
غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام
22 نومبر 2014
وسط ایشیا، ایران اور اسپین صحیح معنوں میں اسلامی ثقافت، آرٹ اور فن تعمیر کے شاندار مراکز ہیں۔ مسلم اسلاف یعنی حکمران اور مذہبی علماء دونوں نے تعمیراتی ڈھانچے، مساجد، مدارس اور بڑے بڑے گنبدوں والے صوفیاء کرام کے مقبرے اور مزارات کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کی اور اس کی تائید و توثیق بھی کی۔ جب ان اسلامی ممالک میں ہمارے اسلاف نے تعمیراتی کاموں کے فروغ کی مخالفت نہیں کی تو اسلاف کی راہ پر چلنے کا بلند بانگ دعویٰ کرنے والے سلفی حضرات آج کیوں اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں؟
ایران میں اسلامی فن تعمیر
گیارہویں صدی میں جب اسلام ایران میں وسیع پیمانے پر پھیلا تو یہ سلجوقی حکومت کے ماتحت ہو گیا۔ 16ویں صدی میں صفویوں نے اپنی حکومت قائم کی اور اصفہان کو اپنا دارالحکومت بنا کر اسے اسلامی فن تعمیر کے ایک شاہکار میں تبدیل کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم فارس کی یہ تاریخی سر زمین فارس کی دو مشہور و معروف روحانی اور ادبی شخصیات حافظ شیرازی اور شیخ سعدی کا وطن مالوف ہوا کرتی تھی۔
ایران اسلامی فن تعمیر کا صدیوں پرانا ایک عظیم الشان اور متنوع ورثہ ہے۔ اس کی ثقافتی یادگاروں کی ایک خاص اہمیت ہے، اس لیے کہ ان سے دوسرے ممالک کے ساتھ اس خطہ کے فنی اور ثقافتی رشتوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس سے اس عظیم ملک کی ایک طویل عرصہ پر محیط وسیع المشربیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ خاص طور پر صفوی یادگاریں اپنی متنوع اشکال میں تاریخی طور پر غیر معمولی اور انتہائی خوبصورت ہیں۔ 907 سے 1502 اور1138 سے 1725کے ادوار کی بے شمار ایرانی عمارتیں آج بھی باقی ہیں، جن میں سے اکثر کی تعمیر صفویوں نے کی تھی جو اپنی تعمیراتی سرگرمیوں میں مذہب سے متاثر تھے۔ جس کی چمک دھمک اور آب و تاب کو کوئی بھی مسلم یا غیر مسلم حکومت مات نہ دے سکی۔
قابل ذکر ہے کہ صفوی حکومت کے بانی سنی تھے، لیکن بعد میں صفویوں نے شیعیت اختیار کر لی اور اسی کو ریاستی مذہب کا درجہ دے دیا۔ چوں کہ صفویوں نے اپنے تیموری اسلاف کے قائم کردہ تعمیراتی کاموں کو جاری رکھا اسی لیے انہوں نے ان بڑے بڑے محرابوں اور کنگوروں کے استعمال کے ذریعہ فن تعمیر کی اس روایت کو آگے بڑھایا جنہیں تیموریوں نے قائم کیا تھا۔ صفوی یادگاروں میں سب سے اہم حسن العسکری (گیارہوے امام) کے بیٹے اور امام جعفر (چھٹے امام) کے پوتے ہارونِ ولایت کا مزار ہے۔ 1512 میں تعمیر کیا گیا یہ مزار مسجد علی کے مرکزی دروازے کے قریب اصفہان میں دردشت چوراہے پر واقع ہے۔ اسے لوگوں کی اس کے ساتھ روحانی وابستگی کی وجہ سے خوب جانا جاتا ہے، یہاں تک کہ ارمینی عیسائی بھی یہاں حاضری دیتے ہیں اور ان سے عقیدت رکھتے ہیں۔ مزار کی بیرونی سجاوٹ پر کافی زور دیا گیا ہے جو کہ اس کی نمایاں خصوصیت ہے جسے بعد میں صفوی ماہرین فن تعمیر نے مزید فروغ دیا۔
