غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام
11 دسمبر 2017
ایک ایسے وقت میں کہ جب ہم اس حقیقت کا مشاہدہ کر ہے ہیں کہ دنیا ایک اور 'تہذیبی تصادم' کی جانب بڑھ رہی ہے اس زمانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم امن کے عالمی پیغامبروں کے افکار و تعلیمات کی یاد تازہ کریں تاکہ مختلف ممالک ، تہذیب و ثقافت اور مذاہب کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ اس کے لئے امن و سلامتی کے عالمی پیغامبروں کے نظریات کے ایک جامع مطالعہ کی ضرورت ہے۔ اس میں اہم مذہبی تفریق یا طبقات کی دھندلاہٹ نہیں ہے، بلکہ قیام امن کا ایک بڑا مصدر و سرچشمہ ان کے افکار و خیالات اور معمولات میں مضمر ہے۔
آج جبکہ متشدد اور انتہاپسند عناصر ہمارے معاشروں کی سماجی ساکھ کو کمزور کر رہے ہیں لیکن امن، تکثیریت اور عدم تشدد کے فروغ میں بھی پوری دنیا میں آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔
ہمارے مذہبی معاشروں کے درمیان پرامن اور روحانی اقدار کی کوئی کمی نہیں جیسا کہ اسلام اور بدھ مت میں اس کی فراوانی ہے۔ لیکن ہم اکثر مذہبی تعصب پرستوں کے مذموم مقاصد کو انجام دینے کی کوشش میں غیر شعوری طور پر انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اگرچہ ہم مذہب کے متعدد فقہی، اصولیاتی اور قانونی معاملات میں شدید اختلافات پر توجہ دیتے ہیں، لیکن ہم اسلام اور بدھ مت کے مقدس صحیفوں میں تصوف و روحانیت سے متعلق "عام بنیاد" کو مسترد نہیں کر سکتے۔ ان صحیفوں کے اندر ان دونوں مذاہب کے پیروکاروں کو بالعموم صرف انسانی مروت و ہمدردی کی بنیادوں پر ہی نہیں بلکہ ہر دو مذہب یعنی اسلام اور بدھ مت کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے بھی ایک دوسرے کے تئیں رواداری اختیار کرنے ، ایک دوسرے کو قبول کرنے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
جس طرح ابدی نجات کا تصور اسلام کے اندر "ایمان کے پانچ ستونوں" میں مضمر ہے اسی طرح بدھ مت میں روحانی معرفت "چار عظیم سچائیوں" میں مضمر ہے ، جیسا کہ اول الذکر امور کا نزول غار حرا سے لیکر مدینہ میں آپ ﷺ کی وفات کے درمیان پیغمبر اسلام ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہوا تھا جبکہ مؤخر الذکرامور کی تعلیم گوتم بدھ نے بنارس کے سار ناتھ میں اپنے پانچ راہبوں کو دی۔
گوتم بدھ کی پہلی دو عظیم تعلیمات میں تکلیف، مصائب و آلام کی بنادی وجوہات اور ان کے نتائج کا بیان ہے، جبکہ ان کی دوسری اور تیسری تعلیمات میں ان مفاسد کا روحانی مداوا پیش کیا گیا ہے۔ ناگزیر طور پر یہ چار عظیم سچائیاں ایک انسان کو مکمل طور پر ہمدردی، امن و عافیت اور انسانی محبت و مروت پر مبنی ایک نظام حیات عطا کرتی ہیں جس کے نتیجے میں بالآخر امن کا قیام اور تنازعات کا حل عمل میں آتا ہے۔ آخر میں بدھ مت کی روایت میں مصائب و آلام کے اختتام تک پہنچنے کا راستہ آٹھ عظیم مراحل سے ہو کر گزرتا ہے، جو کہ اس طرح ہیں: افکار و نظریات کی پاکیزگی، نیت کی پاکیزگی، زبان و بیان کی پاکیزگی، عمل کی پاکیزگی، معیشت، جد و جہد، توجہ اور خیالات کی یکسوئی۔
واضح طور پر قرآن کریم میں بار بار ان تعلیمات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اسلام میں نجات کا وسیع ترین نظریہ قرآنی کی متعدد آیات کی روشنی میں "مصائب و آلام کے خاتمے" سے متعلق ہے۔ قرآن خود کو دنیا اور آخرت کے مصیبت سے بچانے کے لئے افکار و نظریات کی پاکیزگی، نیت کی پاکیزگی، زبان و بیان کی پاکیزگی، عمل کی پاکیزگی، نیک معیشت، مساعیٔ جمیلہ، توجہ اور درست دماغی کیفیت کا مطالبہ کرتا ہے۔ (2:62)
کرما کا اصول جو کہ گوتم بدھ کی تعلیمات کا مرکزی حصہ ہے اسلامی اخلاقیات کے مشابہ ہے۔ اسی طرح، بدھ مذہب کے عظیم آٹھ اصول اور اخلاقی اسلامی شریعت کے درمیان واضح مشابہت اور مماثلت موجود ہے۔
