New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 10:09 PM

Urdu Section ( 18 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

But what is the Correct Qur'anic Meaning of Fitnah فتنہ قتل سے بھی بدتر ہے' بیشک! لیکن فتنہ کا قرآنی تصورکیا ہے؟'

 

غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

19 اکتوبر ، 2013

قرآنی آیات کو اپنے مطلب کے مطابق سیاق و سباق میں پیش کرنا جدید خوارج  ( وہابی، طالبانی، جہادی اور دیگر مذہبی انتہا پسندوں) کا شروع سے ہی ایک وطیرہ رہا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے سے سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دام مکروفریب میں پھنسانے کے لئے قرانی آیات کی غلط  تشریح کر رہے ہیں اور غیر تعلیم یافتہ مسلمانوں کو اس عقیدے کی تعلیم دیتے  ہیں کہ  اسلام ابدی نجات حاصل  کرنے کا ایک روحانی نظام حیات نہیں بلکہ ایک سیاسی، جابر، فاشسٹ ، پیدرانہ ، رجعت پسندانہ  اور زن بیزار  مذہب ہے ۔

وہ ایسے سادہ لوح مسلمانوں کی علمی کم مائیگی اور بے بضاعتی  کا بھر پور فائدہ ٹھاتے ہیں جنہیں بچپن سے ہی اندھیرے میں رکھا گیا ہے، یہ سوچتے ہوئے کہ اگر ایک مرتبہ ان کی منفی ذہن سازی کر دی گئی اور ان کے مذہبی نظریات میں  بنیاد پرستی کا عنصر  شامل کر دیا گیا  تو  پھر قرآن کی کوئی بھی صحیح اور  معقول تشریح ان کے لئے کارآمد نہیں ہوگی۔ لیکن جو مسلمان کھلے ذہن، منطقیت اور دانشمندی  سے نوازے گئے ہیں وہ ایک ہی موضوع پر مختلف نکات کی تلاش میں مسلسل جدوجہد کرتے ہیں  اور پھر ایک شاندار علمی بنیاد پر اپنے علمی نظریات کو پروان چڑھاتے  ہیں ۔

جہادی دیگر آیات کی طرح ایک مشہور قرانی آیت کی تشریح کو وقت اور سیاق و سباق کے ایک ایسے محدود تناظر میں  پیش کرتے ہیں جس سے ایسا  ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن تضاد بیانی کا شکار ہے ۔ جہادی نظریہ سازوں نے  تمام غیر مسلموں اور یہاں تک ان مسلموں کو بھی مارنے کے لئے جو (ان کی نظر میں اولیا اللہ کے مزارات کی زیارت کرنے  کی وجہ سے) کفر کا شکار ہیں، ایک قرانی آیت (2:191) میں وارد لفظ " فتنہ " کا معنی " کفر  اور " شرک " اخذ  کیا ہے ۔ اس بے بنیاد نظریہ کی تردید کے لئے لسانی مضمرات اور قرانی تفسیرات کی ایک گہری بصیرت کے ساتھ اس قرانی آیت کا  مطالعہ کرنے  کی ضرورت ہے۔

چونکہ اسلام نے اپنے ان تمام پیروکاروں کو جو ارباب علم و دانش ہیں، قرآنی آیات کی تشریح و تفسیر  کا پورا حق دیا ہے، مختلف زمانے کے انتہا پسندوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے اس رعایت کا غلط فائدہ اٹھایا ۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ آزادی عام اور سادہ لوح  مسلمانوں کی روزمرہ زندگی میں سیاسی اسلام کو زیادہ بااختیار بناتی ہے ۔ اس سے  جہادیوں کو  اسلام کی حقیقت پر اجارہ داری  قائم کرنے کے لئے  جھوٹا دعوی کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ یہ ایک خطرناک سلسلہ ہے  اس لئے کہ یہ صرف وسیع پیمانے پر سلام کی بدنامی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہی نہیں ، بلکہ غیر مسلموں اور مرکزی دھارے میں شامل تمام غیر وہابی مسلمانوں کو مارنے کی ایک عام اجازت کے مترادف ہے۔ایک دینی نقطہ نظر سے اگر کوئی جہادیوں کے ذریعہ کی گئی قرآن کی ایسی  تشریح کا ایک قابل اعتماد جواب پیش کرنا چاہے تو اس کے لئے متقدمین اسلام اور علماء کرام کے نظریات کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔ لہذا، میں نے اس آیت کے روایتی اور جدید اسلامی تشریحات کے درمیان ایک توازن برقرار رکھنے کی طالب علمانہ کوشش کی ہے۔

