New Age Islam
Sat May 09 2026, 03:44 PM

Urdu Section ( 12 Jul 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refuting Alleged Contradictions in the Noble Quran – Part 3: Clarifying the Misconception About the Creation of the Heavens and the Earth قرآنِ مجید میں تضاد کے شبہ کا علمی اور عقلی ازالہ – قسط سوم: تخلیقِ زمین و آسمان کے تضاد کا وہم

غلام غوث صدیقی

12 جولائی 2025

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بعض لوگ قرآنِ مجید کی بعض آیات کے مطالعے کے دوران اس گمان میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان میں باہمی تضاد یا اختلاف موجود ہے۔ یہ وہم دراصل قرآن کے اسلوبِ بیان، ترتیبِ کلام، اور حقیقتِ مفہوم سے ناآشنائی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب فہمِ قرآن میں تدبر اور بصیرت کے بجائے محض سطحی مطالعے پر اکتفا کیا جائے، تو ذہن خود ساختہ اشکالات و اوہام  کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ یہی غلط فہمی اس وقت شدت اختیار کرتی ہے جب کچھ افراد زمین و آسمان کی تخلیق سے متعلق مختلف آیات پر غور کرتے ہیں۔ وہ ان آیات کے صرف ظاہری ترتیب کو دیکھ کر قرآنِ مجید پر (نعوذ باللہ) تضاد کا الزام لگانے کی جسارت کرتے ہیں، اور اسی بے بنیاد شبہے کو اپنا سہارا بنا کر اعتراضات کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اب آئیے، قرآنِ کریم میں ذکر کیے گئے اس شبہے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کا علمی، عقلی اور مدلل ازالہ کرتے ہیں، تاکہ قاری کے ذہن و دل کو اطمینان حاصل ہو اور اس کا ایمان مزید راسخ و مستحکم ہو۔

شبہ کا خلاصہ: معترضین کہتے ہیں کہ سورۃ البقرہ کی آیت 29 میں زمین کی تخلیق کو آسمان سے پہلے بیان کیا گیا ہے:

"هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ" (سورۃ البقرۃ: 29)

ترجمہ : "وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین میں جو کچھ ہے سب پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا، پس ان کو سات آسمان بنایا، اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔"

جبکہ سورۃ النازعات میں تخلیق کی ترتیب مختلف نظر آتی ہے:

"أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا (27) رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا (28) وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا (29) وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا" (سورۃ النازعات: 27–30)

یہاں آسمان کی تخلیق کو مقدم ذکر کیا گیا ہے اور زمین کے دحو (بچھانے) کو مؤخر۔ معترضین ان دونوں مقامات پر ذکر کی ترتیب کے فرق کو تضاد پر محمول کرتے ہیں، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں (نعوذ باللہ) تخلیقِ زمین و آسمان کے حوالے سے مختلف بیانات موجود ہیں، جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

اب  ہم ان اعتراضات کا تفصیلی اور مدلل جواب پیش کریں گے، جس سے واضح ہو گا کہ قرآنِ حکیم کا اسلوب کلام تضاد سے نہیں، بلکہ حکمت، بلاغت اور تنوعِ تعبیر سے بھرا ہوا ہے۔

یقیناً قرآنِ مجید میں کچھ مقامات پر زمین کی تخلیق کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور بعض آیات میں آسمان کا ذکر مقدم آیا ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ زمین کا وجود آسمان سے پہلے معرضِ تخلیق میں آیا، یا آسمان کی تخلیق زمین سے پہلے ہوئی، یہ درست طرزِ فہم نہیں ہے۔کسی چیز کی تخلیق کا پہلے ذکر کیا جانا اور اس کا حقیقت میں پہلے پیدا کیا جانا : یہ دو بالکل مختلف حقیقتیں ہیں۔ چنانچہ اگر قرآن میں کسی مقام پر زمین کی تخلیق  کا ذکر پہلے اور کسی جگہ آسمان کی تخلیق کا  ذکر پہلے کیا گیا ہے، تو یہ فرق محض اسلوبِ بیان کا ہے، نہ کہ تخلیق کے زمانی ترتیب کا کوئی ثبوت۔

ذکر کا تقدم اور وجود کا تقدم — یہ دو الگ اور مستقل مفاہیم ہیں۔

صاحبِ عقل وبصیرت  کو بخوبی معلوم ہے  کہ یہاں کسی قسم کا تضاد نہیں بلکہ یہ قرآن کے اعجازِ بیانی اور تنوعِ اسلوب کی خوبصورت مثال ہے۔ اس معنوی گہرائی تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ ہم عربی زبان کے اسالیبِ کلام، بالخصوص لفظ "ثُمَّ" (پھر) کے مختلف استعمالات کو اچھی طرح سمجھیں، کیونکہ یہ لفظ کبھی ترتیبِ زمانی (chronological sequence) کے لیے آتا ہے اور کبھی محض تسلسلِ بیانnarrative continuity کے لیے، بغیر اس کے کہ وہ کسی زمانی تقدم یا تاخر پر دلالت کرے۔

 عربی زبان میں "ثُمَّ" کے دو بنیادی استعمالات

1.     زمانی ترتیب  (Temporal order / Chronological Sequence)

عربی زبان میں "ثُمَّ" کا پہلا اور عمومی استعمال وقوعی ترتیب Chronological Sequence کو ظاہر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی ایک واقعہ پہلے ہوتا ہے، اس کے بعد دوسرا واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اس معنی میں "ثُمَّ" کا ترجمہ ہوگا: "پھر"، "اس کے بعد"، "تب"۔

 مثال:جَاءَ زَيْدٌ ثُمَّ خَالِدٌ ثُمَّ أَحْمَدُ ترجمہ: زید آیا، پھر خالد آیا، پھر احمد آیا۔ یہاں تین افراد کی آمد وقت کے لحاظ سے ترتیب وار بیان کی گئی ہے۔

 2. تسلسلِ کلام Rhetorical Continuity

عربی لغت اور بلاغت کی رو سے"ثُمَّ" کا اصل استعمال ترتیب مع التراخی (یعنی وقتی ترتیب کے ساتھ وقفہ) کے لیے ہوتا ہے، لیکن عربی بلاغت اور اسلوبِ کلام میں "ثُمَّ" کا دوسرا استعمال  کلام کے تسلسل flow of speech ،  کلام کی روانی کو برقرار رکھنے کے  لیے بھی ہوتا  ہے، خاص طور پر جب ترتیبِ زمانی مقصود نہ ہو۔ مثلا ،  جب ایک بات ختم ہو رہی ہو اور اس کے بعد کوئی دوسری بات ذکر کرنی ہو، اور مقصود کسی چیز کی تعداد یا تنوع کو بیان کرنا ہو، نہ کہ وقت کی ترتیب،  تو وہاں بھی "ثُمَّ" استعمال کیا جاتا ہے، صرف کلام کو آگے بڑھانے کے لیے۔یہ استعمال متعدد مقامات پر عربی ادب، حدیث اور قرآن میں پایا جاتا ہے، اور اس پر معروف مفسرین جیسے زمخشری، رازی، سیوطی وغیرہ نے بھی گفتگو کی ہے۔

الزمخشری (فی کشّاف) کہتے ہیں: "وَقَدْ تَجِيءُ (ثُمَّ) لِلتَّنَوُّعِ أَوِ التَّعْدَادِ، لَا لِلتَّرْتِيبِ الزَّمَنِيِّ." ترجمہ: "ثُمَّ کبھی کبھی تنوع یا تعدد کے لیے بھی آتی ہے، نہ کہ لازماً زمانی ترتیب کے لیے۔"

