New Age Islam
Sat Feb 28 2026, 04:45 PM

Urdu Section ( 13 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Blessing of Peace and the Protection of Human Life in Islam نعمتِ امن اور حرمتِ جان در اسلام

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

13 فروری،2026

دنیا کی رنگا رنگ نعمتوں میں اگر کسی نعمت کو زندگی کی روح کہا جائے تو وہ “امن” ہے۔ امن وہ خاموش دعا ہے جو ہر دل کی دھڑکن میں بسی ہوتی ہے، وہ سایۂ رحمت ہے جس کے بغیر زندگی کا درخت سوکھ جاتا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو نظر نہیں آتی مگر ہر نعمت کو معنی عطا کرتی ہے۔ اگر ایمان دل کی روشنی ہے تو امن زندگی کی فضا کی تازگی ہے۔ ایمان قلب و روح کو قرار و تسکین فراہم کرتا ہے اور امن جسم و معاشرے کو سکون عطا کرتا ہے۔ اسی لیے اہلِ دانش نے کہا کہ ایمان کے بعد انسان کو جو سب سے بڑی نعمت عطا ہوئی ہے وہ نعمتِ امن ہے۔

امن: زندگی کی بنیاد

ذرا تصور کیجیے ایک ایسی دنیا کا جہاں خوف کے بادل ہر وقت منڈلا رہے ہوں، جہاں دروازے بند ہوں مگر دل کھلے نہ ہوں، جہاں بازار آباد ہوں مگر چہروں پر بے یقینی کے سائے ہوں۔ ایسی دنیا میں نہ عبادت کا لطف باقی رہتا ہے، نہ علم کی روشنی پھیلتی ہے، نہ معاشی خوشحالی جنم لیتی ہے۔ امن دراصل وہ بنیاد ہے جس پر زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے،  جب بنیاد ہی لرز جائے تو عمارت کب تک قائم رہ سکتی ہے؟

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ امن کو بھی اپنی نعمت قرار دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امن محض سماجی ضرورت نہیں بلکہ اللہ  تعالی کی عطا  ہے۔ جب اللہ  رب العزت کسی قوم پر مہربان ہوتا ہے تو اسے رزق بھی دیتا ہے اور امن بھی عطا کرتا ہے۔ کیونکہ رزق جسم کو زندہ رکھتا ہے اور امن زندگی کو خوشگوار بناتا ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام  کی دعاؤں میں امن

تاریخِ انسانیت کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام   کی دعاؤں میں امن ہمیشہ سرفہرست رہا۔ پس یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ امن ہر سچے اور مخلص انسان کی تمنا اور ہر خیر خواہ دل کی دعا بن جاتا ہے۔ اسی لیے جب خلیلُ اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بے آب و گیاہ وادی کو آباد بستی بنتے دیکھا تو ان کی زبان پر سب سے پہلے امن کی دعا جاری ہوئی۔ قرآن اس دعا کو یوں محفوظ کرتا ہے:

﴿رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا﴾ (البقرہ: 126)

ترجمہ: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے۔

یہ الفاظ محض ایک دعا نہیں بلکہ انسانی فطرت کی ترجمانی ہیں، کیونکہ جہاں امن نہ ہو وہاں عبادت کی روح باقی رہتی ہے نہ زندگی کی رونق۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہلِ مکہ کو اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے انہیں جھنجھوڑا کہ وہ اس رب کی بندگی کریں جس نے انہیں بھوک اور خوف دونوں سے نجات دی:

﴿فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ ۝ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ﴾ (قریش: 3–4)

ترجمہ: پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن عطا فرمایا۔

یہ آیات گویا زندگی کا خلاصہ پیش کرتی ہیں کہ رزق جسم کو زندہ رکھتا ہے اور امن زندگی کو با معنی بناتا ہے۔ جب یہ دونوں نعمتیں میسر ہوں تو گویا انسان کو دنیا کی تمام آسائشیں حاصل ہو جاتی ہیں۔

اسی حقیقت کو ایک اور مقام پر نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا:

﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ﴾ (العنکبوت: 67)

