New Age Islam
Sat May 09 2026, 06:15 PM

Urdu Section ( 5 Jul 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Understanding the Qur'an and the Doubts of Contradiction: An Intellectual and Faith-Based Invitation to Reflection – Part 2 فہمِ قرآن اور شبہاتِ تضاد: ایک فکری اور ایمانی دعوتِ تدبر

غلام غوث صدیقی

5 جولائی 2025

یہ قسط ثانی ہے جس کا اصل مقصد تناقض وتضاد کی تعریف ،  قرآن پر اعتراضات اور تناقض کے وہم کا ازالہ اور اس کے علاوہ اس میں  ایک فکری اور ایمانی دعوت تدبر بھی پیش کیا گیا ہے ۔

پہلی قسط شائع ہونے کے بعد احساس ہوا کہ  "تناقض" اور "تضاد" کی تعریف کو مقدم کرنا چاہیے تھا کیونکہ عام قارئین کی سہولت کے لیے یہ ضروری ہے۔اس قسط میں ان کی تعریف بیان کرنے کے بعد پچھلی قسط کا خلاصہ مختلف انداز میں مزید نکات کے ساتھ پیش کریں گے ۔

تناقض اور تضاد کی تعریف:

تناقض (Contradiction) اور تضاد (Inconsistency) دونوں الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کسی بات یا بیان میں ایسا اختلاف یا ٹکراؤ ہو جس سے ایک بات دوسری بات کو جھٹلاتی ہو۔

        تناقض کا مطلب ہوتا ہے: دو باتوں کا ایک دوسرے کی نفی کرنا، یعنی اگر ایک بات درست ہو تو دوسری لازماً غلط ہو۔

        تضاد کا مطلب ہوتا ہے: کسی مجموعے میں ایسی باتوں کا پایا جانا جو ایک دوسرے کے خلاف ہوں، جنہیں ایک ساتھ سچ نہیں مانا جا سکتا۔

مثلاً: اگر کوئی کہے "میں زندہ ہوں" اور پھر کہے "میں مر چکا ہوں"، تو یہ تناقض ہے، کیونکہ ایک بیان دوسرے کو رد کرتا ہے۔

قرآن مجید میں تناقض اور تضاد کے شبہ سے کیا مطلب ہے؟

قرآن مجید کے بارے میں بعض معترضین کہتے ہیں کہ اس میں بعض جگہوں پر آیات میں اختلاف یا تضاد معلوم ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں قرآن کی ایک آیت کچھ کہتی ہے اور دوسری آیت اس کے برخلاف کچھ اور کہتی ہے۔ یہ کہنا درحقیقت تناقض کا شبہپھیلانا  ہے۔

لیکن قرآن مجید خود اس بات کو رد کرتا ہے:

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا

“کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔” (القرآن، سورۃ النساء، آیت 82)

یعنی اگر قرآن کسی انسان کا بنایا ہوا ہوتا تو اس میں تضاد اور تناقض ضرور پایا جاتا، مگر اللہ کا کلام ہونے کی وجہ سے اس میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔

تضاد کا زیادہ تر شبہ قرآن مجید کی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ عام افراد سادہ زبان میں روز مرہ مثال سے اسے یوں سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی استاد بچے سے کہے: "تم کتاب بند کرو اور سنو"، پھر چند منٹ بعد کہے: "اب کتاب کھولو اور پڑھو"

تو کوئی عقل مند یہ نہیں کہے گا کہ استاد کا بیان متضاد ہے، کیونکہ حالات اور وقت بدل چکے ہیں۔

اسی طرح قرآن میں بھی مختلف مواقع، احوال، اور لوگوں کے مزاج کے مطابق ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک آیت کسی خاص حالت میں نازل ہوئی، دوسری کسی دوسرے موقع پر۔اسی طرح بعض مواقع پر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اپنی نعمتوں مثلا ، آسمان ، زمین ، زمین کا پھیلاو، زمین پر بسنے والی مخلوقات ، شجر و حجر ، پھول ، سبزہ زار ، وغیرہ کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ اس مقام پر بھی شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک آیت کہتی ہے زمین کو پہلے پیدا کیا گیا جبکہ دوسری آیت کہتی ہے کہ آسمان کو پہلے پیدا کیا گیا ، لیکن جب شان نزول کی کیفیت پر غور کیا جائے تو صراحتہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں نعمتوں کا تذکرہ مقصود ہے اور اب یہ کلام کا حسن ہے کہ جب زمین کی اہمیت اور اس میں بسنے والی مخلوقات کی موت  اور اس کی دوبارہ کی زندگی پر اللہ کی  قدرت  کا اظہار مقصود ہوتا ہے تو اس کا تذکرہ پہلے آتا ہے اور جب آسمان جیسی عظیم نعمت کی اہمیت اور اس پر بھی اللہ تعالی کی قدرت کا بیان مقصود ہوتا ہے تو ایسے مقام پر آسمان کا تذکرہ پہلے  آتا ہے ، لیکن بندوں کے لیے یہ مقام غور ہے کہ وہ کس طرح قرآن مجید پر تدبر کرتا ہے ،  کیا وہ اللہ تعالی کی نعمتوں پر غور کرکے اپنے مومنانہ احسان مندی کا ثبوت دیتا ہے یا وہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر قرآن مجید کی ہدایت و رہنمائی سے محروم ہوتا ہے۔قرآن مجید پر تدبر کرنے کے یہ دو طریقے ہیں ، ایک ہدایت و رہنمائی کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا شکوک و شبہات کی طرف  جن کی قطعا قرآن مجید میں کوئی گنجائش نہیں ۔   