ابن ہشام (فی مغني اللبيب):"وَتُسْتَعْمَلُ أَيْضًا فِي ذِكْرِ الشَّيْءِ بَعْدَ الشَّيْءِ لِلتَّنْوِيعِ فِي الْخِطَابِ، لَا لِلتَّرْتِيبِ الزَّمَنِيّ." ترجمہ: "اور یہ (ثُمَّ) چیزوں کوتنوع کے ساتھ بیان کرنے کے لیے بھی آتی ہے، نہ کہ لازمی طور پر وقتی ترتیب کے لیے۔"

مولانا رضيّ نے اپنی کتاب "شرح الكافية" (جلد 4، صفحہ 390) میں فرمایا:

 "وقد تجئ (ثم) لمجرد الترتيب في الذكر، والتدرج في درج الارتقاء، وذكر ما هو الأولى، ثم الأولى؛ من دون اعتبار التراخي والبعد بين تلك الدرج، ولا أن الثاني بعد الأول في الزمان، بل ربما يكون قبله، كما في قوله: إن من ساد ثم ساد أبوه ثم قد ساد قبل ذلك جده فالمقصود ترتيب درجات معالي الممدوح، فابتدأ بسيادته، ثم بسيادة أبيه، ثم بسيادة جده، لأن سيادة نفسه أخص، ثم سيادة الأب، ثم سيادة الجد، وإن كانت سيادة الأب مقدمة في الزمان على سيادة نفسه، فـ (ثم) ههنا كالفاء في قوله تعالى: (فبئس مثوى المتكبرين). وقد تكون ثم، والفاء، أيضا، لمجرد التدرج في الارتقاء، وإن لم يكن الثاني مترتبًا في الذكر على الأول، وذلك أن يتكرر الأول بلفظه، نحو: بالله، فبالله، أو: والله ثم والله، وقوله تعالى: (وما أدراك ما يوم الدين * ثم ما أدراك ما يوم الدين)، وقوله: (كلا سوف تعلمون * ثم كلا سوف تعلمون)." انتهى.

تشریحی ترجمہ: "کبھی 'ثُمَّ' محض ذکر کی ترتیب اور تدریجی بلندی (یعنی درجہ بدرجہ ترقی) کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتی ہے، اور ایسی چیزوں کے بیان کے لیے استعمال ہوتی ہے جو پہلے سے زیادہ اہم یا زیادہ قابلِ ذکر ہوں، بغیر اس کے کہ ان کے درمیان کوئی زمانی فاصلہ مراد ہو یا دوسرے کا آنا پہلے کے بعد زمانی لحاظ سے ہو؛ بلکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو دوسرا ذکر کیا گیا ہو، وہ درحقیقت پہلے واقع ہو چکا ہو۔ جیسا کہ شاعر نے کہا: "إِنَّ مَنْ سَادَ ثُمَّ سَادَ أَبُوهُ، ثُمَّ قَدْ سَادَ قَبْلَ ذٰلِكَ جَدُّهُ" (ترجمہ:) "یقیناً وہ شخص سردار بنا، پھر اس کا باپ سردار تھا، پھر اس سے پہلے اس کا دادا سردار تھا۔" یہاں مقصود یہ ہے کہ جس شخص کی تعریف کی جا رہی ہے، اس کی بڑائی کے درجات کو ترتیب وار ذکر کیا جائے۔ اس لیے پہلے خود اس کی سرداری کو ذکر کیا، کیونکہ یہ اس کے لیے سب سے زیادہ خاص ہے، پھر اس کے والد کی سرداری کو، پھر اس کے دادا کی، اگرچہ زمانی لحاظ سے دادا کی سرداری سب سے پہلے تھی۔ اس لیے یہاں 'ثُمَّ' کا استعمال محض بلاغی ترتیب کے لیے ہے، جیسے قرآن مجید کی آیت میں فرمایا: ﴿فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ﴾ (پس تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا کیا ہی برا ہے) اسی طرح بعض اوقات 'ثُمَّ' اور 'فَاء' دونوں محض درجہ بدرجہ بلاغی بلندی کے اظہار کے لیے بھی آتی ہیں، اگرچہ دوسرا ذکر پہلے سے زمانی طور پر متأخر نہ ہو۔ جیسا کہ وہ مواقع جب ایک ہی لفظ کو دہرایا جاتا ہے، مثلاً: "بالله، فبالله" یا "والله، ثُمَّ والله"۔  نیز قرآن کی یہ آیات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں: ﴿وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ * ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ﴾ ﴿كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ * ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴾ ان تمام مثالوں میں 'ثُمَّ' کا استعمال تاکید، بلاغت اور تدریجِ مراتب کے لیے ہے، نہ کہ زمانی ترتیب کے لیے۔

اس موضوع پر مزید گہرائی کے ساتھ مطالعہ کے لیے سیبویہ کی مشہور نحوی کتاب "الكتاب" (جلد 3، صفحہ 501) کا مطالعہ بھی نہایت مفید ہے۔

اب عام قاری کی سہولت کے لیے چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ "ثُمَّ" کے اس استعمال کو سمجھا جا سکے جو زمانی ترتیب کے بجائے کلام کے تسلسل اور تنوع کو ظاہر کرتا ہے ۔

فرض کریں آپ کسی شخص سے کہیں: "ہم نے آپ کو زید کے ذریعے امداد بھیجی، ثُمَّ خالد، ثُمَّ احمد، ثُمَّ غلام رسول، ثُمَّ غلام نبی کے ذریعے۔" یہاں مقصد یہ نہیں کہ زید سب سے پہلے گیا اور غلام نبی سب سے آخر میں، بلکہ صرف یہ واضح کرنا ہے کہ کئی افراد نے امداد پہنچانے کے عمل میں حصہ لیا۔ اس مثال میں "ثُمَّ" کا استعمال تعدّد (کثرت) اور تسلسلِ کلام کو برقرار رکھنے کے لیے ہے، نہ کہ کسی وقتی ترتیب کے اظہار کے لیے۔

اسی طرح، اگر آپ کہیں: "ہم نے آپ تک علم پہنچانے کا اہتمام کیا: ایک بار کتابوں کے ذریعے، ثُمَّ اساتذہ کے ذریعے، ثُمَّ آن لائن لیکچرز، ثُمَّ تربیتی ورکشاپس، ثُمَّ مشاہداتی دوروں کے ذریعے۔" تو یہاں بھی مقصد یہ نہیں کہ کتابیں سب سے پہلے آئیں اور مشاہداتی دورے آخر میں؛ بلکہ مختلف تعلیمی ذرائع کے تنوع کو بیان کرنا ہے۔ "ثُمَّ" کا استعمال محض کلام کے بہاؤ اور فہرست سازی کے لیے ہے۔

کسی فلاحی تنظیم کے بارے میں کہا جائے: "اس تنظیم نے متاثرین کی مدد کی: کھانے کے پیکٹس کے ذریعے، ثُمَّ کپڑوں کے عطیات، ثُمَّ مالی امداد، ثُمَّ دواؤں کی فراہمی، ثُمَّ پناہ گاہوں کی تعمیر کے ذریعے۔" تو یہ فہرست صرف مختلف امدادی ذرائع کی وضاحت کر رہی ہے، نہ کہ ان کی عملی ترتیب کو۔

اگر کسی دعوت کے اہتمام کا ذکر کیا جائے: "دعوت میں ہم نے مہمانوں کی تواضع کی: پھلوں سے، ثُمَّ مشروبات سے، ثُمَّ کھانے کی مختلف اقسام سے، ثُمَّ مٹھائی سے، ثُمَّ چائے سے۔" تو یہاں بھی کوئی وقتی ترتیب مقصود نہیں، بلکہ مہمان نوازی کے تنوع اور ترتیبِ بیان کو واضح کرنا مطلوب ہے۔

