New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 07:33 AM

Urdu Section ( 22 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Madrasas: A Few Bitter Facts and Experiences دینی مدارس : چند تلخ حقائق و تجربات


غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

23جون،  2012

برّ صغیر میں دینی مدارس  کے قیام کا آغاز مسلم سلاطین  ہی کے دور میں  ہوچکا تھا ۔ سندھ او رملتان کے علاوہ دہلی، آگرہ، جونپور، احمد آباد اور گجرات  وغیرہ کی  قدیم دارالسلطنت میں کئی ایسی مساجد، مقابر اور خانقاہیں تعمیر ہوئیں  جن کی ہیئت کذائی  صاف بتاتی  ہے کہ ان کا بڑا حصہ تعلیم کے کام آتا تھا ، ان مدرسوں میں علوم اسلامیہ کے ساتھ ساتھ مروجہ عصری  فنون بھی داخل درس تھے، جن کے امتزاج سے نونہالان ملت کو اسلام کے حقائق و معارف سے آشنا اور ان کی اشاعت و ابلاغ کا اہل  بنایا جاتا تھا۔ اور غالباً  یہ انہی  فاضلین مدارس کی شبانہ روز جد وجہد او رمساعی جمیلہ کا ثمرہ ہے کہ آج اسلامی تعلیمات و ہدایات  اپنے حقیقی خد وخال کے ساتھ ہمارے سامنے جلوہ گر ہیں۔

آزادی کےبعد  ہندوستان کی سرزمین پر مدارس اسلامیہ کی نشأۃ ثانیہ کیلئے  پرزور سرگرمی شروع ہوگئی۔ علماء و خواص ، اصحاب فکر و خیر اور ارباب بست و کشاد  کی سرگرم کوششوں سے چند ہی عرصہ میں علوم نبوی کے گہوارے گاہے بہ گاہے تعمیر ہونے لگے اور اسے فضل خداوندی کی دست گیری کہئے  کہ مختصر سے عرصے او رناکافی  وسائل و اسباب کے باوجود آج ملک کے گوشوں میں مکاتب کے علاوہ دینی مدارس کی موجودہ تعداد اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 27000ہے جو اتر پردیش  ، اترانچل، بہار، بنگال، راجستھان ، جھارکھنڈ او رآسام وغیرہ میں خاص طور سے علم وعمل اور دین ودانش کے فیوض    لٹا ر ہے ہیں ۔

