New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:35 AM

Urdu Section ( 27 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

That the Muslim World Should Learn From Indian Muslims Is True, but ... ورلڈ مسلم کونسل کا یہ تبصرہ کہ عالم اسلام کو ہندوستانی مسلمانوں سے سبق سیکھنا چاہیے، درست ہے لیکن ہندوستانی مسلمانوں کو کئی شعبوں میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے

غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام

 21 مئی 2022

 پرامن بقائے باہمی اور صبر کو فروغ دینے کے معاملے میں ہندوستانی اسلام کا ماڈل "دنیا بھر میں بہت سی مسلم کمیونٹیز کے لیے ایک اچھی مثال بن سکتا ہے"

 اہم نکات

1.      ابوظہبی میں قائم مسلم کونسل نے ہندوستانی اسلام پر ایک کتاب شائع کی ہے، جس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے

2.      کیوں ہندوستانی مسلمان دوسرے مسلمانوں کے لیے ایک اچھی مثال ہیں اور کیوں وہ دنیا بھر کے دیگر مسلمانوں کے مقابلے میں "جہادی" جماعتوں میں شامل ہونے سے زیادہ محفوظ ہیں۔

3.      ہندوستانی مسلمانوں کو اب بھی مذہبی سوچ، انسانی اخلاقیات اور مذہبی روحانی ترقی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، اور ایک معاندانہ سیاسی ماحول میں صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

4.      انہیں نفرت، عداوت اور بداخلاقی جیسی برائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سماجی سطح پر  عمدہ معاملات و  اخلاقیات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

 -----

 متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ورلڈ مسلم کمیونٹی کونسل (ٹی ڈبلیو ایم سی سی) کا خیال ہے کہ ہندوستانی اسلام کا ماڈل "دنیا بھر میں بہت سی مسلم کمیونٹیز کے لیے ایک اچھا نمونہ بن سکتا ہے" اور یہ کہ 'دنیا کو ہندوستان سے سبق سیکھنا چاہیے'۔ ورلڈ مسلم کونسل  کی بات سے متفق ہوں۔ چونکہ انتہاپسند جہادی تنظیموں  نے دنیا بھر میں، خاص طور پر 9/11 کے حملوں کے بعد سے عرب ممالک میں انتہاپسندانہ  نظریات کی بنیاد پر مسلمانوں کا بے دردی سے قتل عام کیا ،  مگر اس کے برعکس  ہندوستانی مسلمانوں نے  انتہا پسندی، تشدد اور نام نہاد جہادی نظریات  کو مسترد کیا ۔ لہٰذا، ابوظہبی  کی کونسل، جو غیر مسلم اکثریتی ممالک میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمہان  ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے، اس نے "Theology, Jurisprudence, and Syncretic Traditions: Indianisation of Islam" کے نام سے ہندوستانی اسلام پر ایک کتاب شائع کی ہے، جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

 "جہادی فرقہ" گزشتہ ایک دہائی سے اسلام کی روحانیت پر حملہ کرنے والا سب سے نمایاں گروہ رہا ہے۔ جہادیوں نے نہ صرف اسلام کے خلاف علم بغاوت بلند کی  بلکہ اپنے ہی ملکوں کے امن و استحکام کو بھی تباہ و برباد کیا۔ لہٰذا، نہ تو انہیں فرمانبردار 'مسلمان' مانا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں اپنے ہی ملک میں اچھا شہری مانا جاتا ہے۔ یہ صورت حال زیادہ تر قرآن و سنت کی تعلیمات کی صحیح  معرفت  کی کمی کی وجہ سے ہے۔ ان کی اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات  کی روشنی اور  عصر حاضر کی ضروریات کے مطابق  ان کی اصلاح کی جائے ۔ لہٰذا، ورلڈ مسلم کونسل کی شائع کردہ کتاب دنیا بھر کے باقی مسلمانوں کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کی عملی مثال پیش کرتی ہے۔

دی انڈین ایکسپریس سے وابستہ ایک سرکردہ کالم نگار، تولین سنگھ نے بھی تقریباً آٹھ ماہ قبل اپنے ایک کالم میں لکھا تھا، ’’قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے جدید دنیا میں اپنا بہتر کردار پیش کیا ہے، اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ بقائے باہم کے معاملے میں دنیا کے دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہترین مثال پیش کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ  ہندوستان کے مسلمان جس  اسلام کو مانتے ہیں اس میں کچھ تو  کمال کی بات  ہے۔

