New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 12:53 AM

Urdu Section ( 15 Apr 2020, NewAgeIslam.Com)

Don't Be Wrestler At Home, But A Kind-Hearted Man !!گھر میں پہلوان نہیں مہربان بن کر رہیں


غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

حضور سید عالم ﷺ جب لوگوں سے ملاقات کرتے تو چہرے پر مسکراہٹ ہوتی... جس کی وجہ سے ہر ملنے والا آپ کے اخلاق کریمہ کا گرویدہ ہوجاتا....آپ نے امت کو بھی بار بار مسکرانے کی تعلیم دی...یہاں تک کہ مسکرانے کو کار ثواب بنا دیا... آپ کا فرمان ہے :

تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ،( ترمذی،رقم الحدیث 1956)

"اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے"

سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں سے ملاقات پر انتہائی خوش مزاجی اور اعلی اخلاقی قدروں سے پیش آتے تھے... آپ کا اخلاق کریمہ ہی تھا، جس نے پتھر دلوں کو موم بنا دیا تھا...چہرے پر موجود تبسم کی دل آویزیاں ہی تھیں کہ مردان عرب اپنے دل ہار بیٹھے تھے ... سرکار ابد قرار ﷺ جس سے ملتے وہ آپ کی مسکراہٹ پر فدا ہو جاتا...مگر سرکار کی یہ مسکراہٹ مصنوعی یا بناوٹی نہیں تھی...بلکہ یہ آپ کے مزاج کا لازمہ تھی.... ہر جگہ ، ہر محفل میں آپ پیکر اخلاق نظر آتے... ایسا نہیں تھا کہ آپ گھر سے باہر مسکراتے اور گھر والوں سے ترش روئی سے پیش آتے...جس طرح باہر والوں کے لئے سراپا اخلاق تھے ، ویسے ہی اہل خانہ کے لئے سراپا مہربان تھے !!

اس زمانے میں کتنے ہی لوگ چہروں پر مسکراہٹ کا غازہ مل کر گھومتے ہیں...لوگ ان کی خوش اخلاقی کے قصیدے پڑھتے ہیں....لیکن جیسے ہی گھر میں قدم رکھتے ہیں... مسکراہٹ کو اس طرح پی جاتے ہیں جس طرح جون کی پیاسی زمین ساون کے قطروں کو پی جاتی ہے.... گھر میں داخل ہوتے ہی باہری مہربان، داخلی پہلوان بن جاتے ہیں.... مجال ہے کہ جو بیوی بچوں سے ہنس کر بات کرلیں !!

حضور سید عالم ﷺ فرماتے ہیں :

خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي( سنن ترمذی رقم الحدیث 3830)

"تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سے بہتر ہوں."

کتنی ہی ایسی بیویاں ہیں جو لوگوں سے اپنے شوہر کی خوش مزاجی ، خوش طبعی اور ہنس مکھ ہونے کا چرچا سنتی ہیں... لیکن وہی شوہر جب گھر میں آتا ہے تو اس پر بد اخلاقی ، تند خوئی ، کنجوسی اور سخت مزاجی کا خول چڑھا ہوتا ہے... بات بات پر غصہ کرتا ہے... معمولی باتوں پر آنکھیں لال پیلی کرتا ہے.... بچوں کے ہنسنے پر چیختا چلاتا ہے... گھریلو ضرورتوں پر بخیلی دکھاتا ہے !!

"حضرت اسود بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:رسول اللہ ﷺ گھر میں کیا کیا کرتے تھے ؟

انہوں نے بتایا رسول اللہ ﷺ گھر والوں کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہوتا آپ وضو کرتے اور نماز کے لئے نکل جاتے."(صحیح بخاری رقم الحدیث 676)

دنیا میں ایسے کتنے لوگوں کے بارے میں ہم سنتے ہیں کہ وہ بڑے بااخلاق اور نہایت سخی ہیں... لیکن جن والدین ، بھائی بہن ، بیوی بچوں کا ان پر سب زیادہ حق ہے وہ ان سے نہایت ترش روئی کا رویہ اپناتے ہیں... زمانے سے ہنس ہنس کر ملتے ہیں مگر اپنوں سے ملنے سے بچتے ہیں...رسماً ملتے بھی ہیں تو اس قدر سرد مہری دکھاتے ہیں کہ سامنے والا آئندہ نہ ملنے کی دعائیں کرتا ہے !!

دوستو!!

ہنسنا مسکرانا اخلاق مند ہونے کی نشانی ہے.... لیکن مسکراہٹ کو اپنے مطلب کے لئے استعمال کرنا سراسر فریب ہے... اخلاق مندی فطرت کا حصہ ہونا چاہیے مطلب کا نہیں... جیسا کہ سیرت النبی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جس طرح باہر والوں کے لئے سراپا اخلاق تھے... اس سے کہیں زیادہ اہل خانہ پر مہربان تھے.... ہمیں چاہیے کہ ہم سیرت النبی کا یہ پہلو اپنی زندگی میں شامل کریں تاکہ ہمارے گرد وپیش کا ماحول بدلے....کدورتیں دور ہوں... محبتیں پروان چڑھیں اور الفت ومحبت کے پھولوں کی خوشبو سے معاشرہ لالہ زار بن جائے...

URL: https://newageislam.com/urdu-section/ghulam-mustafa-naimi/don-t-be-wrestler-at-home,-but-a-kind-hearted-man--!!گھر-میں-پہلوان-نہیں-مہربان-بن-کر-رہیں/d/121586

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..