یہ مقام تدبر ہے جس کی تعلیم قرآن مجید نے ہمیں دی ہے ۔ہم قرآن کو اگر غور و فکر سے پڑھیں، سیاق و سباق (پہلے اور بعد کی آیات) کو دیکھیں، نعمتوں کی بیان کیفیت اور مقتضیات بلاغت ، تسلسل کلام اور نزول آیات کی شان و اہمیت اور ان سے نکلنے والی ہدایت و رہنمائی کی درخشندہ موتیوں اور کرنوں پر نظر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ مکمل ہم آہنگی اور حکمت ہے۔قرآن مجید نے ہمیں جب بتایا کہ یہ تناقض وتضاد سے مکمل پاک ہے تو یہی دلیل ہمارے ایمان و یقین کے لیے اطمیان بخش ہے لیکن شکوک و شبہات رکھنے والوں کا کیا علاج جو قرآن مجید کی ہدایت و رہنمائی سے کوتاہ نظری  اور پھر غفلت میں پڑے رہنے کا ثبو ت دے رہے ہیں ۔

قرآن مجید تو انسان کو وہم و شک کے گمان سے باہر آنے کی تعلیم دیتا ہے ۔سورہ بقرہ کی پہلی سورت میں اللہ تعالی نے بیان فرمایا کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ  کا نزول  ہی اس لیے ہوا تھا کہ بندوں کو اختیار مل جائے ایمان لانے کے لیے کسی پر زبردستی نہیں کی جائے ، یہ معاملہ اختیار کا ہے ، جو چاہے اپنے دل سے ایمان لائے اور جو چاہے اسے نہ مانے ۔صداقت و حقانیت کو قبول کرنے کے لیے دل کی رضامندی ضروری ہے کیونکہ زور زبردستی سے دلوں کو فتح نہیں کیا جا سکتا ۔

اب پچھلی قسط  کے اصل مضمون کا ذہن میں پھر سے خاکہ تیار کر لیں ، جس میں  قومِ ثمود پر نازل ہونے والے عذاب کے حوالے سے بعض معترضین کی جانب سے جو تضاد کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے، اس کا علمی، تفسیری، عقلی اور سائنسی انداز میں ازالہ پیش کیا گیا تھا۔

اس مضمون  کا خلاصہ یہ تھا کہ:

"صَیحہ" (زور دار چیخ)، "رَجفہ" (زلزلہ)، "صاعقہ" (کڑک دار آسمانی آفت) اور "طاغیہ" (انتہائی شدت اور سرکشی) جیسے الفاظ، قرآن مجید میں قومِ ثمود پر نازل ہونے والے عذاب کی شدت، اس کے مختلف پہلوؤں اور متنوع اثرات کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ یہ مختلف تعبیرات قرآن کی فصاحت و بلاغت اور جامعیت کی دلیل ہیں۔

یہ مختلف الفاظ اور تعبیرات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ قرآن مجید ایک معجزہ ہے، بلاغت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے،  کلامِ الٰہی کا جلال، جمال اور جودت اس میں درخشاں ہے،  اور اس کا اسلوب متنوع، بلیغ، جامع اور عظیم الشان ہے۔

قرآن کا یہ معجزاتی اسلوب انسانی عقل و فہم کی پرواز سے بالا تر ہے۔ کوئی بھی انسان اپنی محدود ذہنی صلاحیتوں سے کما حقہ اس کے اسلوب کے کمال کو نہیں پا سکتا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بعض معترضین، اپنی غلط فہمی اور  حق سے اعراض کی بنا پر یہ کہنے کی جسارت کرتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) قرآن مجید میں تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ بات حقیقت میں تعجب انگیز، جہالت پر مبنی، تہمت اور شیطانی وسوسے سے کم نہیں۔

وہ لوگ جو اپنے خالقِ حقیقی کے کلام کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ اس پر اعتراض کرنے کی جسارت کیسے کر سکتے ہیں؟ ان کا یہ طرزِ فکر درحقیقت حق سے فرار اور ہدایت سے محرومی کا اظہار ہے۔

