غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام
26 جون 2026
(ایک ضروری وضاحتی نوٹ: زیرِ نظر تحریر فاضل مصنف ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی کتاب کا ایک علمی خلاصہ ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ راقم الحروف کا مصنف کے تمام تر علمی، فکری اور نظریاتی افکار سے متفق ہونا ہرگز لازم نہیں، اور نہ ہی اِس خلاصے کو میرے کلی اتفاق پر محمول کیا جائے؛ کیونکہ ڈاکٹر طاہر القادری کے بعض دیگر افکار و نظریات کے حوالے سے میرے ذہن میں چند علمی سوالات اب بھی موجود ہیں۔ تاہم، چونکہ یہ زیرِ نظر کتاب ذکرِ امام اور شہادتِ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاکیزہ موضوع کو ایک نہایت دلنشین، جاندار اور مؤثر اسلوب میں بیان کرتی ہے، اِسی علمی و ادبی حسنِ بیان کے پیشِ نظر اِس کا تفصیلی خلاصہ اپنے قارئینِ کرام کے استفادے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ: فلسفہ و تعلیمات
مصنف : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
زبان : اردو
صفحات : 272
تلخیص و تجزیہ : غلام غوث صدیقی
1۔ کتاب کا پس منظر اور تعارف
کتاب کا یہ تعارفی حصہ اِس فکری، اخلاقی اور تاریخی پس منظر کو نہایت فصاحت کے ساتھ آشکار کرتا ہے جس کے بطن سے معرکۂ کربلا نے جنم لیا:

تاریخی معرکوں میں امتیاز
خیر و شر اور حق و باطل کی باہمی آویزش سے تاریخِ انسانی کا کوئی دور خالی نہیں رہا۔ خود تاریخِ اسلام کا عہدِ اولیں مایہ ناز صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی لازوال قربانیوں اور عظیم شہادتوں کے جلی عنوانات سے لبریز ہے، لیکن جو ہمہ گیر شہرت، دوامِ طویل، قبولِ عام اور صدیوں پر محیط تذکرہ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصے میں آیا، وہ کائناتِ شہادت میں اپنی نظیر نہیں رکھتا۔ ساڑھے تیرہ سو برس کا طویل عرصہ بیت جانے کے بعد بھی اِس ذکرِ جمیل کی شادابی، ترو تازگی اور تابندگی جوں کی توں برقرار ہے۔
عارضی اقتدار بمقابلہ ابدی حیات:
مرتب نے اِس کائناتی سچائی کو واضح کیا ہے کہ اِس فانی دنیا میں کسی ظالم، فاسق یا جابر کا وقتی طور پر متمکن نظر آنا یا مسندِ اقتدار حاصل کر لینا حقیقی فتح نہیں، بلکہ یہ سنتِ الٰہیہ کے مطابق دی جانے والی عارضی مہلت (استدراج) ہوتی ہے۔ یزید نشۂ اقتدار میں بدمست ہو کر اپنی اوقات بھول بیٹھا تھا اور اُس نے تخت نشین ہوتے ہی فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریگزارِ کربلا میں خانوادۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے جس سے تاریخ کا دل دہل گیا۔ لیکن قدرت کا آئینِ مکافات دیکھیے کہ جب اِن مٹھی بھر نفوسِ قدسیہ کے مظلومانہ لہو کے صدقے اللہ کی گرفت آئی، تو اِن بہتر (72) شہدائے پاک کے بدلے تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار یزیدی ذلت کی موت مارے گئے۔ یزید، جس نے مدینہ منورہ پر لشکر کشی کر کے تین دن تک مسجدِ نبوی میں باجماعت نمازیں معطل کروائیں اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوار میں گھوڑے باندھے، اُس کی عبرت ناک رسوائی کا عالم یہ ہوا کہ تاریخ کے اگلے ہی موڑ پر خود اُس کی اپنی قبر پر گھوڑے اور اونٹ باندھے گئے جو وہاں لید اور پیشاب کرتے رہے۔
خطبات کی تدوین و ترتیب:
یہ کتاب اصلاً کوئی روایتی تصنیف نہیں، بلکہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے مختلف اوقات میں دیے گئے خطبات کا مجموعہ ہے جنہیں مرتب نے ضروری اضافات، محققانہ حوالہ جات اور علمی باریکیوں کے ساتھ مدون کر کے ایک مستقل، جامع اور مہرِ تصدیق ثبت کرتی دستاویز کی شکل دے دی ہے۔
باب اول: شہید کے لغوی و اصطلاحی ابعاد اور تصورِ شہادت
اِس باب میں مصنف نے لفظ "شہید" کے لغوی، اصطلاحی اور فکری ابعاد پر ایک ایسی اچھوتی اور دلنشین بحث کی ہے ۔ لفظ شہید، شاہد، مشہود اور مشاہدہ سب مصدر "شہود" سے مشتق ہیں۔ اِس کے بنیادی لغوی معانی کئی ہیں، جن کے تناظر میں اسلام کا فلسفۂ شہادت نکھر کر سامنے آتا ہے:
پہلا معنی: حاضر و موجود ہونا
بارگاہِ الٰہی کا فرمانِ ذی شان ہے: {أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ}
"کیا تم اُس وقت حاضر و موجود تھے جب یعقوب (علیہ السلام) کی موت کا وقت آیا؟" (سورۃ البقرہ، 2:133)