مذکورہ باتیں ہمارے ذہن ودماغ کو ضرور خوشگوارتسکین پہنچاتی ہیں، مگر تصویر  کا دوسرا رخ پلٹتے ہیں  کرب وتشویش کو راہ ملنے لگ جاتی ہے۔ اب  دینی مدارس اور ‘‘اسلامی جامعات’’ کی روز افزوں کثرت اور جابہ جا بھر مار سے ملت کا دور اندیش طبقہ ذہنی شادمانی کے ساتھ ساتھ یک گونہ قلق بھی محسوس کررہا ہے جو بے وجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے  کچھ لازمی محرکات ہیں۔  اس میں کوئی دو رائے نہیں  کہ ملک کے مختلف حصوں میں علوم نبویہ کی چند ایسی قابل فخر دانشگا ہیں  بھی ہیں جن کے آفاق گیر کارنامے او رعہد ساز منصوبے آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔  لیکن جب سے ان دینی اداروں پر دین سے نا واقف لوگوں کا قبضہ ہوا  یا یوں کہئے کہ کچھ بانی او رمہتمم حضرات نے مدارس او رچندے کے شرعی نظام کو کاروبار اور ‘‘انڈسٹری’’ کے طور پر چلانا شرو ع کر دیا، تبھی  سے علوم نبویہ  کے ان شبشتانوں نے اپنا تشخص کھودیا ۔ واقعہ یہ ہے کہ آج خانہ زاد جعلی مدارس اور دین کے نام نہاد خداّم کی ایسی تعداد وجود میں  آچکی  ہے جس نے مدارس کی کا یا ہی پلٹ دی ہے۔ آج آپ کو بغیر ڈھونڈھے ایسے سیکڑوں ذمہ داران او رمنتظمین مدارس دیکھنے کو مل جائیں گے جن کی کوتاہ علمی، کردار کی پستی ،اخلاق کی کمی، تعلیم کی ناقدری ، دینی امور سے ناواقفی، غیر ذمہ دارانہ بے حسی ،  تملق پسندی ، عیش کوشی و خویش پروری بلکہ ان کے عام طرز بود باش سے بھی یہ پتہ  لگانا دشوار ہوجاتا ہے کہ ان کی انتھک جدّ وجہد اور تگ و دو کا مقصد حقیقی  علوم نبوی کا فروغ ہے یا حصول زر اور جلب منفعت کا انتظار؟ کیلنڈروں، پوسٹروں، پمفلٹس ، رسیدوں اور توصیات و سفارشات میں تاجرانہ انداز سے وہ ایک متعینہ رقم انوسٹ کر کے کئی  گنا زیادہ رقوم کے  خواہشمند ہوتے ہیں۔  اس طرح چندے کی ‘‘سونے کی چھڑی ’’ کے ذریعہ جب  ان کی حسرت بر آتی  ہے تو شروع ہوجاتا ہے  عیش و عشرت کے خوابوں کی تکمیل کا ایسا سلسلہء دراز جو برسوں پر محیط ہوتا ہے۔    جب کہ ان کے مدرسوں کے بچے ( جنہیں  ان کے پوسٹرز کی زبان میں ‘‘تشنگان علوم و فنون ’’ اور‘‘ غریب ونادار طلبہ’’  کا خطاب ملتا  ہے)  قیام و طعام کے معقول انتظام ، بجلی ،پانی ،غسل خانے اور بیت الخلا ء جیسی  اہم ضروریات سے محروم اور پریشان حال رہتے ہیں ، بلکہ ‘‘علوم وفنون’’ کی شدبد سے واقف ہونے کےلئے بھی ترس رہے ہوتے ہیں ۔ وہیں دوسری طرف وہاں کے اساتذہ او رعلما ءاپنی علمی استعداد اور شہرت یافتہ قابلیت کے باوجود انتظامیہ کی نظر میں وہ مقام حاصل نہیں کرپاتے  جو ایک معمولی درجہ کے مولوی یا ملازم کو حاصل ہو جاتا ہے ۔نتیجۃً  ان کی بدحالی کی بھی ایک دلچسپ داستان جاری رہتی  ہے جس کے بطن سے ان کے اندر فکری  جمود، علمی  انحطاط، تملق پسند ی او رتن آسانی کا مزاج تو جنم لیتا ہی ہے اسی کے ساتھ تدریسی لگن، مطالعۂ کتب اور تلاش و جستجو کا سلسلہ، محنت و جان فشاں کا جذبہ خلوص و للہیت کا داعیہ سب کے سب اپناتسلسل کھو دیتے ہیں۔

سر دست یہ ذکر کرنا بھی  دلچسپی سے خالی  نہ ہوگا کہ بعض فضلاء کی زبان سے بارہا یہ سننے کو ملا کہ انتظامیہ کی طرف سے انہیں اس حکم کا پابند بنادیا گیا ہے کہ ان کیلئے اتنی مقدار میں چندہ کرنا لازمی  ہے ، نوبت بایں جارسید کہ بعض مدرسوں میں یہ امر تعلیم و تدریس کے منصب عظیم پر فائز ہونے کےلئے تقرری  کے شرائط میں داخل ہے۔ تعلیم تربیت اور افہام و تفھیم کا مادہ جیسا بھی ہو تحصیل چندہ کا فن اگر ٹھوس اور مضبوط ہے تو ایسے اساتذہ کی تنخواہوں  کا معیار بھی بلند سے بلند تر ہوتا ہے ،مسلسل حوصلہ افزائی اور مدح سرائی اس پر مستزاد ۔ حالا نکہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ چند ے کیلئے مدرسین کی بجائے وہ لوگ مخصوص کئے جائیں  جن کا کام صرف چندہ کرنا ہی ہو۔  مزید برآں ان کی منظم تربیت بھی ضروری ہے ۔ علما ء اور اساتذہ  سے چندہ کروانے سے سچ کہیں تو ان کی عزت داؤ پر لگ جاتی ہے ۔ جس کا افسوسناک شاخسانہ یہ ہے کہ امراء اور سرمایہ دار طبقہ تو درکنار عوام او رمعمولی حیثیت کے لوگ بھی ان پر پبھتیاں کسنے کو اپنا موروثی حق سمجھ بیٹھتے ہیں ۔

