New Age Islam
Wed May 06 2026, 07:00 PM

Urdu Section ( 6 May 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Was Imam al-Nasa’i Killed? امام النسائی کو امویوں نے کیوں قتل کیا؟ ’’خصائصِ علی‘‘ لکھنے کی پاداش میں

غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام

27 اپریل 2026

حدیث کے عظیم امام، علمی دیانت اور اخلاقی جرات کے پیکر امام النسائی کی تاریخی کتاب ’’خصائصِ علی‘‘ ایک ایسا علمی شاہکار ہے جس کی تالیف اس وقت کے فرقہ وارانہ اور سیاسی ماحول سے ٹکرا گئی، اور بالآخر ان کی وفات اسی علمی صداقت کی قیمت بن گئی۔

اہم نکات

امام النسائی نے ’’خصائصِ علی‘‘ تصنیف کی، جس میں حضرت علی ابن ابی طالبؓ کے فضائل جمع کیے گئے، اور یہ اس دور کے حضرت علیؓ مخالف رجحانات کے خلاف ایک علمی ردِّعمل تھا۔

ان کا یہ کام شام میں موجود اموی نواز ذہنیت سے متصادم ہوا، جہاں حضرت معاویہؓ کے لیے سیاسی وابستگی ابھی تک مضبوط تھی، اور حضرت علیؓ کے فضائل بیان کرنا بعض حلقوں کو ناگوار گزرتا تھا۔

امام النسائی نے ضعیف یا من گھڑت احادیث بیان کرنے سے انکار کیا اور علمی امانت داری کو ہر سیاسی دباؤ پر ترجیح دی۔

جب ان سے حضرت معاویہؓ کے فضائل پر کتاب لکھنے کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس موضوع پر ان کے پاس مضبوط اور مستند احادیث موجود نہیں ہیں، جس پر بعض شدت پسند حلقے مشتعل ہوگئے۔

اسی فرقہ وارانہ اشتعال کے نتیجے میں دمشق میں ایک ہجوم نے ان پر حملہ کیا اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جیسا کہ کلاسیکی مورخین نے نقل کیا ہے۔

بعد ازاں انہی زخموں کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا، اور ان کی وفات علمی صداقت اور سیاسی و فرقہ وارانہ تعصب کے تصادم کی ایک دردناک مثال بن گئی۔

تاریخی کتاب ’’خصائصِ علی‘‘ (خصائص علی) مشہور محدث امام النسائیؒ (وفات: 303ھ/915ء) کی تصنیف ہے، جو صحاحِ ستہ کے جلیل القدر مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ کتاب حضرت علی ابن ابی طالبؓ کے خصوصی فضائل اور مناقب پر مشتمل احادیث کا ایک مستقل مجموعہ ہے۔

تاریخی پس منظر

قدیم تاریخی مصادر واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ ’’خصائصِ علی‘‘ کی تصنیف دمشق کے اس سماجی و مذہبی ماحول کے ردِّعمل میں ہوئی جہاں حضرت علیؓ کے بارے میں منفی رجحانات موجود تھے۔ امام ذہبی لکھتے ہیں:

"صنّف كتاب الخصائص في فضل علي رضي الله عنه لما رأى من انحراف أهل دمشق عنه"

(انہوں نے حضرت علیؓ کے فضائل پر ’’الخصائص‘‘ اس وقت تصنیف کی جب انہوں نے اہلِ دمشق کو حضرت علیؓ سے منحرف پایا)

— سیر أعلام النبلاء، 14/133

یہ اقتباس واضح کرتا ہے کہ یہ کتاب محض فضائل کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اصلاحی اور علمی اقدام بھی تھی۔

اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی امام النسائی کی علمی عظمت اور احتیاط کو یوں بیان کرتے ہیں:

"كان إمامًا حافظًا ثبتًا متقنًا"

(وہ امام، حافظ، نہایت مضبوط اور دقیق عالم تھے)

— تہذیب التہذیب، 1/36

امام ذہبی نے ایک مشہور واقعہ نقل کیا ہے

"قيل له: ألا تُخرج في فضل معاوية؟ فقال: ماذا أُخرج؟ حديث: اللهم لا تشبع بطنه؟!"