ہمارے دلوں میں قرآن مجید کی صداقت اور حقانیت اس قدر راسخ اور پیوست ہے، جیسے جسم میں روح بس جاتی ہے۔ جس طرح روح کے نکلنے سے جسم بے جان ہو جاتا ہے، اسی طرح قرآن کی صداقت پر شک رکھنے والا ایمان کی روشنی سے محروم ہو کر دائرۂ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔

قرآنِ مجید پر تضاد و تناقض کا الزام دراصل اُس فرد کی جانب سے آتا ہے جو اس کی صداقت و حقانیت میں شک رکھتا ہے۔ ایسی بات کہنے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے، مگر مومن نہیں ہو سکتا۔

یقیناً یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کا ذہن صدیوں سے عقلی و منطقی قیاس آرائیوں کی وادیوں میں سرگرمِ سفر رہا ہے۔ غور و فکر، تجزیہ اور دلیل کی بنیاد پر حقیقت تک رسائی حاصل کرنا انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ فلسفہ، منطق، سائنس اور دیگر علوم کی بنیاد بھی انسانی عقل کی انہی کوششوں پر استوار ہے۔ مگر جب یہ عقل ہدایتِ وحی سے محروم ہو جاتی ہے تو گمراہی میں بھٹکتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک مشہور مقولہ ہے: "خدا جب دین لیتا ہے تو عقل چھین لیتا ہے"۔ یعنی جب دین نہ ہو تو عقل سلیم اپنا کام کرنا بند کر دیتی ہے۔ دین تو عقل کی تطہیر کرتا ہے، اسے روشنی عطا کرتا ہے اور اسے صحیح سمت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سچا دیندار انسان جب قرآن مجید کی صداقت کو تسلیم کر لیتا ہے تو اس کی عقل سلیم، دل و دماغ اور شعور سب اس کی صداقت پرایمان رکھتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بات کسی طور قابلِ فہم نہیں ہو سکتی کہ وہ کلامِ الٰہی میں کسی تضاد یا باطل کی آمیزش کا تصور کرے۔ ایسی سوچ عقلِ سلیم، ایمانی بصیرت اور فطری وجدان کے سراسر منافی ہے۔

تاہم، جو لوگ ایمان کی روشنی سے محروم ہیں اور اپنی بے نور قیاس آرائیوں کو ہی علم کا معیار سمجھتے ہیں، وہ اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ ان کے اعتراضات کا جواب محض جذباتی یا مذہبی نہیں، بلکہ عقلی، منطقی اور سائنسی انداز میں بھی دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ:

کوئی بھی صاحبِ عقل انسان، جو فطرت کے نظام پر غور و تدبر کرتا ہے، اور جو عدل، انصاف اور عقلِ سلیم کی کسوٹی پر حقائق کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ ہرگز اس قابل نہیں کہ کلامِ الٰہی کے جمالیاتی نور کو اپنے دل کی تاریکی سے ذرہ برابر بھی متاثر کر سکے۔

قرآنِ مجید نہ صرف عقل و بصیرت کے دروازے کھولنے کی تلقین کرتا ہے، بلکہ انسان کو دعوتِ فکر بھی دیتا ہے کہ وہ اس کی دعوت کو سنجیدگی سے سمجھے، اس کی آیات میں غور و تدبر کرے، اور اللہ تعالیٰ کی نشانیاں — یعنی زمین و آسمان، چاند و سورج، رات و دن — ان سب میں خالقِ کائنات کی قدرت و حکمت کا مشاہدہ کرے۔

قرآن کی یہ دعوتِ تدبر اور دعوتِ تحقیق درحقیقت خود اس کی حقانیت، صداقت اور معجزاتی پہلو کی روشن دلیل ہے۔ ایک ایسی کتاب جو عقل کو بیدار کرے، شعور کو جھنجھوڑے، اور فطرت کی گہرائیوں سے انسان کو آشنا کرے—وہ تضاد سے کیسے خالی نہیں ہو سکتی؟

پس، قرآن مجید پر تضاد یا تناقض کا الزام نہ صرف عقلِ سلیم کی کسوٹی پر غلط ہے، بلکہ فکری دیانت اور انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔

لہٰذا، قرآن میں تضاد کا شبہ ظاہر کرنا دراصل انکارِ حق کی علامت ہے، ہٹ دھرمی اور عناد کا مظہر ہے، اور نیت کے فساد اور دل کی تاریکی کا غماز ہے، نہ کہ کوئی علمی یا عقلی مؤقف۔(جاری)

۔۔۔

قسط اول کا لنک:

Urdu Article Part1: Qur’anic Descriptions of the Punishment of the People of Thamūd: Perceived Contradiction or Mastery of Divine Wisdom? قومِ ثمود پر عذاب کی قرآنی تعبیرات: تضاد کا وہم یا حکمت کا کمال؟

URL: https://newageislam.com/urdu-section/understanding-quran-intellectual-faith-reflection-part-2/d/136084

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..