New Age Islam
Sat May 02 2026, 12:05 AM

Urdu Section ( 29 Jul 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Martyrdom of Imam Hussain in Karbala and The Life of Islam کربلا میں شہادت امام حسین اور اسلام کی زندگی

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام

29 جولائی 2023

ایک شعر ہم اکثر بالخصوص یوم عاشورہ کے قریبی ایام میں پڑھتے رہتے ہیں کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کر بلا کے بعد ۔مقام غور ہے کہ کربلا میں دین حق اسلام کے علمبردار تھے امام حسین ،اور ظلم وستم کا بادشاہ تھا یزید ۔اسلام اور ظلم میں اضداد حقیقت کی نسبت ہے ۔یہ دونوں کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ۔اسلام کی بنیاد ہی ظلم کے خاتمہ پر ہے ، اور اس کے لیے چاہے شہید ہوجانا پڑ جائے ۔ اسلامی تاریخ کے اوراق میں ایسے واقعات بہت گزرے ہیں جب اسلام کو بچانے اور ظلم کے خاتمے کے لیے اسلام کے جانباز سپاہیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے میں ذرہ برابر بھی نہ ہچکچائے ۔

بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ یاد دلا دیں کہ حق و باطل کی جنگ میں اسلام ہمیشہ حق کے ساتھ ، بلکہ ہمیشہ حق ہی ہوتا ہے اور اس اسلام کا مخالف ہمیشہ ظالم ہی ہوتا ہے ۔ظالموں کی تاریخ رہی ہے کہ اسلام کی روشنی کو مدھم کرنے کے لیے اسلام پر انہوں نے مختلف طرح سے حملے کیے اور چھوٹے بڑے کئی حملے کیے ، مگر اسلام کے سپاہیوں نے ہمیشہ اس دین حق کو چھوٹے بڑے خطرات سے بچانے کی بھر پور کوششیں کیں۔

 تاریخ اسلام میں ایک واقعہ ایسا بھی پیش آیا جب معاملہ حق کو چھوٹے بڑے خطرات سے بچانے کا نہیں تھا بلکہ صورتحال اسلام کی زندگی اور موت کی بن گئی تھی ۔ اسلام حق وباطل کی جنگ میں ایک ایسی راہ پر پہنچ چکا تھا جہاں سے یا تو وہ زندہ رہ سکتا تھا یا پھر اس کی موت ہو جاتی ۔ مشیت باری تعالی یہی ہے کہ خود اللہ رب العزت ہی اپنے دین حق اسلام کی زندگی کی بقا اور انسانی زندگی کی رہبری کے لیے اپنی کتاب قرآن مجید کی ہمیشہ حفاظت فرماتا رہے گا ۔ حقیقت میں وہی ذات باری تعالی مدد فرمانے والا ہے ۔اس کی یہ شان ہے کہ کبھی وہ اپنے بندوں کی مدد بالواسطہ کرتا ہے تو کبھی بلا واسطہ ۔وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ۔اس کی مدد بالواسطہ کی محتاج ہے نہ بلاواسطہ کی ۔لیکن یہ اس کی مشیت ہے کہ کبھی وہ کسی کی مدد بالواسطہ کرتا ہے اور کبھی بلا واسطہ بھی مدد فرماتا ہے ۔ اس کی مشیت کے آگے ہم سر بسجود ہوتے ہیں ۔

آپ بالواسطہ کو دوسرے عام لفظ میں وسیلہ کہہ سکتے ہیں ، یعنی کبھی وہ کسی کی مدد وسیلہ سے فرماتا ہے تو کبھی بغیر وسیلہ ، ٹھیک اسی طرح اللہ تعالی نے ہم بندوں کو بھی مدد مانگنے کے لیے وسیلہ کے واسطے سے مد دمانگنے کی تعلیم دیا اور کبھی بغیر وسیلہ کے بھی مدد مانگنے کا حکم دیا ۔ عام انسانوں میں وسیلہ کا جھگڑا تو قرن الشیطان نے یہ کہہ کر ڈالا کہ وسیلہ سے مدد مانگنا جائز نہیں۔ ہم مسلمانوں کے پاس اللہ تعالی کا کلام قرآن مجید ہے جس نے کبھی وسیلہ سے مدد مانگنے اور کبھی بغیر وسیلہ کے بھی اللہ تعالی سے مدد مانگنے کی تعلیم دی ۔