اب ہم قرانی استعمالات اور لسانی مضمرات کی روشنی میں قرآن میں مذکور  لفظ " الفتنہ " کی ایک جامع تحقیق کرتے ہیں۔ مکمل آیت اس طرح ہے:

 "اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے۔ "( 2:191 )

سب سے پہلے میں مندرجہ بالا آیت کو  اس کے اصل سیاق و سباق میں رکھتا ہوں ۔ اس آیت سے پہلے ایک ایسی آیت ہے جو خدا کی راہ میں لڑنے کے قرانی تصور کی وضاحت کرتی ہے : "اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا" (2:190)۔

اس آیت کا بیان واضح اور قطعی ہے۔ یہ محض ان لوگوں سے لڑنے کی اجازت دیتی ہے  جو پیشگی حملہ کرتے ہیں (یعنی ان کے حملے سے خود کا دفاع کرنے کے لئے)، اس کے علاوہ یہ آیت حدود سے متجاوز ہو نے (یعنی غیر عسکریت پسند شہریوں، معصوم بچوں،خواتین، بوڑھے مردوں اور عورتوں کا قتل کرنے  یا جانوروں کو  ہلاک کر نے یا درخت وغیرہ کو تباہ کر نے) سے منع  کرتی ہے ۔ مختصر یہ کہ یہ آیت مسلمانوں  کو صرف اپنے دفاع میں لڑنے کی اجازت دیتی ہے، جارحانہ اور  پرتشدد  طور  پر نہیں جیسا کہ جہادی لوگ  اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ (خدا کی راہ میں جنگ) کے نام پر آج لڑتے نظر آتے ہیں ۔

اس آیت میں مزید یہ بیان ہے کہ : "اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے (یعنی امن، سلامتی اور انسانی حقوق کے تحفظ کا نظام عملی طور پر قائم ہو جائے ) اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں (یعنی نافرمانوں)کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے) ۔ "( 2:193 )۔

قرانی نقطہ نظر کے مطابق، دین کا مطلب ہے " ایک مکمل ضابطہ حیات " نہ کہ "مذہب محض " (جس سے مراد محدود معتقدات اور مراسم کا ایک تنگ  مجموعہ ہے ) ۔ اور اللہ کے بنائے ہوئے دین یا نظام زندگی کا تقاضہ یہ ہے کہ مذہب کے نام پر لوگوں پر کسی بھی طرح کا  جبر و اکراہ اور  ظلم و ستم  غیر قانونی ہے  اور بارگاہ ایزدی میں اس کی سزا ضرور دی جائے گی ۔ دین (خدائی نظام زندگی) کا یہ وسیع تر تصور واضح طور پر  فتنہ (دین میں ظلم و ستم یا جبر و اکراہ ) کے برعکس ہے ۔

لہٰذا اگر پورے سیاق و سباق کی مناسب طریقے سے تحقیق کی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ  مندرجہ بالا آیات کسی بھی بہانے سے معصوم غیر مسلموں یا مسلمانوں کے قتل کی ممانعت کرتی  ہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جہادی" فتنہ " کا ترجمہ اپنے تجرد پسند اور متشددانہ  عقائد کے مطابق " کفر " اور" شرک "  کرنے پر اڑے  ہوئے ہیں، اور اس وجہ سے وہ تمام کافر اور مشرک  (غیر مسلموں اور غیر وہابی مسلمانوں) کو جہاں کہیں بھی پائیں،  قتل کرنے پر بضد ہیں خاص طور پر اپنی نام نہاد اسلامی ریاستوں میں جبکہ پورا قرآن سختی کے ساتھ اس وہابی نظریے کی مخالفت کرتا ہے ۔

