New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 11:27 PM

Urdu Section ( 18 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Islam wishes to establish not only Peace but also Justice اسلام کو دنیا میں صرف سلامتی نہیں بلکہ انصاف بھی قائم کر نا ہے

 

 

غلام غوث، بنگلور

19 نومبر، 2014

یوروپ اور امریکہ میں جتنا اسلام اور مسلمانوں پر ریسرچ کیا جا تا ہے اور کتابیں لکھی جا تی ہیں وہ نہ تو عرب ممالک میں لکھی جا تی ہیں اور نہ ہی اسلامی ممالک میں . وہ مسلمان جنہیں مسلم ممالک میں لکھنے کی آزادی نہیں ملتی وہ بھی یوروپ اور امریکہ کی آزادانہ ماحول میں لکھتے ہیں . اسلامی ممالک میں جو بھی لکھا جا تا ہے وہ اعتقاد کی بنیاد پر لکھا جا تا ہے جبکہ غیر ممالک میں لکھنے والے کھلے ذہین کے ساتھ اور دلائل کی بنیاد پر لکھتے ہیں . ایسی ہی ایک کتاب مسٹر لیزلی ہیزلٹن نے لکھی ہے جسکا ٹائٹل ہے \" After the Prophet \" . اسکا مطالعہ کر نے کے بعد جو خیالات پیدا ہو تے ہیں وہ اس طرح ہیں . ( کاش بھارت کے مذہبی حضرات ایسی کتابوں کا مطالعہ کر تے ) . جن لوگوں نے قرآن کا اور تاریخ اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان خود مسلمانوں سے ہوا ہے نہ کہ غیر مسلموں سے . امیر معاویہ ، یزید ، مروان ، حجاج بن یوسف ، عبداللہ ابن وہاب خارجی ، موعیدالددین علقلمی سے پہنچا ہے . جو خونریزی حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے سے شروع ہوی وہ آج بھی جاری ہے . بیسویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کر نے اور مسلمانوں کو کمزور کر نے میں جو سب سے بڑا ہاتھ رہا وہ عرب لیڈروں کا تھا جنہوں نے صرف سیاسی اقتدار حاصل کر نے کے لئے مغربی ممالک کے حلیف بن کر کلہاڑی میں دستے کا کام کیا . ہر دور میں حق پرست مسلمانوں حضرت علیؓ ، حضرت امام حسن ، حضرت امام حسین ، امام ابو حنیفہ ، امام شافع ، مام ہنبل امام مالک وغیرہ کو اپنا خون اور پسینہ دیکر اسلام کو بچانا پڑا . مگر ان کے انتقال کے بعد ان چار اماموں کے ماننے والوں نے لوگوں پر اپنا اثر و رسوخ اور اقتدار قائم رکھنے کے لئے اسلام کے درمیان مسلکوں کی دیواریں کھڑی کر دیں ۔

ایک طرف شعہ سنی اختلافات نے اسلام کو کافی نقصان پہنچایا تو دوسری طرف غیروں نے ایک کی طرفداری کر کے دوسرے کو ختم کیا اور آخر میں تمام کو ختم کر کے خود فائدہ اٹھا لئے . یہ کام اسپین میں شاہ فرڈینینڈ نے کیا تو بیسویں صدی میں انگریزوں نے عرب ممالک میں کیا . آج جو مسلمان انگریزوں کی ایمانداری اور خلاص کی تعریف کر تے نہیں تھکتے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہی وہ انگریز ہیں جنہوں نے مکاری ، چھوٹ اور دھوکے سے بھارت کی مسلم حکو مت اور سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کیا اور وہاں کی تمام دولت لوٹ کر لے گئے . ہر طرف مسلمان اپنی ناعاقبت اندیشی کے سبب انکا شکار بن گئے . آج ہم لاکھ ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں ہم حضرت علیؓ اور معاویہ کے واقعات کو بدل نہیں سکتے ، کربلا کے واقعات کو بدل نہیں سکتے ، چنگیز خان اور ہلاکو خان کو شکست نہیں دے سکتے . جو ہو گیا سو ہو گیا ۔ اب اسے بدلا نہیں جا سکتا . ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان گزرے ہوے واقعات کو بھلا کر یا پس پشت ڈالکر صرف اللہ اور اسکے رسولﷺ کو اپنے رہبر مانتے ہوے دوبارہ تمام مسلمانوں کو ایک ہی دھاگے میں پرو دیں .. سننی حضرات تاریخ کا اسی طرح احترام کر تے ہیں جس طرح وہ واقع ہوی جبکہ شیعہ حضرات تاریخ کا احترام کر نے کے لئے چاہتے ہیں کہ تاریخ اس طرح واقع ہو نی چاہیے جیسے وہ چاہتے ہیں جو اب ہو نہیں سکتا ۔