کہنا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے دین حق اسلام کی زندگی اور موت کی جنگ میں اسلام کو زندگی دینے کے لیے اپنے پیارے محبوب کے پیارے نواسے ، ہمارے امام حسین کو وسیلہ بنایا ۔ جب بات آئی اسلام کی زندگی کی ، تو اس کی بقا اور زندگی کے لیے اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نواسے ، فاطمہ زہرہ کے دلارے ، مولی علی کے شہ پارے ، خلفائے راشدین کی محبت بھری آنکھوں کے تارے ، جنت کے جوانوں کے سردار ، جن کے نام نامی اسم گرامی سے آجائے ہم اہل سنت و جماعت کو قرار ، حق کے امام عالی مقام ، صبر و صداقت کے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو چنا ۔ مختصر یہ ہے کہ دین حق اسلام کو، بلکہ زندگی اور موت کے چناو کے درمیان حق کو زندگی دینے کے لیے اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی ، ہمارے ایمان کی جان ، مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو چنا ۔

دنیا جانتی ہے کہ قرآن مجید کا نزول امام حسین کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر ہوا ، حضرت جبرئیل علیہ السلام کی وحی الہی کے ساتھ آمد و رفت امام حسین کے نانا کے گھر ہوتی تھی ۔ اس لیے امام حسین نے حق کو بخوبی سمجھ لیا تھا ۔ کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں امام حسین اسی حق کا علم لیکر کھڑے تھے اور یزید اسی حق کے خلاف ظالمانہ رول ادا کرنے کے لیے بے تاب کھڑا تھا ۔ یزید کے پاس طاقتور فوج کا بڑا لشکر تھا جبکہ امام حسین اپنے اہل بیت اور چند اسلام کے جان باز سپاہیوں کے ساتھ کھڑے تھے ۔یزید جانتا تھا کہ اگر اسے اسلامی دنیا پر حکومت کرنی ہے تو امام حسین کا ووٹ لینا حتمی قطعی طور پر لازمی ہے کیونکہ امام حسین کے حق و صداقت پر دنیائے اسلام کے سچے مسلمانوں کو اتنا یقین تھا کہ اگر امام حسین یزید کی بیعت کر لیتے ، یعنی آج کی زبان میں اس طور پر سمجھیں کہ اگر امام حسین یزید کو حکومت کرنے کے لیے ووٹ دیے دیتے تو دنیائے اسلام کے تمام مسلمان یزید کی اتباع کرنے پر مجبور ہو جاتے ۔ اور جب ایسا ہوتا تو پھر حق کی موت ہو جاتی ، اور جب حق کی موت ہوتی تو ، اسلام کی موت یقینا ہو جاتی ۔یزید ظلم و ناانصافی کا معاون تھا ، یزید مکرو فریب ، جھوٹ و دغا بازی ، عیاشی و بے راہ روی کا مرکب تھا، یزید کا مقصد دنیائے اسلام پر حکومت کو اپنے قبضے میں لیکر عیاشی کی زندگی گزارنا تھا ، چاہے اس کے لیے اسے حق کا خون کرنا پڑے ، چاہے اس کے لیے اسے اسلام کا خون کرنا پڑے ۔