(ان سے پوچھا گیا: آپ معاویہ کے فضائل پر کچھ کیوں نہیں لکھتے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں کیا نقل کروں؟ وہ حدیث کہ ’’اے اللہ! اس کا پیٹ نہ بھر‘‘؟)

— سیر أعلام النبلاء، 14/133

یہ جواب امام النسائی کی علمی دیانت داری کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف مستند احادیث ہی بیان کرتے تھے، نہ کہ سیاسی یا فرقہ وارانہ دباؤ کے مطابق روایات۔

شہادت اور علمی استقامت

اکثر کلاسیکی مورخین کے مطابق امام النسائی کی وفات کسی سرکاری عدالتی حکم کے تحت نہیں ہوئی، بلکہ فرقہ وارانہ اشتعال اور سیاسی کشمکش کے نتیجے میں ہوئی۔

امام ذہبی اور ابن کثیر کے مطابق امام النسائی دمشق میں موجود تھے، جہاں اموی رجحانات غالب تھے۔ انہی دنوں انہوں نے ’’خصائصِ علی‘‘ تصنیف کی، جس میں حضرت علیؓ کے فضائل کو نمایاں کیا گیا۔ اس پر بعض متعصب حلقے سخت ناراض ہوگئے۔

حملہ اور تشدد

قدیم روایات کے مطابق دمشق میں ایک مشتعل ہجوم نے امام النسائی پر حملہ کیا اور انہیں شدید مارا پیٹا۔ امام ذہبی لکھتے ہیں

"ضُرب بدمشق ضَربًا شديدًا بسبب ذلك، فحُمل إلى الرملة، فمات بها"

(انہیں دمشق میں اس وجہ سے شدید مارا گیا، پھر انہیں رملہ لے جایا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا)

— سیر أعلام النبلاء، 14/133

ابن کثیر بھی لکھتے ہیں:

"وكان سبب موته ما ناله بدمشق من الضرب بسبب كتابه في الخصائص"

(ان کی وفات کا سبب دمشق میں ان پر کیا جانے والا تشدد تھا، جو ان کی کتاب ’’الخصائص‘‘ کی وجہ سے ہوا)

— البدایہ والنہایہ، 11/136

خطیب بغدادی نے بھی ان کے خلاف ہونے والے ظلم اور ان کی استقامت کا ذکر کیا ہے۔

روایات کے مطابق لوگوں نے امام النسائی سے سوال کیا کہ انہوں نے حضرت معاویہؓ کے فضائل پر الگ کتاب کیوں نہیں لکھی۔ امام النسائی نے جواب دیا کہ انہیں اس سلسلے میں اتنی مضبوط اور مستند احادیث نہیں ملیں کہ ایک مستقل کتاب مرتب کی جا سکے۔ یہی جواب بعض سیاسی اور فرقہ وارانہ ذہن رکھنے والے افراد کے لیے ناقابلِ برداشت بن گیا۔

 انہوں نے حدیث کی صحت اور علمی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے حضرت علیؓ کے فضائل کو کھل کر بیان کیا، جو بعض مقامی تعصبات سے متصادم تھا۔

انہوں نے سیاسی دباؤ کے باوجود ضعیف اور غیر مستند روایات کو قبول نہیں کیا۔

تاہم معتبر تاریخی روایات میں یہ ذکر نہیں ملتا کہ کسی حکمران نے انہیں سرکاری طور پر قتل کروایا ہو۔ زیادہ تر روایات یہی بتاتی ہیں کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کا شکار ہوئے۔

ان کی وفات کو اسلامی تاریخ میں اس مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے کہ ابتدائی مسلم علماء نے حق اور علمی دیانت کے لیے کس قدر قربانیاں دیں۔ امام النسائی نہ کسی جرم کے مرتکب تھے اور نہ کسی سیاسی بغاوت کے، بلکہ ان کا ’’قصور‘‘ صرف یہ تھا کہ انہوں نے علمی سچائی کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی۔

کتاب کی اہمیت اور مواد

’’خصائصِ علی‘‘ میں شامل مشہور احادیث میں یہ روایات بھی شامل ہیں:

"عليٌّ مني وأنا منه"

(علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں)

"من كنت مولاه فعليٌّ مولاه"

(جس کا میں مولا ہوں، علیؓ بھی اس کے مولا ہیں)

یہ احادیث مسند احمد اور جامع ترمذی سمیت کئی معتبر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہیں، جو ان کی وسیع روایت کی دلیل ہیں۔

علمی اہمیت

بعد کے علماء نے بھی اہلِ سنت کی روایت میں حضرت علیؓ کے فضائل کو نمایاں مقام دیا۔ امام جلال الدین سیوطی نے بھی ایسی متعدد روایات نقل کیں، جو حضرت علیؓ کے بلند مقام کی تصدیق کرتی ہیں۔