 اب اگر ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہندوستانی مسلمان دوسرے مسلمانوں کے لیے ایک اچھی مثال کیوں ہیں اور وہ "جہادی" جماعتوں میں شامل ہونے سے دنیا بھر کے دیگر مسلمانوں کے مقابلے میں کیوں زیادہ محفوظ ہیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس کی بنیادی وجہ ہندوستان کا آئین ہے۔ یہ ہندوستانی آئین ہے جو مسلمانوں کو دنیا کے کسی بھی دوسرے سیکولر ملک سے زیادہ آزادی فراہم کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی خوبصورتی ہی ہے جو لوگوں کو "جہادیت" کی گرفت سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہندوستان کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں، ان کے ایمان، ان کی جان، ان کی جائیداد، ان کی عزت اور ان کی مذہبی شناخت کی حفاظت  کا وعدہ کرتا ہے۔ مزید برآں، موجودہ ناموافق سیاسی ماحول میں، ہندوستانی مسلمانوں نے صبر و تحمل کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ ان کے صبر نے ہندوستان میں حالیہ اسلامو فوبک ایجنڈے کو بڑی حد تک ناکام بنایا ہے۔

 ’’کیا برصغیر پاک و ہند میں القاعدہ کو ہندوستان میں حمایت ملے گی؟‘‘ کے عنوان سے جناب شفیع محمد مصطفیٰ نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں انہوں نے جہادیوں اور القاعدہ کی ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکامی کی کچھ وجوہات بیان کی ہیں۔ ان کے مضمون میں جن وجوہات پر روشنی ڈالی گئی ہے وہ درج ذیل ہیں:

 اس حقیقت کے باوجود کہ مسلمان ہندوستان میں ایک اقلیت ہیں، وہ معاشرے میں اچھی طرح سے جڑے ہوئے ہیں کیونکہ وہ وہاں ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے آباد ہیں۔ وہ دوسرے لوگوں سے اتنے الگ تھلگ نہیں جتنے یورپی ممالک میں ہیں۔

 اگرچہ ہندو قوم پرستی کے ظہور نے ہندوستان کے جمہوری، سماجی، ثقافتی اور سیاسی تانے بانے کو بہت زیادہ مخدوش کیا ہے، لیکن ہندوستان جنوبی ایشیائی علاقے کے لیے روشنی کا مینار رہا ہے۔ مسلمانوں کے پاس اپنے مسائل کے اظہار کے لیے قانونی طریقے ہیں اور انہوں نے انہیں جمہوری طریقے اور اداروں کے ذریعے حل کیا ہے۔

 مسلم افکار  کے اندر تبدیلی پیدا کرنے میں ہندوستانی مسلم کمیونٹی اور ملک کے اسلامی دانشوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں، بشمول بریلویوں، دیوبندیوں، اور سلفیوں اور مسلم پارٹی کے رہنماؤں کے، سبھوں نے پرتشدد انتہا پسندی کی مذمت کی ہے اور اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔

 ہندوستانی تہذیب اب بھی ایک اجتماعی معاشرہ ہے، جس میں خاندان کے بہت سے افراد ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ یہ خاندانی نظام خاندان کے چھوٹے ارکان کو انتہاپسند بننے سے روکنے میں ایک نگران کا کردار ادا کرتا ہے۔ ایک اور ثقافتی عنصر جو ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان اعتدال پسندی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں علیحدگی پسندی کے بجائے ہم آہنگی کے نظریات اور تکثیریت اور شمولیت پسندی کی ایک مضبوط روایت رہی ہے۔ اس کا مسلمانوں پر خاصا اثر ہوا ہے۔

عالمی جغرافیائی سیاست کا بھی اس میں ایک بڑا حصہ رہا ہے۔ اگرچہ 1980 کی دہائی کی افغان جنگ نے جنوبی ایشیا میں انتہاپسندی کو عروج بخشا تھا، لیکن ہندوستان اس خطے کے دیگر ممالک کی طرح متاثر نہیں ہوا کیونکہ اس وقت اس کا تعلق سوویت یونین سے تھا۔ اسے مجاہدین کی واپسی سے نمٹنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس سے ملک میں مستقبل کی انتہا پسندی کو روک دیا گیا۔ مزید برآں، مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ ہندوستان کے اسٹریٹجک تعلقات کی وجہ سے، مسلم نوجوانوں کو تربیت اور نیٹ ورکنگ کے لیے ان ممالک کا سفر کرنا مشکل تھا۔ اس کے نتیجے میں جہادی نیٹ ورک ہندوستان میں قدم جمانے میں ناکام رہا۔

 بھارت نے بھی جہادیوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ مشتبہ شدت پسندوں کی مؤثر نگرانی انٹیلی جنس شراکتوں اور متعدد مرکزی، ریاستی اور غیر ملکی سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان مربوط کارروائی سے ممکن ہو سکی۔ چکرویو سائبر آپریشن کے ذریعے، ہندوستان کئی دہشت گردوں کو اسلامک اسٹیٹ میں شامل ہونے سے روکنے میں کامیاب رہا۔ فعال سائبر نگرانی اور انٹیلی جنس شراکتوں کی بدولت ہندوستان ملک کے اندر دہشت گردی کی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

 سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان جہادی گروپوں میں شامل ہونے والے مسلم نوجوانوں کو کوئی اسٹریٹجک فوائد فراہم نہیں کرتا ہے۔ ہندوستان میں مسلمان نہ تو اکثریت میں ہیں، جیسا کہ وہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہیں، اور نہ ہی ایک چھوٹی اقلیت، جیسا کہ وہ یورپ میں ہیں۔ ایک طرف، ہندوستانی مسلم معاشرے میں انتہا پسندانہ نظریات خوش آئند نہیں ہیں کیونکہ ہندوستان میں مسلمان ایک اسلامی ریاست کی تعمیر یا تشدد کے ذریعے آبادی کے ایک بڑے حصے کو راغب کرنے سے قاصر ہیں۔ نتیجتاً، حکمت عملی سے تشدد کا استعمال ہندوستان میں کوئی معنی نہیں رکھتا۔ دوسری طرف، مسلم نوجوانوں کو جب ہندوستانی جمہوری نظام کے اندر اپنی آواز اٹھانے کا موقع ملتا ہے تو لڑنے اور مرنے کے لیے بیرون ملک کا سفر کرنا ان کے لیے بے سود ہے۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے، جہادیت ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک مہنگا متبادل بن گیا ہے۔ [ڈپلومیٹ ویب سائٹ]

 دی نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق کتاب "Theology, Jurisprudence, and Syncretic Traditions: Indianisation of Islam" میں وینکوور کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے ڈاکٹر سیباسٹین آر پرانج، آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر معین احمد نظامی، اور حیدرآباد کی NALSAR یونیورسٹی آف لاء کے ڈاکٹر فیضان مصطفی کی تحریریں شامل ہیں۔

پرینج نے مون سون کی ہواؤں کے بعد عرب تاجروں کے ذریعے جنوبی ایشیا میں پھیلنے والے اسلام کی خصوصیات کو نمایاں کرنے کے لیے "مون سون اسلام" کی اصطلاح ایجاد کی ہے۔ انہوں  نے یہ اصطلاح اسلام اور مذہب کے تنوعات کو ظاہر کرنے کے لیے ایجاد کی ہے۔ ہندوستان میں اسلام کو فروغ دینے والے عام تاجر نہ تو ریاستی عہدیدار تھے اور نہ ہی مذہبی رہنما۔ مسلمان خطوں سے باہر، مقامی ثقافت کو اختیار کرتے ہوئے اور مذہب کی بنیاد کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام نے ترقی کی راہیں طے کی ہیں۔ پرانج کے مطابق مالابار کے ساحلی علاقوں میں واقع مساجد ہندو اور مسلم فن تعمیر کی ہم آہنگی کی زندہ مثالیں ہیں۔

 کتاب میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں، ڈاکٹر مصطفیٰ نے بتایا ہے کہ کس طرح مسلم حکمرانوں نے مندروں کو گرانٹ دے کر، گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگا کر، اور ہندوؤں کو کلیدی عہدوں پر رکھ کر ثقافتی قدروں کی حوصلہ افزائی کی۔ ایک تاریخی دستاویز "چچ نامہ" کے مطابق، مسلمانوں نے ہندوؤں، عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ "اہل کتاب" جیسا سلوک کیا۔ عرب کاری کو روکنے کے لیے اسلام کو مقامی بنائیں: مسلم کونسل]

 ہندوستانی اسلام کا ماڈل "دنیا بھر میں بہت سی مسلم کمیونٹیز کے لیے ایک اچھی مثال بن سکتا ہے۔ یہ جان کر آپ خوش ہو  سکتے  ہیں  تاہم، ہمیں تعریفوں سے اتنا زیادہ متاثر نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اس حقیقت کو ہی فراموش کر بیٹھیں کہ ہمیں اب بھی اپنی مذہبی سوچ، انسانی اخلاقیات اور مذہبی روحانی ترقی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، اور معاندانہ سیاسی ماحول میں صبر و استقامت کی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، ہم ہندوستانی مسلمانوں کو نفرت، عداوت اور بداخلاقی کی برائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سماجی محبت، دوستی اور اخلاقیات کا راستہ اختیار کرتے رہنا چاہیے۔

 English Article: The World Muslim Council's Remark That the Muslim World Should Learn From Indian Muslims Is True, but Indian Muslims Need To Improve Further In Several Respects

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/muslim-council-indian-peaceful-coexistence-patience/d/127108

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..