New Age Islam
Sat Apr 04 2026, 03:36 PM

Urdu Section ( 19 Sept 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

How The Extremist Magazines Feed ‘Muslim Victimhood’ Narrative In India? القلم جہادی میگزین کا پروپیگنڈہ: انتہا پسند رسالے اور سوشل میڈیا گروپ کس طرح ہندوستان میں 'مسلم مظلومیت' کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں؟

غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام

15 ستمبر 2017

ایک شدت پسند تنظیم جیش محمد کے اردو میگزین القلم نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں میانمار کے اندر روہنگیا مسلمانوں پر ہو رہے ظلم و کی خبر متعلق میانمار میں ایک متشدد جہاد شروع کرنے کے لئے جنوبی ایشیائی مسلمانوں کو برانگیختہ کیا گیا ہے۔

ہفتہ وار میگزین القلم کے تازہ ترین ایڈیشن میں جو کہ خود کے بارے میں اسلامی صحافت کا علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا ایک مضمون شائع ہوا ہے۔

اس مضمون کے آغاز میں ہی اظہر نے میانمار کی 'ظالمانہ' حکومت کو "اس کے فاتحین کے قدموں کی آہٹ" کے لئے تیار ہو جانے کی دھمکی دی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ "یہ ملک اب جلد ہی امن و سکون سے محروم ہو جائے گا"۔

اس کے کلیدی مواد پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اس زہریلے مضمون میں موجود بنیاد پرست عناصر کا انکشاف ہوتا ہے۔ اس مضمون میں لکھا ہے کہ : "ہر مسلمان ان کے درد کو محسوس کر رہا ہے...." "اور برما کے غیور مسلمانوں کی قربانی کی برکت سے اُمت مسلمہ میں بیداری بھی بڑھ رہی ہے...."ہم میں سے ہر شخص خودکو مسلمان سمجھ کر یہ سوچے کہ وہ اس معاملے میں کیا کر سکتا ہے… پھر دو رکعت نمازادا کر کے دعاء کرے کہ یا اللہ اس اہم معاملہ میں مجھے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطاء فرما … اور پھر استخارہ اور مشورہ سے اس کام میں آگے بڑھتا چلا جائے …اللہ تعالیٰ ایسے افراد سے بڑے بڑے کام لے لیتے ہیں… میں سوچوں کہ میں نے برما کے لئے کیا کرنا ہے… آپ سوچیں کہ آپ نے برما کے لئے کیا کرنا ہے… نہ مشہوری، نہ پبلسٹی اور نہ ریاکاری۔ پورا مضمون اس لنک پر آن لائن دست یاب ہے۔ (1)

اسی طرح، ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں کسی انتہا پسند جہادی نظریہ ساز نے میانمار میں جہاد کا مطالبہ کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اعلانِ جہاد مسلسل القلم کے اندر ایک ہفتہ وار کالم میں مسعود اظہر کے تخلص "سعدی" کے نام سے شائع ہو رہا ہے۔ "بے تاب برما" کے عنوان سے اس مضمون میں میگزین نے          برصغیر کے عام مسلمانوں سے " فوری طور پر کچھ کرنے کی" اپیل کی ہے۔

اردو زبان میں شائع ہونے والی پرنٹ اور آن لائن دونوں صورتوں میں دستیاب انتہا پسند جہادی میگزین القلم برصغیر کے سادہ لوح نوجوان مسلم طبقے کو آسانی کے ساتھ دستیاب ہے۔ اس طرح کے جہادی میگزین سے خاص طور پر پاکستان، کشمیر اور یہاں تک کہ ہندوستان میں اردو زبان بولی جانے والی ریاستوں کے کچھ حصوں میں ایک بڑی تعداد میں اردو قارئین کے دماغ میں بنیاد پرستی کا زہر کامیابی کے ساتھ پھیلانے میں مدد ملی ہے۔

یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ جنوبی ایشیاء کی ایک بدنام زمانہ انتہاء پسند تنظیم نے ایک ایسے وقت میں جہاد کے لئے آواز بلند کی ہے کہ جب ہندوستان میں مسلم عوام ایک بھاری تعداد میں روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں اپنی شمولیت درج کروا رہے ہیں۔

روہنگیا میں مسلمانوں پر میانمار حکومت کی کاروائی کے خلاف ملک کے مسلمان شہریوں کے درمیان بڑھتے ہوئے غم و غصہ اور ان کے لئے گہری مذہبی ہمدردی کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ اس صورت حال میں جیش محمد اور اس جیسی انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے جہاد کی دعوت ہندوستان میں اسلامی بنیاد پرستی کے شعلوں کو ہوا دے گی۔

میانمار میں جہاد کے لئے سب سے پہلی دعوت کے ساتھ ہی جیش محمد نے مذہبی جھگڑوں کا بیج بو دیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں کئی دیگر انتہا پسند اسلامی تنظیمیں بھی اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے 'روہنگیا جہاد' کے لئے زمین ہموار کر رہی ہیں۔