ترجمہ: کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس حرم کو امن والا بنایا، جبکہ اس کے گرد و نواح میں لوگ اچک لیے جاتے ہیں؟ کیا یہ باطل پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں؟

یہ آیات اس حقیقت کو روشن کرتی ہیں کہ امن محض ایک سماجی سہولت نہیں بلکہ اللہ کی عظیم نعمت اور دنیا کی سب سے قیمتی دولت ہے۔ جہاں امن ہو وہاں زندگی مسکراتی ہے، تہذیب پروان چڑھتی ہے اور انسانیت سانس لیتی ہے اور جہاں امن چھن جائے وہاں خوشحالی کے چراغ بھی مدھم پڑ جاتے ہیں۔

امن: دنیا سے جنت تک

اسلام نے امن کو صرف دنیا تک محدود نہیں رکھا بلکہ آخرت کی نعمتوں میں بھی اسے شامل کیا۔ جنت کا تصور ہی سلامتی، سکون اور اطمینان سے جڑا ہوا ہے۔ وہاں نہ خوف ہوگا، نہ غم، نہ اندیشہ، نہ اضطراب۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امن انسانی فطرت کی بنیادی خواہش ہے۔انسان جہاں بھی ہو، اسے امن چاہیے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے نہایت جامع اور دل نشیں انداز میں بیان فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:«من أصبح آمناً في سِربه، معافىً في بدنه، عنده قوت يومه فكأنما حيزت له الدنيا بحذافيرها» (رواہ الترمذی والبیہقی)

ترجمہ: جو شخص صبح اس حال میں کرے کہ اپنے گھر میں امن میں ہو، بدن سے تندرست ہو اور اس کے پاس دن بھر کی روزی موجود ہو تو گویا اسے پوری دنیا کی دولت عطا کر دی گئی۔

یہ حدیث زندگی کی حقیقی خوشحالی کا ایسا جامع نقشہ پیش کرتی ہے جس میں دنیا کی ساری آرزوئیں سمٹ آتی ہیں۔ انسان کی خواہشات خواہ کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہوں، مگر جب اسے امن کی چھاؤں، صحت کی نعمت اور روزی کی آسودگی میسر ہو جائے تو گویا اس نے زندگی کا اصل سرمایہ پا لیا۔

اسی لیے کہا گیا کہ امن کا پھیلاؤ محض ایک خواہش نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ انسان کی عبادات، معاشی سرگرمیاں، علمی ترقی، تہذیبی ارتقا اور سماجی خوشحالی ،  سب کا دار و مدار امن پر ہے۔ جب امن ہوتا ہے تو بستیاں آباد ہوتی ہیں، بازار روشن ہوتے ہیں، علم کے چراغ جلتے ہیں اور دلوں میں امید کے پھول کھلتے ہیں، لیکن جب امن اٹھ جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی سکون، خوشحالی اور ترقی بھی رخصت ہو جاتی ہے۔

شریعت اور امن کا رشتہ

زندگی کی بنیادی ضرورت ہی  وہ حکمت ہے جس کے تحت شریعتِ اسلامیہ نے امن کے قیام کو اپنے عظیم مقاصد میں شامل کیا۔ اسلام کے بنیادی مقاصد ، جنہیں مقاصدِ شریعت کہا جاتا ہے ،  دراصل انسانی زندگی کے تحفظ کا مکمل ضابطہ ہیں۔ ان میں پانچ بنیادی چیزوں کی حفاظت کو لازم قرار دیا گیا ہے:

1.       دین کا تحفظ

2.       عقل کا تحفظ

3.       جان کا تحفظ

4.       عزت و آبرو کا تحفظ

5.       مال کا تحفظ

یہ پانچوں ستون دراصل امن کی مضبوط عمارت کے ستون ہیں۔ جب یہ محفوظ ہوں تو معاشرہ سکون کا گہوارہ بنتا ہے، اور جب ان میں سے کوئی ایک بھی متزلزل ہو جائے تو امن کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے امن کو انسانی زندگی کا لازمی اور ناگزیر سرمایہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں امن کو انسانی زندگی کی اساس قرار دیا گیا ہے۔