صفوی عہد میں اسلامی فن تعمیر اس وقت اپنے عروج کو پہنچ گیا جب شاه طهماسب صفوی نے 1006\1598 میں ایران کے دارالحکومت اصفہان کو از سر نو آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔ مستطیل چوک، باغات، محلات اور بڑے بڑے بازاروں سمیت کئی یادگاری مسجدیں اس شہر میں تعمیر کی گئی تھیں۔ ان مساجد کی فنی و تعمیری خوبصورتی ان کی وضع کاری اور ان کے عظیم الشان دروازے اور ان کے چمکتے ہوئے گنبد سے ظاہر ہوتی تھی۔ گنبدوں کے مجموعہ میں آسانی ونرمی پر زور دیا گیا تھا تاکہ آڑے آنے والی دیروں کے بجائے ستونوں سے اس کی خارجی خوبصورتی ظاہر ہو۔ صفوی فن تعمیر کی نمایاں خصوصیات میں لکڑی، سنگ مرمر کے چونے، پینٹ اور ٹائلز جیسے ہلکے مواد کا استعمال اور باغوں پر خصوصی توجہ دینا بھی شامل ہے۔
صفویوں نے اصفہان کی شاہی مسجد تعمیر کی جو کہ ایران میں اسلامی فن تعمیر کی ایک بہترین مثال ہے۔ اسلامی فن تعمیر کا یہ لازوال نمونہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کے علاوہ یہ مسجد پوری دنیا میں ان 80 اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے جنہیں فن تعمیر کے مورخ ڈین کرک شانک (Dan Cruickshank) نے پیش کیا ہے۔
ایران میں 25 سے 50 سالوں تک تعمیراتی سرگرمیوں میں تنزلی واقع ہوئی۔ جب شاہ عباس نے حکومت سنبھالی تو صورت حال میں اس حد تک بہتری پیدا ہوئی ہے کہ نہ صرف خود شاہ نے بلکہ ان کے خدام- ڈاکٹروں، جرنیلوں، امراء، حاجب اور میجر گورنروں نے بھی عظیم الشان عمارتوں کی تعمیر میں توجہ دینا شروع کر دی۔ اصفہان میں ‘مسجد حاکم’ انہیں یادگاروں میں سے ایک ہے جنہیں بادشاہ کے ڈاکٹروں نے تعمیر کروائی۔ اس موضوع پرفن تعمیر کے ایک معروف اسکالر ایم۔ای۔ ویور (M. E. Weaver) اپنے مطالعہ لکھتے ہیں: "ان کی مشترکہ سرگرمیوں اور کوششوں کی وجہ سے اصفہان کو وہ مقام حاصل ہوا جو اس کی شناخت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایسے تاجروں کا ایک طبقہ وہاں ضرور موجود رہا ہوگا جن کی مالی امداد کی وجہ سے شاہانہ صفوی بازاروں (صرف اصفہان میں ہی قم کے علاوہ قزوین، کرمان اور کان) کی تعمیر میں مدد ملی ہے، لیکن خود شاہ نے بھی اس میں ایک نمایاں کردار ادا کیا تھا ۔ اور اس کی بنیادیں جس قدر سیاسی اور معاشی محرکات سے متاثر تھیں اسی قدر مذہبی محرکات سے بھی۔ قومی مذہب کے طور پر شیعیت کے فروغ واسحکام سے اولیاء کے مزارات کی تعظیم و تکریم میں اضافہ ہوا۔ صوبہ اردبیل کو شاہی خاندان کے قبرستان کی ایک منفرد حیثیت حاصل ہوئی۔
(Study of the Conservation Problems of Five Iranian Monuments by M. E. Weaver, Preliminary, UNESCO, Paris, 1970, suppl., Paris, 1971).