یہ تمام مثالیں اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ عربی زبان میں "ثُمَّ" کا استعمال ہمیشہ وقوعی یا زمانی ترتیب کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات اسے بلاغی انداز میں کلام کے تسلسل، فہرست سازی، اور تنوع کے اظہار کے لیے بھی اختیار کیا جاتا ہے۔

اب اصل موضوع کی طرف رخ کرتے ہیں ۔زمین و آسمان کی تخلیق کے ذکر کے سلسلے میں قرآن مجید کا اصل مقصد  ان کی  تخلیقی ترتیب Creation Order کو بیان کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی  ان نعمتوں کا تذکرہ کر کے انسان کی توجہ اس کے خالق کی طرف مبذول کی جائے۔یہی وجہ ہے کہ  بعض مواقع پر، جب زمین کی عظمت اور اس سے حاصل ہونے والی نعمتوں کو نمایاں کرنا ہو، تو زمین کا ذکر پہلے کیا جاتا ہے۔اور جب آسمان کی وسعت، بلندی اور عظمت کو ظاہر کرنا ہو، تو آسمان کا ذکر پہلے کیا جاتا ہے۔ یہاں "ثُمَّ" کا استعمال صرف کلام کے بہاؤ flow of discourse کو قائم رکھنے کے لیے ہے، نہ کہ وقت وار ترتیب کو بیان کرنے کے لیے۔

جب لفظ "ثُمَّ" کے دونوں ممکنہ استعمالات، یعنی ترتیبِ زمانی اور تسلسلِ بیان، کا صحیح فہم حاصل ہو جائے، تو یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ زیرِ بحث آیات میں "ثُمَّ" کا استعمال ترتیبِ زمانی کے لیے نہیں، بلکہ محض بیانی تسلسل (narrative sequence) کے لیے ہوا ہے۔ لہٰذا یہ محض اسلوبِ کلام کا حصہ ہے، نہ کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں کسی حقیقی تقدیم و تاخیر (پہلے یا بعد کے وقوع) پر دلالت کرنے والا قرینہ۔

 مقصودِ قرآن: معرفتِ الٰہی اور بندگی

قرآنِ کریم جب زمین و آسمان جیسی عظیم مخلوقات کا ذکر کرتا ہے، تو درحقیقت ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کائنات کے شاندار اور مربوط نظام کو ایک ہی اکیلا اور بے مثال خالق چلا رہا ہے ،  اور وہ صرف اللہ ربّ العالمین ہے۔ وہی تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے، وہی موت دینے والا ہے، اور وہی قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرے گا۔ قرآنِ مجید کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان کو ایمان، شکرگزاری اور اصلاحِ عمل کی طرف بلایا جائے۔ قرآن چاہتا ہے کہ انسان زمین و آسمان جیسی عظیم نعمتوں کی تخلیق پر غور کرے اور اس کے نتیجے میں اللہ رب العزت کو اپنا تنہا اور سچا معبود مانے۔ اس کے تمام انبیاء و رسل علیہم السلام پر ایمان لائے، قرآن کو خالص کلامِ الٰہی تسلیم کرے، اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل ہوا یعنی سیّدنا محمد مصطفى ﷺ، ان پر پختہ ایمان رکھے، انہیں اللہ کا آخری سچا نبی مانے اور ان سے سچی محبت کرے۔ اسی طرح قیامت، حشر و نشر، جنت و دوزخ جیسے ایمانی حقائق کو بھی دل سے قبول کرے۔

قرآنِ حکیم کا پیغام یہ ہے کہ جب ایمان لایا جائے تو اس کے بعد لازم ہے کہ ہر فرد اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، گناہوں سے سچی توبہ کرے، حرام و حلال کی تمیز کو اپنا معیار بنائے، خیانت سے بچے، صدق و وفا کو شعار بنائے، حقوقُ اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوقُ العباد کو بھی بجا لائے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے۔

لہٰذا قرآنِ کریم زمین و آسمان کی تخلیق کے ذکر سے کسی وقتی تقدیم و تاخیر یا ترتیب میں تضاد بیان نہیں کرتا، بلکہ اس کا مقصد انسان کو اللہ کی بے شمار نعمتوں پر غور و فکر کی دعوت دینا ہے تاکہ وہ معرفتِ الٰہی حاصل کرے، اور ایمان و عمل کی روشنی سے اپنی دنیا و آخرت سنوارے۔

امام فخر الدین رازی کی علمی وضاحت اور ملحدین کے شبہے کا جواب

زمین و آسمان کی تخلیق سے متعلق جو شبہ آج بعض معترضین کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے، وہ کوئی نیا اعتراض نہیں، بلکہ اس کا ذکر امام فخر الدین رازی نے اپنے دور کے دہریوں (ملحدین) کے حوالے سے کیا ہے، اور ان کے اس اعتراض کا نہایت گہرا علمی اور استدلالی جواب بھی دیا ہے۔ امام رازی اپنی شہرۂ آفاق تفسیر مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر) میں سورۃ البقرہ کی آیت 29 کی تفسیر کے تحت فرماتے ہیں:

قالَ بَعْضُ المُلْحِدَةِ: هَذِهِ الآيَةُ تَدُلُّ عَلى أنَّ خَلْقَ الأرْضِ قَبْلَ خَلْقِ السَّماءِ، وكَذا قَوْلُهُ: ﴿أئِنَّكم لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الأرْضَ في يَوْمَيْنِ﴾ [فصلت: ٩] إلى قَوْلِهِ تَعالى: ﴿ثُمَّ اسْتَوى إلى السَّماءِ﴾، وقالَ في سُورَةِ النّازِعاتِ: ﴿أأنْتُمْ أشَدُّ خَلْقًا أمِ السَّماءُ بَناها﴾ ﴿رَفَعَ سَمْكَها فَسَوّاها﴾ ﴿وأغْطَشَ لَيْلَها وأخْرَجَ ضُحاها﴾ ﴿والأرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحاها﴾ [ النّازِعاتِ: ٢٧: ٣٠ ]، وهَذا يَقْتَضِي أنْ يَكُونَ خَلْقُ الأرْضَ بَعْدَ السَّماءِ، وذَكَرَ العُلَماءُ في الجَوابِ عَنْهُ وُجُوهًا:

أحَدُها: يَجُوزُ أنْ يَكُونَ خَلْقُ الأرْضِ قَبْلَ خَلْقِ السَّماءِ إلّا أنَّهُ ما دَحاها حَتّى خَلَقَ السَّماءَ؛ لِأنَّ التَّدْحِيَةَ هي البَسْطُ، ولِقائِلٍ أنْ يَقُولَ: هَذا أمْرٌ مُشْكِلٌ مِن وجْهَيْنِ:

الأوَّلُ: أنَّ الأرْضَ جِسْمٌ عَظِيمٌ فامْتَنَعَ انْفِكاكُ خَلْقِها عَنِ التَّدْحِيَةِ، وإذا كانَتِ التَّدْحِيَةُ مُتَأخِّرَةً عَنْ خَلْقِ السَّماءِ كانَ خَلْقُها أيْضًا لا مَحالَةَ مُتَأخِّرًا عَنْ خَلْقِ السَّماءِ.