امام عالی مقام امام حسین یہ بات سمجھ چکے تھے کہ یزید حق کو مٹانا چاہتا ہے ، یزید صداقت کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے ، یزید عدل و انصاف کا خون بہانا چاہتا ہے ، امام حسین جان چکے تھے کہ یزید میرے نانا اور مومنین کے ایمان کی جان مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو مٹانا چاہتا ہے ، مختصر یہ کہ یزید اسلام کا خون بہانا چاہتا ہے ۔امام حسین نے تمام صورتحال کا پہلے سے ہی بخوبی جائزہ لے لیا تھا۔ امام حسین نے سمجھ لیا تھا کہ یزید حق کا خون بہانے کی کوشش رہا ہے ، اسلام پر قاتلانہ حملہ کرنے کی راہ میں جٹا ہوا ہے ۔امام حسین چاہتے تھے کہ حق کا خون نہ بہایا جائے ، اسلام کا خون نہ بہایا جائے ، لیکن کربلا کے میدان میں اب وہ کیا کریں اور کیسے ظالم یزید کو حق پر حملہ کرنے سے ، اسلام پر حملہ کرنے سے روکے ۔ امام حسین جانتے تھے دنیا بھر کے مومنین کو ان پر اعتبار ہے ، ان کی صداقت کی گواہی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مسلمان دیتے تھے ، امام حسین جانتے تھے کہ اگر انہوں نے یزید کی بیعت کر لی ، اگر یزید کو ووٹ دے دیا تو دنیائے اسلام کے مومنین بھی یزید کو ووٹ دے دیں گے ، اور جب یزید کو ووٹ دے دیں گے تو حق کا خون بہہ جائے گا ، اسلام کا خون بہہ جائے گا ۔ امام حسین جانتے تھے کہ اگر انہوں نے یزید کو ووٹ نہ دیا تو دنیائے اسلام کے مومنین بھی یزید کو ووٹ نہیں دیں گے اور اس طرح پھر حق کا خون نہیں بہے گا ، اسلام کا خون نہیں بہے گا ، بلکہ اسلام کو ایک نئی زندگی مل جائے گی ۔

یزید بہت مکار تھا ۔اس نے اپنے فوج کے ذریعہ امام عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ کے ووٹ کو حاصل کرنے کے لیے انہیں خوب مجبور کیا ۔ یزید جانتا تھا کہ امام حسین آسانی سے سر کٹوا دیں گے لیکن ووٹ نہیں دیں گے، بیعت نہیں لیں گے ۔اس لیے یزید پہلے امام حسین کے اہل بیت ، امام حسین کی اولاد ، علی اکبر کی زندگی ، علی اصغر کی زندگی ، امام حسین کے جاں نثاروں کی زندگی چھین لینے کی دھمکی دیتا رہا ، یزید امام حسین کو ہر طرح سے ڈرانے کی خوب کوششیں کرتا رہا ، مگر امام حسین کے سامنے حق و صدات کی زندگی کا سوال تھا ، امام حسین کے سامنے اسلام کی زندگی کا معاملہ تھا ، امام حسین نے عزم مصمم کر لیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے حق کی حفاظت کرنی ہے ، اسلام کی حفاظت کرنی ہے ۔یزید نے پہلے امام عالی مقام حسین کے اہل و عیال ، امام حسین کے چھوٹے بچوں ، علی اصغر اور علی اکبر ، امام حسین کے جاں نثار ساتھیوں کو خوب تڑپا تڑپا کر ، خوب اذیتیں دے دے کر شہید کر ڈالا ، لیکن امام عالی مقام امام حسین نے صبر کی وہ مثال پیش کی کہ امام حسین کا صبر اسلامی تاریخ میں صبر کی سب سے عمدہ مثال بن گیا ۔ کربلا کے میدان میں امام حسین اپنے عزیزوں ، اپنے اقارب ، اپنے جگر کے ٹکڑوں ، اپنے جاں نثاروں کو یکے بعد دیگرے تکلیفوں اور اذیتوں کے ساتھ شہید ہوتا دیکھتے رہے ، مگر حق کو زندہ بچانے کے لیے صبر کی جس تلوار کو تھام رکھا تھا اسے زمین پر گرنے نہ دیا ، اسے یزید کے سامنے جھکنے نہ دیا ۔ پھر آخر میں ظالم و عیاش جہنمی گمراہ یزید کی فوج کے سامنے امام حسین نے اپنی شہادت پیش کر دی تاکہ حق زندہ رہے ، تاکہ حق کو موت نہ آجائے ، تاکہ اسلام زندہ رہے ، تاکہ اسلام کو موت نہ آجائے ۔ کربلا کے میدان میں امام حسین نے اپنی جان کے علاوہ اپنے عزیزوں اور قریبوں کی جانوں کو بھی قربان کر دیا تاکہ اسلام زندہ رہے ، تاکہ حق و باطل کی اس جنگ میں حق کو زندگی مل جائے، تاکہ اسلام اپنی حق و صداقت کی خوبیوں کے ساتھ دنیا بھر میں پھلتا پھولتا رہے ۔ جب امام حسین نے اپنی شہادت پیش کردی ، جب امام حسین نے اپنے پیاروں کی شہادت پیش کردی ، تو ظالم کا سر جھک گیا ، عالم اسلام کے مسلمان ظالم یزید کے خلاف ہو گئے ، بلکہ دوسرے لفظوں میں کہیں تو حق کی فتح ہو گئی اور ظلم کی شکست ہو گئی ۔ اسلام حق ہے اور جب حق کو زندگی ملی تو اسلام کو زندگی ملی۔کربلا کے میدان میں اسلام کو ایک نئی زندگی ملی ۔