اِس لغوی معنی کی رُو سے شہید وہ ہے جو کہیں حاضر و شاہد ہو۔ احادیثِ مبارکہ کے پرتو میں اِس حاضری کی دو روح پرور جہتیں بیان کی گئی ہیں:
1. بارگاہِ الٰہی میں بلا حجاب حاضری:
عام بندہ جب دارِ فانی سے رخصت ہوتا ہے، تو اس کے دنیاوی احوال اور بشری کمزوریوں کے باعث روح اور حق تعالیٰ کے درمیان ہزاروں نوری و ناری پردے حائل ہوتے ہیں۔ لیکن شہادت وہ بابِ رحمت ہے کہ اِدھر روح قفسِ عنصری سے پرواز کرتی ہے، اُدھر لمحہ بھر میں سارے حجابات اٹھا دیے جاتے ہیں اور بندہ بلا واسطہ کلام اور شرفِ دیدار سے سرفراز کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ معرکۂ احد کے عظیم شہید حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعے سے ثابت ہے کہ اللہ رب العزت نے ان سے پسِ پردہ نہیں بلکہ روبرو کلام فرمایا (سنن ابن ماجہ، ابواب الجہاد)۔
2. ملائکہ کی والہانہ حاضری:
شہید کی مظلومانہ رخصت پر نوریوں کا جلوس اترتا ہے۔ جب شہید کا لہو بہتا ہے تو ملائکہ اپنے پروں سے اُس پر سایہ فگن ہو جاتے ہیں، جیسا کہ احد میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیکرِ خاکی پر فرشتوں نے سایہ کیا تھا (صحیح بخاری، کتاب الجہاد)۔ اِس لحاظ سے شہید کی موت "مشہود بالملائکہ" (ملائکہ کی گواہی اور حاضری والی) کہلاتی ہے۔
شہید بعد از مرگ زندہ کیسے رہتا ہے؟
جب شہید پر جلوۂ حق آشکار ہوتا ہے، تو روح کو مقامِ علیین میں ایسا نور، چمک اور غیر فانی قوت عطا کی جاتی ہے کہ وہ جسم سے جدا ہو کر بھی مٹی کے نیچے جسمِ خاکی کو ترو تازہ اور ابدی طور پر محفوظ رکھتی ہے۔ اِس کی مادی مثال سورج کی ہے جو زمین پر موجود پودے سے کروڑوں میل دور ہونے کے باوجود اپنے حرارتی اثر سے پودے کو نمو اور زندگی بخشتا ہے۔ جسم کو روح کی مادی موجودگی کی نہیں بلکہ اُس کے نوری اثر کی حاجت ہوتی ہے۔ اِس بقائے جسمانی پر قرآنی شواہد اِس طرح ہیں:
حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ جن کا جسدِ مبارک بغیر روح کے لق و دق صحرا میں سو (100) برس تک پڑا رہا لیکن قدرت الٰہی سے وہ سڑا نہ گلا (سورۃ البقرہ، 2:259)۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ جو وصال کے بعد بھی ایک سال تک اپنے عصا کے سہارے ایستادہ رہے اور مسخر جنات برابر تعمیرِ مسجد میں جتے رہے (سورۃ سبا، 34:14)۔
اصحابِ کہف کا تذکرہ جو تین سو نو (309) برس تک غار کی آغوش میں سوتے رہے اور اُن کا جسم اور اُن کے کتے کا جسم تک گردشِ زمانہ سے محفوظ رہا (سورۃ الکہف، 18:25)۔
عصرِ حاضر کی تاریخی شہادت
ساٹھ ستر سال قبل عراق میں بغداد کے قریب فرات کے کٹاؤ کے باعث دو جلیل القدر صحابہ کرام (حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے مزارات منتقل کرنے کے لیے جب دھرتی کا سینہ چاک کیا گیا، تو تیرہ سو سال بیت جانے کے بعد بھی اُن کے اجسامِ مقدسہ اور کفن تک ترو تازہ تھے؛ اِس چشم کشا واقعے کو عالمی پریس نے نشر کیا اور حکومتِ عراق نے سرکاری اعزاز کے ساتھ انہیں دوبارہ سپردِ خاک کیا۔
دوسرا معنی: پا لینے والا
کلامِ الٰہی میں ارشاد ہے: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}
ترجمہ: "پس جو کوئی تم میں سے اِس مہینے کو پا لے (یعنی رمضان میں زندہ موجود ہو) تو وہ اِس کے روزے رکھے۔" (سورۃ البقرہ، 2:185)
اِس لغت کے مطابق شہید وہ ہے جو اپنے مقصود کو پا لے۔ عام اہلِ ایمان کو عالمِ برزخ اور سزائے جزا کے کئی کٹھن مراحل، نکیرین کے سوال و جواب اور میزانِ عدل سے گزرنا پڑتا ہے، مگر شہید وہ بخت آور ہے جو خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی مغفرت، جنت کا ٹھکانا، عذابِ قبر سے امان، فزعِ اکبر سے نجات، خلعتِ ایمان، حورِ عین سے عقد اور اپنے ستر (70) اقارب کی شفاعت کا پروانہ عملاً پا لیتا ہے (سنن ترمذی، فضائل الجہاد)۔
تیسرا معنی: مشاہدہ کرنے والا
شہید بوقتِ نزع باری تعالیٰ کے حسنِ مطلق اور کائناتِ صفات کا ایسا بے خود کر دینے والا مشاہدہ کرتا ہے کہ وہ کٹتی ہوئی گردن کے درد سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ جنت میں ہر خواہش کی تکمیل کے بعد انسانی جستجو دم توڑ دیتی ہے، مگر شہید کا دل خلدِ بریں میں بھی مچلتا رہے گا کہ کاش اُسے دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے اور دس بار اُس کا جسم تلواروں سے چھلنی ہو، تاکہ وہ بوقتِ شہادت مشاہدۂ حق کی اُس لذت کو بار بار کشید کر سکے (صحیح بخاری، کتاب الجہاد / سنن نسائی)۔ اِسی استغراقِ جمال کے سبب اُسے موت کا احساس صرف اتنا ہوتا ہے جتنا کسی چیونٹی کے کاٹنے سے ہو (سنن ترمذی، ابواب الجہاد)۔