الثّانِي: أنَّ قَوْلَهُ تَعالى: ﴿خَلَقَ لَكم ما في الأرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوى إلى السَّماءِ﴾ يَدُلُّ عَلى أنَّ خَلْقَ الأرْضِ وخَلْقَ كُلِّ ما فِيها مُتَقَدِّمٌ عَلى خَلْقِ السَّماءِ، لَكِنَّ خَلْقَ الأشْياءِ في الأرْضِ لا يُمْكِنُ إلّا إذا كانَتْ مَدْحُوَّةً، فَهَذِهِ الآيَةُ تَقْتَضِي تَقَدُّمَ كَوْنِها مَدْحُوَّةً قَبْلَ خَلْقِ السَّماءِ وحِينَئِذٍ يَتَحَقَّقُ التَّناقُضُ.

والجَوابُ: أنَّ قَوْلَهُ تَعالى: ﴿والأرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحاها﴾ يَقْتَضِي تَقْدِيمَ خَلْقِ السَّماءِ عَلى الأرْضِ ولا يَقْتَضِي أنْ تَكُونَ تَسْوِيَةُ السَّماءِ مُقَدَّمَةً عَلى خَلْقِ الأرْضِ، وعَلى هَذا التَّقْدِيرِ يَزُولُ التَّناقُضُ، ولِقائِلٍ أنْ يَقُولَ: قَوْلُهُ تَعالى: ﴿أأنْتُمْ أشَدُّ خَلْقًا أمِ السَّماءُ بَناها﴾ ﴿رَفَعَ سَمْكَها فَسَوّاها﴾ يَقْتَضِي أنْ يَكُونَ خَلْقُ السَّماءِ وتَسْوِيَتُها مُقَدَّمًا عَلى تَدْحِيَةِ الأرْضِ، ولَكِنَّ تَدْحِيَةَ الأرْضِ مُلازِمَةٌ لِخَلْقِ ذاتِ الأرْضِ، فَإنَّ ذاتَ السَّماءِ وتَسْوِيَتَها مُتَقَدِّمَةٌ عَلى ذاتِ الأرْضِ، وحِينَئِذٍ يَعُودُ السُّؤالُ.

وثالِثُها: وهو الجَوابُ الصَّحِيحُ أنَّ قَوْلَهُ: ”ثُمَّ“ لَيْسَ لِلتَّرْتِيبِ هَهُنا وإنَّما هو عَلى جِهَةِ تَعْدِيدِ النِّعَمِ، مِثالُهُ قَوْلُ الرَّجُلِ لِغَيْرِهِ: ألَيْسَ قَدْ أعْطَيْتُكَ النِّعَمَ العَظِيمَةَ ثُمَّ رَفَعْتُ قَدْرَكَ ثُمَّ دَفَعْتُ الخُصُومَ عَنْكَ، ولَعَلَّ بَعْضَ ما أخَّرَهُ في الذِّكْرِ قَدْ تَقَدَّمَ، فَكَذا هَهُنا واللَّهُ أعْلَمُ.

ترجمہ: بعض ملحدین (منکرینِ خدا) نے کہا: یہ آیت (یعنی هُوَ ٱلَّذِی خَلَقَ لَكُم مَّا فِی ٱلۡأَرۡضِ جَمِیعا ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰۤ إِلَى ٱلسَّمَاۤءِ)  اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ زمین کی تخلیق آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوئی، اور اس سلسلے میں ایک اور آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ﴾ [سورہ فصّلت: 9] (کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا؟) پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ﴾ (پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی)

مذکورہ آیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہ زمین کی تخلیق آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوئی۔

لیکن  سورہ النازعات میں فرمایا: ﴿أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا﴾ ﴿رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا﴾ ﴿وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا﴾ ﴿وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا﴾ [النازعات: 27–30]

ترجمہ: (کیا تمہاری تخلیق زیادہ سخت ہے یا آسمان کی، جسے اس نے بنایا؟ اس نے اس کی چھت بلند کی اور اسے درست کیا، اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کا دن نکالا، اور زمین کو اس کے بعد پھیلایا)

توموخر الذکر آیات  بظاہر اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ زمین کی تخلیق آسمان کے بعد ہوئی۔

اس شبہے کے جواب میں علما نے متعدد جوابات ذکر فرمائے ہیں:

پہلا جواب: یہ بالکل ممکن ہے کہ زمین کی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی ہو، لیکن اسے بچھایا (دحو یا تدحیہ) اس وقت گیا جب آسمان تخلیق ہو چکا تھا۔ کیونکہ تدحیہ کا مطلب ہے: پھیلانا یا بچھانا۔

تاہم اس جواب پر دو اعتراضات پیش کیے گئے:

۱۔زمین ایک عظیم جسم ہے، لہٰذا اس کی تخلیق کو تدحیہ (پھیلاؤ) سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ اور چونکہ تدحیہ آسمان کی تخلیق کے بعد ہوا، تو لازم آئے گا کہ زمین کی تخلیق بھی آسمان کے بعد ہوئی۔

۲۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿خَلَقَ لَكُم مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ﴾ دلالت کرتا ہے کہ زمین اور اس میں موجود تمام اشیاء کی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی، جبکہ زمین میں موجود اشیاء کی تخلیق تبھی ممکن ہے جب زمین پہلے سے بچھائی گئی ہو۔ اس اعتبار سے آیات میں بظاہر تناقض (ٹکراؤ) ظاہر ہوتا ہے۔

جواب: آیت ﴿وَالأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا﴾ سے مراد یہ ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین سے مقدم ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آسمان کی ہمواری بھی زمین کی تخلیق سے پہلے ہوئی ہو۔ اس توجیہ کے بعد آیات کے درمیان تضاد باقی نہیں رہتا۔

اگر کوئی کہے کہ اللہ کا فرمان: ﴿أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ بَنَاهَا﴾ ﴿رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا﴾ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آسمان کی تخلیق اور اس کی ہمواری زمین کی تدحیہ سے پہلے ہوئی، تو جواب یہ ہوگا کہ زمین کی تدحیہ اس کی تخلیق سے جدا نہیں ہو سکتی، بلکہ وہ اسی کا حصہ ہے۔ یوں آسمان کی تخلیق زمین کی ذات پر مقدم ہوئی، تو اشکال ایک بار پھر باقی رہتا ہے۔

تیسرا اور درست  جواب  یہ   ہے کہ آیت میں "ثُمَّ" ترتیبِ زمانی (Chronological Order) کے لیے نہیں، بلکہ تعدادی اندازِ بیان کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جیسے کوئی شخص کہے: "کیا میں نے تمہیں عظیم نعمتیں نہیں دیں؟ پھر تمہارا مقام بلند کیا، پھر تمہارے دشمنوں کو دور کیا؟" تو ممکن ہے کہ جن باتوں کو ذکر میں مؤخر کیا گیا ہو، وہ حقیقت میں پہلے واقع ہو چکی ہوں۔ اسی طرح کا اسلوب یہاں بھی ہے۔ والله أعلم بالصواب۔ (امام فخر الدین رازی، مفاتیح الغیب [تفسیر کبیر] ، تحت تفسیر سورۃ البقرہ، آیت ۲۹، مفہوماً مع تصرف)

اب تک کی بحث سے زمین و آسمان کی تخلیق سے متعلق معترضین کی جانب سے اٹھایا گیا شبہ واضح طور پر   نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ تاہم، اس موضوع سے متعلق مزید تفصیلی مطالعے کے لیے "بیانُ الإسلام لِلرَّدِّ عَلَی الافتراءاتِ وَالشُّبُهات"  کی بحث پیش کی جا رہی ہے، جو عربی  زبان میں ایک انسائیکلوپیڈیائی نوعیت کی اہم علمی تصنیف ہے، اور مصر کے متعدد جلیل القدر علما نے باہمی تعاون سے اسے مرتب کیا ہے۔اس کتاب میں زمین و آسمان کی تخلیق سے متعلق پیش کیے جانے والے شبہے کا نہایت جامع، مدلل ، سائنسی اور محققانہ جواب دیا گیا ہے۔حسب ذیل عبارتوں میں اسی  جواب کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ قارئین سہل اور عام فہم انداز میں اس اہم قرآنی مسئلے کی حقیقت سے بخوبی واقف ہو سکیں۔

قرآن میں زمین اور آسمان کی تخلیق کے مقدم و مؤخر ہونے کے بارے میں توہمِ تناقض

شبہے کا مضمون: بعض مشکوک ذہن رکھنے والے افراد یہ وہم ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی درج ذیل دو آیات کے مابین تضاد پایا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ۚ ذَٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (9) وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَ (10) ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (11)﴾ (سورۃ فُصِّلَت)

اور اس کے مقابل دوسری آیت میں فرمایا: ﴿أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا (27) رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا (28) وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا (29) وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا (30)﴾ (سورۃ النّٰزِعَات)

ان آیات کے درمیان بظاہر فرق دیکھ کر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پہلی جگہ زمین کی تخلیق کو آسمان سے پہلے بیان کیا گیا ہے، جب کہ دوسری جگہ آسمان کی تخلیق کو مقدم قرار دیا گیا ہے۔ یہ لوگ اپنی دانست میں اس بات سے استدلال کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں تناقض اور اضطراب موجود ہے، جو (معاذ اللہ) اس کے انسانی تصنیف ہونے کا ثبوت ہے۔

شبہے کے باطل ہونے کی وجوہات:

۱۔ قرآن مجید نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے جو مراحل بیان فرمائے ہیں، وہ جدید سائنس کی تحقیق سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ مراحل درج ذیل ہیں:

·        (الف) رَتْق و فَتْق کا مرحلہ (یعنی آسمان و زمین کا باہم جُڑا ہونا، پھر جدا کیا جانا)

·        آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا مرحلہ

·        زمین کے پھیلاؤ (دحو) کا مرحلہ

علمائے کرام نے ان آیات کے درمیان بظاہر پائے جانے والے اختلاف کو رفع کرنے کے لیے متعدد علمی و تفسیری توجیہات بیان فرمائی ہیں، جن کی روشنی میں کسی بھی قسم کے تناقض (تضاد) کی نفی ہو جاتی ہے، مثلاً:

·        زمین میں موجود تمام اشیاء کی تخلیق سے مراد حقیقی تخلیق نہیں بلکہ "تقدیر" (یعنی اندازہ اور منصوبہ بندی) ہے، جو زبانِ عرب میں بھی تخلیق کے معنوں میں آتی ہے۔

·        جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو (پہلے مرحلے میں) غیر مدحوح حالت میں پیدا کیا، اور وہ زمین ہر چیز کا اصل و مرکز ہے، تو اس میں موجود تمام اشیاء کا گویا وجود بھی اس وقت ہی فرض کر لیا گیا، کیونکہ اُن کا اصل وجود میں آ چکا تھا۔

·        عربی زبان میں "بعد" کا لفظ بعض مواقع پر "مع" یعنی "کے ساتھ" کے معنی میں بھی آتا ہے۔ چنانچہ "والأرض بعد ذلك دحاها" کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ زمین کا پھیلایا جانا آسمان کی تعمیر کے ساتھ ہی ہوا۔

تفصیلی جواب:

اوّلًا: قرآنِ مجید میں کائنات کی پیدائش، اس کی نشوونما اور تخلیق کے مراحل – جدید سائنسی دریافتوں کی روشنی میں ثابت شدہ حقائق

اس شبہے کے رد میں براہ راست گفتگو سے پہلے ضروری ہے کہ ہم قرآنِ مجید میں بیان کردہ کائنات کی پیدائش اور اس کی ابتدا پر روشنی ڈالیں، اور یہ بھی جانیں کہ جدید سائنس نے ان قرآنی بیانات کی کتنی تصدیق کی ہے۔

قرآنِ حکیم نے ہمیں کائنات کی تخلیق کی ابتدا اور اس کے ارتقائی مراحل نہایت دلنشیں اور بلیغ اسلوب میں بیان کیے ہیں۔ ان میں ہر مرحلہ اس قدر وضاحت و جلاء سے بیان ہوا ہے کہ اس میں کسی قسم کا ابہام یا پیچیدگی باقی نہیں رہتی۔ ہم یہاں قرآن کی ان آیات کا جائزہ لیں گے جو تخلیق کے ہر مرحلے پر روشنی ڈالتی ہیں، ساتھ ہی مفسرین اور اہلِ لُغت کی تفاسیر و تشریحات بھی پیش کریں گے، اور پھر اُن سائنسی حقائق سے تقابل کریں گے جو آج کے دور میں فلکیات اور کونیات کے ماہرین نے بیان کیے ہیں۔

اس سلسلے میں مروان وحید شعبان نے اپنی کتاب "الاعجاز القرآنی في ضوء الاكتشاف العلمي الحديث" میں بڑی وضاحت سے گفتگو کی ہے۔ وہ تخلیقِ کائنات کے درج ذیل تین مراحل بیان کرتے ہیں:

1. رَتْق و فَتْق کا مرحلہ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ﴾ (سورۃ الأنبياء، آیت 30)

اس آیت مبارکہ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ آسمان اور زمین، یعنی پورا کائناتی نظام، آغاز میں ایک جُداگانہ ہستی نہیں بلکہ ایک واحد، مجتمع اور متحد اکائی تھی،ایک ہی مادی ڈھانچہ، ایک ہی کثیف و یکجا عنصر۔ پھر یہ مادہ پھٹا، پھیلا اور الگ ہوا؛ یوں زمین اور آسمان ایک دوسرے سے جدا ہوئے اور کائنات ایک عظیم، وسعت دار، اور مسلسل پھیلتی ہوئی وسعت میں تبدیل ہو گئی۔

علامہ طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: "كانتا رتقًا": یعنی ان میں شگاف نہ تھا، وہ دونوں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں۔ پھر ان کے "فتق" (شگاف) کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے۔

حضرت ابن عباس کے مطابق: آسمان اور زمین باہم چپکی ہوئی تھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بلند کیا اور زمین کو بچھایا۔

حسن بصری اور قتادہ کے مطابق: اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے درمیان ہوا پیدا کی اور یوں دونوں کو جدا کیا۔

بعض دیگر اہلِ علم کے مطابق: آسمان کی سات تہیں پہلے ایک ساتھ جمی ہوئی تھیں، اللہ نے ان کو جدا کر کے سات آسمان بنایا، اور زمین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔

تمام تفاسیر اور لغوی تشریحات اس بات پر متفق ہیں کہ "رَتْق" کا مطلب ہے سما جانا، جُڑا ہونا، سَدا ہوا ہونا، اور "فَتَق" کا مطلب ہے علیحدہ کرنا، شگاف ڈالنا، الگ الگ کرنا۔

اس سے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں:

·        آسمان و زمین ابتدا میں ایک وحدانی کثیف مادّہ تھے جو بعد میں جدا کیے گئے۔

·        قرآن نے اس مادہ کی نوعیت کو "دُخان" (دھواں یا گیسی حالت) کہا ہے۔

2. آسمان و زمین کی تخلیق کا مرحلہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ... ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ...﴾ (سورۃ فُصِّلت، آیات 9 تا 11)

سورۂ انبیاء کی آیت میں پہلے مرحلے کا ذکر ہوا ہے، جس میں کائناتی مادہ کی ابتدائی نوعیت، اس کی ماہیت اور یہ حقیقت بیان کی گئی کہ آسمان اور زمین ایک متصل اور متحدہ اکائی تھے، جو بعد ازاں جدا کر دی گئی۔ جبکہ سورۂ فصلت کی آیات میں اُس کے بعد آنے والے مرحلے کا بیان ہے، یعنی: آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی مختلف حالتیں اور وہ مدارج جن سے یہ دونوں عظیم مخلوقات ابتدائی انفصال (رتق کے فتق) کے بعد گزریں۔ ہمارے سامنے موجود ان آیاتِ مبارکہ میں ایک یقینی، قطعی اور واضح کائناتی حقیقت بیان کی گئی ہے، اور وہ یہ ہے: رتق (جُڑاؤ) کے فتق (جُدائی) کے بعد سب سے پہلے زمین کو پیدا کیا گیا، پھر آسمان کو "دخان" (گیس) کی حالت سے تشکیل دے کر تعمیر کیا گیا۔ یہی وہ مفہوم ہے جس پر جمهور مفسرین کا اتفاق ہے۔ البتہ بعض افراد اس حقیقت میں خطا و خلط کا شکار ہو گئے، جب انہوں نے زمین پر آسمان کی تخلیق کو مقدم قرار دینے کی کوشش کی — محض اس خواہش کے تحت کہ قرآنی آیات کو بعض فلکیاتی نظریات یا سائنسی قیاسات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ لیکن یہ طرزِ فکر نہ قرآن کے نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے اور نہ ہی سائنس کی مسلمہ اور قطعی تحقیقات سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ مفسرین کی تفسیری آراء بھی اسی حقیقت کی وضاحت کرتی ہیں، کہ تخلیقِ زمین پہلے ہوئی اور آسمان کی تخلیق بعد میں، جیسا کہ قرآن خود اس کی تصریح کرتا ہے۔

2.     زمین کے دحو (پھیلاؤ) کا مرحلہ: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 ﴿أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا (27) رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا (28) وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا (29) وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا (30)﴾ (سورۃ النّٰزِعَات)

مذکورہ بالا  آیات جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ یہ (زمین کے دحو کا) مرحلہ تیسرا مرحلہ ہے، اور یہ دو سابقہ مراحل کے بعد واقع ہوا ہے۔ یعنی: سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں پیدا فرمایا، پھر آسمان کو دو دن میں پیدا کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف استواء فرمایا اور اُسے مکمل سات آسمانوں کی صورت میں ترتیب دیا،  یہ سب کچھ دو دنوں میں ہوا، اس کے بعد زمین کو دحو (پھیلانا، بچھانا) کیا گیا؛ یعنی زمین سے پانی اور سبزہ نکالا، پہاڑ، ریت، بے جان اشیاء اور اونچی نیچی زمین (ٹیلے، وادیاں) پیدا کی گئیں، اور آسمان و زمین کے درمیان کی تمام مخلوقات کو بھی ان ہی دو دنوں میں پیدا فرمایا۔

حضرت ابن عباس سے ایک سوال اور اس کا تحقیقی جواب

یہ سوال حضرت عبد اللہ بن عباس سے پوچھا گیا، اور انہوں نے نہایت بصیرت افروز جواب دیا—جیسا کہ صحیح بخاری میں روایت ہے: ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے عرض کیا: "مجھے قرآنِ مجید میں کچھ آیات ایسی دکھائی دیتی ہیں جن میں مجھے اختلاف محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا (27) رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا (28) وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا (29) وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا (30)﴾ (سورۃ النّٰزِعَات) اس میں آسمان کی تخلیق کو زمین پر مقدم بیان کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا گیا: ﴿قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ...﴾ (سورۃ فصلت، آیت 9) اس آیت میں زمین کی تخلیق کو آسمان سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔ تو کیا اس میں تضاد نہیں؟"

حضرت ابن عباس نے جواب دیا: "اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں پیدا فرمایا، پھر آسمان کو تخلیق فرمایا، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور اُسے سات آسمان بنا کر دو دن میں مکمل فرمایا۔ پھر اللہ نے زمین کو دحو کیا، یعنی اس میں سے پانی اور سبزہ نکالا، پہاڑ، پتھر، ریت، اور اونچ نیچ زمین پیدا کی، اور آسمان و زمین کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب پیدا کیا — یہ سب مزید دو دن میں ہوا۔ پس یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان سے: ﴿دَحَاهَا﴾، اور اسی کی وضاحت ہے فرمانِ الٰہی: ﴿خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ﴾ تو اس طرح زمین اور اس کی تمام اشیاء چار دنوں میں پیدا ہوئیں، اور آسمان دو دنوں میں۔" (صحیح البخاری،کتاب التفسیر، سورۃ فصلت، حدیث نمبر ، 4537 مفھوما)

مفسرین کی آراء اور اس کی تائید

اسی ترتیب پر جلیل القدر مفسرین نے بھی کلام کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد العقل السليم میں مذکور ہے: سورۃ البقرہ کی یہ آیت: ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ (البقرہ: 29) یہ اور سورۃ فصلت کی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ زمین اور اس کی اشیاء کی تخلیق آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوئی۔ یہی رائے اکثر مفسرین کی ہے۔

ایک روایت کے مطابق: "اللہ تعالیٰ کا عرش آسمان و زمین کی تخلیق سے پہلے پانی پر تھا۔ پھر اللہ نے پانی میں اضطراب پیدا کیا، اس سے جھاگ پیدا ہوئی جو سطحِ آب پر پھیل گئی۔ اسی جھاگ میں خشکی پیدا ہوئی، جس سے ایک مکمل زمین بنائی گئی۔ پھر اس زمین کو پھاڑ کر کئی زمینیں بنائیں۔ اور جو دھواں پیدا ہوا، وہ اوپر بلند ہو کر آسمان بنا۔"

ایک اور قول کے مطابق: "زمین کا جسمانی وجود آسمان سے پہلے تخلیق کیا گیا، البتہ زمین کو بچھانے (دحو) اور اس میں تفصیلی اجزاء پیدا کرنے کا عمل بعد میں ہوا۔" اس کی دلیل قرآنِ کریم کا یہ فرمان ہے: ﴿وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا﴾ (النّٰزِعَات: 30)

حضرت حسن بصری کی روایت اور اس کی حکمت

حضرت حسن بصری سے مروی ہے: "اللہ تعالیٰ نے زمین کو بیت المقدس کی جگہ پر گویا مٹھی کی شکل میں پیدا فرمایا، اس پر دھواں لپٹا ہوا تھا، پھر اسی دھوئیں کو بلند کر کے آسمان بنایا، اور اس مٹھی کو اس کے مقام پر باقی رکھا، اور اس سے ساری زمین کو پھیلایا۔" یہی حقیقت قرآن میں مذکور ہے: ﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ (الأنبیاء: 30) یہاں آسمان و زمین کے ایک ساتھ ہونے کا مطلب ان کی ابتدائی حالت کا جُڑا ہونا ہے، نہ کہ مکمل تخلیق کا ہم زمانی ہونا۔

دحو الأرض (زمین کے بچھانے) کا مطلب

اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین دونوں کو اپنے مخصوص نظام کے مطابق حکم دیا۔ گویا فرمایا: "اے زمین! تو ایسی بن جا جو اہلِ زمین کے لیے قرارگاہ ہو، اور اے آسمان! تو ایسا ہو جا جو ان کے لیے چھت ہو۔"

علامہ طبری نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے بیان کیا: "اللہ تعالیٰ نے پہلے زمین کو اس کے اندر کے خزانوں سمیت پیدا فرمایا، لیکن اسے بچھایا (دحو) نہیں تھا۔ پھر اللہ نے آسمان کو سات آسمانوں کی صورت میں ترتیب دیا۔ اس کے بعد زمین کو دحو کیا۔"

اسی حقیقت کی وضاحت امام قرطبی نے بھی کی: "اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان کے دھوئیں کو پیدا فرمایا، پھر زمین کو تخلیق کیا، پھر آسمان کو ترتیب دیا، پھر زمین کو دحو (پھیلانا) فرمایا۔"

پس نتیجہ یہ نکلا: زمین کی ابتدائی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی۔ زمین کا دحو (یعنی پہاڑ، درخت، پانی، میدان اور دیگر اجزاء کی تخلیق) آسمان کے بعد ہوئی۔اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن نے فرمایا: ﴿وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا﴾ (النّٰزِعَات: 30) نہ کہ "خلقها" (یعنی زمین کو پیدا کیا)۔ اور اللہ تعالیٰ نے دحو کی وضاحت اگلی آیت میں فرما دی: ﴿أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا﴾ (النّٰزِعَات: 31)

ثانياً: سائنسی حقائق قرآن کی بیان کردہ حقیقتوں کی تصدیق کرتے ہیں

کائنات کی پیدائش اور اس کے آغاز سے متعلق علمائے کرام کی آراء پیش کرنے سے قبل اس بات کی جانب توجہ دلانا ضروری ہے کہ کائنات کے آغاز سے متعلق ماضی میں کئی نظریات پیش کیے گئے، تاہم ان میں سے اکثر نظریات وقت کے ساتھ ختم ہو گئے یا پسِ منظر میں چلے گئے، جب سائنس کی دنیا میں "نظریۂ عظیم دھماکہ" (Big Bang) سامنے آیا۔ یہ وہ نظریہ ہے جس پر اکثر ماہرینِ فلکیات کا اتفاق ہے، بلکہ بعض ماہرین نے اسے قطعی سچائی (Scientific Fact) قرار دیا ہے۔

ہم یہاں کچھ ایسے فلکیاتی مطالعات کا جائزہ لے سکتے ہیں جو کائناتی عظیم دھماکے Big Bang سے متعلق ہیں، تاکہ یہ جان سکیں کہ وہ سائنسی نتائج قرآن کی ان حقیقتوں سے کس قدر ہم آہنگ ہیں جن کے ذریعے اللہ نے قرآن میں کائنات کے آغاز کو بیان فرمایا تھا۔

مشہور بیلجیئم کے ماہر فلکیات "جورج ایڈورڈ لو میتر" Georges Édouard Lemaître نے نظریۂ عظیم دھماکہ تک رسائی حاصل کی اور 1927ء میں اسے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ابتدائی طور پر اُس نے یہ نظریہ قائم کیا کہ کائناتی مادہ مکمل طور پر ایک انتہائی چھوٹی جسامت میں سما چکا تھا، جسے اُس نے "کائناتی انڈا" Cosmic Egg کا نام دیا۔ پھر یہ "کائناتی انڈا" اچانک ایک زبردست اور تیز پھیلاؤ expansion کا شکار ہوا ، اور تب سے یہ کائنات مسلسل پھیلتی چلی آ رہی ہے۔

اور جب "ہبل" نے 1929ء میں اپنا قانون پیش کیا، اور اُن مشاہدات کی وضاحت کی جن پر اُس نے اپنا نظریہ قائم کیا تھا، تو یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ یہ نظریہ کسی پھیلتی ہوئی کائنات کے بالکل مطابق ہے۔ یعنی، کائنات کی تمام کہکشائیں (مجرات) ہم سے جتنی زیادہ دور ہیں، وہ اتنی ہی تیزی سے ہم سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کا تعلق صرف ہم یا ہماری کہکشاں (ملکی وے) سے ہو، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب پوری کائنات پھیل رہی ہو، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہو رہی ہیں۔ یہ مشاہدہ دراصل اس بات کا سائنس کی زبان میں ثبوت تھا کہ کائنات پھیل رہی ہے ،جیسا کہ قرآنِ مجید نے صدیوں پہلے بیان فرمایا تھا۔

مشہور فزکس دان جورج گاموف George Gamow نے "کائناتی انڈے" Cosmic Egg کے نظریے کو اپنایا اور اسے عمومی شکل دی۔ پھر اسی نے کائنات کی ابتدائی توسیع (پھیلاؤ) کے عمل کو "انفجار عظیم" یعنی Big Bang کا نام دیا۔ یہی اصطلاح آج تک سائنس کی دنیا میں رائج ہے۔ گاموف نے یہ نکتہ بیان کیا کہ"جب یہ عظیم دھماکہ ہوا، تو اس کے ساتھ جو شعاعیں (ریڈیشنز) خارج ہوئیں، ان کے آثار آج بھی موجود ہونے چاہییں، اور یہ ہر سمت سے انتہائی کمزور مایکروویو شعاعوں کی صورت میں رصد کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی مخصوص صفات ہیں جنہیں حسابی طور پر ناپا جا سکتا ہے۔" اسی مشاہدے کی بنیاد پر ماہرینِ فلکیات اس نتیجے پر پہنچے کہ واقعی کائنات کا آغاز ایک عظیم دھماکے سے ہوا تھا۔ اب سائنس کی دنیا میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ کائنات کا آغاز ایک نہایت چھوٹے جسم سے ہوا جو تقریباً پندرہ ارب سال قبل ایک عظیم دھماکے سے پھٹا۔ اگرچہ کائنات کی عمر کا تعین ابھی بھی تحقیق کے مراحل میں ہے، تاہم غالب امکان یہی ہے کہ اس کی عمر دس ارب سال سے کم نہیں، اور بیس ارب سال سے زائد بھی نہیں۔

یہی مؤقف ان ماہرینِ فلکیات نے بھی اختیار کیا ہے جو ماضیِ بعید Deep Past کا مطالعہ موجودہ کائناتی حالات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یعنی وہ قوانینِ طبیعیات Physics کا استعمال کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ "کائنات جب اپنی پیدائش کے ابتدائی مرحلے میں تھی، اُس وقت اس کی ماہیت اور کیفیت کیا تھی؟" ان کے مطالعے کے مطابق، کائنات کی ابتدائی حالت انتہائی گرم، گھنی اور گیس نما تھی۔ اس وقت مادہ Matter اور اشعاع Radiation ایک دوسرے میں اس طرح مدغم تھے کہ انہیں علیحدہ پہچاننا ممکن نہ تھا۔ اس امتزاج کی وجہ یہ تھی کہ انتہائی درجہ حرارت میں شعاعیں بہت زیادہ توانائی رکھتی تھیں، اور یہی توانائی مادہ میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ چنانچہ کائنات کے آغاز میں مادہ اور شعاع ایسے باہم ملے ہوئے تھے کہ ان میں فرق کرنا مشکل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ماہرین کا یہ یقین بنتا ہے کہ کائنات کی ابتدائی حرارت اتنی زیادہ تھی کہ اسی کی شدت نے "انفجار عظیم" کو جنم دیا۔

اس تصور کی مزید تصدیق عالمِ فلکیات جان فائیفر کی اس گواہی سے بھی ہوتی ہے، جس میں وہ کہتا ہے "اس وقت جو تاریکی چھائی ہوئی تھی، وہ انتہا نہیں بلکہ آغاز تھی۔ اس تاریکی میں ایک بادل وجود میں آیا، جو آج کے بادلوں جیسا ہرگز نہ تھا۔ پھر مادہ نے ایک فطری انداز میں اکٹھا ہونا شروع کیا، جس طرح بکریوں کا ریوڑ اکٹھا ہوتا ہے۔ یوں اس بادل کی کثافت بڑھنے لگی، تاریکی چھٹنے لگی، اور روشنی کی ایک جھلک نمودار ہوئی۔ یہی روشنی ستاروں کے وجود کا نقطۂ آغاز تھی۔"

(ماخوذ از: الإعجاز القرآني في ضوء الاكتشاف العلمي الحديث، مصنف: مروان وحيد شعبان، ناشر: دار المعرفة، بیروت، ایڈیشن: پہلا، سنہ اشاعت: 1427ھ / 2006ء، صفحہ: 167 ،تصرف کے ساتھ)۔

علماء کرام نے نہ صرف اُن مراحل کو واضح کیا ہے جن کا ذکر قرآن مجید نے کائنات کی تخلیق کے حوالے سے کیا ہے اور جن کا جدید سائنس سے حیرت انگیز مطابقت ہے، بلکہ انہوں نے اس موضوع سے متعلق مزید کئی تاویلات اور نکات بھی بیان کیے ہیں۔ ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:

1. زمین کی ہر چیز کی تخلیق کا مطلب تخلیقِ لغوی ہے (نہ کہ تخلیق بالفعل)

قرآن مجید میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ: "زمین میں جو کچھ ہے اُسے سب کچھ پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا..." (فصلت: 10–11) تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زمین کی ہر چیز حقیقتاً وجود میں آچکی تھی، بلکہ یہاں "تخلیق" کا مفہوم لغوی ہے، یعنی تقدیر اور منصوبہ بندی۔ عربوں کے ہاں کسی شے کے اندازے، منصوبے یا مقدر کرنے کو بھی "خلق" یعنی تخلیق کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے:

"ولأنت تفری ما خلقت وبعضهم ... مزق الحديث يقول ما لا يفعل"

یعنی: تم وہی کاٹتے ہو جسے خود بنایا، جب کہ کچھ لوگ تو زبانی کلامی باتیں کرتے ہیں جو وہ کر ہی نہیں سکتے۔

قرآن نے خود بھی اس "تقدیری تخلیق" کی طرف اشارہ فرمایا: "وَقدَّرَ فِيها أَقواتَها" (یعنی: اس میں روزیاں مقرر فرمائیں) (سورہ فصلت: 10) اس کے بعد ہی فرمایا:"پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا، جو دھواں تھا..." (فصلت: 11) یعنی اصل وجود کے بجائے تقدیر (پلاننگ) کو "خلق" کہا گیا ہے۔

2. زمین تخلیق کی ابتدا میں اگرچہ غیر مدحُوَہ (نہ پھیلائی گئی) تھی، لیکن اس میں موجود ہر چیز کی اصل موجود تھی

جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو ابتدائی شکل میں پیدا فرمایا، تو اگرچہ وہ اُس وقت تک مدحُوَہ (پھیلائی ہوئی، قابلِ سکونت) نہیں تھی، مگر اس میں ہر چیز کی بنیاد یا اصل موجود تھی۔ اس وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ گویا اُس میں موجود تمام چیزیں پیدا کر دی گئیں، کیونکہ اُن کی اصل تخلیق ہو چکی تھی۔

اس بات کا قرآنی ثبوت یہ ہے: "اور ہم نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری صورت گری کی، پھر فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو" (الأعراف: 11) یہاں اللہ فرماتا ہے: "ہم نے تمہیں پیدا کیا اور تمہاری صورت گری کی" حالانکہ حقیقت میں وہ آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ذکر ہے، نہ کہ تمام انسانوں کا۔ مگر چونکہ آدم علیہ السلام انسانوں کی اصل ہیں، اس لیے ان کی تخلیق کو تمام انسانوں کی تخلیق کہہ دیا گیا۔

3. "بعد" کا مطلب بعض اوقات "مع" بھی ہوتا ہے، یعنی زمین کا دحو آسمان کے ساتھ ہی ہوا

کچھ علمائے کرام نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ سورہ نازعات میں "بعد" کا جو لفظ آیا ہے: "والأرض بعد ذلك دحاها" (اور زمین کو اس کے بعد پھیلایا) (النازعات: 30)۔ یہاں "بعد" کا مطلب "مع" یعنی "ساتھ ساتھ" بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں ایک اور مثال ہے: "عتلٍّ بعد ذلك زنيم" (بد خلق، اور اُس کے ساتھ ہی نسب میں مشکوک) (القلم: 13) یعنی وہاں بھی "بعد" کا مطلب "مع" یعنی "ساتھ" ہے۔ لہٰذا اگر "بعد" کو "مع" کے معنی میں لیا جائے تو سورہ نازعات کی آیت میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا، بلکہ مطلب یوں بنتا ہے کہ "زمین کا دحو اور آسمان کی تخلیق ایک ہی وقت میں یا ساتھ ساتھ عمل میں آئے۔"

خلاصہ:

قرآن مجید کی ان دو آیات "قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الأرْضَ فِي يَوْمَيْنِ" (فصلت: 9) اور  "وَالأرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا" (النازعات: 30) کے درمیان کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے زمین کو پیدا فرمایا، پھر آسمانوں کو تخلیق کیا، اور اس کے بعد زمین کو دحو کیا، یعنی اس کو ہموار کیا، اس میں پہاڑ، وادیاں، نباتات، پانی کے چشمے وغیرہ پیدا فرمائے۔ یہ ترتیب جدید سائنسی تحقیقات کے عین مطابق ہے۔

علمائے کرام نے، اوپر مذکور تفصیلات کے علاوہ، قرآنی آیات کے مابین کسی بھی قسم کے تضاد کو دور کرنے کے لیے چند مزید تاویلات بیان فرمائی ہیں، جن میں سے اہم درج ذیل ہیں:

پہلی تاویل: جب اللہ تعالیٰ نے زمین میں جو کچھ ہے وہ سب آسمان سے پہلے پیدا کیا، تو یہاں "پیدا کرنا" سے مراد لغوی تخلیق ہے، یعنی تقدیر (اندازہ، منصوبہ بندی)، نہ کہ حقیقی تخلیق (جو عدم سے وجود میں لانے کو کہتے ہیں)۔

دوسری تاویل: جب اللہ تعالیٰ نے اصل (زمین) کو پیدا فرمایا، تو گویا اس سے متعلق تمام جزویات اور متعلقات—جن میں زمین کو بچھانا (دحو)، پہاڑوں اور نباتات کی تخلیق وغیرہ شامل ہیں—بھی اسی تخلیق کا لازمی نتیجہ قرار پائے۔

تیسری تاویل: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: "وَالأرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا" (اور زمین کو اس کے بعد بچھایا) (النازعات: 30) میں لفظ "بعد" کا مفہوم "مع" (ساتھ) بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ عربی زبان میں یہ معنی بھی معروف ہے۔

لہٰذا مذکورہ بالا تمام بنیادوں پر آیاتِ قرآنیہ کے مابین کسی قسم کا تضاد نہیں پایا جاتا۔

….

غلام غوث صدیقی نیو ایج اسلام کے مستقل انگریزی اور اردو کالم نگار ہیں۔

-------

Urdu Article Part1: Qur’anic Descriptions of the Punishment of the People of Thamūd: Perceived Contradiction or Mastery of Divine Wisdom? قومِ ثمود پر عذاب کی قرآنی تعبیرات: تضاد کا وہم یا حکمت کا کمال؟

Urdu Article Part 2: Understanding the Qur'an and the Doubts of Contradiction: An Intellectual and Faith-Based Invitation to Reflection – Part 2 فہمِ قرآن اور شبہاتِ تضاد: ایک فکری اور ایمانی دعوتِ تدبر

URL: https://newageislam.com/urdu-section/refuting-alleged-contradictions-noble-quran–part-3/d/136160

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..