New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 09:08 PM

Urdu Section ( 4 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Controversies over Sighting the Moon: What is the Way out? رؤیت ہلال پر تنازعات: اس کا حل کیا ہے ؟

 

 غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

18 جولائی  2012

(انگریزی سے ترجمہ  ، نیو ایج اسلام)

ہر سال جوں ہی ماہ رمضان شروع ہوتا ہے   پوری  دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں اس  بابرکت مہینے کے روزے رکھنے کے لئے رمضان المبارک کا نیا چاند دیکھنے کی خواہش جاگ جاتی ہے ۔ لیکن دوسری طرف، پوری مسلم دنیا میں سنجیدہ بحث و مباحثے اور تنازعات بھی جنم لیتے ہیں ۔ ہر سال مسلم ممالک میں رمضان المبارک کے چاند کی شہادت کے حوالے سے بہت سارے  مذہبی تنازعات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کے درمیان مختلف شہادات اور مختلف مکتبہ فکر ہیں ۔ لیکن علماء کے اس فقہی تصادم سے بری طرح متاثر کون ہوتے ہیں ؟ ظاہر ہے، آپ، ہم اور میری طرح ایک عام مسلمان۔

رمضان المبارک کے ماہ مبارک میں ہمیں اتحاد اور راستبازی  کی حقیقی روح کا مظاہرہ کرنے کی  ضرورت ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ  ہم یہ شاندار ماہ مبارک   روئت ہلال کے تعلق سے بڑے اختلافات کے ساتھ شروع کرتے ہیں جو کہ کبھی کبھی  خود ہمارے  درمیان غیر ضروری تفرقہ کا سب ہو تا ہے۔ اب جب کہ ہلال رمضان کو صرف چند  دو دن باقی رہ گئے ہیں   تو  ہم اس  الجھن سے نجات حاصل کرنے کے مناسب تدابیر پر  غور و  فکر کرنا شروع کر رہے ہیں ۔ ہمیں یہ  نہیں بھولنا چاہئے کہ اتحاد رمضان المبارک کی روح ہے، اور یہ ہر خطے میں امت کے نمائندوں کے ذریعہ صرف متفقہ فیصلوں اور اجتماعی کوششوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے، ان افراد کے ذریعہ نہیں جو اپنی  منمانی سے  کام کرتے ہیں۔

انتہائی  اہم بات یہ ہے کہ  ہمیں تمام مواقع اور تمام پہلوؤں پر اتحاد حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے صرف رمضان کی شروعات اور اس  کے اختتام کے موقع پر عید نماتے ہوئے نہیں ۔ ایک ہی ملک میں ان کی رسومات اور ان کے اسلامی تاریخوں اور واقعات میں مسلمانوں کا منقسم ہونا مکمل طور پر اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ اسلامی روح انتشار اور عدم اتفاق کے  خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک ہی وقت میں ایک مسجد میں دو باجماعت نماز منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔

اس مسئلے کی گہری وضاحت کرتے ہوئے ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملیشیاء میں فقہ اور اصول فقہ  کے پروفیسر ڈاکٹر سانو قطب مصطفیٰ کا یہ کہنا ہے :

"بے شک، یہ بڑی تکلیف کی بات ہے کہ دنیا بھر میں مسلم ممالک اور ،معاشرے  ضرور مختلف ایام میں  روزے رکھیں گے ۔ لہٰذا  ہر ملک یا یا معاشرے  کے پاس رمضان کی  ابتداء اور اس کے اختتام کے تعین کا اپنا طریقہ ہے۔ 

تاہم، مجھے یقین ہے کہ مختلف ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے پر  ایک ہی  دن اور ایک ہی ساتھ روزے کی شروعات کرنا کوئی ضروری یا فرض نہیں ہے  ۔

"بہ الفاظ دیگر، اگر مسلم ممالک اورمعاشرے  ایک دن  اور ایک ساتھ روزے شروع نہ کریں تو اسے تفرقہ اور انتشار نہیں سمجھنا چاہئے جیسا کہ یہ ہجرت کی پہلی صدی میں ہو رہا تھا اور اس تعلق سے کریب  کی حدیث مشہور و معروف ہے : کریب  نے حارث کی بیٹی ام فضل سے روایت کیا  کہ انہوں نے شام میں معاویہ کے پاس (ان کے بیٹے فضل) کو  بھیجا۔ میں (فضل) شام پہنچا  اور  ان کی ضرورت کو پورا کیا ۔ میں شام میں تھا کہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوا ۔ میں نے جمعہ کے دن (رمضان) کا چاند دیکھا۔ پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ واپس آیا۔ عبداللہ بن عباس (رضی  اللہ عنہ) نے مجھ سے (رمضان کے چاند کے بارے میں) پوچھا اور کہا کہ تم نے اسے کب دیکھا ؟'' میں نے کہا میں نے اسے '' جمعہ کی رات کو دیکھا '' ۔ '' انہوں نے کہا کہ کیا  تم نے اسے خود دیکھا '' ؟میں نے کہا کہ ‘‘ ہاں، اور لوگوں نے بھی اسے دیکھا اور روزے رکھے اور معاویہ نے بھی  روزے رکھے، جس پر انہوں نے کہا کہ  لیکن ہم نے اسے ہفتہ کی رات کو دیکھا تھا۔ لہٰذا ہمیں تیس (روزے) مکمل کرنے چاہئے  یا اسے(شوال کا چاند)  دیکھنا چاہئے  ۔'' میں نے پوچھا کہ ،'' کیا معاویہ کے ذریعہ دیکھا گیا چاند  آپ کے لئےصحیح نہیں ہے؟'' انہوں نے کہا،'' نہیں، '' اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں اسی طرح کرنےکا حکم دیا ہے ۔ " 

تاہم، ایک ہی ملک یا معاشرے  میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے مختلف دنوں میں روزے کا آغازیا ختتام کرنا  ممنوع اور  حرام ہے۔ مثال کے طور پر، ہندوستان  میں مسلمانوں کو ایک ہی دن روزے  کا آغاز و اختتام کرنا  ضروری ہے،  انہیں  ہندوستانی مسلمانوں کی متفقہ اتفاق رائے سے رجوع کرنا ضروری ہے، کسی بھی دوسرے ملک میں مسلمانوں کی قیادت  سے نہیں ۔ انہیں یورپ، امریکہ، افریقہ، سعودی عرب، پاکستان، یا کہیں اور کے مسلمانوں سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح، مسلمان کو  ان کی معاشرے میں (دارالقضاء) کے ذریعہ دئے   گئے  ہدایات اور ارشادات  پر عمل کرنا چاہئے۔ مختصر یہ کہ ، ملک یا معاشرے میں مسلمانوں کی عام اتفاق رائے کو نظرانداز کرنا  ناجائز ہے۔ اس طرح کے اسلامی تصورات کا مقصد صرف اتحاد ہے۔

URL for English article:

 http://newageislam.com/debate/by-ghulam-rasool,-new-age-islam/controversies-over-sighting-the-moon--what-is-the-way-out?/d/7967

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/controversies-over-sighting-the-moon--what-is-the-way-out?-رؤیت-ہلال-پر--تنازعات--اس--کا-حل-کیا-ہے-؟/d/12903

 

Loading..

Loading..