’’خصائصِ علی‘‘ صرف ایک حدیثی مجموعہ نہیں بلکہ اسلامی تاریخ اور علمی دیانت میں ایک اصولی مداخلت ہے۔ امام ذہبی اور ابن حجر جیسے ائمہ کی گواہی سے واضح ہوتا ہے کہ امام النسائی کا کام علمی احتیاط، دیانت اور اخلاقی جرات پر مبنی تھا۔ یہ کتاب اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اسلامی علمی روایت میں حق کی حفاظت اکثر سماجی اور سیاسی دباؤ کے مقابلے میں استقلال کا تقاضا کرتی رہی ہے۔

جدید علمی تناظر

معاصر محققین نے بھی ’’خصائصِ علی‘‘ کو صرف ایک روایتی مجموعہ نہیں بلکہ اسلامی یادداشت اور مذہبی تعبیرات کے ایک اہم متن کے طور پر دیکھا ہے۔

جوناتھن اے۔ سی۔ براؤن کے مطابق حدیثی مجموعے صرف اقوال کے ذخیرے نہیں بلکہ مذہبی و سیاسی تعبیرات کے میدان بھی تھے۔ اس تناظر میں ’’خصائصِ علی‘‘ ابتدائی اسلامی تاریخ کی متنازع یادداشت میں ایک شعوری علمی مداخلت بن جاتی ہے۔

اسی طرح اسماء افسرالدین نے واضح کیا ہے کہ حضرت علیؓ جیسی شخصیات کی تصویر کشی بعد میں سنی اور شیعہ مباحثِ اقتدار اور مشروعیت کا مرکزی حصہ بن گئی

شہاب احمد نے اسلامی روایت کو ایک ایسا فکری و تفسیری میدان قرار دیا ہے جس میں داخلی تنوع موجود ہے ۔ امام النسائی کی تصنیف اسی تنوع کی ایک مثال ہے۔

حدیث، اتھارٹی اور اخلاقی علم

جدید حدیثی مطالعات اس بات کی بھی وضاحت کرتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک ’’صحیح‘‘ روایت صرف فنی معیار نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی تھی۔ امام النسائی کا ضعیف اور سیاسی روایات سے اجتناب اسی اصول کی مثال ہے۔

کرسٹوفر میلچرٹ کے مطابق تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں سنی فقہی و مذہبی روایت کی تشکیل کے ساتھ ساتھ اتھارٹی اور خلافت کے مسائل پر شدید مباحث جاری تھے، خصوصاً حضرت علیؓ کے مقام کے حوالے سے

شہادت

امام النسائی پر ہونے والا حملہ، جسے امام ذہبی اور ابن کثیر نے نقل کیا ہے، اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ابتدائی اسلامی دور میں علم کی پیداوار سیاسی اور سماجی کشمکش سے الگ نہیں تھی بلکہ انہی کے درمیان پروان چڑھتی تھی۔

کلاسیکی اور جدید دونوں طرح کے مصادر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ’’خصائصِ علی‘‘ محض فضائل کی کتاب نہیں بلکہ اسلامی یادداشت، اخلاقی حدیثی روایت اور مسلم علمی تنوع کا ایک اہم مظہر ہے۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اسلامی تاریخ کو صرف فرقہ وارانہ تصادم یا سادہ بیانیوں میں محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے اندر علمی آزادی، اختلاف اور حق گوئی کی ایک گہری روایت موجود رہی ہے۔

قدیم مصادر

امام ذہبی، سیر أعلام النبلاء، 14/133

ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، 1/36

ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، 11/136

خطیب بغدادی، تاریخ بغداد

:جدید علمی کتب

Jonathan A. C. Brown, Hadith: Muhammad’s Legacy in the Medieval and Modern World (2009)

Asma Afsaruddin, The First Muslims: History and Memory (2008)

Shahab Ahmed, What Is Islam? The Importance of Being Islamic (2016)

Christopher Melchert, The Formation of the Sunni Schools of Law (1997)

نیو ایج اسلام کے معاون مضمون نگار غلام رسول دہلوی ہندوستانی تصوف، بین المذاہب اخلاقیات، اور جنوبی ایشیا میں اسلام کی روحانی تاریخ کے اسکالر اور مصنف ہیں۔ ان کی تازہ ترین کتاب ’’عشق صوفیانہ: محبتِ الٰہی کی ان کہی داستانیں‘‘ ہے۔

---

English Article: Why Was Imam al-Nasa’i Killed by the Umayyads? For Writing KhasāʾiʿAlī (Virtues of Imam Ali)

URL: https://newageislam.com/urdu-section/imam-al-nasai-killed-umayyads/d/139913

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..