شریعت اور تحفظِ جان : انسانی حیات کی حرمت

آج کا زمانہ بظاہر ترقی یافتہ ہے مگر دلوں کی ویرانی کا عالم یہ ہے کہ انسانی جان کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ قتل و غارت، دہشت گردی، فرقہ واریت اور نفرت کے شعلے جگہ جگہ بھڑک رہے ہیں۔ انسان چاند پر پہنچ گیا مگر زمین پر امن قائم نہ کر سکا۔

جب ہم اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ شریعت کی روح انسانی جان کے تحفظ سے سرشار ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے زمانے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ خونِ ناحق کی حرمت کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جو دینِ اسلام نے اسے عطا کی تھی۔ انسانی جان، جو اللہ کی سب سے قیمتی امانت ہے، آج معمولی اختلافات، تعصبات اور نفرتوں کی نذر ہو رہی ہے۔ حالانکہ اسلام نے جان کے تحفظ کو عظیم ترین ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے، خواہ وہ جان کسی مسلمان کی ہو یا کسی غیر مسلم کی۔

رسولِ اکرم ﷺ نے اس خطرناک رجحان سے صدیوں پہلے آگاہ کرتے ہوئے اسے قیامت کی نشانیوں میں شمار فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيَنْقُصُ العَمَلُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَتَظْهَرُ الفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الهَرْجُ»

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! ہرَج کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «الْقَتْلُ، الْقَتْلُ»(متفق علیہ)

یہ حدیث ہمارے زمانے کا آئینہ معلوم ہوتی ہے جہاں فتنوں کی کثرت اور قتل و غارت کی زیادتی ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔

اسلام نے صرف قتل ہی کو جرم قرار نہیں دیا بلکہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرنا بھی ممنوع ٹھہرایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا» (رواہ احمد والترمذی)

ترجمہ: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو ڈرائے۔

سوچیے! جس دین میں خوفزدہ کرنا بھی منع ہو، وہاں قتل جیسے ہولناک جرم کی قباحت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ہتھیار اٹھانے کو سختی سے منع فرمایا: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا»

ترجمہ: جو ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔

یہ اعلان دراصل معاشرے کو تشدد سے پاک رکھنے کی ایک عظیم کوشش ہے۔

مزید فرمایا: (سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ) ترجمہ: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر کے قریب ہے۔

یہ الفاظ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اسلام انسانی جان اور عزت دونوں کا محافظ ہے۔

یہاں تک کہ مذاق میں بھی کسی پر ہتھیار تاننا منع کر دیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ) (متفق علیہ)

اور صحیح مسلم میں ہے: (مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَدَعَهَا، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت اس قدر شدید ہے کہ اس میں مذاق اور سنجیدگی دونوں برابر ہیں، کیونکہ کسی کو خوفزدہ کرنا ہر حال میں حرام ہے۔ جب صرف ڈرانا اتنا بڑا جرم ہے تو قتل جیسا عظیم گناہ کس قدر سنگین ہوگا ،  اس کا اندازہ ہر صاحبِ دل خود کر سکتا ہے۔

انسانی جان کے قتل کی سزا

انسانی جان کی حرمت اسلام میں اس قدر عظیم ہے کہ ناحق قتل کو بدترین گناہوں اور ہلاکت خیز جرائم میں شمار کیا گیا ہے۔ ایک لمحے کی سفاکی انسان کو ایسی کھائی میں گرا دیتی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔ قرآنِ کریم اس جرم کی سنگینی کو نہایت سخت الفاظ میں بیان کرتا ہے:

﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾ (النساء: 93)

ترجمہ: اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضبناک ہوگا، اس پر لعنت فرمائے گا اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

یہ آیت انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے کہ قتل محض ایک جرم نہیں بلکہ ایسی ہلاکت ہے جو انسان کو دنیا و آخرت کی تباہی میں دھکیل دیتی ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے بھی قتل کو سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں شمار فرمایا اور ارشاد فرمایا: «لَنْ يَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا» (رواہ البخاری)

ترجمہ: مومن اپنے دین میں وسعت اور امید میں رہتا ہے جب تک کہ وہ ناحق خون نہ بہائے۔