(کتاب میں اِس کی صریح قرآنی دلیل سورۂ یوسف، 12:31 سے دی گئی ہے کہ جب زنانِ مصر نے ایک ابنِ آدم (حضرت یوسف علیہ السلام) کے فانی حسن کا مشاہدہ کیا تو محویت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے پھل کی جگہ اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور انہیں درد کا پتا تک نہ چلا؛ تو قیاس کیجیے کہ جب شہید حسنِ ازلی اور حسنِ حقیقی کا مشاہدہ کرتا ہوگا تو گردن کٹ جانے پر بھی اُسے اذیّت کا احساس کیسے چھو سکتا ہے!)
چوتھا معنی: مددگار
قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے: {...وَادْعُوا شُهَدَاءَ كُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ...}
"اور اللہ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔" (سورۃ البقرہ، 2:23)
شہید متاعِ جان کا نذرانہ پیش کر کے اللہ کے دین، قوم اور ملک و ملت کا سچا سرفروش اور مددگار ثابت ہوتا ہے۔ وہ خود فنا کے اندھیرے میں اتر کر قوم کو بقا کا اجالا بخشتا ہے۔ اِس کی مثال ماچس کی اُس تیلی جیسی ہے جو خود جل کر خاکستر ہو جاتی ہے مگر اپنے وجود کی قیمت پر بجھے ہوئے چراغوں کو روشنی کا لامتناہی سلسلہ دان کر جاتی ہے۔ چونکہ الٰہی قاعدہ ہے کہ ہر نیکی کا صلہ دس گنا ہے، اِس لیے ربِ کریم ایک عارضی زندگی قربان کرنے والے کو اپنے پاس سے دس گنا حیاتِ ابدی عطا فرماتا ہے، اسی لیے فرمایا کہ انہیں مردہ گمان بھی نہ کرو، وہ اپنے رب کے پاس رزق کے لطف اٹھا رہے ہیں (سورۃ آل عمران، 3:169-170)۔
پانچواں معنی: گواہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ}
"اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو۔" (سورۃ البقرہ، 2:282)
شہید اپنے خون کے آخری قطرے سے یہ آخری اور سچی گواہی لکھتا ہے کہ جس نظریے اور دین کے لیے اُس نے سر کٹوایا، وہ برحق ہے۔ باری تعالیٰ اِس لازوال گواہی کے صلے میں اُسے فردوسِ بریں میں سو (100) ایسے فلک بوس درجات عطا فرماتا ہے کہ ہر دو درجوں کے مابین زمین و آسمان کی وسعتوں جتنا فاصلہ ہوتا ہے (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ)۔
باب دوم: شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انفرادیت
اِس باب میں ان مایہ ناز شواہد اور مافوق الفطرت خصوصیات کا احاطہ کیا گیا ہے جو معرکۂ کربلا کو کائنات کے تمام شہداء کے تذکروں سے ممتاز اور منفرد کرتی ہیں:
شہادت سے پہلے چرچا
دنیا کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ ہر شہید کا تذکرہ اس کے رتبۂ شہادت پر فائز ہونے کے بعد ہوتا ہے، لیکن امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تاریخِ انسانی کے وہ واحد شہید ہیں جن کی شہادت کا چرچا ان کے عہدِ طفولیت (بچپن) میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ حضرت ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا (زوجہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک ہولناک خواب دیکھا کہ حضور اکرم ﷺ کے جسدِ اطہر کا ایک ٹکڑا کٹ کر ان کی گود میں گرا ہے۔ حضور ﷺ نے اس کی تعبیر دیتے ہوئے فرمایا کہ فاطمہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا جس کی پرورش تم کرو گی۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ حضور ﷺ کی چشمانِ مبارک سے رقت آمیز آنسو رواں تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی جبرائیل علیہ السلام آئے تھے اور انہوں نے مجھے یہ جگر دوز خبر دی ہے کہ میری ہی امت میرے اس جگر گوشے حسین کو عنقریب ایک سرخ مٹی والی زمین پر بے دردی سے قتل کر دے گی (مشکوۃ المصابیح، باب مناقبِ اہل بیت)۔
مٹی کا شیشہ (قارورہ)
حضورِ اکرم ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کی لائی ہوئی اس سرخ مٹی کو چوما، سینے سے لگایا، اور اپنی تمام ازواجِ مطہرات میں سے صرف سیدنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وہ مٹی عطا کرتے ہوئے فرمایا: "اے ام سلمہ! جب یہ مٹی خونِ ناب میں تبدیل ہو جائے، تو جان لینا کہ میرا بیٹا حسین شہید کر دیا گیا"(المعجم الکبیر للطبرانی، 3:108)۔ نبوت کی دور بین دیکھ رہی تھی کہ جب واقعہ کربلا ظہور پذیر ہوگا، تو ازواجِ مطہرات میں سے صرف ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی حیات ہوں گی اور باقی تمام ازواجِ مطہرات دارِ فانی سے رخصت ہو چکی ہوں گی۔