 ہر زمانے میں ہر مسلمان کی یہ خواہش رہی ہے کہ کاش حضرت امیر معاویہ کے ساتھ ہو نے والے تنازعے میں حضرت علیؓ کی جیت ہو جاتی ۔ کاش حضرت امام حسن خلیفہ بن جاتے ۔ کاش حضرت امام حسین کربلا نہ جاتے ۔ کاش عمرو بن العاص حضرت علی کے نمائندے کو دھوکہ نہ دیتے ۔ کاش حضرت عمر بن عبدلعزیزحضرت علیؓ کے خاندان میں خلافت منتقل کر دیتے ۔ کاش چنگیز خان اور ہلاکو خان کا بغداد پر حملہ نہ ہو تا . مگر ایسا نہیں ہوا. یہ تاریخ ہے اور آج ہم کچھ بھی کر لیں اسے بدل نہیں سکتے . تو پھر ہم اسے بھلا کر مل جل کر کیوں نہیں رہ سکتے . حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں جب خالص اسلام تھا تب نہ کوئی مسلک تھا نہ ہی کوئی دوسرا لیڈر . صرف قرآن اور آپ ﷺ تھے اور قیامت تک رہیں گے . آپ کے بعد جتنے بھی رہبر اور ایفارمرس آئے وہ سب اپنے اپنے دور میں اٹھنے والے مسائل کو قرآن اور سیرت کی روشنی میں حل پیش کرتے رہے . اسلئے آج ضروری ہے کہ ہم انہیں انکے دور کے ریفارمرس سمجھ کر ہر بدلتے زمانے میں نئے ریفارمرس کو لے کر چلتے رہیں . قیامت تک ہمارے رہنما صرف قرآن اور سیرت ہی رہیں گے . ایسے نظریے پر ہر کوئی متفق ہو یا نہ ہو مگر اس نظریے پر غور و فکر ضرور کر نا چاہیے . اسلام کا کام صرف سلامتی قائم کر نا نہیں ہے بلکہ انصاف کر نا بھی ہے ..اسلام کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ جب کوئی آپ پر یا آپکی قوم پر ناحق حملہ کر دے یا ناحق اذیت پہنچادے تو آپکو امن قائم رکھنے کے لئے خاموشی اختیار کر نا ہے بلکہ یہان انصاف کو قائم کر نے کے لئے حملہ آور کو سب سے پہلے اپنی زبان سے روکنا ہے اور اگر نہ مانے تو طاقت کا استعمال کر نا ہے ۔

 آجکل ہم سب اسلام کو سلامتی والا مذہب کہہ کر ساری دنیا میں صرف اسلام کا ایک رخ پیش کر رہے ہیں جبکہ دوسرا رخ جو انصاف ہے وہ ہماری نظروں سے دور ہو تا جا رہا ہے . امن قائم کر نے کے لئے بھی کبھی کبھی طاقت کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے . تاریخ گواہ ہے کہ کہ حق پرست ہمیشہ پریشان رہے اور تکلیف برداشت کر تے رہے جبکہ لالچی ، جھوٹے اور کمرشیل حضرات ہر دور میں ہمیشہ دقتی طور پر کامیاب رہے . تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ حق پرست زندہ رہے مگر جھوٹے اور لالچی ہمیشہ معتوب رہے . آج بھی یہی ہو رہا ہے . آج ہر مسلمان کو جان لینا چاہیے کہ اتحاد طاقت ہے اور پھوٹ کمزوری ہے . آج ہر کوئی سننت کی بات کر رہا ہے مگر ان کی نظروں میں صرف داڑھی ، ٹوپی ، مسواک ، کپڑے ، ذکر و ازکار ، نفل نمازیں وغیرہ ہی سننت ہیں . حقیقت میں سننت تو آپ ﷺ کا رہن سہن آپکی سوچ اور آپکے ارشادات ، اپکی سادگی ، اخلاص ،،محبت ، صبر ، بہادری ، ہرکس و ناکس کے ساتھ سلوک اور عبادت ہے جسے آج ہم نظر انداز کر چکے ہیں ۔ ہیزلٹن لکھتا ہے کہ حضرت محمدﷺکا گھر ایک کمرے کی جھونپڑی تھا جس کی دیواروں پر گھاس پھوس کی چھت تھی . دروازہ اور دریچے باپر مسجد کی طرف کھلتے تھے .. فرنیچر کے طور پر زمین پر ایک دری تھی . ایک پتھر کی بنچ تھی . آپکا بچھونا گھاس پھوس اور درخت کے چھلکوں کا تھا . کیا ہم آج آپکی اس سادگی والی سننت پر عمل کر رہے ہیں؟ اگر آپکی سیرت پر مکمل عمل نہیں تو اتنی چیخ و پکار کیوں ؟ آج ہر طرف داعش ( دولت اسلامیہ عراق اور شام ) کا تذکرہ ہے ۔