یعنی انسان سے دوسرے گناہ سرزد ہوں تو توبہ کے دروازے کھلے رہتے ہیں، مگر ناحق قتل ایسا گناہ ہے جو انسان کی نجات کے راستے تنگ کر دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ناحق خون بہانا ایسی مصیبت ہے جس میں پڑنے والے کے لیے نکلنے کا راستہ نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔

ایک لرزہ خیز منظر حدیث میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو پکڑ کر اللہ کے حضور پیش کرے گا اور کہے گا: اے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا  اور پھر قاتل کو عذاب کی طرف لے جایا جائے گا۔ یہ منظر انسان کے دل کو دہلا دیتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ ظلم کا کوئی عمل بے حساب نہیں رہتا۔

انسانی جان کی حرمت  صرف مسلمان کے لیے نہیں بلکہ  غیر مسلم  کا قتل بھی گناہ ہے

اسلام نے جان کے احترام کو صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر اس انسان کی جان کو محترم قرار دیا جو امن کے ساتھ معاشرے میں رہتا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا» (رواہ البخاری)

ترجمہ: جس نے کسی معاہد (غیر مسلم شہری) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔

مزید فرمایا: «مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

ترجمہ: جو کسی کو امان دے کر قتل کرے گا، قیامت کے دن اسے غداری کا جھنڈا دیا جائے گا۔

یہ تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں انسانی جان کی حرمت عالمگیر اصول ہے۔

قتل میں جبر کا عذر بھی قبول نہیں

اسلام نے انسانی جان کی عظمت کو اس حد تک بلند کیا کہ اگر کسی کو مجبور کیا جائے کہ وہ کسی کو قتل کرے ورنہ خود قتل ہو جائے گا، تب بھی اسے قتل کی اجازت نہیں۔ جمہور فقہائے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ انسان اپنی جان بچانے کے لیے کسی دوسرے کی جان نہیں لے سکتا۔ اگر وہ ایسا کرے تو قاتل بھی مجرم ہوگا اور مجبور کرنے والا بھی۔

یہ اصول انسانی وقار کی بلند ترین مثال ہے، جو یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کی حرمت ہر حال میں مقدم ہے۔

یہ حقیقت ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ کبھی بھی انسانی جان کی حرمت کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ ایک مومن کی پہچان یہی ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسروں کو امان حاصل ہو، وہ خونِ ناحق سے اپنے دامن کو محفوظ رکھے اور معاشرے میں امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ دراصل امن صرف قوانین اور سزاؤں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ دلوں کی اصلاح، باہمی محبت اور برداشت سے جنم لیتا ہے؛ جب دلوں میں اخوت ہوگی، زبانوں میں نرمی ہوگی اور ہاتھ ظلم سے رک جائیں گے تو معاشرہ خود بخود سکون اور سلامتی کا گہوارہ بن جائے گا۔ اسی طرح امن کے بغیر ترقی محض ایک خواب ہے، کیونکہ امن ہی وہ بنیاد ہے جس پر علم فروغ پاتا ہے، تجارت بڑھتی ہے، تہذیبیں پروان چڑھتی ہیں اور انسان حقیقی خوشی محسوس کرتا ہے۔

اسلام نے امن کو ایمان کے بعد ایک عظیم نعمت قرار دیا اور انسانی جان کے تحفظ کو شریعت کے بنیادی مقاصد میں شامل کیا ہے، اس لیے قتل و خونریزی، دہشت گردی اور خوف پھیلانا اسلام کی روح کے سراسر منافی ہیں۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں گے، انسانیت کی حرمت کا پاس رکھیں گے اور اپنے دلوں میں امن کا چراغ روشن رکھیں گے۔ جب ہر فرد امن کا محافظ بن جائے گا تو یہی زمین جنت کا عکس بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں امن کی قدر کرنے والا اور انسانیت کا سچا پاسبان بنائے۔ آمین۔

غلام غوث صدیقی اسلامک اسکالر ، متخصص فی العلوم الشرعیہ والنقلیہ والادبیہ اور نیو ایج اسلام کے متعدد زبانوں ، عربی ، انگریزی ، اور اردو کے مستقل کالم نگار و مترجم  ہیں ۔

-------------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/blessing-peace-protection-human-islam/d/138837

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..