New Age Islam
Tue Oct 26 2021, 05:02 PM

Urdu Section ( 16 Jul 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refutation of ISIS That Uses the Verse, ‘Kill the Mushrikin Wherever You Find Them’ To Justify Terrorism in 21st Century: Linguistic Analysis of the Word ‘Mushrikin’ Part-1 قرآنی آیت ۹:۵ اور داعش کا رد : لفظ مشرکین کا لغوی تجزیہ

غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام

28 ستمبر 2019

داعش عسکریت پسند اپنی ناجائز اور غیر اسلامی حرکتوں کا جواز پیش کرنے کے لئے اکثر قرآنی آیت 9:5 کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔ داعش کے جہادیوں نے اپنے رسالے "دابق" میں اپنے اس دعوے کو کہ "اسلام تلوار کا مذہب ہے امن پسندی کا نہیں" جائز ٹھہرانے کے لئے اس آیت کا حوالہ دیا ہے (دابق، ساتواں شمارہ ، صفحہ 20)۔ اس رسالہ میں تفسیر ابن کثیر کے حوالہ سے لکھا گیا ہے کہ:

"'ابن ابی طالب (رضی اللہ تعالی عنہ) فرماتے ہیں کہ " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چار تلوارں کے ساتھ مبعوث کئے گئے ہیں: ایک تلوار مشرکین کے لئے {پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ} [التوبہ:5] ، ایک تلوار اہل کتاب کے لئے }لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر} [التوبہ: 29]، ایک تلوار منافقین کے لئے }اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر} [التوبہ:73]، اور ایک تلوار بغات (سرکشی اور زیادتی کرنے والوں) کے لئے {زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے} [الحجرات:9] ”[تفسیر ابن کثیر]۔ (اقتباس از داعش میگزین دابق، 7واں شمارہ، ص 20)

محولہ بالا آیت کے شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت جنگ کی صورتحال میں نازل ہوئی ہے۔ تاہم، ان آیتوں کا استعمال اس زمانے میں داعش اور اس جیسی دیگر دہشت گرد جماعتیں بے دریغ قتل و غارت گری، خود کش حملوں، عوامی مقامات کی تباہی و بربادی اور نام نہاد ’استشہادی‘ آپریشن کا جواز پیش کرنے کے لئے کر رہی ہیں۔ نتیجۃً پوری دنیا میں فتنہ و فساد کا ماحول بڑھتا جا رہا ہے، لہٰذا اس فتنہ کی سرکوبی کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

اس مضمون میں راقم الحروف پوری دیانت داری کے ساتھ آیت (9:5) کا تجزیہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں گا (واللہ اعلم بالصواب)۔ بلکہ یہ داعش اور اس جیسی دیگر دہشت گرد جماعتوں اور ان لوگوں کے لئے بھی ایک رد بلیغ ہوگا جو ابھی تک دستیاب متعدد تشریحات کی وجہ سے الجھن کا شکار ہیں ۔ یہ رد کلاسیکی حنفی اصولوں پر مبنی ہے اور یہ آپ قارئین کے سامنے کئی حصوں میں پیش کیا جائے گا کیوں کہ یہ مضمون کچھ تفصیل طلب ہے۔ یہ قسط وار مضمون چھ حصوں میں پیش کیا جائے گا۔ ان میں جو مضامین زیر بحث لائے جائیں گے وہ اس طرح ہیں ۔ 1) آیت (9:5) میں لفظ مشرکین کا لغوی تجزیہ، 2) آیت قرآنی (9:5) میں جن مشرکین کا ذکر کیا گیا ہے کون ہیں؟ 3) آیت (9:5) اور یہ اصول کہ جب نص اور ظاہر میں تصادم ہو جائے تو ترجیح نص کو دی جاتی ہے، 4) نسخ کا تصور اور آیت (9:5)، 5) آیات محکمات پر مبنی رد بلیغ، اور 6) عمومیت کی تخصیص (عام خص عنہ البعض) پر مبنی رد)، اور یہ کہ ایک مرتبہ جب کسی بھی عام کی تخصیص دلیل قطعی کے ذریعہ کر دی جاتی ہے تو ان احادیث کی مدد سے اس میں مزید تخصیص کی جاسکتی (جو دلیل بننے کی اہلیت رکھتی ہیں)۔

آیت میں (9:5) لفظ ‘مشرکین’ کا لغوی تجزیہ

اس پہلے حصے کا مقصد آیت مذکورہ میں وارد ہونے والے "مشرکین" کا "لغوی تجزیہ کرنا ہے جس کا فرمان ہے"مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ"(9:5)۔ جملہ "مشرکین کو مارو" کا معنی ظاہر ہے، اور سننے یا پڑھنے والا غور و فکر کیے بغیر اس کا ظاہری معنی سمجھ جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود لفظ ’مشرکین‘ میں مزید تشریح یا تخصیص کا امکان موجود ہے۔