ماضی میں دینی  مدارس کے احوال پر نظر ڈالیں  تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ صرف پچاس ساٹھ برس پہلے مدارس کے منتظمین عموماً بے لوث دینی خدمات کے حامل ہوا کرتے تھے ۔ مدرسہ کے انتظام و انصرام کو وہ ایک خالص دینی عمل اور  کارِ ثواب سمجھ کر خیرو آخرت کے زندہ احساس کے ساتھ سر انجام دیتے تھے  ۔زر پرستی ،شہرت و ناموری ،  نمود ونمائش اور طبقاتی عصبیت کا دور دور تک کوئی پتہ نہ تھا ۔ بڑے سے بڑا سرمایہ دار اور دنیوی وجاہت کا مالک ان کی نظر میں آخرت طلب مخیرّ اور مخلص غریب کے بہ نسبت ہیچ ہوا کرتا تھا۔  اس لئے اس وقت مدارس کیلئے غیبی  امداد وبرکات کا سمندر بھی پر جوش تھا اور وہ نمایاں کامیابی کے ساتھ اپنے آفاقی مقاصد کی تکمیل میں رواں دواں تھے۔  مگر آج کا منظر نامہ یہ ہے کہ مدارس کی بڑی تعداد تیزی سے کاروباری افراد ، دنیا دار اہل ثروت اور سیاسی گلیاروں کے مسند نشینوں کی آماجگاہ اور ان کی عزت وشہرت کا خوشنما  ذریعہ بنتی جارہی ہے ۔  اعزہ پروری اور اقرباء نوازی کی وباتو اس طرح پھیلی ہوئی ہے کہ بڑے سے بڑے باصلاحیت اساتذہ او رہونہار طلبہ اس کی بھینٹ  چڑھا دیئے جاتے ہیں ۔  اور  ان کی صلاحیتوں کی بےدریغ تضیع کی جاتی ہے ۔ رزّاق حقیقی کو خوش کرنے کی بجائے چندہ دہندگان کو خوش رکھنے کیلئے  کافی تگ ودو کی  جاتی ہے ۔ اور کبھی کبھی اسی جذبہ کی تحریک پر جائز وناجائز کی تفریق کئے بغیر  مدرسہ چلانے کا ہر طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ اس کی افسوسناک مثال یہ ہے کہ لکھنؤ بورڈ کے عربی وفارسی امتحانات دلانے والے مدارس فرضی حساب پیش کرتے ہیں، فرضی لوگوں کو امتحان میں بٹھاتے ہیں، مدرسہ کے اندر اتنی  بے باکی سے نقل کرواتے ہیں  کہ عصری طبقہ کے لوگ خدا کی پناہ مانگتے نظر آتے ہیں ۔ اس لئے یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ آج مذہبی اداروں کی دینی واخلاقی شبیہ پر  رفتہ رفتہ مادی و سیاسی قدروں کی چھاپ نظر آنے لگی ہے۔

ذمہ داران مدارس کے اندر پیر پسار رہی اس مہلک بیماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کم از کم ہم جیسے ناتواں عقیدت مندان ِ مدارس کو ضرور تکلیف ہورہی ہے کہ آج ذمہ داران مدارس خود مدارس کے بنیادی مقصد کو فوت کرنے کے درپے ہیں ۔  عام طور پر مدرسوں کا یہ ناقابل فہم معمہ سننے کو ملتا  رہتا ہے  کہ وہاں کے منتظمین حضرات طلبہ کی تعلیمی  ترقی ، اخلاقی تربیت اور تخلیقی  ذہنیت پر کم اور ان پر ہر چہار جانب سے سخت سے سخت تر پابندیاں عائد کرنے پر زیادہ توجہ صرف کرتے ہیں ۔  معمولی وجوہات پرطلبا  ء کے خارجہ کا عمل جسے اکابرین ‘‘أ بعض المباحات ’’ کہا کرتے تھے ، اس تسلسل کے ساتھ جاری  ہے کہ گویا اسے واجب نہیں تو مستحسن کادرجہ ضرور مل گیا ہے۔ لگ بھگ اسی روّیہ کے شکار اساتذہ حضرات بھی  ہیں ۔ قیام وطعام کے معقول انتظام کا فقدان ،مہینوں محنتانہ تنخواہ او رمعاوضہ سے محرومی ،تنخواہوں میں غیر ضروری عدم توازن ،کتب وشروحات  ، لغات ومعاجم ، مراجع ومصادر،  معاصر ملکی و غیر ملکی  رسائل و جرائد اور جدید لٹر یچرز کی عدم فراہمی  کی وجہ سے وسعت مطالعہ اور روشن دماغی  کی کمی، پھر ان سارے آفات  پر انتظامیہ کی جانب سے داخلی  وخارجی  ذمہ داریوں اور محنت طلب خدمات کی  بوچھار ان کے لئے وبال جان  بنی رہتی  ہے ۔ یقین جانئیے! یہی حال ہمارے  اکثر مدارس کاہے۔ الاّ ماشا اللہ ! کچھ اس سے مستثنیٰ ملیں گے جن کے اعتراف سے ہمیں  کوئی گریز نہیں ،مگر موجودہ مدارس کے اس عمومی  انتظامی بحران کو کیا کہئے کہ آج لگ بھگ 180فیصد مدارس منتظمین اور اساتذہ کے درمیان  فکری وابستگی کے فقدان سے جوجھ رہے  ہیں ۔ جبکہ طلبہ سے تو اس  قدر خلیج نظر آتی  ہے گویا برسوں پرانی کوئی رقابت پنپ رہی ہو۔  آخر یہ کس کے قصور کا شاخسانہ ہے کہ طلبہ جب کبھی آپس میں  منتظمین کا تذکرہ کرتے ہیں تو گوناگوں شکووں کے دلچسپ تبادلے شروع ہوجاتے ہیں۔  جوش غضب میں زمین و آسمان کے قلابے ملادئے جاتے ہیں۔  ایسا لگتا ہے کہ ذمہ داروں کی نہیں ظالموں کی بات چھیڑ دی ہو ۔  یقیناً یہ تشویشناک پہلو ارباب بست وکشاد کیلئے زبر دست لمحہء فکر یہ ہے۔   اس میں طلبہ کے تئیں  ذمہ داران مدارس کے ناروا   رویے بھی بہت حد تک ذمہ دار ہیں جن سے چشم پوشی حقیقت سے پہلو تہی کے مترادف ہے۔

 راقم السطور کو کئی مدارس کے بھرپور جائزے  کا موقع ملا۔ تقریباً اکثر جگہوں پر اپنی آنکھوں سے یہ دلخراش منظر دیکھا کہ وہاں کے منتظمین حضرات طلبہ کی تعلیمی  و ثقافتی سرگرمیوں میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔ حدتو یہ ہے کہ وہ اپنے ادارہ کے ممتاز اور قابل فخر طلبہ سے بھی آشنا نہیں ہوتے ۔  نتیجتاً  کچھ کر گذرنے کاجذبہ رکھنے والے شاھین صفت طلبہ  بھی نا امیدی کے گھیرے میں آجاتے ہیں اور حوصلہ افزائی کیلئے ترس  رہے  یہ بچے اپنے آفاقی عزائم سے دستبردار ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح کتنے  تخلیقی   ذہن کے حامل طلبہ انفس و آفاق سے رشتہ توڑ کر جمود وتعطل کے خول میں ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتے ہیں ، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔

دینی مدار س علماءو  خواص کی بے لوث جد وجہد او رعوام کی مخلصانہ مالی امداد کے دم پر وجود میں  آتے ہیں۔ اس لئے جب تک علماء و ملت کامشترکہ خون جگر شامل حال رہتا ہے ، ان کی آبیاری ہوتی رہتی ہے ۔ جوں ہی ان میں سے ایک جزو بھی کم پڑتا ہے علم وعمل کے یہ درخت خزاں رسیدہ ہوجاتے ہیں۔  اس تناظر میں ذمہ داران مدارس کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ تمام انتظامی امور میں  صالح وشفاف اور مخلص کردار پیش کریں ۔خواہ اساتذہ کی تقرری ہو یا طلباء کے داخلے ہر محاذ پر قرب وبعد کی عصبیت سے بالاتر ہوکر محض علمی لیاقت اور تد ریسی صلاحیت کے حاملیں ہی کیلئے دروازے واکریں ۔مگر اس حوالے سے ہمیں اکثر شدید قلق کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ریاستی ، علاقائی ،درسگاہی اور مشربی قرابت کے ساتھ تملق پسندی، حاشیہ برداری اور چندہ حصولی جیسی کئی ایسی ترجیحی بنیادیں ہیں جو مدارس کے تعلیمی نظم کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہیں ۔ اور ایک متعدی مرض یا وائرس کی طرح پھیلتی  جارہی ہیں ۔

دیدہ ٔبینا سے دیکھیں تو آج  منتظمین مدارس کی صف سے ‘‘رجال علم وہنر’’  کی تعداد دھیرے دھیرے عنقا ہوتی جارہی ہے اب مدارس میں علما ء و فضلاء کی حیثیت منصب تدریس کے ‘‘خدام محض’’ کی رہ گئی ہے ۔اقتدار اعلیٰ اور انتظامی  عہدوں پر وہ طبقہ حاوی ہوتا جارہا ہے جو یا تو سرے سے ہی عالم نہیں یا سند یافتہ عالم تو ہے مگر خلوص وللہیت شعور دانش ،سنجیدگی ودور اندیشی او رجذبۂ درد مندی سے واسطہ نہ ہونے  کی بنا پر دینی مدارس کے انتظامی تقاضوں کو بھانپنے سے قاصر ہے۔ حالانکہ یہی وہ امتیازی خصوصیات ہیں  جن کی بدولت ہمارے اکابرین نے انہی  مدارس کے اندر بے سروسامانی کے باوجود خاک سے انسان تیار کئے ،دین کے جیالے پیدا کئے ،علم وعمل اور اخلاص کے نمونے پیش کئے ۔ اب اگر آج قلب ماہیت کی وجہ سے افراد سازی مبارک سلسلہ رک سا گیا ہے تو مقام حیرت کیا ہے؟

مدارس کے اندر پیدا شدہ ان برائیوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فی زمانہ اکثر مدارس میں منصب نظامت کی وراثت کا نظام جاری ہوچکا ہے ۔جہاں وارثین  نظامت کی مطلوبہ صلاحیتوں کے حامل ہوں کہ نہ ہوں، منتظم بننے کا استحقاق بہر حال رکھتے ہیں ۔  یہ پہلو المیہ بھی ہے اور لمحہ ٔ فکریہ بھی ۔ دینی مدارس قوم وملت کی امانت ہیں۔ اس لئے اہل و ناہل کی تمیز ختم کر کے ان پر مخصوص قسم کی اجارہ داری ملّی نقصانات کاپیش خیمہ ہے ۔ ہاں !اگر  مدرسہ کے ناظم کا وارث صحیح معنوں میں جو ہر قابل ہے تویہ تو طرۂ امتیاز ہے، مگر لیاقت کی ترجیح کو حرف غلط کی طرح مٹا کر مدرسوں پر خاندانی قبضہ داری کا جو نامانوس رواج چل پڑا ہے ،اگر اس کا سدّباب نہ کیا گیا تو درمندان قوم وملت کو علوم نبوی کے ان شبشانوں کو اجڑتے دیکھ کر نالۂ درد سنا نے کیلئے ابھی سے تیار ہو جانا چاہئے۔

دینی مدارس کے تعلق سے ایک افسوسناک امر یہ  بھی ہے کہ ان میں اعلیٰ سطحی ہائی پاور گروپ  ) High Power Group )  کا فقدان ہے جو یہ طے کرسکے کہ کس علاقے میں مدرسہ کی ضرورت ہے کہاں نہیں؟ اگر ہے تو وہ کس طرح  کا ہوگا؟ نتیجہ  سامنے ہے ملک کے بہت سے وہ علاقے جہاں قوم کے اندر دینی بیداری  اور ان کی شرعی رہنمائی کی سخت ضرورت ہے ،وہاں تلاش بسیار سے کوئی ایک مدرسہ نظر آتا ہے جب کہ جہاں پہلے ہی قدیم اور تاریخی مدارس کا شور وغوغا ہے جواب ‘‘جامعات ’’ کی شکل لئے ہوئے ہیں وہاں اب بھی مزید نئے مدارس کے قیام کیلئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا جارہا ہے۔  ویسے تو خود ساختہ مہتمم کی قیادت میں چلنے والے مدارس کی بھی ایک خاص تعداد ہے مگر انہیں نہ کوئی مشورہ دینے والا ہے نہ ہی وہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں نتیجہ کے طور پر مالی حساب وکتاب کی شفافیت پر سوال اٹھتے رہتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے مختلف گروپس بنتے  ہیں اور ان کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ جس سے مدرسہ کے داخلی حالات بالخصوص نظام تعلیم تو متاثر ہوتا ہی  ہے ،مدارس اور علماء کی جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے ۔ دوسری طرف بعض اہل مدارس پر شکوہ عمارتوں ، بلندو بالا میناروں اور سنگ مر مر سے بنی  ہوئی دیواروں  کی تعمیر میں تو عصری تقاضوں کا شدت سے احساس کرتے ہیں، مگر معیار تعلیم اور نظام تربیت کی تحسین کی طرف نظر کرنے کیلئے ان کے پاس وقت  ہی نہیں ہوتا ۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/madrasas--a-few-bitter-facts-and-experiences--دینی-مدارس---چند-تلخ-حقائق-و-تجربات/d/7720 

 

Loading..

Loading..