New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 01:58 PM

Urdu Section ( 1 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Rights of Non-Muslims Living In Minority – Part 2 غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق - حصہ 2 - ان کی جان کا تحفظ

 

 

 

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

9 جنوری 2018

اس قسط  وار تحریر کے پہلے حصے میں جامع اور معروضی طور پر اسلام کی طرف سے غیر مسلموں کو فراہم کردہ مذہبی آزادی کا ذکر کیا گیا تھا۔یہ جو دوسراحصہ آپ کی نگاہ کے سامنے ہے اس  میں اقلیت یا کسی مسلم ملک میں رہنے والے پرامن غیر مسلموں کی زندگی کے حقوق کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام مسلمانوں کو اقلیت یا کسی مسلم حکومت کے تحت رہنے والے امن پسند غیر مسلموں کی زندگی کی حفاظت کرنے کا حکم دیتا ہے اور ان میں سے کسی کے بھی قتل کو ناجائز و حرام قرار دیتا ہے جب تک کہ اسے قتل یا کسی بڑے جرم میں موت کی سزا نہ دی گئی ہو۔ بنیادی طور پر اس کی اصل وجہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے،

اللہ تعالی فرماتا ہے:

"اور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو"۔ (6:151)

قرآن کریم کی ایک اور آیت میں اللہ کا فرمان ہے،

‘‘جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں’’۔ (5:32)

اس آیت سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی ایک شخص کو ناحق قتل کرنا تمام انسانوں کو قتل کرنے اور ایک انسان کو بچانا تمام انسانوں کو بچانے کے مترادف ہے۔ اس آیت کا پیغام مسلم اور غیر مسلم دونوں پر منطبق ہوتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے قرآن کی دیگر  بہت ساری آیات اور احادیث میں کفار، مشرکین اور مفسدین سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ ذیل میں محولہ آیات اور احادیث سے واضح ہے؛

جنگ سے متعلق قرآنی آیات:

(2:244) (2:216) (3:56) (3:151) (4:74) (4:76) (4:89) (4:95) (4:104) (5:33) (8:8) (8:8) (8:39) (8:57) (8:67) (60-8:59) (8:65) (9:5) (9:14) (9:20) (9:29) (9:30) (39-9:38) (9:41) (9:73) (9:73) (9:88) (9:111) (9:123) (17:16) (81-18:65) (21:44) (25:52) (62-33:60) (4-47:3) (47:35) (48:17) (48:29) (61: 4) (12-61:10) (66:9)

جنگ سے متعلق احادیث :

صحیح بخاری (کتاب 52، حدیث 177) صحیح بخاری (کتاب 52، حدیث 256) صحیح بخاری (کتاب 52، حدیث 65)  صحیح  بخاری (کتاب 3، حدیث 125)  صحیح  بخاری (کتاب 52، حدیث 220)  صحیح  بخاری (کتاب 52، حدیث 44) ابو داؤد (کتاب 14، حدیث 2526) ابو داؤد (کتاب 14، حدیث 2527)  صحیح  مسلم (کتاب 1، حدیث 33)  صحیح  بخاری (کتاب 8، حدیث 387)  صحیح  مسلم (کتاب 1، حدیث 30)  صحیح  بخاری (کتاب 52، حدیث 73)  صحیح  بخاری (کتاب 11، حدیث 626)  صحیح  مسلم (کتاب 1، حدیث 149)  صحیح  مسلم (کتاب 20، حدیث 4645) صحیح مسلم (کتاب 20، حدیث 4696) صحیح مسلم (کتاب 19، حدیث 4321-4323) صحیح مسلم (کتاب 19، حدیث نمبر 4294) صحیح مسلم (کتاب 31، حدیث 5917) صحیح مسلم (کتاب 31، حدیث 5918) صحیح بخاری (کتاب 2، حدیث 35) سنن النسائی (کتاب 25، حدیث 13) سنن ابن ماجہ (کتاب 24، حدیث 2794 )

قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیات اور احادیث کا مطالعہ کرنے کے بعد بہت سے لوگوں نے اسلام کو ایک معاندانہ اور جارحانہ مذہب قرار دیا ہے۔ اسلام کے متعلق پنپنے والے اس طرح کےتصور کو دہشت گردوں اور انتہاپسندوں نے اپنے اعمال کے سبب بڑے پیمانے پر تقویت فراہم کیا ہے۔ لہذا دنیا بھر میں اکثر غیر مسلموں اور دہشت گردوں کی رائے میں اس قدر اتفاق  ہے کہ اسلام ایک متشدد اور انتہاپسند مذہب ہے۔ بہت کم ایسے غیر مسلم ہیں جو اسلام کو ایک ایسا مذہب مانتے ہیں جو کسی ناحق جارحیت کی تردید کرتا ہے اور لڑنے کی اجازت صرف دفاعی صورت حال یا امن و شانتی کو بحال کرنے کے لیے ہی  دیتا ہے۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ اسلام کے متعلق ان کے اندر جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کیا جائے اور انہیں اس بات کا اطمینان دلایا جائے کہ اسلام کے متعلق ان کے جو خیالات ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیکن در حقیقت مندرجہ بالا قرآنی آیات اور احادیث کا تعلق جنگی امور و احکامات  اور دفاعی صورت حال سےہے۔ تاہم ان امور و احکامات اور دفاع کا دعویٰ نہ تو کوئی ایک فرد اور نہ ہی چند افراد کی ایک جماعت کر سکتی ہے۔ لیکن جنگی امور و احکامات اور دفاع کا تعلق ان  حالات میں  ہوتا ہے جب  حالات اس قدر تباہ کن ہو جائیں کہ انہیں کنٹرول کرنا ممکن نہ رہے اوردفاع میں لڑنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ بچے۔ موجودہ دور میں یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ہر ملک دفاعی جنگ لڑنے کے حق کا دعوی کرتا ہے ، لہذا یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ مسلم حکومتوں کو اپنے دین ، زمین، ملکیت اور اپنے لوگوں کی زندگی وغیرہ کا دفاع کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن ان آیات اور احادیث سے ان غیر مسلموں کے خلاف لڑنے کا جواز تلاش کرنا  مکمل طور پر غلط ہوگا جنہوں نے اقلیت یا اکثریت میں پر امن طریقے سے رہنے کا معاہدہ یا اتفاق  کیا ہو، یعنی ان کے ساتھ امن و سلامتی سے زندگی گذر بسر کرنے کا معاہدہ توڑنا درست نہیں بلکہ یہ غیر اسلامی فعل ہے۔

اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان علماء کے بارے میں کیا خیال ہے جو اس نظریہ کی حمایت کرتے ہیں کہ جنگ ​​سے متعلق ان چند آیات نے امن و رواداری سے متعلق آیات کو منسوخ کردیا ہے اور آنے والے ہر زمانے میں کفر کے خلاف جنگ کی جانی چاہئے۔

یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اس مختصر مضمون میں ان کے تمام حوالہ جات اور دلائل کو پیش کرنا اور ان سب کا ایک تجزیاتی نقطہ نظر پیش کرنا ایک مشکل امر ہے۔ لیکن مختصر طور پر اس سوال کے جواب میں میری دلیل یہ ہے کہ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اس طرح کے علماء ساتھ ہی ساتھ اس نظریہ کی بھی تائید کرتے ہیں کہ جن کفار یا غیر مسلموں نے اقلیت میں یا کسی مسلم ملک میں امن سے رہنے پر اتفاق و معاہدہ  کیا ہے [یعنی جو معاہدین ہیں] انہیں ناحق قتل کرنا سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔اس بات کا اندازہ ان کی کتب فقہ سے بخوبی و آسانی لگایا جا سکتا ہے ۔

ظاہر ہے کہ کچھ قارئین کو ان دونوں مذکورہ بالا نقطہ ہائے نظر میں ایک تضاد معلوم ہوتا ہوگا؛ یعنی  1) جنگ ​​سے متعلق ان چند آیات نے امن سے متعلق آیات کو منسوخ کردیا ہے اور آنے والے ہر زمانے میں کفر کے خلاف جنگ کی جانی چاہئے اور 2) جن کفار یا غیر مسلموں نے اقلیت میں یا کسی مسلم ملک میں امن سے  رہنے پر اتفاق کیا ہے [یعنی جو معاہدین ہیں] انہیں غیر قانونی طور پر قتل نہیں کیا جانا چاہئے۔ ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ کفار کے خلاف جنگ کی جانی چاہئے جبکہ دوسری طرف ان کا ماننا یہ ہے کہ کفار کے خلاف جنگ نہیں کی جانی چاہئے۔ وہ کس قسم کے کفار ہیں جن کے خلاف جنگ کی جانی چاہئے؟ اور وہ کس قسم کے کفار ہیں جن کے خلاف جنگ نہیں کی جانی چاہئے؟

علمائے جمہور کی   کتب فقہ اور تحریروں  کا مطالعہ کرنے کے بعد ان کے بارے میں میرا جو نظریہ قائم ہوا ہے اس کی بنیاد پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جن علماء نے یہ کہا ہے کہ جنگوں سے متعلق چند آیات نے قرآن کریم کی پرامن آیات کو منسوخ کردیا ہے اس سے ان کی مراد  ضرور بالضرور  مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کرنے والے  حربی کفار کے  خلاف  جنگ ہے۔ یہ مفہوم ان کی جانب سے مکہ کی صورت حال کا حوالہ پیش کئے جانے کی بنیاد پر اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو ایسے حالات میں بھی اپنے دفاع میں لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی کہ جب کفار کے درمیان موجود مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کرنے والوں نے ایک محاذ جنگ قائم کر رکھا تھا۔ لیکن جب مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو انہیں کفار اور مشرکین کے درمیان موجود مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کرنے والوں کے خلاف اپنے دفاع میں لڑنے کی اجازت مسلمانوں کو دے دی گئی۔

ان علماء نے یہ نظریہ اپنایا ہے کہ "جنگ سے متعلق آیات نے امن، صبر اور رواداری سے متعلق آیات کو منسوخ کردیا ہے’’ کیونکہ انہیں ضرور یہ خیال گزرا ہوگا کہ دفاع یا زندگی اور موت کی صورت حال میں امن اور صبر کا نظریہ ان کی زندگی کو تحفظ نہیں فراہم کر سکے گا۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ امن اور رواداری کا نظریہ صرف ان کفار اور غیر مسلموں کے ساتھ معاون ثابت ہوگا جو امن پسند ہیں۔ ان علماء نے ضرور مکہ کے حالات کو اپنے ذہن میں رکھا ہوگا کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں اسی کا حوالہ پیش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے باہر نکال دیا گیا تھا ، ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے اور انہیں قتل کیا گیا لیکن ان کے صبر و تحمل نے انہیں قتل ہونے اور مشق ستم بننےسے نہیں بچایا۔ اور اگر مسلمانوں کو اپنے دفاع میں لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی ہوتی، تو آج مسلمان  اس دنیا میں موجود نہیں ہوتے۔ لہذا ان علماء نے جنگ سے متعلق آیات کو مسلمانوں کے ساتھ امن و امان سے رہنے والے تمام کفار کے خلاف نہیں بلکہ ہر زمانے میں صرف مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کا مظاہرہ کرنے والے کفار کے خلاف قابل نفاذ قرار دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم خدا داد عقلی اور فکری صلاحیت کی بنیاد پر ان علماء کی کتابوں میں آسانی کے ساتھ اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے امن پسند غیر مسلموں یا پرامن کفار [معاہدین] کو ، جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ امن سے رہنے کا  معاہدہ کیا ہے بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہیں، انہیں "جنگ سے متعلق آیات کے ذریعہ پرامن آیات کی تنسیخ" کی عمومیت  سے مستثنا کر دیا ہے۔ ان کی تحریروں کے بارے میں میرے نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ ان علماء نے جنگ سے متعلق آیات کو امن و امان سے رہنے والے تمام کفار کے خلاف نہیں بلکہ ہر زمانے میں صرف مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کا مظاہرہ کرنے والے کفار کے خلاف قابل نفاذ قرار دیا ہے۔ مندرجہ ذیل مواد سے بھی یہ نقطہ نظر اخذ کیا جا سکتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں پر امن کفار یا غیر مسلموں کو اس عبارت سے خارج کر دیا گیا ہے جس میں اس بیان کی حمایت کی گئی ہے کہ "جنگ ​​سے متعلق چند آیات نے امن سے متعلق آیات کو منسوخ کردیا ہے"؟ اس کا ثبوت کیا ہے؟ تو  اس کے ثبوت میں مسلم علماء اور فقہاء ان قرآنی آیات [6:51]، [5:32]، [2:252] اور مندرجہ ذیل احادیث کا حوالہ پیش کرتے ہیں جو اس مضمون کا مرکزی نقطہ ہے کہ اقلیت یا اکثریت یا مسلم ملک میں رہنے والے پر امن غیر مسلموں [معاہدین] کو تمام خطرات، مصیبتوں اور ظلم و ستم سے محفوظ رکھا جانا چاہئے۔

امن پسند غیر مسلم یا کافر کو قتل کرنا یا انہیں مشق ستم بنانا حرام ہے – مستند احادیث سے اس کے شواہد

رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا،

‘‘أَلاَ مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ’’

ترجمہ: "خبردار ہو جاؤ، اگر کوئی کسی پرامن غیر مسلم شہری [ معاہد ] پر ظلم کرے ، یا اس کا حق کم کرے، یا اس کی صلاحیت سے بڑھ کر اسے کام کرنے پر مجبور کرے، یا اس کی رضامندی کے بغیر کچھ بھی اس سے چھین لے، میں قیامت کے دن اس کا وکیل ہوں گا۔"

اس حدیث کی سندِ روایت:

امام ابو داؤد نے اس حدیث کو سلیمان بن داؤد المہری سے ، انہوں نے ابن وہاب سے، انہوں نے ابو صخر المادینی سے انہوں نے صفوان بن سلیم سے ، انہوں نے ایک بڑی تعداد میں صحابہ کرام کی اولادوں سے اور انہوں نے نبی ﷺ کے بے شمار صحابہ کرام سے روایت کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سنن ابی داود - کتاب 20، حدیث 125- عربی حوالہ)۔

اس حدیث کا محل استشہاد یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی پرامن غیر مسلم شہری پر ظلم کرے گا، یا اس کے حق کو کم کرے گا جیسا کہ اوپر حدیث میں بیان کیا گیا ہے ، تو نبی ﷺ قیامت کے دن اس کے وکیل ہوں گے۔

یہ حدیث صرف ایک انتباہ نہیں ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانے میں اور وہ بھی فتح مکہ کے بعد تیار کیاگیا ایک قانون بھی ہے۔ یہ قانون اب بھی اسلام کا ایک حصہ ہے۔ کسی نے بھی اس حدیث کی تنسیخ کا قول نہیں کیا ہے۔ لہٰذا، اسلام کے عظیم علماء اور فقہاء کے مطابق یہ قانون اپنے جوہر اور اطلاق میں آفاقی اہمیت کا حامل اور ہر زمانے کے لئے درست اور قابل نفاذ ہے۔ لہذا جو لوگ بھی  احادیث کی اتباع کا دعوی کرتے ہیں انہیں اس حدیث میں موجودآفاقی  پیغام کو قبول کرتے وقت متردد نہیں ہونا چاہئے۔

امام بخاری عبداللہ بن عمرو کی سند پر قیس بن حفص سے، وہ عبدالواحد سے، وہ حسن سے، وہ مجاہد سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ،

" جو بھی کسی معاہد [اقلیت میں رہنے والے کسی پرامن غیر مسلم] کو قتل کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، اگرچہ اس کی خوشبو چالیس سال (سفر کے) کے فاصلے سے ہی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ( صحیح بخاری ، کتاب 87، حدیث 52)

امام نسائی نے اپنی سنن میں مسلمانوں کے تحفظ میں رہنے والے کسی غیر مسلم کے قتل کی ممانعت پر ایک مکمل باب ہی قائم کر دیا ہے۔ اس باب میں انہوں نے الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ چار ایسی حدیثوں کو نقل کیا ہے جن میں ہر ایک میں مسلمانوں کےتحفظ کے تحت اقلیت میں رہنے والے غیر مسلم کے قتل کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ ان چاروں احادیث کی جگہ جن میں سے ہر ایک میں بالاتفاق پرامن غیر مسلموں کو قتل کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، ان میں اس مقام پر ایک حدیث نقل کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

امام نسائی اسمٰعیل بن مسعود سے ، وہ خالد سے، وہ عيينۃ سے اور وہ اپنے والد سے ابو بکرہ کی سند پر روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

"جو بھی اقلیت میں یا مسلم ملک میں رہنے والے کسی پرامن غیر مسلم [معاہد] کو ناحق قتل کرتا ہے، اللہ اس پر جنت حرام کر دےگا۔" (سنن نسائی ، کتاب 45، باب " معاہد کو قتل کرنے کی سنگینی"، حدیث 42)

امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں " پرامن غیر مسلموں کے معاہدے کو پورا کرنے، اور ان کی حفاظت کی حرمت" پر ایک مستقل باب قائم کیا ہے۔ حدیث کی اپنی عربی کتاب میں انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اس کا عنوان قائم کیا ہے "باب فی الوفاء للمعاہد و حرمت ذمتہ"۔

 امام ابو داؤد عثمان بن ابی شیبہ سے ، وہ وقیع سے ، وہ عیینہ بن عبد الرحمٰن سے اور وہ اپنے والد سے ابو بکرہ کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

"جو بھی کسی معاہد [اقلیت میں یا مسلم ملک رہنے والے کسی پرامن غیر مسلم] کو ناحق قتل کرتا ہے، اللہ اس پر جنت حرام کر دےگا" ( سنن ابی داود ، کتاب 15، حدیث 284)

امام ترمذی نے بھی حدیث کی اپنی کتاب میں، " معاہد [اقلیت میں مسلمانوں کے تحفظ کے تحت رہنے والے کسی پرامن غیر مسلم] کو ناحق قتل کرنے والے کا حکم" کے عنوان سے ایک باب قائم کیا ہے۔ انہوں نے اس باب میں ایک حدیث نقل کی ہے ، جس کی روایت محمد بن بشّار معاد ابن سلیمان البصری سے ، وہ عجلان سےاوروہ اپنے والد سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

"بے شک، جو کسی معاہد [اقلیت میں یا مسلمانوں کے تحفظ کے تحت رہنے والے پرامن غیر مسلم ] کو قتل کرتا ہے کہ جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عہد ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ عہد کی خلاف ورزی کرتا ہے ، لہٰذا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔ اگرچہ اس کی خوشبو ستر میل کے فاصلے سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ "(جامع الترمذی، کتاب 16 امام حدیث 19)

امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اقلیت میں یا مسلم ملک میں رہنے والے پرامن غیر مسلموں کے قتل کی ممانعت میں دو حدیثیں نقل کی ہیں، جن میں سے ایک حدیث ابو کریب سے، وہ ابو معاویہ سے ، وہ حسن بن عمرو سے ، وہ مجاہد سے، وہ عبداللہ بن عمرو کی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

"جو کسی معاہد [مسلم حکومت کے تحفظ میں رہنے والے پرامن غیر مسلم ] کو قتل کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا، اگرچہ اس کی خوشبو چالیس سال کی فاصلے سے ہی محسوس کی جاسکتی ہے" ( سنن ابن ماجہ ، کتاب 21، حدیث 2789-عربی حوالہ)

دوسری حدیث جو امام ابن ماجہ اس موضوع پر نقل کرتے ہیں وہ محمد بن بشّار سے ، وہ معاد بن سلیمان سے، وہ ابن عجلان سے اور وہ اپنے والد سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

"جو کسی معاہد [مسلمانوں کے ملک میں رہنے والے پرامن غیر مسلم ]کو قتل کرتا ہے کہ جس کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عہد ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔ اگرچہ اس کی خوشبو ستر برس کے فاصلے سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ "( سنن ابن ماجہ ، کتاب 21، حدیث 2788-عربی حوالہ)

اس مقام پر قابل ذکر امر یہ ہے کہ جب ایک غیر مسلم کسی بھی مسلم ملک میں یا اقلیت میں پر امن طریقے سے رہنے کا وعدہ کرتا ہے ، تو وہ "اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد پر اتفاق کرتا ہے۔ اس تحریر میں حدیث کے اندر مذکور الفاظ " ذمۃ اللہ وذمۃ رسولہ" کا انگریزی ترجمہ کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ بعض اس کا ترجمہ "اللہ کے ساتھ عہد اور اس کے رسول کے ساتھ عہد" کرتے ہیں جبکہ بعض اس کا ترجمہ "اللہ کی حفاظت اور اس کے رسول کی حفاظت" کرتے ہیں۔ لیکن دونوں طرح کے ترجموں سے اس نظریہ کی عکاسی ہوتی ہے جو متفقہ طور پر تمام عظیم فقہاء کے درمیان معقول و مفہوم ہے کہ اللہ عز و جل اور اس کے رسول ﷺ نے اس غیر مسلم [معاہد] کے قتل کو ممنوع قرار دیا ہے جس نے پر امن طریقے سے اقلیت میں یا کسی مسلم ملک میں رہنے کا عہد کیا ہے۔ لہذا اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کو قتل کرتا ہے ، تو اسے اللہ اور اس کے رسول سے کئے گئے عہد کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا جائے گا ، اور اس کے نتیجے میں وہ جنت کی خوشبو سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔ مزید برآں یہ کہ قاتل کو اگر مسلم حکومت کی جانب سے نہیں تو آخرت میں ضرور سزا دی جائے گی۔

سادہ لفظوں میں اس کی تعبیر اس طرح بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ آج اقلیت یا کسی بھی مسلم ممالک مثلاً عراق، شام، پاکستان، بنگلہ دیش، سعودی عرب وغیرہ میں رہنے والے غیر مسلموں کو نہ تو کسی فرد اور نہ ہی داعش یا طالبان جیسی کسی جماعت کے ہاتھوں نہ تو قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مشق ستم بنایا جاسکتا ہے۔ اقلیت یا کسی مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلموں کے قتل کے مذہبی جواز کی تلاش میں ایسے گروہوں کی جانب سے پیش کئے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں، بلکہ یہ در حقیقت اسلامی شریعت پر افترا کرنا ہے جس کا ایسے دعوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا، اس وجہ سے اور جیسا کہ اوپر مذکور ہے اور  دیگر شرائط و  وجوہات کی بناء پر ان نوجوانوں یا پیروکاروں کو کہ جن کی منفی ذہن سازی کی گئی ہے  انہیں داعش، طالبان اور ان جیسی دیگر جماعتوں میں شامل ہونے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہئے کہ وہ ایسا کرکے اسلامی شریعت پر جھوٹے الزامات [افتراء] عائد کرنے جا رہے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ وہ دنیاوی لوگوں کے درمیان دین اسلام کی بدنامی کا باعث بننے جا رہے ہیں اورپھر نتیجۃ  یقیناً وہ آخرت میں عذاب الہی کا مزہ چکھیں گے۔

 (و اللہ و رسولہ اعلم بالصواب)

Rights of Non-Muslims Living In Minority – Part 1 – Freedom of Religion

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/islam-and-sectarianism/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/rights-of-non-muslims-living-in-minority-–-part-1-–-freedom-of-religion/d/113727

URL for Part 2: http://www.newageislam.com/islam-and-sectarianism/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/rights-of-non-muslims-living-in-minority-–-part-2-–-protection-of-their-lives/d/113871

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/rights-of-non-muslims-living-in-minority-–-part-2-غیر-مسلم-اقلیتوں-کے-حقوق---حصہ-2---ان-کی-جان-کا-تحفظ/d/114133

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..