ساٹھ ہجری اور امارۃ الصبیان (لڑکوں کی حکومت) سے اللہ کی پناہ
تاجدارِ کائنات ﷺ نے اپنی حیاتِ ظاہری میں ہی صراحت کے ساتھ سنِ شہادت اور اس دور کے فتنوں کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے متنبہ کیا تھا: "ساٹھ ہجری (60ھ) کے سال اور لڑکوں کی امارت (کم فہم لوگوں کی حکومت) سے اللہ کی پناہ مانگو" (البدایہ والنہایہ، 8:231)۔ یزیدِ بدبخت اسی ساٹھ ہجری میں مسندِ اقتدار پر متمکن ہوا تھا، جس کے بارے میں آپ ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ یہ وہ پہلا شخص ہوگا جو میری امت میں خلافت کے عادلانہ نظام کو ملوکیت کی مسموم فضا میں بدلے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اِس حدیث کا علم تھا، اسی لیے وہ اکثر دعا کیا کرتے تھے کہ "اے اللہ! میں ساٹھ ہجری کی ابتداء اور لڑکوں کی حکومت دیکھنے سے پہلے تیرے پاس آنا چاہتا ہوں"، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کا وصال 59 ہجری میں ہی ہو گیا۔
مشہود بالنبی ﷺ ہونا (حضور ﷺ کا چشمِ دید گواہ ہونا)
عام شہداء کی روح قبض کرنے کے لیے بارگاہِ الٰہی سے فرشتے مامور ہوتے ہیں، لیکن امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کائنات کے وہ منفرد اور لاثانی شہید ہیں جن کی شہادت "مشہود بالنبی ﷺ" ہے، یعنی وقتِ شہادت خود رسولِ اکرم ﷺ وہاں روحانی طور پر جلوہ فرما تھے اور آپ ﷺ کی سرپرستی میں یہ معرکہ تمام ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دوپہر کے وقت حضور ﷺ کی زیارت کی کہ آپ ﷺ کے موئے مبارک بکھرے ہوئے، چہرۂ انور گرد آلود اور دستِ مبارک میں ایک شیشی ہے جو خون سے لبریز ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا لہو ہے جسے میں صبح سے اکٹھا کر رہا ہوں" (مشکوۃ المصابیح)۔
جب ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیدار ہو کر تاریخ اور وقت ملایا، تو وہ ٹھیک وہی لمحہ تھا جب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں ذبح کیے گئے تھے۔ اسی طرح ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی حضور ﷺ نے خواب میں غبار آلود سر اور داڑھی مبارک کے ساتھ زیارت کرائی اور فرمایا کہ میں ابھی ابھی حسین کے قتل کا مشاہدہ کر کے آ رہا ہوں (سنن ترمذی، ابواب المناقب)۔
نیزے پر سرِ انور کی اعجازی گواہی
تاریخ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جسم سے سر جدا ہونے کے بعد کسی انسان میں قوتِ گویائی باقی نہیں رہتی، لیکن امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرِ مبارک جب دمشق کے بازاروں اور گلیوں میں نیزے کی نوک پر سرفراز تھا، تو راوی منہال بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچشمِ خود گواہی دیتے ہیں کہ سرِ انور کے سامنے ایک شخص سورۂ کہف کی یہ آیت تلاوت کر رہا تھا:
{أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا}
"کیا تو نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اصحابِ کہف اور رقیم (کتبے والے) ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی تھے؟" (سورۃ الکہف، 18:9)
تو اللہ رب العزت نے کٹے ہوئے سرِ پاک کو معجزانہ طور پر فصیح زبان عطا کی اور نیزے کی نوک سے صدا آئی: "اصحابِ کہف کے واقعے سے بھی زیادہ عجیب میرا قتل کیا جانا اور میرے سر کو نیزے پر چڑھا کر گلی گلی لیے پھرنا ہے"(شرح الصدور، ص 88)۔
باب سوم: شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ: سیرت النبی ﷺ کا ایک باب
ڈاکٹر طاہر القادری نے اس باب میں یہ فکری گرہ کھولی ہے کہ سیرتِ مصطفوی ﷺ کی کتاب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربانی کے بغیر نامکمل تھی:
وصفِ کمال کی جامعیت: حضور ﷺ کی ذات جامع الصفات ہے۔ اللہ کی جتنی نعمتیں کائنات میں تقسیم ہوئیں، وہ حضور ﷺ کے واسطے سے ہوئیں۔ انبیاء کو نبوت، صدیقین کو صدیقیت، اور صالحین کو صالحیت آپ ﷺ کے در سے ملی۔ اب اگر شہادت کی اتنی بڑی نعمت اور درجہ کمال، جو اللہ کے انعام یافتہ چار طبقوں میں شامل ہے، بظاہر حضور ﷺ کی ظاہری زندگی میں جسمانی طور پر وقوع پذیر نہ ہوتا، تو کائنات کے دیگر شہداء اس جزوی فضیلت کا دعویٰ کر سکتے تھے، جو اللہ کو اپنے حبیب کے لیے گوارا نہیں تھا۔