(اسٹڈی آف دی کنزرویشن پرابلم آف فائوایرانین مونیومنٹس۔ ایم۔ ای ویور، تمہیدی کلمات، یونیسکو، پیرس، 1970، ضمیمہ، پیرس، 1971)۔
وسطی ایشیا میں اسلامی فن تعمیر
اگر چہ وسطی ایشیا کے فن تعمیر میں مختلف اور متنوع روایات کا اثر تھا لیکن اسلامی فن تعمیر کا قزاقستان، کرغستان، منگولیا، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سمیت اس کے تمام علاقوں پر بڑا گہرا اثر تھا۔ سمرقند میں شاه زنده اور مشہد میں مسجد گوہر شاد اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ برلاس قبیلے کے ایک رکن تیمور نے وسطی ایشیا میں مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ تیمور نے سمرقند اور بلخ سے لیکر وسطی ایشیا تک اپنے کنٹرول کو مضبوط کیا۔ تیمور کی تعمیر کردہ سب سے قابل ذکر اسلامی یادگاروں میں ترکستان میں احمد یاسوی کا مزار اور سمرقند میں جامع مسجد ہے۔ دیگر تعمیری مقامات میں شہر سبز میں مقبرے اور سمرقند میں گور امیر شامل ہیں۔ تیمور نے بڑے پیمانے پر اسی طرح تعمیراتی منصوبے بھی بنائے، مثلاً بیلقان، شاہ رخیہ اور اریہ شہر کی تعمیر، بلخ و سمر قند کے قلعوں اور دیواروں کی تعمیر۔ افغانستان میں تیموری سلطنت نے ہرات میں عظیم الشان مقبرے، مساجد، میناریں اور مدارس تعمیر کیے۔ بدقسمتی سے طالبانی انتہا پسندوں نے افغانستان کی اکثر اسلامی یادگاروں اور تاریخی عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے۔ ہرات میں آج تیموری اسلامی یادگاروں میں صرف گزر گاہ میں صوفی بزرگ خواجہ عبداللہ انصاری کا مزار ہی باقی ہے۔ یہ قبلہ کی جانب ایک مدرسہ کی منصوبہ بندی پر تعمیر کیا گیا تھا۔
وسطی ایشیا کے تاریخی شہروں میں سے ایک غزنہ ہے جو کہ وسیع پیمانے پر اپنے شاندار مقبروں، پر شکوہ مساجد، عظیم مدارس، باغات، محلات اور ساتھ ہی ساتھ علماء کرام اور اہل فن سے علوم و فنون حاصل کرنے کے لیے سیکولر اداروں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ اگرچہ غزنہ کے حکمران ترکی تھے لیکن انہوں نے فارسی زبان کو اپنایا اور فارسی اور دیگر زبانوں میں ادب اور فلسفے کو فروغ دیا۔ انہوں نے ہندوستانی ثقافت، آرٹ اور فن تعمیر کے شاندار پہلوؤں کو بھی اپنایا۔ چونکہ غزنویوں نے برصغیر کو فتح کر لیا تھا، اسی لیے وہ متعدد ہندوستانی کاریگروں کو غزنہ لے گئے اور خاص طور پر ان سے پتھر اور لکڑی تراشی کا کام لیا۔ محمود غزنوی کے بھائی نصر نے نیشاپور، مرو اور سرخس جیسے شہروں میں حنفی اور شافعی فقہی مذاہب کی تعلیم دینے کے لئے یادگار مدارس تعمیر کیں۔ یہ وہ دور تھا جب ایک عظیم فقیہ، متکلم اور صوفی بزرگ امام غزالی (1111- 1058/ 555- 449ھ) نے قرون وسطی میں مغربی یہودیت اور عیسائیت کو بے انتہاء متاثر کیا اور احیاء العلوم اور تہافت الفلاسفہ جیسی اپنی کتابوں میں مذہب اور منطق کے درمیان ایک توازن پیدا کیا۔
ازبکستان میں بخارا بھی تاریخی اسلامی تعمیرات کا ایک مرکز ہے۔ عہدسامانی میں تعمیر کیا گیا دسویں صدی کا اسماعیل کا مقبرہ جو کہ اب بھی محفوظ ہے، مقبروں کے اسلامی تعمیری فن کی قدیم ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں اسے "10ویں صدی کا مسلم فن تعمیر کا ایک شاہکار" قرار دیا گیا ہے۔
بارہویں صدی میں تعمیر کیے گئے یادگار مقبروں کے علاوہ، بخارا میں بہت سے دیگر تعمیراتی عمارتیں سامانیوں اور ازبک باشندوں کے دور سے ہی محفوظ ہیں۔ 1417 میں تعمیر کیا گیا الوگ بیگ جیسے پندرہویں صدی کے مدرسے کی چند عمارتیں اب بھی محفوظ ہیں۔ سب سے مشہور تعمیراتی باقیات میں سے ایک 45 میٹر بلند ٹاور کلیان مینار ہے جسے آرائشی اینٹوں سے تیار کیا گیا ہے۔ بارہویں صدی کی ایک بڑی یادگار عمارت سلجوق کے تعمیر کردہ مخروط گنبد کے ساتھ چشمہ ایوب کا مزار ہے۔ بخارا کی دیگر یادگاری تعمیرات میں "کوکلدش " نامی ایک بڑا مدرسہ، دیوان بیگی مسجد اور کلیان مسجد ہیں۔ کوکلدیش مدرسے کا رقبہ 80 میل طول اور 60 میل عرض ہے جو کہ اپنی حیرت انگیز سجاوٹ کے ساتھ وسط ایشیا کا سب سے بڑا مدرسہ ہے۔ دیوان بیگی مسجد اور مدرسہ بھی اسی طرح متاثر کن ہے جس کے بلند دروازوں پر دو میناریں بنی ہوئی ہیں۔ کلیان مسجد بارہویں صدی کے میناروں والی شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔
بخارا کی اہم یادگاروں میں کثیر تعداد میں شہر میں پائے جانے والے باقیات ہیں جس میں مسجدیں، میناریں اور مدرسے شامل ہیں، جنہیں خوجہ گوخشوں کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، لیابی حوض، نادر دیوان بیگی مدرسہ، سامانی مقبرہ، چشمہ ایوب، مدرسہ عبدالعزیز خان ، میر عرب مدرسہ، مینار منگو کی اٹوری مسجد اور ٹریڈنگ آرک قلعہ وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں۔ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ سائٹ (UNESCO World Heritage Site) کے مطابق: "حقیقت یہ ہے کہ بخارا کی حقیقی اہمیت یہاں کی انفرادی عمارتوں میں نہیں ہے بلکہ اس کی اصل اہمیت شہری منصوبہ بندی اور فن تعمیر کی اس کی مجموعی سطح میں ہے جس کی ابتدا شیبانی سلطنت سے ہوئی"۔
اسپین میں اسلامی فن تعمیر
یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اسلامی فن تعمیر مسلم اسپین میں اپنے نقطہ عروج کو پہنچا۔ اسلامی اسپین میں اہم تعمیراتی عمارتوں میں مساجد، میناروں اور مسلم تہذیب کی نمائندگی کرنے والے دیگر قلعے ہیں۔ ہسپانوی مساجد کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ وہ سب مدینہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز پر بنائی گئی ہیں۔
اکثر اسلامی آثار و باقیات کو عیسائیوں نے تباہ کر دیا ہے اگرچہ ان میں سے چند اب بھی باقی ہیں جو اسلامی فن تعمیر کی زندہ مثالیں ہیں۔ درحقیقت اسپین میں کچھ اسلامی تاریخی عمارتیں محفوظ کر لی گئیں تھیں اور انہیں اسی طرح استعمال کیا گیا جس طرح مسلمانوں نے انہیں استعمال کیا تھا۔ مسلمانوں کے محلات عیسائیوں کی رہائش گاہ بنا دیے گئے اور کئی مسجدوں کو گرجا گھروں میں تبدیل کر دیا گیا۔
معروف مصنف جان نوبل (John Noble) جنہوں نے اسپین کی تاریخ میں تخصص کیا ہے، لکھتے ہیں: "جن صدیوں ( 711-1492عیسوی) میں اسلام اسپین میں تھا ان صدیوں میں اسلام نے اسپین کو خوبصورت محلات، مساجد اور اندلس میں میناروں اور قلعوں کا ایک عظیم ورثہ دیا ہے جو ہمیشہ اندلس کا مرکز رہے ہیں۔ وہ عمارتیں یورپ میں اندلس کو ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہیں اور انہیں فن تعمیر کا ایک عظیم الشان علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسپین میں اسلامی ادوار کے یہ ورثے نہ صرف یہ کہ عظیم بلکہ پر کشش بھی ہیں۔ جب1492-1227 میں عیسائیوں نے اندلس کو دوبارہ فتح کیا تو بہت سی اسلامی عمارتوں کو مسیحی مقاصد کے لئے از سر نو استعمال کیا گیا ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کے اندلس میں متعدد گرجا گھر (زیادہ تر قرطبہ میں) ایسے ہیں جن کی جگہ پہلے مساجد تھیں۔ بہت سے چرچ کے ٹاوروں نے میناروں کی شکل میں اپنی زندگی شروع کی تھی۔ اور اسی طرح بہت سے پرانے شہروں کی پر پیچ گلیاں بھی- غرناطہ کا البایزین ضلع ہی اس کی ایک مشہور مثال ہے جس کا تعلق اسلامی دور کے پر پیچ سڑکوں کے منصوبوں سے ہے۔ "
وکی پیڈیا کے مطابق، اسپین میں اسلامی فن تعمیر کے مشہور باقیات میں مسجد قرطبہ (987-784)، الحمرا (خاص طور پر 1390- 1338 میں) ، غرناطہ میں جنۃ العریف (1302–9 اور1313–24 میں)، اشبیلیہ میں گیرالڈا (1184)، پرتگال میں البوفائرہ قلعہ؛ مراقش میں جامع الکتبیۃ اور جامعۃ القرویین، الجزائر کی الجامع الكبير اور الجزائر میں الجامع الکبیر اور قيروان (تیونس) میں مسجد عقبہ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر قابل ذکر مقامات میں شہر مدینۃ الزہرہ کے محل کے کھنڈرات (936-1010)، ٹولڈو میں سابق مسجد چرچ سان کرسٹو ڈی لا لوز (San Cristo de la Luz)، سرقسطہ میں الجعفریہ اور رندة میں حمام اور الہما دی غرناطہ بھی ہیں۔
آثار قدیمہ کے ذرائع کے مطابق قرطبہ کی جامع مسجد اشبیلیہ کے کلیسا اور محل بھی اسپین میں محفوظ اسلامی فن تعمیر کے نمونے ہیں۔ یہ تمام اسلامی آثار و باقیات جدید اسپین میں فن تعمیر کے سب سے زیادہ مقبول نمونے مانے جاتے ہیں، تاہم یہ تمام یاگاریں مسلم اسپین میں مسلمانوں کی حکومت اور ان کے فن تعمیر میں مہارت پر عیسائیوں کے تسلط کا ایک بہت بڑا ثبوت ہیں۔
میں اسپین میں اسلامی فن تعمیر پر اپنی اس پیش کش کو ایک مشہور مستشرق اور "دی مسلمز ان اسپین (The Muslims in Spain)" اور "دی باربری کوریزیرس(The Barbary Corasairs)" کے مصنف اسٹین لی لین کے ایک خوبصورت اقتباس کے ساتھ مکمل کرنا چاہوں گا۔ وہ اپنے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
"تقریبا آٹھ صدیوں تک مسلم حکمرانوں کے تحت اسپین نے پورے یورپ کے لئے ایک مہذب اور روشن خیال ریاست کی ایک زندہ اور تابندہ مثال قائم کی ۔ اس کے زرخیز صوبوں میں صنعت اور اس کے فاتحین کی انجینئرنگ میں مہارت کی وجہ سے سے دوگنا فائدہ حاصل ہوا۔ بے شمار شہروں نے نہر یانۃ اور وادی كبير جیسی زخیز وادیوں کو پروان چڑھایا، جن کے صرف نام سے ہی ان کے ماضی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس وقت یورپ میں آرٹ، ادب، اور سائنس کو فروغ دیا جب یوروپ میں کہیں بھی علم وفن کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ فرانس، جرمنی اور انگلینڈ کے شہروں سے طالب علموں نے بحر علم سے اپنی پیاس بجھانے کے لیے اندلس کے شہروں کے لیے رخت سفر باندھا۔ اندلس کے اطباء سرجری اور میڈیکل سائنس میں پیشرو تھے۔ خواتین کو سنجیدگی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی اور خواتین میں ماہرین طب کا تصور قرطبہ کے لوگوں میں ایک عام سی بات تھی۔ ریاضی، فلکیات، نباتیات، تاریخ، فلسفہ اور فقہ میں مہارت ان دنوں صرف اسپین میں ہی حاصل کی جا سکتی تھی۔"
مصنف نے خوبصورتی کے ساتھ اپنی کتاب کی اس تمہیدی گفتگو کو ان الفاظ کے ساتھ ختم کیا ہے: "مسلم اسپین میں وہ تمام باتیں پائی جاتی تھیں جن سے ایک ریاست عظیم اور خوشحال بنتی ہے اور جن سے کسی ریاست میں تہذیب و تمدن کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔"
(مسلم ان اسپین، منجانب: اسٹین لے لین پول، شائع کردہ گڈ ورلڈ بکس، نیو دہلی)
(The Muslims in Spain by Stanley Lane-Poole, published from GoodWord Books, New Delhi)
URL of part 2: https://www.newageislam.com/islamic-history/historicity-religious-sanctity-architecture-islam/d/99892
URL for this article: https://newageislam.com/islamic-history/historicity-religious-sanctity-architecture-islam/d/100143
URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/historicity-religious-sanctity-architecture-islam/d/100621