لفظ " فتنہ "کے کلاسیکی، جدید اور قرانی عربی میں معانی

لفظ فتنہ ایک عربی فعل (" ف - ت - ن " فتن ) سے ماخوذ ہے جس کے معانی : "، بہکانا یا گمراہ کرنا ، لالچ دینا اور ورغلانا ہے  ۔ " عربی زبان کے ایک عظیم عالم ابن فارس نے  اس لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے  لکھا ہے کہ : " فعل " ف- ت- ن " ایک ایسا مصدر ہے جو مصیبت و  آزمائش کی  طرف اشارہ کرتا ہے ۔" ( مقاییس اللغۃ ، 4/472)۔ یہ عربی زبان میں لفظ " فتنہ " کا بنیادی معنی ہے۔ تاہم اس کے اور بھی معانی ہیں جن میں سے اکثر ایک دوسرے کے مترادف ہیں  اور افراتفری، بے چینی اور بد امنی کی صورت حال کی طرف غماز ہیں ۔ جدید عربی زبان میں لفظ فتنہ کا استعمال ان تمام معانی کے لئے ہو تا ہے: ‘‘ انتشار ، اختلاف، رسوائی،  مسلم کمیونٹی کے داخلی تنازعات اور سماجی امن و امان وغیرہ میں فساد۔

فرہنگ نویس ابن منظور ( 1233-1312 ع) اپنی ایک جامع کلاسیکی عربی لغت " لسان العرب " (عرب زبان) میں فتنہ کے معانی کا خلاصہ کرتے ہوئے  لکھتے ہیں: " فتنہ کے معانی مصیبت ، آزمائش ، مال و دولت، بچے، اختلافات اور آگ میں جلانا  ہیں ۔ "( ابن منظور، لسان العرب)۔

قرآن مجید میں فتنہ کے کچھ  مشترکہ معانی کا  بھی استعمال کیا گیا ہے، لیکن قرآن مجید میں ابتلاء و آزمائش کی دیگر انواع کو بیان کرنے کے لئے  لفظ ‘فتنہ’ کو مختلف معنوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے :

قرآن میں لفظ " فتنہ "کے معانی

1 – آیت نمبر 16:110 میں مذہب کے معاملات میں جبر و اکراہ کے معنی میں:

"پھر جن لوگوں نے ایذائیں (فُتِنُوا)اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے"

آیت نمبر 85:10 میں ظلم و ستم:

2-  " جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں [ فتنوا] اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا "

3 – آیت نمبر 29:2 میں آزمائش اور مصائب :

"کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔"

4 – آیت نمبر 5:49 میں کسی کو  اس کے مقصد سے بہکانا  یا دور کرنا  :

" ............... اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں [ يفتنوك] ۔"

5 - آیت نمبر 57:14 میں گناہ کا ارتکاب کرنا اور نفاق:

" تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کہ کیا ہم (دنیا میں) تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں تھے۔ لیکن تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا (فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ) اور (ہمارے حق میں حوادث کے) منتظر رہے اور (اسلام میں) شک کیا اور (لاطائل) آرزوؤں نے تم کو دھوکہ دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آ پہنچا اور خدا کے بارے میں تم کو (شیطان) دغاباز دغا دیتا رہا ۔ "

امام بغوی اس آیت کی تفسیر  میں  لکھتے ہیں: "اس کا مطلب ہے کہ : تم نے خود کو  نفاق میں ڈال دیا اور گناہ خواہشات اور وہم کی وجہ سے  خود کو تباہ کر دیا۔ "

6 - آیت نمبر 4:101 میں حملہ کرنا ، تہ و  بالا کرنا اور بندی بنانا  :

" ور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے [يَفْتِنَكُمُ]بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔"

مندرجہ بالا آیت میں ان کفار عرب کا ذکر ہے جو مسلمانوں پر نماز اور سجدہ کی حالت میں انہیں قتل کرنے یا پھر قیدی بنانے کی غرض سے حملہ کرتے تھے ۔

7 - آیت نمبر 9:47 میں لوگوں کے درمیان تنازعات کو ہوا دینا :