عربی میں لفظ "مشرکین" جمع کا صیغہ ہے جو کہ عمومیت پر دلالت کرتا ہے۔ وہ لوگ جو عربی ہونے کے باوجود عربی زبان سے اچھی واقفیت نہیں رکھتے ہیں انھیں یہ ضرور معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کے عام کلمات میں ہمیشہ بعض افراد، زیادہ افراد، کم افراد یا بعض اوقات ایک ہی فرد کو شامل کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر  عام کلمات جمع کے صیغے میں وارد ہوئے ہیں اور اس سے کچھ یا زیادہ افراد یا صرف ایک ہی فرد مراد ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کا ارشاد ہے، " اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تجھے چن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا۔" (3:42)۔ اس آیت میں لفظ "ملائکہ جمع ملک بمعنیٰ فرشتہ" وارد ہوا ہے جبکہ اس سے مراد صرف ایک فرشتہ ہے اور وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ علامہ آلوسی کہتے ہیں۔ "لفظ ملائکہ سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں جو فرشتوں کے سردار ہیں" (تفسیر الآلوسی 3:42)، علامہ رازی لکھتے ہیں، "مفسرین فرماتے ہیں کہ " لفظ ملائکہ سے مراد ایک ہی فرشتہ یعنی جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ (تفسیر الرازی 3:42) ۔

قرآن مجید کے مطالعہ سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب اس میں بظاہر کوئی عام لفظ وارد ہوتا ہے اور اس لفظ سے اس کے تمام افراد یا تمام اجزا مراد ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس لفظ کی اس طرح وضاحت فرماتا ہے کہ اس کے بعد اس کی مراد کے علاوہ مزید کسی تشریح و تخصیص کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔ مثال کے طور پر اللہ نے فرمایا کہ تمام فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کیا، آیت ملاحظہ فرمائیں "فَسَجَدَ (سجدہ کیا) الْمَلَائِكَةُ (فرشتوں نے) كُلُّهُمْ (سب کے سب) أَجْمَعُونَ (مل کر)" (15:30)۔ لفظ ‘ملائکہ’ صیغہ جمع ہے جس کا بظاہر معنیٰ "تمام فرشتے" ہے، تاہم، اس کے کچھ افراد کو خارج کر کے اس میں ابھی بھی تخصیص کا امکان موجود ہے۔ لیکن قرآن کریم نے لفظ ’’کلہم‘‘ کہہ کر تخصیص کے تمام دروازے بند کردیئے۔ پھر اس کے بعد بھی تاویل کے ذریعہ تفریق کا امکان موجود ہے کہ تمام فرشتوں نے آدم کو ایک ساتھ سجدہ کیا یا الگ الگ لیکن قرآن مجید نے 'اجمعون' کہہ کر تاویل کے اس امکان کو بھی ختم کر دیا۔ لہذا اس مثال میں "کلہم" اور "اجمعون" کے الفاظ "مفسر" ہیں جنہوں نے ان الفاظ "فرشتوں نے [آدم کے سامنے] سجدہ کیا‘‘ کی وضاحت اس انداز میں کی کہ اب مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

لہذا  آیت میں "مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ" میں "کلہم" اور "اجمعون" جیسا کوئی مفسر لفظ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی تصریح ہے کہ اس سے "ہر دور اور ہر طرح کے بشمول پرامن مشرکین مراد ہیں"۔ اس اصول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت (9:5) میں تخصیص یا تشریح کا امکان موجود ہے۔

بس یہی مثال ہمیں یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ قرآن نے جمع کا صیغہ یا عام لفظ کا استعمال کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ اس سے ایک فرد یا چند افراد ہی مراد ہیں۔ اس اصول کے تحت ہر دور کے فقہا نے اپنے اصول فقہ کے شعبے میں متفقہ طور پر یہ اصول قائم کیا ہے کہ قرآن کا کوئی بھی لفظ جس کا معنی واضح ہو پھر بھی اس میں مزید تخصیص یا تشریح کا امکان موجود ہوتا ہے۔ لہذا اس دنیا میں کوئی بھی اس آیت (9:5) کو اس امر کا قطعی ثبوت نہیں قرار دے سکتا ہے کہ قرآن میں مذکور "مشرکین" سے مراد ہر ہر دور میں پوری دنیا کے تمام مشرکین ہیں۔ اس کے برعکس، ہمیں یہاں نہ صرف یہ کہ مزید تاویل یا تخصیص کی گنجائش میسر ہے بلکہ یہ اس کا ٹھوس ثبوت بھی ہے (جو ہم آئندہ حصوں میں دیکھیں گے) جو ہمیں یہ قبول کرنے پر آمادہ کرتا ہے کہ آیت 9:5 میں لفظ مشرکین سے مکہ کے وہ مشرکین مراد ہیں جو مذہبی استحصال کیا کرتے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں تھے۔

---------------

English Article: Refutation of ISIS That Uses the Verse, ‘Kill the Mushrikin Wherever You Find Them’ To Justify Terrorism in 21st Century: Linguistic Analysis of the Word ‘Mushrikin’ Part-1

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/refutation-isis-that-uses-verse-part-1/d/125091


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..