اب القاعدہ جیسی عالمی جہادی تنظیموں کی جانب سے بھی سے جہاد کی دعوت عام کی جا رہی ہے جو کہ خطے کی داخلی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کرتی ہے۔ مورخہ 14ستمبر ، 2017 کو ایک پاکستانی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے عسکریت پسندوں نے میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے لئے حمایت کا مطالبہ کیا ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ میانمار کو اس کے "جرائم" کی "سزا" دی جائے گی۔ 11 ستمبر، 2001 میں امریکہ پر حملے کے پیچھے کار فرماں اس عسکریت پسند گروہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے امداد، ہتھیار اور "فوجی معاونت" کے ساتھ میانمار کے مسلمانوں کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔ SITE کی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق القاعدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہمارے مسلمان بھائیوں کے ساتھ جو وحشی سلوک کیا گیا ہے اس کی سزا انہیں ضرور دی جانی چاہئے اور میانمار کی حکومت نے ہمارے مسلمان بھائیوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کا مزہ انہیں بھی چکھایا جائے گا۔ "

برصغیر کے مرکزی دھارے میں شامل مسلمانوں کو 'روہنگیا مسلمانوں' کے نام پر جہاد کے لئے القلم کے مضمون یا القاعدہ کے اعلان جیسی بنیاد پرست بیان بازی کی تردید کرنا ضروری ہے۔ روہنگیا مہاجرین کے لیے ہندوستانی مسلم لیڈروں کی ہمدردی اور اخلاقی حمایت غلط نہیں ہے۔لیکن انہیں جہادی انتہا پسندوں سے امت مسلمہ کو دور رکھنا بھی اپنی ایک ذمہ داری سمجھنا چاہئے۔

ابھی اسی بات پر بحث و مباحثے کا دور چل رہا ہے کہ آیا روہنگیا کے کچھ لوگ بنیاد پرست جہادی تنظیم اقام المجاہدین کے ساتھ منسلک ہیں یا نہیں جس کی وجہ سے ہندوستان میں ان کی غیر قانونی ہجرت اس ملک کے لئے سکیورٹی خطرات کا باعث ہو سکتی ہے۔ لیکن روہنگیا میں بنیاد پرستی کے پیچھے ان جہادی روابط پر کوئی فقہی تردید شائع نہیں کی جا رہی ہے۔ جبکہ اس امر کے پختہ ثبوت دستیاب ہیں کہ روہنگیا کے انتہا پسندوں کی اکثریتی پاکستانی وہابی یا ہندوستان کی عالمی تحریک تبلیغی جماعت کے انتہا پسند خیالات سے متاثر ہیں۔

روہنگیا بحران پر نظریاتی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کو اسلامی شدت پسند تنظیموں کے ہاتھوں ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سادہ لوح مسلمانوں کے سامنے مسلمانوں کی مظلومیت کی تصویر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ ہندوستانی حکام کو اس بات کے بھی ثبوت ملے ہیں کہ ان تنظیموں نے انہیں میانمار، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے خلاف انتقام لینے میں ان کی مدد کرنے کا وعدہ کرکے چند روہنگیا مسلمانوں کو قائل بھی کر لیا ہے۔

بظاہر، ہندوستان بڑی مسلم آبادی والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہےجہاں مسلمان امن کے ساتھ رہتے ہیں ، یہاں تک کہ اس ملک کے بعض خطوں میں مسلمانوں کو بالا دستی بھی حاصل ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ ہندوستان میں بنیاد پرست اسلامی تنظیموں کا الزام ہے کہ اس ملک کے اندر مذہبی فسطائیت کا دور شروع ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی زندگی خطرے میں پڑ چکی ہے۔ اور ان سب کے باوجود ان کا مطالبہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو ہندوستان میں پناہ دی جائے!!!

کیرالہ کی اسلامی تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) نے نہ صرف یہ کہ روہنگیا مسلمانوں کو ان کے حقوق اور شہریت کے حق سے محروم رکھنے کے لئے میانمار کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے بلکہ روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کے منصوبہ کے لئے حکومت ہند کے تئیں بھی اپنا تیکھا رویہ ظاہر کیا ہے۔ جمعیت علماء ہند جیسی اسلامی تنظیموں نے حال ہی میں روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے لئے دہلی میں ایک مضبوط صدائے احتجاج بلند کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کی خبر وسیع پیمانے پر مقامی اردو ذرائع ابلاغ میں رپورٹ کی گئی ہے۔ لیکن ان میں سے کسی کو بھی ان متشدد اور انتہا پسندی عناصر کی کوئی فکر نہیں ہے جو اس معاملے سے ایک نظریاتی نفع حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بے شمار اسلامی سوشل میڈیا گروپ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں اور خود اپنے ملک کے خلاف عام ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ اپنے ہم مذہبوں کے لئے محبت و ہمدردی کا اظہار ایک فطری عمل ہے اور اسے کلیۃً مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن علاقائی خدشات کو بڑھاوا دینے والی پاکستانی جہادی تنظیموں کی جانب سے اس قدر تلخ بیانی اور محاذ آرائی پر مبنی بیانات اور ہمدردی کا اظہار ملک کی داخلی سیکورٹی کے لئے سنگین خطرات کا سبب ہے۔