شاعر نے تبھی تو کیا خوب کہا ہے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔ اللہ تعالی نے اسلام کو زندگی دینے کے لیے ہمارے امام حسین کو واسطہ بنایا ۔ اسلام کو زندگی دینے کے لیے اللہ تعالی نے ہمارے امام حسین کو ایک وسیلہ بنایا ، ایک ایسا وسیلہ جس نے پوری دنیا کو ایک پیغام دے دیا کہ کبھی باطل کے آگے سر نہ جھکانا ، حق و باطل کی جنگ میں حق کو زندہ رکھنے کے لیے اگر تمہیں اپنی جانوں کی شہادت پیش کرنی پڑ جائے تو ہرگز نہ ہچکچانا۔

کربلا کے واقعہ نے یہ درس دیا کہ چاہے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑ جائے لیکن کبھی ظلم و ستم کا ساتھ ہرگز نہ دینا ۔ کربلا کے واقعہ نے یہ پیغام دیا کہ ہمیشہ حق کی حفاظت کرنا ، کیونکہ دین اسلام حق ہے ، اور اس حق کے خلاف جنگ لڑنے والی شیطانی یزیدی طاقتیں اگرچہ بہت بڑی تعداد میں ہو ں ، پھر بھی کبھی حق کا ساتھ نہ چھوڑنا ۔

یزید کیا تھا ایک انسانی ڈھانچہ۔انسانی ڈھانچہ سے کسے کیا پرابلم ہو سکتی تھی ۔پرابلم اس وقت ہوئی جب اس یزید، اس انسانی ڈھانچہ کے اندر عیاشی آ گئی ، جب انسانی ڈھانچہ کے اندر مکرو فریب آ گیا ، جب اس یزید کے اندر ناانصافی آ گئی ، جب اس یزید کے اندر ظلم و ستم کی عادت آ گئی ، جب وہ خواہشات نفس کا شکار ہوا تو یزید ایسا ظالم بنا کہ اس نے ظلم کی تاریخ میں ایک مثال قائم کر دی ۔