گوتم بدھ کو بنیادی طور پر ان کی روحانی معرفت یا بدھ مت کے افکار میں ابدی نجات کے لئے جانا جاتا ہے۔ اس کا ذکر چار عظیم سچائیوں میں ملتا ہے جو گوتم بدھ نے سارناتھ بنارس کے ہرن پارک میں اپنے پانچ راہبوں کو دیا تھا، جو کہ حسب ذیل ہیں:
اول، زندگی میں مصائب و آلام کا پایا جانا ناگزیر ہے (دکھہ-ستیا)۔
دوم، مصائب و آلام خواہشات کی پیداوار ہیں (سمودیا-ستیا)۔
سوم، اگر تمام خواہشات ختم ہو جائیں تو مصائب و آلام بھی ختم ہو جائیں گے( نروھا - ستیا)
چہارم، اس حالت کو آٹھ اصولوں پر عمل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے( مارگا - ستیا )۔
چار عظیم سچائیوں کی وضاحت میں، گوتم بدھ نے سوال کیا اور پھر اس کا جواب بھی دیا کہ: ' تکلیف کیا ہے؟'
وہ اس کی وضاحت کرتے ہیں: پیدائش مصیبت ہے۔ عمر بڑھنا مصیبت ہے۔ بیماری تکلیف دہ ہے، موت تکلیف دہ ہے غم اور گریہ و زاری ، درد اور ناامیدی تکلیف ہے؛ خواہشات کا پورا نہ ہونا تکلیف ہے۔ مختصر طور پر امید سے جنم لینے والے یہ پانچ امور تکلیف دہ ہیں۔
پھر گوتم بدھ نے سوال کیا کہ مصیبت کی جڑ کیا ہے؟ تو ان کی تعلیمات میں اس کا جواب یہ دیا گیا ہے: خوشی اور ہوس پر مشتمل خواہش ، جنسی لذات کے حصول کی خواہش اور دوامیت اور معدومیت کی خواہش۔
اور مصیبت کا خاتمہ کیا ہے؟ مصیبت کا خاتمہ انہیں خواہشات کو ترک کرنا، ان سے باز رہنا، ان کو چھوڑ دینا اور انہیں مسترد کر دینا ہے۔
بالآخر، بدھ مت میں مصائب و آلام ، تنازعہ اور تشدد کے خاتمے کا راستہ آٹھ عظیم اصولوں پر مبنی ہے۔ جو کہ اس طرح ہیں: افکار و نظریات کی پاکیزگی، نیت کی پاکیزگی، زبان و بیان کی پاکیزگی، عمل کی پاکیزگی، معیشت، جد و جہد، توجہ اور خیالات کی یکسوئی۔
گوتم بدھ ‘‘دھما’’ یعنی ‘‘قانون’’، ‘‘طریقہ’’ یا ‘‘روایت’’ کے معنوں میں اپنی روشن خیالی کی وضاحت کرتے ہیں اور اس سے مراد ‘‘حتمی حقیقت’’ لیتے ہیں جو کہ روحانی نجات کا سبب بنتی ہے۔
قابل ذکر امر یہ ہے اسلام کے اندر نجات کا وسیع تر تصور بھی 'مصائب و آلام کے خاتمے' سے ہی متعلق ہے جیسا کہ واضح طور پر متعددقرآنی آیات میں اسے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن خود جہنم سے نجات کا راستہ افکار و نظریات کی پاکیزگی، نیت کی پاکیزگی، زبان و بیان کی پاکیزگی، عمل کی پاکیزگی، نیک معیشت، مساعیٔ جمیلہ، توجہ اور درست دماغی کیفیت کو قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم کا فرمان ہے:
مسلمان ہوں، یہودی ہوں، نصاریٰ ہوں یا صابی ہوں، جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے رب کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔(2:62)
لہٰذا، بدھ مت کے افکار میں اخلاقی اقدار کو اسلام کی اخلاقی تعلیمات سے گہری مماثلت حاصل ہے۔ کرما کے عظیم آٹھ اصول اور اخلاقی اسلامی شریعت کے درمیان واضح مشابہت اور مماثلت موجود ہے۔ یہ روحانی تعلیم حضرت محمد {ﷺ} کی مندرجہ ذیل مشہور و معروف حدیث میں موجود ہے:
(حدیث قدسی) میں اللہ نے ہمیں یہ بتایا کہ ‘‘ائے میرے بندوں میں صرف تمہارے عمل (کرما) کا حساب لیتا ہوں اور اور تمہیں اسی کا بدلہ عطا کرتا ہوں۔’’ (امام مسلم، امام ترمذی اور ابن ماجہ)
گوتم بدھ نے دھمہ کو ‘‘عمیق، پرامن اور شاندار، محض عقلی دلیل کی بنیاد پر ناقابل حصول ، پراسرار اور نیک و متقی کے لئے قابل حصول' قرار دیا ہے۔ یہ قرآن کریم میں احسان یا ربانیۃ کے نام سے اسلامی روحانیت کے بنیادی اصول کے ساتھ گہری مشابہت رکھتا ہے۔
معروف اسلامی اسکالر فتح اللہ گولین نے تصوف پر اپنی کتاب ‘‘Emerald Hills of the Heart’’ (تصوف کے عمل میں کلیدی تصورات) میں احسان کے تصور کی وضاحت کی ہے:
"احسان کے دو لفظی معانی ہیں، کوئی کام اچھی طرح سے پورے کمال کے ساتھ انجام دینا اور کسی کے حق میں کچھ اچھا کرنا۔ اور کبھی کبھی قرآن اور سنت میں ان دونوں معانی کے ساتھ اس کا استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے احسان کے شعور کی وضاحت میں دل پر غور و فکر -2 میں اس کی نشان دہی کی گئی ہے ، کبھی کبھی اس کا استعمال دونوں معنوں میں کیا جاتا ہے"۔
گولن مزید لکھتے ہیں: "سالکان راہ حق علماء کے مطابق کامل خوبی دل کا ایک ایسا عمل ہے جس میں سچائی کے معیار کے مطابق غور و فکر شامل ہو؛ نیک کام کرنے کا ارادہ کرنا اور پھر اسے انجام دینا؛ پھر اس شعور کے ساتھ عبادت کرنا کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے۔ کامل خوبی حاصل کرنے کے لئے اس کے خیالات، احساسات اور تصورات کی ابتداء ایک مضبوط عقیدے پر ہونی چاہیے اور اس کے بعد اسلام کے مبادیات و ضروریات پر عمل کر کے اس عقیدے کو گہرا کرنا چاہئے اور الہی انعامات حاصل کرنے کے لئے اپنے دل کی تربیت کرنی چاہئے ، اور اس کا دل اللہ کے مظاہر کے نور سے روشن ہونا چاہیے۔ جس نے نیکی میں کمال کا یہ مقام حاصل کیا ہو صرف وہی حقیقۃً کسی بدلے کی توقع کے بغیر دوسروں کے ساتھ بھلائی کر سکتا ہے۔ "
احسان کے ایک جامع اور عین مطابق معنی کی وضاحت کے لئے ہمین درج ذیل دو مشہور احادیث پر غور کرنا چاہئے:
1) نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق، "احسان (کامل نیکی) یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو؛ کیونکہ اگر تم اسے نہیں دیکھتے ہو تو وہ تمہیں ضرور دیکھتا ہے"۔ [بخاری ، "ایمان،" 37؛ مسلم، " ایمان ،" 7؛ ابو داود ، سنن، 16]
2) دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے کے لحاظ سے احسان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس اصول میں مضمر ہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ [بخاری ، " ایمان" 7؛ مسلم، ایما ، 71]
تمام مذہبی روایات کے اندر تصوف کا مقصد صرف مادہ پرستی کو ہی ختم کرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ روح اور دماغ کی بات ہے جو تمام مذاہب میں اچھی طرح سے موجود ہے۔ اسلام اور بدھ مت کے امن بیانیہ کے درمیان روحانی عناصر کے پیش نظر ان دونوں کو عہد حاضر کی عالمی سلامتی پالیسیوں میں ایک فلسفیانہ دائرے کے اندر لایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں مشترکہ اخلاقی اور معنوی نقطہ نظر پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے جو پیغمبر اسلام محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور گوتم بدھ کے فلسفیانہ مباحث میں موجود ہیں، جو تیزی سے تشدد کا شکار ہوتی ہوئی اس دنیا کے لئے امن و ہم آہنگی کی ایک بہت بڑی امید ہیں۔ ایک مثبت عمل پر گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے قیام امن و ہم آہنگی میں ان دونوں کے فکری سرچشموں کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔ در اصل حضرت محمد (ﷺ) نے درست طرز عمل، غیر مشروط محبت اور رواداری کی اپنی تعلیمات کو گوتم بدھ کے عظیم آٹھ اصولوں کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت کے ساتھ پیش کیا ہے، جو کہ اس طرح ہیں: افکار و نظریات کی پاکیزگی، نیت کی پاکیزگی، زبان و بیان کی پاکیزگی، عمل کی پاکیزگی، معیشت، جد و جہد، توجہ اور خیالات کی یکسوئی۔
URL for English article: http://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/islam-and-buddhism--integrating-the-thought-resources-of-prophet-muhammad-(pbuh)-and-gautam-buddha-in-contemporary-peace-policies/d/113527
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism