New Age Islam
Sat Apr 04 2026, 07:18 PM

Urdu Section ( 22 Oct 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Social Justice and the Eradication of Oppression: The Key to Prosperity in Any Country معاشرتی انصاف اور ظلم کا خاتمہ: خوشحالی کی کنجی

غلام غوث صدیقی

ظلم کی حقیقت، اقسام اور نتائج: صبر، دعا اور عدل کا سبق

22 اکتوبر،2025

تمام حمد و ثنا اُس ذاتِ باریِ تعالیٰ کے لیے ہے، جس نے کتابِ ہدایت نازل فرمائی، اور میزانِ عدل قائم کی، تاکہ زمین پر کوئی ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرے۔ درود و سلام ہو اُس برگزیدہ نبیِ مکرم ﷺ پر جنہیں ربّ کائنات نے رحمۃً للعالمین بنا کر مبعوث  فرمایا، اُن کی آل اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین  پر۔ اما بعد!

آج جب میں موجودہ دور کے حالات پر نگاہ ڈالتا ہوں تو ایک عجیب سا کرب دل کے نہاں خانوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ظلم کا سیاہ سایہ انسانیت کے افق پر دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ظلم اب صرف تلواروں اور توپوں کی گھن گرج میں محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے دلوں، زبانوں اور قلموں تک میں اپنی جڑیں پھیلا لی ہیں۔ گھروں کے سکون پر بے حسی کے بادل چھا چکے ہیں، گلیوں کے شور میں کمزوروں کی سسکیاں دب گئی ہیں، بازاروں کے ناپ تول میں دیانت کی روح دم توڑ چکی ہے، اور دفاتر کے فیصلوں میں انصاف کا ترازو محض ایک رسمی علامت بن کر رہ گیا ہے۔

رہی سہی کسر میڈیا اور سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے، جہاں الفاظ اب تلواروں سے زیادہ کاٹ دار ہیں، تصویریں منافقت کے پردوں میں مسکراہٹوں کا نقاب اوڑھے بیٹھی ہیں، اور لہجوں میں ایسی تلخی در آئی ہے کہ محبت کی خوشبو تک بوجھل محسوس ہونے لگی ہے۔ الفاظ دلوں کو جوڑنے کے بجائے جلا دینے لگے ہیں، زبانیں مرہم بننے کے بجائے زخم بن چکی ہیں، اور کرداروں کے چہروں سے انصاف کی روشنی گویا غائب ہو گئی ہے۔

یہی منظر میرے دل کی گہرائیوں میں طوفان برپا کر گیا۔ دل نے پکارا: “اے قلم! اٹھ، تُو خاموش کیوں ہے؟” شاید تیری سیاہی کسی سخت دل کو نرمی عطا کر دے، شاید تیرے الفاظ کسی مردہ ضمیر میں حیات کی رمق پیدا کر دیں؛ شاید کہ ربِّ جلیل ظلم کے گھپ اندھیروں میں بھٹکنے والوں کو اپنے عدل و نور کی راہ دکھا دے۔ بے شک وہی ذات قادرِ مطلق ہے، جس کے ایک حکم پر پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں، اور جس کے کرم سے بند دل ایمان کی روشنی سے منور ہو اٹھتے ہیں۔

ظلم کا مفہوم

“ظلم” دراصل عدل کی ضد ہے،یعنی کسی چیز کو اُس کے غیر محل پر رکھنا، کسی کا حق چھین لینا، یا اپنی خواہشاتِ نفس کے تابع ہو کر دوسروں یا خود اپنے وجود کو نقصان پہنچانا۔ ظلم صرف ہاتھ یا زبان کا نہیں، بلکہ نیت کا بھی ایک زہر ہے جو دلوں کی شفافیت کو داغدار کر دیتا ہے۔ چاہے یہ قول میں ہو، عمل میں ہو، یا خیال میں، ہر صورت میں یہ انسانیت کے چہرے پر ایک بدنما داغ، اور اخلاقی عظمت کے دامن پر ایک گہرا دھبہ ہے۔

ظلم کا حکم

شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ظلم ایک صریح اور قطعی حرام فعل ہے،جس کی حرمت پر قرآن و سنت کی گواہی کے ساتھ ساتھ دنیا کے ہر منصف مزاج قانون کی مُہر ثبت ہے۔ ظلم نہ صرف بندوں پر زیادتی ہے بلکہ خالق کی میزانِ عدل کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ ایسا جرم ہے جو زمین پر فساد اور لعنت کا سبب بنتا ہے، اور جس سے باز رہنا ایمان کے حسن اور بندگی کے وقار کا تقاضا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ( وَمَنْ يَظْلِمْ مِنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرًا)

ترجمہ: "اور تم میں سے جو کوئی ظلم کرے گا، ہم اسے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔" (الفرقان: ۱۹)

اور فرمایا: (وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ )

ترجمہ: "اور ظالموں کا نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی حمایتی۔" (الشورى: ۸)

حدیثِ قدسی میں حضرت ابوذَررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے، لہٰذا تم آپس میں ظلم نہ کرو۔”

ظلم کی اقسام

ظلم، اپنی حقیقت میں ایک ہی زہر ہے، مگر اس کے اثرات تین مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں ۔ہر صورت انسان کو اپنے رب، اس کی  مخلوق، اور خود اپنی ذات سے دور کر دیتی ہے۔

1. خالق، دین اور رسول ﷺ کے خلاف ظلم:

یہ ظلم دراصل سب سے سنگین اور روح کو ہلا دینے والا جرم ہے، کیونکہ یہ براہِ راست خالقِ کائنات اور اُس کے محبوب ﷺ کی شان میں گستاخی ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ )

“جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا و آخرت میں لعنت فرمائی ہے۔” (الأحزاب: ۵۷)

یہ وہ ظلم ہے جو ایمان کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے، اور انسان کو خالق کی رحمت سے محرومی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔

۲. مخلوق پر ظلم:

یہ وہ ظلم ہے جو انسان اپنی مخلوقِ ہم جنس یا دیگر مخلوقات پر کرتا ہے۔ اس میں انسان، جن، اور حیوان سب شامل ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

“آپس میں حسد نہ کرو، نفرت نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو، اور اللہ کے بندے بن کر بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے ، نہ جھوٹ بولتا ہے، نہ حقیر سمجھتا ہے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔” (صحیح مسلم)

یہ وہ ظلم ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے، اور دلوں سے اخوت و ہمدردی کے چراغ بجھا دیتا ہے۔

3. خود پر ظلم:

سب سے باریک مگر خطرناک ظلم وہ ہے جو انسان اپنے ہی نفس پر کرتا ہے۔ جب وہ اپنی صحت کو زہر اور نشیلی چیزوں  سے برباد کرتا ہے، اپنی روح کو گناہوں میں گم کرتا ہے، یا اپنی طاقت سے بڑھ کر بوجھ اٹھاتا ہے۔

ظلم کی اقسام باعتبارِ عمل

قولی ظلم:

یعنی زبان کے ذریعے کیا جانے والا ظلم ، جیسے گالی گلوچ، بہتان تراشی، غیبت، یا دل آزاری کے وہ الفاظ جو کسی کے وقار اور عزت کو مجروح کر دیں۔

فعلی ظلم:

یعنی عمل کے ذریعے کسی کو تکلیف پہنچانا، مثلاً شور شرابہ کرکے دوسروں کے سکون کو غارت کرنا، گندگی پھیلانا، راستوں میں رکاوٹ ڈالنا، یا ایسے افعال کرنا جن سے مخلوقِ خدا کو ایذا پہنچے۔

سکوتی ظلم:

یعنی برائی کو دیکھ کر خاموش رہ جانا، جب کہ اسے روکنے کی استطاعت اور قدرت موجود ہو۔ ظلم کے سامنے خاموشی بھی ظلم کی ایک صورت ہے، کیونکہ یہ باطل کو تقویت اور حق کو کمزوری بخشتا ہے۔

ظلم کی صورتیں اور نتائج

ظلم کی صورتیں بے شمار ہیں، اور ہر زمانے میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ کبھی یہ تخت و تاج پر بیٹھے حاکم کے ہاتھوں رعایا پر ہوتا ہے، جب اقتدار عدل و انصاف کے بجائے جبر و استحصال کا ذریعہ بن جائے۔ کبھی والدین اپنی اولاد کے حقوق پامال کر کے ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں، اور کبھی اولاد والدین کی خدمت، ادب اور اطاعت میں کوتاہی کر کے اسی جرم کی شریک بن جاتی ہے۔ گھریلو زندگی میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کو اذیت دینا، دل آزاری کرنا، یا اپنے حقوق سے غفلت برتنا بھی ظلم کی نہایت افسوسناک شکل ہے جو محبت کے آشیانے کو نفرت و فاصلے کی چکی میں پیس دیتی ہے۔

اسی طرح کمزوروں، یتیموں، پردیسیوں، خادموں اور بے زبان جانوروں پر ظلم کرنا بھی انسانیت کے دامن پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ جب استاد شاگرد پر اپنی قوتِ منصب سے زیادتی کرے، یا شاگرد اپنے محسن کے علم و وقار کو ٹھکرائے، تو یہ بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔

اور آج کے دور کا ایک نہایت سنگین اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اکثریت اپنے عددی غرور کے نشے میں اقلیتوں پر ظلم روا رکھتی ہے، ان کے حقوق سلب کرتی ہے، ان کی مذہبی آزادی میں مداخلت کرتی ہے، اور ان کے جذبات و عقائد کو ٹھوکر پہنچاتی ہے۔ کسی قوم، مسلک یا طبقے کو صرف اس کے مذہب، نسل یا زبان کی بنیاد پر کمتر سمجھنا ظلم کی بدترین شکل ہے۔ ایک ہی ملک میں دوہرا قانونی رویہ اپنانا، انصاف کے ترازو کو طاقتور کے حق میں جھکانا، اور کمزوروں کی فریاد کو دبانا وہ ظلم ہے جو قوموں کی جڑیں کھوکھلی کر دیتا ہے۔

نتیجتاً، ظلم صرف ظالم کی ذات کو نہیں، بلکہ پورے معاشرے کو اندر سے گلا دیتا ہے۔ یہ دلوں سے امن، اعتماد اور عدل کا نور چھین لیتا ہے، معاشرتی روابط کو کمزور کرتا ہے، اور قوموں کو زوال کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ ظلم کے بطن سے کبھی پائیدار خوشحالی جنم نہیں لیتی؛ اس کے بطن میں ہمیشہ فساد، بغاوت اور تباہی کے بیج پلتے ہیں۔ بالآخر، ظلم اپنی ہی آگ میں جل کر راکھ ہو جاتا ہے، کیونکہ کائنات کے نظام میں عدل ہی وہ ستون ہے جس پر بقا و استقامت کی عمارت قائم ہے۔

ایک ملک تبھی امن و سلامتی اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے جب اس کے نظام سے ظلم کا خاتمہ ہو جائے، کسی مظلوم کی فریاد فضا میں نہ گونجے، اور کسی بے گناہ کی آہ و بکا زمین و آسمان کے درمیان نہ سنائی دے۔ کیونکہ جہاں انصاف کی روشنی بجھ جائے، وہاں امن کے دیے خود بخود ٹمٹمانے لگتے ہیں۔

مظلوم کی دعا اور تاریخی مثال

اللہ تعالیٰ نے مظلوم کو یہ دلی اور حوصلہ افزا خوشخبری دی ہے کہ اس کی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ وہ ذات جس نے کائنات کو پیدا کیا، جس کی قدرت ہر ذرے اور ہر دل پر محیط ہے، اُس کی بارگاہ میں اٹھنے والی مظلوم کی فریاد کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“تین لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: عادل حکمران، روزہ دار جب افطار کرے، اور مظلوم کی دعا۔ اللہ اس دعا کو بادلوں کے اوپر اٹھاتا ہے، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور فرماتا ہے: میری عزت کی قسم! میں ضرور تیرا بدلہ دوں گا، اگرچہ کچھ دیر بعد سہی۔” (ترمذی)

یہ عظیم وعدہ مظلوم کے دل میں صبر اور ہمت پیدا کرتا ہے، اور ظلم کے اندھیروں میں بھی اُمید کی روشنی روشن رکھتا ہے۔

تاریخی مثال

تاریخ میں ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مظلوم کی دعا کس طرح اثر انگیز اور قابل عمل ہوتی ہے۔ مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ حجاج بن یوسف ثقفی کے ظلموں میں سب سے بڑا جرم حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کا قتل تھا۔ اس وقت بھی وہ مظلوم کی دعا کی طاقت کے سامنے بے بس تھے۔ قتل سے قبل حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ کے حضور دعا کی:

“اے اللہ! میرے خون کا بدلہ لے، اور مجھے اس کے ہاتھوں قتل ہونے والا آخری شخص بنا دے۔”