 یوروپ ، امریکہ اور کچھ عرب ممالک اسے ایک دہشت گرد تنظیم کہہ رہے ہیں . مگر عراق اور شام کی عوام خوشی خوشی اسکے زیر اثر آ رہے ہیں . دنیا بھر سے جو نوجوان اس میں شامل ہو رہے ہیں کیا وہ بیوقوف ہیں؟ اب یقین اور ثبوت کے ساتھ کون کہہ سکتا ہے کہ داعش دہشت گرد تنظیم ہے یا کچھ اور ہے . یہ بھی ممکن ہے کہ داعش انصاف قائم کر نے کی ایک کوشش تھی جو بعد میں غلط راستے پر چل نکلی . سعودی عرب کے ایک پرنس نے بلکل صحی کہا تھا کہ داعش یکایک چند مہینوں میں نہیں بن گئی اور نہ ہی بغیر کسی کی سر پرستی کے اتنی آگے نکل آئی . دراصل اس کی پیدائش یوروپ اور امریکہ کی مرہون منت ہے کیونکہ جب19.3.2003 کو انہوں نے عراق پر حملہ کر کے صدام اور اس کی فوج کوبے دخل (Disband ) کر دیا اور پھر انہیں بے سہارہ چھوڑ دیا تب داعش کا جنم ہوا . صدام کی شکست کے بعد لاکھوں عراقی سپاہی اور افسر امریکی سیاستدانوں کے پاس آئے اور کہا کہ وہ تجربہ کار سپاہی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی فوج کا دوبارہ بحال کیا جائے اور روزگار مہیا کی جائے . مگر امریکی اڈمنسٹریٹر بریمر ( Bremer ) نے انھیں انکار کر دیا اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا . تب 9.5,2003 سے بغاوت اور insurgency شروع ہوی ۔ امریکہ کے دیگر فوجی کمانڈرس نہیں چاہتے تھے کہ عراقی فوج کو disband کیا جائے . بریمر کے انکار کے بعد سے عراقی فوجی ملازمت پر نہ ہو نے کے باوجود مل جلکر اتحادی فوجیوں کے خلاف لڑ نے لگے اور ہر جگہ دھماکے کر نے لگے . اس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکی تھنک ٹینک کی حکمت عملی غلط تھی ۔

 عراق کو دوبارہ تعمیر کر نے کے لے امریکہ نے تقریبا 45000 کنٹراکٹروں کو کام پر لگا دیا اور 2006 تک اسے 1.860 ٹریلین ڈالر خرچ کر نے پڑے جسکا زیادہ تر حصہ عراقی قدرتی وسائل کو استعمال کر کے پورا کیا گیا . جب اتحادی فوج کا عراق پر مکمل قبضہ ہو گیا تو انہوں نے ایک شعیہ مسٹر مالکی کو عراق کا وزیر اعظم بنا دیا . مالکی نے سننی شہریوں اور ملازموں کے ساتھ انصاف نہیں کیا بلکہ ہر جگہ اپنے ہی مسلک کے لوگوں کو جگہ دینے لگے . یہ دیکھ کر عراقی فوجی جو مزاہمت کاری میں لگے ہوے تھے وہ حکومت سے مایوس ہو گئے اور خود کو منظم کر کے آگے بڑھنے لگے اور انکی مدد خود عرب اور اتحادی حکومتیں کر نے لگے . جب اتحادیوں نے عراق کو چھوڑ نا شروع کر دیا تب مزاہمت کارون نے خود کو داعش بنا کر عراقی سر زمیں پر قبضہ جمانے لگے . یہ گروپ خلافت کا دوبارہ نفاذ کر نا چاہتا تھا اور عین اسلامی فکر کے مطابق ایک سرحدوں سے آزاد علاقہ پر خلافت اسلامیہ کا قائل تھا .. وہ ایک ایسی حکومت کے قائل تھے جو شریعت الاہی پر قائم ہو اور تمام مسلمانوں کو متحد کر کے خلافت اسلامیہ کو دوبارہ زندہ کرے . یہا ں یہ بتانا غلط نہ ہو گا کہ اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی دونوں خلافت و شریعت کے نفاذ کے لئے سو سالوں سے کوشش کر رہے ہیں . اب جب داعش نے اس طرف ایک موثر قدم اٹھا یا ہے تو انہیں اخلاقی طور پر اس کا ساتھ دینا اور اسے سیدھے راستے پر چلانا پڑے گا ۔

 آج کے دور میں خلافت کو قائم کر نا ایک ناممکن سی بات ہے کیونکہ یہ جمہوریت کا زمانہ ہے . دنیا کا میڈیا جو یوروپ اور امریکہ کے یہودیوں کے ہاتھ میں ہے وہ دنیا کو وہی دکھاتا اور سناتا ہے جو وہ خود چاہتا ہے . اس میں کتنا سچ ہو تا ہے اور کتنا جھوٹ یہ صرف خقیقت جاننے والے جانتے ہیں . عام آدمی تو وہی سچ سمجھتا ہے جو وہ میڈیا کے ذریعہ دیکھتا اور سنتا ہے . اب ایک بار پھر اتحادیوں نے داعش کو ویلن بنا کر اسکے خلاف ٖفضائی بمباری میں مشغول ہیں . اتحادیوں نے اس بمباری کا نام Operation inherent resolve رکھا ہے اور برسوں لڑنے کا من بنا لیا ہے ، مگر بھول رہے ہیں کہ آج تک کسی نے بھی جنگ اور بمباری کے ذریعہ کسی آئڈیالوجی کو ختم نہیں کر پائے . حقیقت یہ ہے کہ اتحادی داعش پر انہیں علاقوں پر بمباری کر رہے ہیں جہاں سے اسرائیل اور اتحادیوں کے مفادات کو خطرہ ہے . اتحادی ہر حالت میں مشرق وسطی میں سعودی عرب اور دیگر بادشاہوں کی حفاظت کر نا چاہتے ہیں کیونکہ اتحادیوں کے مفادات انہیں سے وابستہ ہیں . وہ نہیں چاہتے کہ داعش کی آئڈیالوجی سے متاثر ہو کر عرب بادشاہوں کے تختے الٹ دیے جائیں . ساتھ ہی وہ عرب ممالک کے اندر داعش کا ڈر قائم کر کے انہیں اپنے غلام بنائے رکھنا چاہتے ہیں . اتحادی داعش کو تباہ نہیں کریں گے بلکہ انہیں ہر اس علاقے میں مضبوط رکھیں گے جہاں ایسا کر نے میں انکا فائدہ ہے . اتحادی اپنے فائدے کے لئے کسی کو بھی ہیرو یا ویلن بناسکتے ہیں . مگر یقیناًوہ عرب ممالک میں ہونے والے اتھل پتھل کو روک نہیں سکتے . یہ کام صرف عربوں کو کر نا ہے ۔

 داعش نے چار غیر ملکیوں کو ویڈیو کے سامنے قتل کر دیا جو اسلام اور انسانیت کے خلاف ہے . مگر سوچنا یہ بھی ہے کہ انہیں کیا کہیں جو فضا سے بمباری کر کے ہزاروں معصوموں کو دردناک موت دیتے ہیں مگر ان کا ویڈیو بنا کر دنیا کو نہیں بتاتے . یہ سب مغربی میڈیا کا کمال ہے . عربوں کی بیوقوفی اور معصومیت کی مثال اس سے بڑھکر کیا ہو سکتی ہے کہ انہوں نے داعش پر بمباری کی آڑ میں ہو نے والی اتحادیوں کی سازش کو نہ پہچان سکے . عربوں کو اس آپسی جنگ میں الجھا کر اتحادیوں نے نہ صرف اپنے مفاد کو تقویت بخشی بلکہ اپنے دوست اور آقا اسرائیل کو عربوں کی متحدہ طاقت اور متحدہ سیاست سے محفوظ کر دیا . آپسی لڑائی میں الجھ کر عرب اسرائیل کی تباہ کاریوں کو بھلا بیٹھے ہیں . عرب ممالک میں جو ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں وہ سب اتحادیوں کے فراہم کردہ ہیں .داعش کے پاس زمین سے ہوا میں اور زمین سے زمین تک مار کر نے والے اسٹنگر میزائلس ہیں مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں داعش انہیں اتحادیوں کے ہوائی لڑاکو جہازوں کو تباہ کر نے کے لئے استعمال نہیں کر رہے ہیں ؟ . یہ اب عربوں پر منحصر ہے کہ وہ عرب بادشاہوں اور مغربی ممالک کی سازش کو سمجھیں اور خود کو بچائے اور اگر داعش سچ مچ ظالم ہے تو اسے تباہ کر دیں ۔

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus,bangalore/islam-wishes-to-establish-not-only-peace-but-also-justice--اسلام-کو-دنیا-میں-صرف-سلامتی-نہیں-بلکہ-انصاف-بھی-قائم-کر-نا-ہے/d/100074

 

Loading..

Loading..