یزید برائیوں کا مجموعہ بن گیا تھا حتی کہ وہ اسلام کے نام پر مسلم دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھنے لگا، لیکن اسے معلوم تھا مسلمانوں پر پورا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امام حسین کا ووٹ چاہیے ، اس لیے اس نے دھوکہ سے امام حسین کو کوفہ بلایا ۔ امام حسین حق و صدات ، عدل و انصاف اور کامل ایمان و اسلام کی پہچان تھے ۔اگر وہ یزید کی بات مان لیتے تو عدل و انصاف کا خون بہہ جاتا ، اسلام کا خون بہہ جاتا ۔انہوں نے اپنی جان کی قربانی پیش کر دی ، اپنے عزیزوں کی قربانی پیش کر دی ، اپنے رشتہ داروں اور اپنے جاں نثاروں کی قربانی پیش کردی مگر اسلام کو بچا لیا ۔ حق و باطل کی زندگی اور موت کے درمیان معرکہ چل رہا تھا ، اسلام اور باطل کے درمیان معرکہ چل رہا تھا ، اسلام اور ظالم کے درمیان معرکہ چل رہا تھا ، تو امام عالی مقام امام حسین نے حق کو بچا لیا ، اسلام کو بچا لیا اور اس طرح وہ اسلام کے بطل عظیم بن گئے، اسلام کے شہید اعظم بن گئے ، اور اس طرح جنت کے سردار ہمارے امام حسین دنیائے اسلام کے سب سے بڑے ہیرو بن گئے ۔

امام حسین حق و صداقت اور اچھائی کی علامت بن گئے ۔پھر جس شخص کے اندر حق و صداقت موجود ہے ، جس کے اندر عدل و انصاف موجود ہے ، جس کے اندر کامل ایمان و اسلام موجود ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر حسینیت موجود ہے ۔یزید جھوٹ ، ظلم ، مکروفریب ، دھوکہ و بغاوت اور منافقانہ رویہ کی علامت تھا ۔اس لیے جس شخص کے اندر دھوکہ، منافقانہ رویہ ، جھوٹ ، بے ایمانی اور فرائض و واجبات سے بے عملی ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر یزیدیت موجود ہے ۔

 آج ہم مسلمان ہر یوم عاشورہ کو ذکر امام حسین کرتے ہیں ، شہادت امام حسین کو یاد کرتے ہیں ، مگر جب عوام پر نظر کرتے ہیں تو انہیں روڈ پر ڈھول لاٹھی میں مصروف دیکھتے ہیں ۔چند ایسے ہیں جو دن بھر چیخنے چلانے ، کود پھان کرنے ، فرائض و واجبات سے غافل ہو کر تعزیہ داری میں بہت بڑے بڑے ڈھول کے ساتھ نکلتے ہیں اور اپنی ہوائے نفس سے یہ سمجھتے ہیں کہ شہادت امام حسین کی یاد کا یہی بہترین طریقہ ہے ۔اللہ تعالی تمام مسلمانوں پر فضل ورحم فرمائے اور عقل سلیم عطا فرمائے ۔

ہم یوم عاشورہ کے دن ہونے والی عظیم شہادت کے اہم درس پر نظر نہیں کرتے ہیں کہ آج ہم سب مسلمان کو ، بالخصوص مسلم نوجوانوں کو اپنے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے اندر یزیدیت ہے یا حسینیت ۔اگر ہم حق کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم حسینیت کے مطابق اپنی زندگی گزارتے ہیں اور اگر باطل اور ظلم و ستم کی اتباع کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم یزیدیت کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں ۔

ہمیں امام حسین کی شہادت کے اہم درس کو سمجھنا ہوگا ۔کربلا کے میدان میں ہونے والی جانوں کی قربانیاں اور عظیم شہادتیں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ ہم کبھی یزیدی باطل قوتوں کے سامنے نہ جھکیں اور ہمیشہ حق و صداقت ، عدل و انصاف اور سچائی کی آواز کا ہمیشہ ساتھ دیتے رہیں ۔ حق و صداقت کی فتح و کامیابی کے لیے اگر ہمیں کبھی صبر و استقامت سے کام لینا پڑے تو اس وقت صبر امام حسین رضی اللہ عنہ کو یاد کر لینا ۔عدل و انصاف کی حفاظت اور حق کی بقا کے لیے اگر تمہیں اپنی قربانی بھی پیش کرنی پڑ جائے تو پیچھے نہ ہٹنا ۔ یہ کربلا میں ہونے والی شہادتوں کا ایک درس ہے ۔

