشتر مختلف امراض کا علاج یا ان  سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوتا ہے۔

قوم یہود عموماً کسی ماتم یا کسی  اندوہناک سانحہ کی علامت کے طو ر پر روزے رکھتی  ہے۔

بعض جگہ تباہی  و ہلاکت  کی وجہ سے مشقت کے اس اختیاری عمل کو اپنا یا جاتاہے ۔ تاکہ تائید غیبی  جوش میں آکر حفظ وامان کا سایہ دراز کرے۔ ایک نکتہ  یہ بھی ہے کہ چوں کہ مصیبت و ہلاکت کا بنیادی سبب اعمال  کی شامت اور گناہ و معاصی  سمجھے جاتےہیں، اس لئے روزے ان کا کفارہ بن کر انسان کی حفاظت و نجات کا ذریعہ بنتے ہیں  ۔ بہر حال ! روزہ کے تئیں تمام تصورات ونظریات اور اس سے متعلق روحانی مفاہیم کے بہ نسبت اسلام کا پیش کردہ تصور صیام زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ محض بھوکا اور پیاسا رہ کر جسم کو تھکانے اور بے وجہ ضعیف وناتواں بنانے کے عمل کو اسلام نے قطعاً مسترد  کردیا ہے۔ جب تک رزہ دار کے جسم وروح اور قوائے جسمانی و معنوی خدا کے فرض کردہ اوامر ونواہی  کے مکمل پابند نہیں ہوجاتے، اس کی تمام تر مشقتیں لا حاصل اور نامراد رہیں گی۔ چنانچہ  ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک  روزہ دار خاتون  کو دیکھا جو اپنی خادمہ  کو گالیاں  دے رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ  کرام کو کھانا  لانے کا حکم دیا ۔کھانا حاضر کیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزہ دار عورت کو کھانا تناول کرنے کو کہا۔ عورت نے کہا ‘‘ میں روزہ دار ہوں ’’۔ ارشاد فرمایا: ‘‘ تم روزہ دار ہو حالاں کہ اپنی کنیز کو گالیاں دے رہی ہو۔ روزہ محض بھوک برداشت کرنے کا نام نہیں ’’۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/the-broader-notion-of-fasting-in-islam--روزہ-کا-آفاقی-اسلامی-مفہوم/d/12651

 

Loading..

Loading..