اللہ تعالیٰ نے ان کی فریاد کو قبول فرمایا۔ حجاج ایک شدید اور پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہوا، جس نے اس کا دماغ زائل کر دیا، اور ہر بار جب وہ ہوش میں آتا، خوف و شرمندگی کے عالم میں یہ کہتا:

“مجھے سعید بن جبیررحمۃ اللہ علیہ سے کیا دشمنی تھی؟”

یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ظلم کے باوجود مظلوم کی دعا کی طاقت غیر محدود ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر ظلم کا بدلہ اپنی حکمت اور قدرت کے مطابق ضرور دیتا ہے۔

ظالموں کا انجام

تاریخ کے اوراق گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں فساد پھیلانے والے اور ظلم کے پہاڑ اٹھانے والوں کو کبھی نہیں بخشا۔ ان کے انجام میں عبرت اور نصیحت پوشیدہ ہے، تاکہ آنے والی نسلیں سیکھیں کہ ظلم کے راستے کا انجام تباہی، ذلت اور ندامت کے سوا کچھ نہیں۔

اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرے، مگر جب پکڑتا ہے تو کبھی نہیں چھوڑتا۔ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا:

”ویسے تو اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔" پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : {وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} ترجمہ: (تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے، جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے الموں کو پکڑتا ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے)۔ (سورہ ہود :۱۰۲)   (صحيح البخاري – ۴۶۸۶)

ندامت اور پچھتاوا

ظلم کے انجام کی دردناک تصویر قرآن مجید میں اس طرح بیان ہوئی ہے: ( وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَالَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ) (الفرقان: ۲۷)

ترجمہ: “اور اس دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کھائے گا اور کہے گا: کاش میں نے رسول کے راستے کو اختیار کیا ہوتا۔”

یہ آیت  کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ ظلم صرف دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی زبردست پچھتاوے اور نقصان کا باعث بنتا ہے۔

نصیحت برائے ظالم و مظلوم

ظالم کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس کا انجام برا ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کرے اور اپنے اعمال درست نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اس سے انتقام لے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ظاہر ہوگا۔” (مسلم)

اور مظلوم کے لیے صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا ضروری ہے۔ جیسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں اذیت، تکالیف اور جلاوطنی کے باوجود صبر فرمایا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح اور نصرت عطا فرمائی۔

یوں ہمیں یہ واضح سبق ملتا ہے کہ ظلم کا راستہ کبھی کامیابی، خوشحالی یا سکون کی جانب نہیں لے جاتا۔ ظلم خواہ کسی شکل میں ہو ،  دل، زبان یا عمل کے ذریعے ،  آخرکار پچھتاوے، ندامت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ جبکہ مظلوم کی صبر، دعا اور استقامت نہ صرف اسے اللہ کی حفاظت اور نصرت سے منور کرتی ہے بلکہ ظلم کے اندھیروں میں بھی اُمید کی روشنی قائم رکھتی ہے۔

ظالم کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال پر نظر ڈالے، توبہ اور اصلاح کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن پکڑنے کے وقت کبھی نہیں چھوڑتا۔ اور مظلوم کو چاہیے کہ وہ صبر کرے، اپنی فریاد اللہ کے حضور اٹھائے، کیونکہ مظلوم کی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور ربّ کریم ہر ظلم کا بدلہ اپنے وعدے کے مطابق ضرور دیتا ہے۔

لہٰذا ایک معاشرہ تبھی حقیقی طور پر امن، سلامتی اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے جب ظلم کے تمام مظاہر ختم ہوں، ہر فرد کے حقوق کا تحفظ ہو، اور انصاف کی روشنی ہر دل اور ہر مقام پر روشن ہو۔ بے شک عدل ہی وہ ستون ہے جس پر بقا، استقامت اور ترقی کی عمارت قائم رہتی ہے، اور ظلم کی آندھی جتنی شدید بھی ہو، آخرکار اللہ تعالیٰ کے ارادے کے مطابق راکھ میں بدل جاتی ہے۔

----------

غلام غوث صدیقی اسلامک اسکالر اور نیو ایج اسلام کے مستقل  کالم نگار اور مترجم ہیں ۔ 

----------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/social-justice-eradication-prosperity-country/d/137344

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..