New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 06:05 AM

Urdu Section ( 28 Oct 2019, NewAgeIslam.Com)

Concept of Abrogation (Naskh) between Earlier Jurists (Mutaqaddemin) and Later Jurists (Mutakhkhirin) نسخ پر متقدمین ومتاخرین کا نظریہ



غلام غوث صدیقی ،نیو  ایج  اسلام

قرآن کے معانی واحکام کے تعین میں سب سے زیادہ مشکل مقام اگر کوئی ہے تو وہ ناسخ ومنسوخ کی پہچان ہے ۔

 اس موضوع پر سلف مفسرین  پانچ سو یا اس سے بھی زیادہ آیات کو منسوخ مانتے ہیں جبکہ متاخرین میں بعض صرف بیس آیتوں کو  منسوخ  مانتے ہیں۔ مگر شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ  کی تحقیق ہے  کہ قرآن کریم کی صرف پانچ آیات منسوخ ہیں  ۔ لیکن  بعض محققین یہاں تک لکھتے ہیں کہ ان پانچ آیات کی توجیہ پر نظر کیا جائے اور نسخ کا جو معنی اصولیین نے بیان کیا ہے اگر اس پر نظر کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے قرآن کی کوئی آیات  منسوخ نہیں کیونکہ  کسی حکم کی مدت کے اختتام یا علت کے دور ہو جانے کی وجہ سے قرآن کا کوئی حکم معطل تو سمجھا جا سکتا ہے بالکل منسوخ نہیں مانا جا سکتا ۔قرآن پاک قیامت تک کے لیے نافذ العمل ہے لہذا جب بھی حالات کا تقاضا ہوگا ، اصل حکم پھر نافذ ہو جائے گا ۔

متقدمین اور متاخرین مفسرین کے درمیان منسوخ آیات کی تعداد میں بظاہر  اتنے بڑے فرق ہونے کی اصل وجہ ناسخ ومنسوخ کی اصطلاح ومراد میں فرق ہونا  ہے  ورنہ حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں ۔اگر ان اختلافات کو پوری جزئیات وتوجیہات کے ساتھ بیان کیا جائے تو ان کے درمیان در حقیقت کوئی فرق نظر نہیں آئے گا ۔

ناسخ ومنسوخ کی پہچان ایک مشکل ترین امر ہے جس کے اندر کافی طویل بحثیں اور متعدد اختلافات ہیں ۔اس کی بڑی وجہ متقدمین اور متاخرین مفسرین میں ناسخ ومنسوخ کی اصطلاح ومراد کا اختلاف ہے ۔

صحابہ کرام اور تابعین عظام کے کلام کا تتبع کرنے سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ  حضرات جو متقدمین مفسرین کہلاتے ہیں وہ ناسخ ومنسوخ کو اس کے  لغوی معنوں میں لیتے ہیں اور وہ لغوی معنی ہے ‘‘کسی چیز کا دوسری چیز کے ساتھ تبدیل کردینا’’۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ ان کے نزدیک نسخ کا معنی بہت وسیع ہوتا تھا ، مثلا : کسی آیت کے اوصاف میں سے بعض اوصاف کو دوسری آیت کے ذریعے اٹھا دینا  یا ازالہ کرنا  وغیرہ ان کے نزدیک نسخ کہلاتا ہے  اور اس طرح کے ازالہ کی چند صورتیں تھیں :

جب کسی حکم کے عمل کی انتہائی  مدت پوری ہوتی تو اس مدت کے بعد وہ حکم خود بخود ختم ہو جاتا  اس کے لیے بھی نسخ کی اصطلاح استعمال کرتے۔

جب کلام  اپنے  متبادر معانی (وہ ظاہری معانی جن کی طرف ذہن فورا منتقل ہو جائے ) سے غیر متبادر معانی کی طرف پھرتا تو وہ اس عمل کو بھی  نسخ کی اصطلاح  سے تعبیر کرتے ۔

جب کسی عام حکم میں تخصیص کو بیان کرتے تو اس کے لیے بھی نسخ کی اصطلاح استعمال کرتے ۔

اسی طرح زمانہ جاہلیت کی کسی عادت یا کسی سابقہ شریعت کے حکم کا ازالہ ہوتا تو وہ اس ازالہ کو بھی نسخ سے تعبیر کرتے ۔

اسی طرح وہ دیگر مواقع پر بھی نسخ کی اصطلاح استعمال کرتے اور یہی وجہ ہے ان متقدمین حضرات رضی اللہ عنہم کے نزدیک منسوخ آیات کی تعداد پانچ سو یا اس  سے تجاوز کر جاتی ہے ۔

 جبکہ متاخرین کا نظریہ ہے کہ کسی حکم کی مدت ختم ہو جانے یا اس کی علت دور ہو جانے سے قرآن کا کوئی حکم معطل تو سمجھا سکتا ہے لیکن اس کو منسوخ قرار نہیں دے سکتے ۔  متاخرین اصولیین کی اصطلاح کا اعتبار کرتے ہوئے نسخ کا جو معنی لیتے ہیں وہ یہ ہے کہ پہلے حکم کو دوسرے حکم کے ذریعے کلی طور پر اٹھا دیا جائے حتی کہ پہلے حکم پر عمل کرنا ناجائز ہو جائے ۔

اس سلسلے میں متاخرین میں  امام جلال الدین نے کافی  تحقیق کی اور پھر اپنی کتاب الاتقان فی علوم القرآن کے اندر نسخ پر طویل بحث کرتے ہوئے  متقدمین کے  پانچ سو منسوخ آیات کے بر خلاف اور ابن العربی کی تحقیقات کے مطابق صرف بیس آیات منسوخ قرار دیتے ہیں  مگر شاہ ولی اللہ دہلوی نے الفوز الکبیر کے اندر جو  تحقیق پیش کی ہے اور امام سیو طی کی پیش کردہ   بیس منسوخ آیتوں کا تجزیہ کیا ہے اور مثالیں دے کر سمجھایا ہے کہ ان بیس میں سے صرف پانچ آیتیں منسوخ ہیں ، حالانکہ دوسرے محققین کا ماننا ہے کہ   توجیہات پر مزید غور کرنے پر اور انہیں  سمجھ لینے کے بعد وہ بھی نسخ سے خارج ہو جاتی ہیں  یعنی وہ آیتیں نسخ کے معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔مطلب یہ ہے کہ بعض متاخرین کی بیان کردہ توجیہات کے مطابق پورا کا پورا قرآن محکم ہے ، اس کی کوئی آیت منسوخ نہیں ۔پھر اس میں زمانے کا لحاظ بھی ضروری ہے ، مثلا اگر آج کے دور میں بعض احکام پر عمل نہیں ہو سکتا تو عہد اولی اورعہد وسطی میں تو ان پر عمل ہوتا رہا ہے ، ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر پھر ایسے حالات پیدا ہو جائیں جن میں ان احکامات پر عمل کرنا ممکن ہو جائے ۔قرآن کریم ایک معجزہ ہے جو قیامت تک کے لیے لائحہ عمل ہے اگر پہلے کسی حکم پر عمل نہیں تھا تو بعد میں ہو سکتا ہے ۔  واللہ اعلم بالصواب ۔

میدان تفسیر میں ناسخ ومنسوخ کی معلومات حاصل کرنے کی  اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے بعض آثار صحابہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جس شخص نے  بغیر علم ناسخ ومنسوخ کے تفسیر کی  وہ خود بھی ہلاک ہوا اور اس نے دوسروں کو بھی ہلاک کر دیا ۔ ناسخ ومنسوخ کی معرفت کو علمائے تفسیر نے اتنی اہمیت دی کہ اسے اجتہاد کے لیے موقوف علیہ قرار دے دیا اور ائمہ تفسیر اس شخص کو تفسیر کرنے کی اجازت نہیں دیتے جسے یہ علم حاصل نہ ہو۔

حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ ایک واعظ کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس واعظ سے پوچھا ‘‘اتعرف الناسخ والمنسوخ’’ یعنی کیا تمہیں ناسخ ومنسوخ آیات کی معرفت ہے ؟ اس واعظ نے جواب  دیا اور کہا نہیں ۔اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ‘‘ھلکت واھلکت’’ تو نے اپنے ساتھ دوسروں کی تباہی وبربادی کا بھی سامان کر رکھا ہے ’’۔کتاب الناسخ والمنسوخ للامام الاجل ابو جعفر النحاس میں ص ۴ کے حاشیہ پر اس واعظ کا نام عبد الرحمن بن داب لکھا ہے جو کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے رفیق تھے ۔لوگ ان کے ارد گرد حلقہ بنا کر بیٹھے تھے اور سوالات کر رہے تھے ، یہ واعظ امر ونہی اور حلال وحرام کو خلط ملط کرکے جواب دے رہے تھے ، اسی بات پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ سوال وجواب فرمایا تھا ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

علم ناسخ ومنسوخ کی گراں قدر اہمیت ہی کی وجہ سے سینکڑوں کتب لکھیں گئیں ان میں  مشہور یہ ہیں : کتاب الناسخ والمنسوخ ، معرفۃ الناسخ والمنسوخ لابن حزم ، اخبار الرسوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ للعلامہ ابن الجوزی ، الموجز فی الناسخ والمنسوخ لابن خزیمہ الفارسی  وغیرہ ۔

اس گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ متقدمین ومتاخرین  کے درمیان منسوخ آیات کی تعداد  کے متعلق جو اختلاف ہے وہ نسخ کی اصطلاحی ومرادی اختلاف کی بنا پر ہے ۔اگر متقدمین ومتاخرین کے اس اختلاف کو توجیہات کے ساتھ بیان کیا جائے تو اصطلاحی اختلاف کے سوا کوئی دوسرا اختلاف نظر نہیں آئے گا ۔مگر صد افسوس ان لوگوں پر جنہوں نے نہ تو نسخ پر مطالعہ وسیع کیا ، نہ متقدمین ومتاخرین کو صحیح سے سمجھنے کی کوشش کئے ، بلکہ جہادسٹ نظریہ سے متاثر ہوکر نسخ کی ایسی تھیوری وضع کر بیٹھے جسے عقل بھی قبول کرنے سے گریز کرتی ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں متقدمین پر خوب طعن کئے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی متقدمین نے قرآن کو سمجھا نہیں بلکہ وہ خود دنیا میں سب سے بہترین مفسر قرآن ہیں ۔والعیاذ باللہ ۔اس طرح کی فکری تحریک سے صرف جہادسٹ تھیوری کو ہی فائدہ پہنچ سکتا ہے ، کیونکہ جہادسٹ تو یہی بتانا چاہتے ہیں وہ سلف کے صحیح  پیروکار ہیں ، وہ سلف جنہوں نے اسلام کو خوب سمجھا ، وہ سلف کے نام پر لوگوں کو برین واش کرنے اور اپنے دلائل کو قوت دینے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ در حقیقت وہ خود سلف کی تعلیمات اور ان کے منہج واصول فہم قرآن  سے کوسوں دور ہیں۔

ان شاء اللہ کبھی  قرآنی آیات کی مثالوں کے ساتھ  نسخ کے مفہوم ومعنی پر گفتگو کی جائے گی اور پیش کی جائے گی کہ متقدمین ومتاخرین کے درمیان کس نوعیت کا اختلاف ہے اور یہ کہ اس طرح کے اختلاف سے کسی کو یہ موقعہ نہیں مل سکتا کہ وہ کسی بھی سلف پر طعن وتشنیع کا دروازہ کھول سکے ۔وبتوفیق اللہ تعالی ۔   

URL:  http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqui,-newageislam/concept-of-abrogation-(naskh)-between-earlier-jurists-(mutaqaddemin)-and-later-jurists-(mutakhkhirin)-نسخ-پر-متقدمین-ومتاخرین-کا-نظریہ/d/120116

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..