حفاظتِ مصطفیٰ ﷺ کا وعدہ: دوسری طرف، اللہ تعالیٰ کا یہ تکوینی وعدہ بھی تھا کہ "وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ" (اللہ آپ کو لوگوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچائے گا) (سورۃ المائدہ، 5:67)۔ کیونکہ اگر حضور ﷺ مکہ یا مدینہ میں کافروں یا دشمنوں کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش فرماتے، تو دینِ اسلام کی نوزائیدہ تحریک اپنے نقطۂ آغاز ہی پر بکھر جاتی اور لوگ مایوس ہو کر ارتداد کا شکار ہو جاتے، جیسا کہ احد میں صرف آپ ﷺ کے شہید ہونے کی افواہ اڑنے سے بڑے بڑے صحابہ کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے۔
آغاز اور انجام کی تقسیم: چنانچہ مشیتِ الٰہی نے یہ فیصلہ کیا کہ عملِ شہادت کا جوہر اور روح (ہیئتِ اصلیہ یعنی شہادت کی شدید آرزو و نیت) تو حضور ﷺ کی ذات میں کمال درجے پر موجود رہے، جس کا اظہار آپ ﷺ بار بار فرماتے تھے کہ "میرا جی چاہتا ہے میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں" (صحیح بخاری، کتاب الجہاد)۔ اور اس عمل کا ظاهری آغاز (ہیئتِ کذائیہ) بھی حضور ﷺ کی زندگی میں فرما دیا گیا؛ یعنی شہادتِ سری (مخفی) کا آغاز خیبر میں یہودی عورت کے زہر آلود گوشت کھلانے سے ہوا جس کا اثر آپ ﷺ آخری وقت تک محسوس فرماتے رہے، اور شہادتِ جہری (ظاہری) کا آغاز احد میں دندانِ مبارک کا کچھ حصہ شہید کروا کر اور خون بہوا کر کیا گیا۔
حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر ظہورِ اتم: اب اس شہادت کے انجام اور تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے اپنے بیٹوں (نواسوں) کا انتخاب فرمایا، جو آپ ﷺ کا خون تھے، آپ کی جزئیت رکھتے تھے اور جنہیں آپ ﷺ ہمیشہ "میرا بیٹا" کہہ کر پکارتے تھے۔ چنانچہ شجرِ نبوت کی دو شاخوں میں سے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر آپ ﷺ کی "شہادتِ سری" کی تکمیل ہوئی (جب انہیں زہر دیا گیا)، اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر آپ ﷺ کی "شہادتِ جہری" کا ظہورِ اتم ہوا جب تپتے ہوئے ریگزار میں پیاس کی حالت میں ان کا سرِ انور کاٹا گیا۔ اسی لیے حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی یہ قربانی ان کی ذاتی قربانی نہیں، بلکہ سیرتِ مصطفوی ﷺ کا وہ پوشیدہ باب ہے جو کربلا کے میدان میں رقم ہوا۔
باب چہارم: شہادتِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حقائق و واقعات کی روشنی میں
اس باب میں مصنف نے مدینہ منورہ سے لے کر دربارِ دمشق تک کے تمام مستند تاریخی حقائق اور سچی داستان کو دلائل کے ساتھ یکجا کیا ہے:
بیعت کا دباؤ اور انکار
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد جب یزید تخت پر بیٹھا، تو اس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فوراً بیعت لی جائے اور انکار پر ان کے سر قلم کر دیے جائیں۔ مروان بن حکم نے بھی ولید کو اسی سختی کا مشورہ دیا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ولید سے مکالمہ کرتے ہوئے یزید کے فاسقانہ کردار کی وجہ سے بیعت سے صاف انکار کر دیا اور اپنے نانا کے روضۂ مبارک پر رات بھر رو کر الوداعی سلام پیش کیا اور اپنے پورے خاندان کو لے کر مکہ مکرمہ منتقل ہو گئے۔ حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ شہروں کے بجائے دیہاتوں یا ریگستانوں میں چلے جائیں تاکہ امت میں اختلاف نہ ہو، لیکن امام کا فیصلہ راہِ عزیمت کا تھا۔
سفارتِ کوفہ اور مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت
مکہ پہنچنے پر کوفہ کے لوگوں نے امام کو ہزاروں خطوط لکھ کر خلافت سنبھالنے اور یزیدی ملوکیت کے خاتمے کے لیے بلاوا بھیجا۔ امام نے اتمامِ حجت کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ روانہ کیا۔ وہاں کوفیوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور پہلے ہی چند دنوں میں 18 ہزار سے زائد لوگوں نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یہ دیکھ کر یزید نے نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معزول کر کے ابنِ زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور حکم دیا کہ مسلم بن عقیل کو ڈھونڈ کر قتل یا جلاوطن کر دو۔ ابنِ زیاد نے کوفہ کے سرداروں کو رشوت اور یزیدی لشکر کا خوف دلا کر ایسا ڈرایا کہ وہ کوفی جنہوں نے وفاداری کی قسمیں کھائی تھیں، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ کی گلیوں میں تنہا چھوڑ گئے۔ حضرت ہانی بن عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلم بن عقیل کو پناہ دی تھی، انہیں گرفتار کر کے زخمی کیا گیا اور دار الامارت کی چھت پر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید کر کے ان کا سر نیچے پھینک دیا گیا۔ بعد میں ان کے دو کمسن بچوں (محمد اور ابراہیم) کو بھی حارث نامی یزیدی نے زبردستی گرفتار کر کے بڑی بے دردی سے ذبح کر دیا۔
سفرِ کربلا اور حر کی آمد
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ کی حرمت کی خاطر حج کو عمرے میں بدل کر کوفہ کے لیے نکل چکے تھے کیونکہ یزید نے مکہ کے احرام میں اپنے قاتل بھیجے تھے۔ راستے میں فرزدق شاعر نے آپ کو کوفیوں کی بے وفائی کی خبر دی، اور مقامِ ثعلبیہ پر مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی صدمہ انگیز خبر ملی۔ امام نے اپنے رفقاء سے فرمایا کہ جو جانا چاہتا ہے رات کے اندھیرے میں چلا جائے، لیکن سچے جانثاروں نے ساتھ مرنے کا عزم کیا۔ راستے میں یزیدی فوج کے سردار حر بن یزید الریاحی نے ایک ہزار سواروں کے ساتھ امام کا راستہ روکا۔ امام نے حر کے پیاسے لشکر اور ان کے گھوڑوں تک کو اپنے قافلے کا پانی پلایا۔ آخر کار 2 محرم 61ھ کو یہ قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچ گیا۔ امام نے جگہ کا نام پوچھ کر فرمایا: "یہی کربلا (کرب اور بلا یعنی دکھ اور آزمائش کی جگہ) ہے، یہی ہمارے اونٹ بیٹھنے اور ہمارا خون بہنے کا مقام ہے"۔
پانی کی بندش اور عمر بن سعد کی آمد
3 محرم کو عمر بن سعد 4 ہزار کا لشکر لے کر پہنچا۔ 7 محرم کو ابنِ زیاد کے حکم سے فرات کے کنارے پر یزیدی فوج کا پہرہ بٹھا کر اہلِ بیت کے خیموں پر پانی مکمل بند کر دیا گیا، جس سے چھوٹے بچے پیاس سے تڑپنے لگے۔ 9 محرم کی شام شمر ذی الجوشن ابنِ زیاد کا آخری سخت خط لے کر آیا کہ یا تو حسین بیعت کریں یا جنگ کی جائے۔ امام نے اپنے بھائی حضرت عباس علمدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیج کر اللہ کی عبادت، نماز اور استغفار کے لیے صرف ایک رات کی مہلت مانگی۔
عاشورہ کا معرکہ اور قربانیاں
10 محرم الحرام کو صبحِ صادق کے وقت حر بن یزید الریاحی کا ضمیر جاگ اٹھا، وہ یزیدی لشکر چھوڑ کر روتا ہوا امام کے قدموں میں گرا اور معافی مانگ کر بلا تشبیہ جنت کا سودا کر کے سب سے پہلے شہید ہوا۔ اس کے بعد معرکہ شروع ہوا۔ امام کے جانباز رفقاء نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جانیں قربان کیں۔ جب اپنوں کی باری آئی تو سب سے پہلے گلشنِ فاطمہ کے چودہ سالہ نوجوان حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما میدان میں اترے اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند کر شہید ہوئے۔ پھر حضور ﷺ کے ہم شکل، اٹھارہ سالہ کڑیل جوان حضرت علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (ابنِ امام حسین) پیاس کی شدت میں تڑپتے ہوئے نیزے کا وار کھا کر والد کے سامنے تڑپ کر رخصت ہوئے۔ حضرت عباس علمبردار رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بچوں کے لیے پانی لینے فرات پر گئے، تو مشکیزہ بھرتے ہوئے خود پانی نہیں پیا کہ میرا حسین پیاسا ہے؛ واپسی پر دشمنوں نے گھات لگا کر ان کے دونوں بازو کاٹ دیے اور وہ بھی شہید ہو گئے۔
حضرت علی اصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تیر اور امام کی شہادت
جب کوئی مددگار نہ بچا تو امام خیمے کے دروازے پر بیٹھے تھے۔ چھ ماہ کے حضرت علی اصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیاس کی شدت سے بلکتا دیکھ کر امام نے انہیں ہاتھوں پر اٹھایا اور یزیدی لشکر کے سامنے لا کر فرمایا: "اگر میری جنگ تمہارے نزدیک گناہ ہے، تو اس معصوم بچے کا کیا قصور ہے، اسے تو چند قطرے پانی دے دو"۔ جواب میں ظالم حرملہ نے ایسا زہریلا تیر مارا جو ننھے علی اصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلق کو چیرتا ہوا امام کے بازو میں پیوست ہو گیا۔ امام نے ننھے حضرت علی اصغر کا خون آسمان کی طرف اچھالا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ آخر میں امام عالی مقام خود میدان میں اترے اور علی کے شیر کی طرح لڑتے ہوئے یزیدی صفوں کو تہس نہس کر دیا۔ پیاس، زخموں کی کثرت اور عصر کی نماز کا وقت ہونے پر جب امام سجدہ ریز ہوئے، تو سنان بن انس اور شمر ملعون نے آپ کا سرِ مبارک تن سے جدا کر کے نیزے پر چڑھا دیا۔ یزیدیوں نے خیموں کو آگ لگا دی اور اہلِ بیت کی پاک بیبیوں کے سروں سے چادریں چھین کر انہیں قیدی بنا لیا۔