کربلا کے میدان پر ہونے والی اس عظیم شہادت کو یاد کیا جائے تو ایک بات یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن ہمارا نفس ہے جو ہمیں عیاشی ، ظلم ، جھوٹ ، مکر ، فریب اور ہر طرح کی ناانصافی ، بے ایمانی ، گمراہی اور بے ایمانی پر ابھارتا ہے ، لیکن جب قرآن و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھام لیں تو پھر ان نفسانی برائیوں سے لڑنے اور ان پر فتح پانے کا طریقہ معلوم ہو جاتا ہے ۔ یزید ان نفسانی برائیوں کا شکار ہو گیا تھا اور امام حسین نے اپنے نانا کے گھر میں نازل ہونے والی اللہ کی کتاب قرآن مجید کو خوب سمجھ لیا تھا اور اس پر پوری طرح سے عمل پیرا تھے ،اس لیے وہ ان نفسانی برائیوں کے خلاف زندگی میں ہمیشہ فتح و کامیابی پاتے رہے اور جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا سامنا ان برائیوں کی علامت یزید سے ہوا تو اس وقت بھی امام حسین نے عظیم فتح پائی مگر یہ فتح ایسی تھی کہ اس میں ان کو اپنی شہادت اور اپنے پیاروں کی جان کی قربانیاں پیش کرنی پڑی ۔

ہم اپنے نوجوانوں سے بالخصوص اور عام مسلمانوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ روڈ پر ڈوبلیکیٹ کربلا بنا کر زیادہ کھیل کود اور تماشہ نہ بنایا کریں بلکہ کربلا کے واقعہ کو یاد کرکے اپنا محاسبہ کریں کہ ہمارا عمل یزیدی ہے یا حسینی ہے ۔کیا ہم حرام سے دور رہنے والے حسینی ہیں یا حرام کا ارتکاب کرنے والی یزیدی ۔کیا ہم ایمان و اسلام کی تعلیمات پر قائم رہ کر حسینی کردار پیش کر رہے ہیں یا ان کی خلاف ورزی کرکے یزیدی کردار پیش کر رہے ہیں ، کیا ہم صبر و استقامت کا مظاہرہ کرکے حسینی کردار پیش کر رہے ہیں یا عیاشی ، گمراہی اور فرائض وواجبات پر بے عملی کا مظاہرہ کرکے یزیدی کردار پیش کر رہے ہیں ۔ان تمام باتوں پر ہمیں خوب غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی دنیاوی زندگی میں حسینی کردار پیش کرکے امام حسین کے غلام بنے رہیں اور جنت میں امام حسین ہمارے سردار ہو ں ۔

آج ہمیں اپنی زندگی میں امام حسین کو اپنا رول ماڈل مان کر حسینیت کو فروغ دینا ہوگا نہ کہ یزیدیت کو فروغ دینے والے لوگوں کو ۔کربلا کے واقعہ پر خوب غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی عملی زندگی میں زندہ اسلام کو زندہ رکھ سکیں اور پھر اس شعر کو پورے احساس سے کہیں کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔

 آئیے آج سے ہم اپنے اندر ان باتوں کا جائزہ لیں اور جانیں کہ ہمارے اندر حسینی کردار ہے یا یزیدی کردار ۔ اگر ہمارے اندر یزیدی کردار ہے تو فورا ہمیں توبہ کرنا چاہیے اور حسینی کردار پیش کرنا فورا شروع کر دینا چاہیے ۔یقینا اللہ تعالی معاف فرمانے والا اور توبہ قبول فرمانے والا ہے ۔اور اگر ہمارے اندر حسینی کردار کی ذرہ برابر بھی کوئی جھلک ہے تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی شکر گزار بندوں کو بہت پسند فرماتا ہے ۔

کتبہ :دعا گو غلام غوث صدیقی ، ۹ ہجری ۱۴۴۵ ، بمطابق ۲۸ جولائی ۲۰۲۳

-----------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/martyrdom-imam-hussain-karbala-islam/d/130323

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..