" اگر وہ تم میں (شامل ہوکر) نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے ہیں "

8 - پاگلپن اور بیوقوفی جیساکہ اس آیت کے معنیٰ کی وضاحت میں ہے :

" تم میں سے جو پاگل پن (الْمَفْتُونُ) میں مبتلا ہے"

تفسیر کے بہترین منہج  کو بروئے کار لانے (تفسیر القرآن بالقرآن ) اور اوپر مذکورہ قران کے استعمالات کا مطالعہ کرنے کے بعد مسلم یا غیر مسلم غیر عسکریت پسند شہریوں کے قتل عام   کو نظریاتی بنیاد فراہم کرنے کے لئے  آیت 2:191 میں لفظ " فتنہ " کا ترجمہ یا تشریح " کفر " یا " شرک " کے طور پر  کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔ لہذا فتنہ کا ترجمہ  سادہ طور پر  "جبر"، "ظلم و ستم"، "ہنگامہ "، "بغاوت"، "فتنہ"، " اختلاف "،" فساد اور انتشار ہی کیا جانا چاہئے اور کیا بھی گیا ہے۔ جدید قرانی مفسرین نے  اس عربی لفظ (فتنہ ) کا  انگریزی ترجمہ  اوپر مذکور کسی نہ کسی لفظ سے ہی کیا ہے ۔ ان  جدید اسلامی علماء کرام میں یہ حضرات خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں: محمد اسد (ظلم و ستم ) ، ایم ایم پیکتھال (یذا رسانی ) ، یوسف علی (سعودی عالم 1985) (شورش اور ظلم و ستم )، یوسف علی ( متولد۔ 1938)، (شورش اور ظلم و ستم ) ، ڈاکٹر لیلہ بختیار  (ایذا رسانی )، ڈاکٹر محمد طاہر القادری (شر انگیزی اور انتشار )، مولانا وحید الدین خان (مذہبی ظلم و ستم)، مولانا عبدالمجید دریابادی (بہکانا ، بھٹکانا)، محمد محمود غالی، (مخالفت ، بغاوت) ،  مولانا ابو العلیٰ مودودی (ایذا رسائی)، مولانا محمد تقی عثمانی، (انتشار پیدا کرنا)، شبیر احمد (جبر، اور ظلم و ستم)، سید وقار احمد (ظلم و ستم اور ناانصافی)، فاروق ملک (فساد پیدا کرنا)، ڈاکٹر کمال عمر (ھنگامہ، شورش اور ظلم)، طلال اے ایتانی (ظلم و ستم)، بلال محمد (ظلم و جبر)، ڈاکٹر منیر منشی (ایذا رسائی اور ظلم و ستم)، حامد ایس عزیز (ظلم وجبر یا بغاوت اور سرکشي)، احمد علی (ظلم و جبر)،  اور عبد الحلیم ،( ایذا رسائی) ۔

نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار، غلام رسول دہلوی ایک عالم اور فاضل  (اسلامی سکالر ) ہیں ۔ انہوں نے ہندوستان کے معروف اسلامی ادارہ جامعہ امجدیہ رضویہ  (مئو، یوپی، ہندوستان ) سے  فراغت حاصل کی ، الجامعۃ اسلامیہ، فیض آباد، یوپی سے قرآنی عربی میں ڈپلوما کیا ہے ، اور الازہر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز بدایوں،  یوپی سے علوم الحدیث میں سرٹیفیکیٹ حاصل  کیا ہے۔ مزید برآں، انہوں  نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے  عربی (آنرس) میں گریجویشن کیا ہے، اور اب وہیں سے تقابل ادیان ومذاہب میں ایم اے کر رہے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/‘fitnah-is-worse-than-killing’-yes!-but-what-is-the-correct-qur-anic-meaning-of-fitnah?/d/13952

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/but-what-is-the-correct-qur-anic-meaning-of-fitnah-فتنہ-قتل-سے-بھی-بدتر-ہے--بیشک!-لیکن-فتنہ-کا-قرآنی-تصورکیا-ہے؟-/d/14041

 

Loading..

Loading..