باب پنجم: شہادتِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مقامِ رضا
مصنف نے اس باب میں اس باطنی اور تصوفانہ راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ کربلا کا معرکہ دراصل رضا الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا مرکز تھا:
صبر کے درجات
عام زاہدوں اور عابدوں کا صبر یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مصیبت آئے تو وہ اللہ کے خوف سے خاموش ہو جائیں یا شکوہ نہ کریں۔ لیکن جو اللہ کے سچے عاشق ہوتے ہیں، ان کا صبر "الصبر مع اللہ" اور "الصبر عن اللہ" ہوتا ہے۔
توکل اور رضا کا کمال
توکل کا پہلا درجہ یہ ہے کہ اللہ کی عطا پر شکر اور منع پر صبر کیا جائے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ بندے کے نزدیک اللہ کا دینا اور نہ دینا دونوں برابر ہو جائیں۔ اور تیسرا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بندے کے لیے اللہ کی طرف سے کسی نعمت کا "منع" ہو جانا ہی سب سے پسندیدہ اور محبوب عمل بن جائے۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقامِ رضا کی اسی آخری کٹھن منزل پر فائز تھے۔ انہوں نے کربلا کے تپتے میدان میں تین دن کی پیاس، جوان بیٹوں کی لاشیں اور بھانجوں بھتیجوں کے ٹکڑے چنے، لیکن ان کی پیشانی پر ایک بل تک نہ آیا۔ وہ چاہتے تو آسمان کی طرف اشارہ کرتے اور فرات اپنا رخ بدل لیتا یا بادل برس پڑتے، لیکن انہوں نے معجزے کے بجائے اللہ کی رضا اور مشیت کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنے کو ترجیح دی تاکہ کائنات کو پتہ چلے کہ عشقِ الٰہی میں سب کچھ لٹا کر بھی سجدے میں کیسے مسکرایا جاتا ہے۔
باب ششم: واقعہ کربلا کی دینی اہمیت
اس باب میں مصنف نے ان لوگوں کی فکری اصلاح کی ہے جو کربلا کو محض ایک پرانا تاریخی حادثہ سمجھتے ہیں:
قرآنی علوم کی روشنی میں اسلام کے بنیادی علوم تین ہیں: علم العقائد (عقیدے کا علم)، علم الاحکام (حلال و حرام کا علم)، اور علم التذکیر (یاد دہانی کا علم)۔ علم التذکیر کی آگے تین قسمیں ہیں: موت کے بعد کی یاد دہانی، اللہ کی نعمتوں کی یاد دہانی، اور "ایامِ اللہ" (اللہ کے خاص تاریخی دنوں) کی یاد دہانی۔
کربلا مضمونِ قرآن:
قرآن مجید کا ایک بڑا حصہ صالحین اور اولیاء کے واقعاتِ جہاد و استقامت سے بھرا پڑا ہے تاکہ ایمان والوں کے دلوں کو پختگی ملے۔ واقعہ کربلا بھی مضامینِ قرآن میں سے ایک روشن مضمون ہے۔ یہ ایمان میں پختگی کا وہ سبب ہے جو مسلمانوں کو سکھاتا ہے کہ جب دین پر وقت آئے تو مصلحت پسندی چھوڑ کر کیسے کھڑا ہونا چاہیے۔ امام پاک کا نیزے پر چڑھ کر بولنا اصحابِ کہف کے واقعے سے بھی زیادہ عجیب تر اور ایمان کو جلا بخشنے والا ہے۔
باب ہفتم: شہادتِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ امتِ مسلمہ کے نام ایک پیغام
کتاب کے اِس آخری باب میں مصنف نے کربلا کے عالمگیر واقعے سے اخذ ہونے والے آفاقی اسباق اور امتِ مسلمہ کی فکری یکجہتی کے لیے ایک عملی و انقلابی فارمولا پیش کیا ہے:
ظاہری اقتدار کی نفی اور باطنی فتح
معرکۂ کربلا کا سب سے بڑا آفاقی پیغام یہ ہے کہ دنیا میں کسی ظالم اور جابر کا چند روزہ مادی اقتدار پا لینا یا مسندِ حکومت پر متمکن ہو جانا حقیقی کامیابی نہیں ہے۔ یزیدیت عارضی اقتدار، شاہی محل اور لاؤ لشکر پا کر بھی صفحۂ ہستی سے مٹ گئی اور تاقیامت نشانِ عبرت بن گئی، جبکہ حسینیت بغیر کسی ظاہری حکومت، خزانے اور مادی وسائل کے بھی تاقیامت نسلِ انسانی کے دلوں پر راج کر رہی ہے۔
اعتدال کی راہ (حبِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور حبِ اہلِ بیتِ پاک)