خاص طور پر کشمیر میں حزب المجاہدین کے ارکان میانمار میں مسلمانوں کی مظلومیت کی اشتعال انگیز کہانیاں لوگوں کو سنا کر بنیاد پرستی کے شعلے کو ہوا دے رہے ہیں۔ عید الاضحی کے موقع پر انتہا پسند تنظیم سے ہمدردی رکھنے والوں نے وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا گروپ پر ایک اردو پوسٹر شائع کیا تھا جس میں ذبح کئے گئے جانوروں کی کھال روہنگیا پناہ گزینوں کی امداد کے لئے قدم بڑھانے کا دعوی کرنے والی تنظیم حزب المجاہدین کو عطیہ کرنے کے لئے مسلمانوں سے پر زور اپیل کی گئی تھی۔ حزب مجاہدین کا پوسٹر اردو میں اس طرح ہے:

"کشمیر ، فلسطین ، افغانستان ، عراق اور اب برما۔ الغرض ، پوری دنیامیں مسلمان بے دردی سے شہید ہو رہے ہیں ، زیر نظر تصاویر ان کے منھ بولتے ثبوت ہیں۔ لیکن حزب المجاہدین کے نوجوانوں ہر میدان میں ان کے مقابلے کے لئے موجود ہیں۔ ان کے ساتھ تعاون ہم اور آپ کی ذمہ داری ہے ، لہٰذا عید الاضحیٰ کی خوشی کے ان لمحات میں اپنے صدقات ، خیرات اور خصوصاً چرم قربانی مسلمانوں کے غم خوار سر ہتھیلی پر رکھے ہوئے حزب المجاہدین کو دیجئے۔"

اس پوسٹر میں برما ، فلسطین ، افغانستان اور عراق میں مارے جانے والے بے گناہ مسلمان بچوں اور عورتوں کی لرزہ خیز تصاویر بھی پیش کی گئی ہیں۔ نیز، اس میں اس تنظیم کے تین ذمہ دار افراد سے رابطہ کے لئے نمبرات بھی فراہم کئے گئے ہیں ، جیسا کہ اس کی تفصیل ایک آزاد خیال اور ترقی پسند اردو ویب سائٹ 'نیا زمانہ' پر شائع ایک مضمون میں موجود ہے۔ (/niazamana.com/2016/09/funding-for-terrerists)

لہٰذا، اس میں کوئی تعجب نہیں کہ ایک کشمیری عسکریت پسند ذاکر موسی نے جو کہ اس سے قبل حزب المجاہدین کا کمانڈر تھا اور اب کشمیر میں ایک نئی جہادی تنظیم 'انصار غزوات الہند' کا سربراہ ہے ، اپنے ایک حالیہ ویڈیو میں خبردار کیا ہے کہ "اگر جمو میں موجود 8 ہزار روہنگیاں مسلمانوں کو ملک بدر کیا گیا تو ملک میں بڑے پیمانے پر خونریزی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو جائے گا"۔

پاکستانی اسلام پسند بنیاد پرست تنظیمیں مسلسل اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، ایسی صورت میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار ہندوستان کے لئے ایک اہم سیکورٹی تشویش بنی ہوئی ہے۔ پاکستانی دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوہ نے جو کہ لشکر طیبہ کے نام سے بھی مشہور ہے انڈونیشیا میں مبینہ طور پر روہنگیا مسلمانوں کے لئے پناہ گزین کیمپوں کا اہتمام کیا ہے۔ عالمی دہشت گرد حافظ سعید کی قیادت میں جماعت الدعوہ نے ایک انسانی تنظیم کا کردار اداد کیا اور اس نے مختلف ممالک میں روہنگیا مسلم تارکین وطن کو خوراک ، ملبوسات اور پناہ گاہوں کی بھی پیشکش کی ہے۔

ہندوستان میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکناں ، صحافی اور ساتھ ہی ساتھ اسلامی علماء سمیت عام ماہرین بمشکل ہی روہنگیا بحران کو ایک گہرے نظریاتی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اس امر کا تجزیہ کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں کہ بنیاد پرست اسلامی تنظیمیں اور بالخصوص پاکستان کی جہادی جماعتیں اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کس طرح روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر ہندوستان میں روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کو اس نظریاتی تناظر سے پیش کیا جانا ضروری ہے۔

(1). alqalamonline.com/index.php/rangonoor-saadi-k-qalam-say/8450-608-rangonoor-barma-betaab

URL for Urdu article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/al-qalam-s-jihadist-rhetoric--how-the-extremist-magazines-and-social-media-groups-feed-‘muslim-victimhood’-narrative-in-india?/d/112536

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/how-extremist-magazines-feed-muslim/d/112569


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..