مصنف نے امتِ مسلمہ کو فرقہ واریت، ملوکیت پسندی اور باہمی تعصب کے اندھیروں سے نکلنے کی تلقین کرتے ہوئے ایک نکتہ بیان کیا ہے جو اتحادِ امت کی اساس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار دونوں کی اصل پہچان، شرف، عظمت اور مرکز و محور صرف اور صرف "نسبتِ مصطفیٰ ﷺ" ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنہوں نے ہادیٔ برحق ﷺ کی ظاہری صحبت اور ایمان افروز بصارت کا شرف پایا، اور اہلِ بیتِ پاک وہ پاکیزہ ہستیاں ہیں جن کی رگوں میں حضورِ اکرم ﷺ کا مقدس خون دوڑ رہا ہے۔ لہٰذا، جو نادان صحابہ کی محبت کا جھوٹا دعویٰ کر کے اہلِ بیتِ پاک سے بغض رکھتا ہے، یا جو اہلِ بیت کی محبت کی آڑ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شان میں گستاخی یا تنقید کرتا ہے، وہ دراصل شجرِ اسلام کی جڑ کاٹ رہا ہے اور حبِ رسول ﷺ کی حقیقی چاشنی سے یکسر محروم ہے۔
صحابہ کرام اور اہلِ بیت کا باہمی مثالی تعلق
ایک سچا اور مخلص مسلمان وہی ہے جو افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کا دامن تھامے اور ان دونوں مقدس ہستیوں کا برابر احترام و اکرام کرے؛ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار کا آپس میں محبت، الفت اور جاں نثاری کا بے مثال اور گہرا تعلق تھا۔ اِس کی سب سے بڑی اور روشن دلیل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ لازوال عمل اور فرمان ہے جس میں انہوں نے صراحت فرمائی تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں (اہلِ بیتِ پاک) کے ساتھ صلہ رحمی اور حسنِ سلوک کو اپنے سگے رشتہ داروں پر ترجیح دیتے ہیں اور اسے اپنے لیے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔
کتاب کا فکری خلاصہ
ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی یہ مایہ ناز تصنیف اِس حقیقت کو پایۂ ثبوت تک پہنچاتی ہے کہ امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جابر سلطان اور فاسقِ وقت یزید کے ہاتھ پر بیعت نہ کر کے کائناتِ انسانی کو یہ ابدی و غیر فانی سبق دیا کہ حق کی بقا کی خاطر جان کا نذرانہ تو پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن باطل، ظلم، جبر اور نظامِ شر کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔ اسی لیے کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ مظلومانہ قتل دراصل یزیدیت کی ابدی موت کا پروانہ اور دینِ اسلام کی تاقیامت حیاتِ نو کا مژدہ بن گیا۔
تصورِ شہادت اور دورِ حاضر کا فتنۂ خارجیت (اضافی فکری نوٹ)
آخری بات جو نہایت اہمیت کے ساتھ پیشِ نظر رہنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ دورِ حاضر میں جو عناصر، گروہ یا تنظیمیں "شہادت" اور "جہاد" کے مقدس نام پر مسلم ممالک کے اندر خود مسلمانوں کا ناحق خون بہا رہی ہیں، وہ دینِ اسلام کے پاکیزہ اور حقیقی تصورِ شہادت سے کوسوں دور ہیں۔ یہ اصلاً اُسی فکری گمراہی اور "خارجی ذہنیت" کے جدید پیروکار ہیں، جن کا وتیرہ ہی مسلمانوں کی تکفیر کرنا اور قتل و غارت گری کو کارِ ثواب سمجھنا رہا ہے۔ دینِ مبین نے جس شہادت کو بارگاہِ الٰہی میں بلا حجاب حاضری اور حق کی سچی گواہی کا ذریعہ قرار دیا تھا، ان فتنہ پرور عناصر نے اسے اپنی وحشت، دباؤ اور دہشت گردی کا ہتھکنڈہ بنا لیا ہے۔ یہ گمراہ گروہ بے گناہ انسانوں، بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کے قتلِ عام کو جہاد کا نام دے کر نہ صرف شریعتِ اسلامی کی صریح بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں، بلکہ کائناتِ انسانی کے سامنے اسلام کے عظیم اور مقدس تصورِ شہادت کے چہرے کو بھی مسخ کر رہے ہیں۔ سچی شہادت ظلم کے سامنے ڈٹ جانے اور نظامِ حق کی سربلندی کا نام ہے، نہ کہ مظلوموں کو نشانہ بنانے اور زمین پر فتنہ و فساد برپا کرنے کا۔
غلام غوث صدیقی ایک اسلامی اسکالر، مترجم اور نیو ایج اسلام کے انگریزی، عربی و اردو رائٹر و کالم نگار ہیں۔ ان کے سیکڑوں مضامین اور تراجم مختلف زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ سماجی اصلاح، امن و رواداری، عدل و انصاف، انسانی حقوق اور اسلام سے متعلق اعتراضات و شبہات کا علمی و تحقیقی جواب دینا ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں۔
آن لائن کتاب کا لنک: https://www.minhajbooks.com/urdu/book/156/Martyrdom-of-Imam-Husayn-A-S-Philosophy-and-Teachings/
-----------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/martyrdom-imam-hussain-philosophy-teachings/d/140548
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism