New Age Islam
Sat Jun 27 2026, 04:56 AM

Urdu Section ( 1 Aug 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refutation of the Alleged Contradiction in the Qur'anic Verses Concerning the Book of Deeds, Part 6 نامۂ اعمال سے متعلق قرآنی آیات میں تضاد کے دعوے کا مدلل علمی ازالہ

قرآن مجید کی آیات پر معترضین کے شہبات کا علمی ازالہ ، قسط ششم

غلام غوث صدیقی

1 اگست 2025

قرآن مجید پر اعتراض کرنے والے بعض معترضین کا ایک شبہ یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگوں  کو ان کے اعمال نامے دیے جانے سے متعلق قرآن مجید کی بعض آیات میں اُن کے بقول تضاد پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق قرآن کریم میں صالحین کے بارے میں واضح ہے کہ انہیں ان کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں سامنے سے دیا جائے گا، جیسا کہ متعدد آیات میں اس کا ذکر ہے۔تاہم، ان کے بقول جب کافروں اور مجرموں کے بارے میں قرآن کی بعض آیات پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بظاہر مختلف اندازِ بیان سامنے آتا ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سورۃ الحاقہ (آیت  ۲۵) میں صرف "بائیں ہاتھ" کا ذکر ہے، جبکہ سورۃ الانشقاق (آیت ۱۰)  میں "پیٹھ کے پیچھے" سے دیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ معترضین ان دونوں بیانات میں فرق کو تناقض یا تضاد پر محمول کرتے ہیں۔

معترضین کی دلیل یہ ہے کہ:

        سورۃ الانشقاق کی آیت نمبر۱۰  میں فرمایا گیا ہے:

{وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ}

"اور جسے اس کا نامۂ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا"

        جبکہ سورۃ الحاقہ کی آیت نمبر۲۵  میں ہے:

{وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ}

"اور جسے اس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا"

معترضین کے نزدیک یہ دو آیتیں  ایک دوسرے کے مخالف ہیں، اور اس بنا پر وہ قرآن مجید میں داخلی تضاد کا دعویٰ کرتے ہیں۔

تاہم اس شبہ کا اجمالی اور اصولی جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض قرآن مجید کے اسلوب، زبان اور معنوی جہات کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں آیات میں نہ صرف کوئی تضاد نہیں بلکہ یہ دونوں آیات قیامت کے دن کافروں اور مجرموں کی رسوائی، خجالت، اور عذاب کی شدت کو دو مختلف اور مکمل ہم آہنگ زاویوں سے پیش کرتی ہیں۔

علمائے تفسیر کی تصریحات کے مطابق قیامت کے دن کفار اور مجرمین کو ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور یہ بایاں ہاتھ ان کی پیٹھ کے پیچھے کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ایک ہی کیفیت کو قرآن نے دو مختلف اسالیب میں بیان فرمایا ہے:

        ایک جگہ "بائیں ہاتھ میں دینا" فرمایا،

        اور دوسری جگہ "پیٹھ کے پیچھے دینا" فرمایا۔

دونوں باتیں اکٹھی ہو سکتی ہیں اور حقیقت یہی ہے کہ ان کا بایاں ہاتھ پیچھے کر دیا جائے گا، اور وہیں سے انہیں ان کا اعمال نامہ تھمایا جائے گا۔ یہ انداز رسوائی، محرومی اور ذلت کی غایت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس سلسلے میں جب ہم ان آیات کو جمع کر کے تطبیق دیتے ہیں تو مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے، جیسا کہ مستند  تفسیری مراجع مثلاً تفسیر رازی، تفسیر آلوسی ، تفسیر قرطبی، تفسیر بغوی، تفسیر ابن کثیر، تفسیر جلالین ، تفسیر بیضاوی ، تفسیر نسفی  اور دیگر ائمۂ تفسیر نے اس کی صراحت کی ہے۔

لہٰذا کسی بھی آیت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر، محض ظاہری الفاظ کو دیکھتے ہوئے تضاد کا دعویٰ کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس شبہ کے تفصیلی جواب کی طرف آئیں، ضروری ہے کہ ان دونوں آیات کو ان کے مکمل سیاق کے ساتھ دیکھا جائے، تاکہ مفہوم کی گہرائی تک رسائی ممکن ہو سکے۔

آیاتِ نامۂ اعمال پر اعتراض  اور امام رازی کا تفسیری  جواب

معروف و مستند مفسرِ قرآن امام فخر الدین رازی نے سورۃ الانشقاق کی ان آیات﴿وَأَمَّا مَنْ أُوْتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ ۝١٠ فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُورًا ۝١١ترجمہ:"اور جسے اس کا نامۂ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا، تو وہ ہلاکت کو پکارے گا" کی تفسیر میں چار تفسیری اقوال ذکر کیے ہیں، جو کہ قرآن فہمی کے زاویوں کو نمایاں کرتے ہیں:

1.       پہلا قول:  کلبی فرماتے ہیں کہ اس کی دائیں ہاتھ کو اس کی گردن سے باندھ دیا جائے گا اور بائیں ہاتھ کو پیچھے کر دیا جائے گا۔ اسی ہاتھ سے وہ اپنا نامۂ اعمال لے گا۔

2.       دوسرا قول:  مجاہد فرماتے ہیں کہ کافر کا بایاں ہاتھ الگ کر کے پیٹھ کے پیچھے لگا دیا جائے گا، تاکہ وہ وہیں سے اپنا اعمال نامہ وصول کرے۔

3.       تیسرا قول: بعض اہلِ علم نے کہا کہ مجرم  کا چہرہ پیچھے کی طرف موڑ دیا جائے گا، تاکہ وہ اپنا اعمال نامہ اسی حالت میں پڑھے۔

4.       چوتھا قول:بعض مفسرین نے کہا کہ اسے اس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ جب وہ مؤمنین کی طرح دائیں ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا تو اسے اس سے محروم کر دیا جائے گا، اور پھر اس کی بائیں ہاتھ کو پیچھے لے جا کر وہاں سے اسے اعمال نامہ دیا جائے گا۔

عصرِ حاضر میں بعض معترضین اس موضوع پر جو اشکالات پیش کرتے ہیں، ان کا نہایت جامع، متوازن اور مدلل جواب امام فخر الدین رازی نے صدیوں قبل ہی اپنے دور میں "سوال و جواب" کے علمی اسلوب میں پیش فرما دیا تھا۔ وہ فرماتے ہیں:

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ سورۃ الحاقہ کی آیت:

﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ﴾ (الحاقہ: ۲۵)

میں صرف "بائیں ہاتھ" کا ذکر ہے، جبکہ "پیٹھ" کا ذکر موجود نہیں، تو کیا یہ بات سورۃ الانشقاق کی اس آیت کے منافی نہیں:

﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ﴾ (الانشقاق:۱۰)

"اور جسے اس کا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا"

امام رازی اس اشکال کا جواب دو مختلف علمی زاویوں سے دیتے ہیں:

 پہلا زاویہ: یہ بالکل ممکن ہے کہ نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں ہی دیا جائے، مگر پیٹھ کے پیچھے سے۔

جیسا کہ امام کلبی کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کا دایاں ہاتھ اس کی گردن سے باندھ دیا جائے گا اور بایاں ہاتھ پیچھے کر دیا جائے گا، چنانچہ وہ اپنا اعمال نامہ بائیں ہاتھ سے پیچھے کی جانب سے حاصل کرے گا۔

اس توجیہ کے مطابق دونوں آیات میں کوئی تضاد باقی نہیں رہتا، بلکہ ایک دوسرے کی تفسیر بن جاتی ہیں۔

دوسرا زاویہ: یہ بھی ممکن ہے کہ مجرموں کی کیفیات مختلف ہوں:

        بعض مجرم ایسے ہوں جو بائیں ہاتھ میں سامنے سے نامۂ اعمال پائیں گے۔

        جب کہ بعض کو یہ پیٹھ کے پیچھے سے تھمایا جائے گا۔

یوں ان دونوں آیات میں مجرموں کے مختلف درجات، کیفیتوں اور عبرت انگیز انجام کی عکاسی کی گئی ہے، نہ کہ کوئی تعارض یا تضاد۔

امام رازی اس اشکال کے جواب کے بعد سورہ انشقاق کی آیت  "فَسَوْفَ یَدْعُوا ثُبُورًا" کی تشریح بیان کرتے  ہوئے لکھتے ہیں:

"ثُبُورًا" کا مطلب ہے: ہلاکت، بربادی، تباہی۔ یعنی جب وہ شخص یہ دیکھے گا کہ اسے اس کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں نہیں ملا، تو فوراً اسے یقین ہو جائے گا کہ وہ جہنمی ہے،چنانچہ وہ حسرت و ندامت میں پکارے گا: "ہائے میری بربادی!" الفراءکہتے ہیں:عرب جب کسی پر افسوس کرتے ہیں تو کہتے ہیں: "فلانٌ یَدعُو لَهفَهُ"، یعنی وہ "وَالَهْفَاه!" کہہ کر افسوس کرتا ہے۔ اسی طرح یہاں "یَدْعُو ثُبُورًا" میں بھی شدتِ حسرت کا اظہار ہے۔قفال کی ایک اور توضیح:"ثُبُور" کا مادہ "مُثَابَرَة" سے ہے، یعنی کسی شے پر ہمیشہ قائم رہنا۔چونکہ آخرت کی ہلاکت اور عذاب دائمی اور ہمیشہ رہنے والا ہے،اسی لیے اسے "ثُبُورًا" کہا گیا،جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾ (الفرقان: 65) "یقیناً دوزخ کا عذاب چمٹ جانے والا (لَازِم اور دائمی) ہے" "غَرَام" کا اصل مطلب بھی لازمی اور نہ چھوٹنے والی چیز ہے۔

(مفاتیح الغیب ، تفسیر امام فخر الدین رازی، متوفی ۶۰۶ ھ ؛ سورۃ الانشقاق: آیات ۱۰تا ۱۱  کے تحت عربی متن سے اردو ترجمہ، تلخیص و توضیح: غلام غوث صدیقی)

امام آلوسی کی تفسیر "روح المعانی" میں سورۃ الانشقاق، آیت ۱۰ کی توضیح

امام آلوسی سورۃ الانشقاق کی آیت ﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مجرم کو اس کا نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ اس کی ایک توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے دن مجرم کی دائیں ہاتھ کو اس کی گردن سے باندھ دیا جائے گا، اور بائیں ہاتھ کو اس کی پشت کے پیچھے کر دیا جائے گا، پس وہ اپنا نامۂ اعمال اسی بائیں ہاتھ سے پیچھے سے وصول کرے گاایک دوسری روایت کے مطابق مجرم کا بایاں ہاتھ اس کے سینے سے ہو کر پیٹھ سے باہر نکالا جائے گا، اور وہ اپنا نامۂ اعمال اسی ہاتھ سے پیٹھ کے پیچھے سے لے گا۔ اس پس منظر میں جب سورۃ الحاقہ کی آیت ﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ﴾ میں صرف "بائیں ہاتھ" کا ذکر ملتا ہے اور "پشت" کا نہیں، تو ان دونوں آیات میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا، کیونکہ دونوں بیان دراصل ایک ہی ہولناک حقیقت کے دو مختلف اسالیب اور زاویے ہیں۔‘‘

امام آلوسی مزید وضاحت کرتے ہیں :

 اگر سورۃ الانشقاق کی متعلقہ آیات کفار کے انجام سے متعلق ہیں، اور اس سے قبل کی آیات متقین (نیک مؤمنین) کی کیفیت بیان کرتی ہیں، تو درمیانی طبقہ یعنی عُصاة المؤمنین (گناہ گار مسلمان) کا ذکر ان آیات میں نہیں کیا گیا   جیسا کہ تفسیر "البحر المحیط" میں بھی اس کی صراحت ملتی ہے۔بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ گناہ گار مؤمنین کو بھی "اصحاب الیمین" میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے متعلق دو اقوال ہیں:

پہلا قول: انہیں ابتدا میں جہنم میں داخل کیے جانے کے بعد، جب انہیں نکالا جائے گا تو پھر ان کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ یہ قول  ابن عطیہ نے  اختیار کیا ہے۔

دوسرا قول: انہیں دنیا کے نیک مؤمنین کی طرح ہی دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، البتہ ان کا محاسبہ نسبتاً سخت ہوگا؛ یعنی متقین سے زیادہ اور کفار سے کم۔‘‘

امام آلوسی کے مطابق  :ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ (پس اس سے آسان حساب لیا جائے گا) صرف نیک مؤمنین کے لیے مخصوص ہو، اگرچہ اسے سیاق میں عمومی طور پر بیان کیا گیا ہو۔ مزید یہ کہ بعض مفسرین کے نزدیک تمام مجرموں کو بائیں ہاتھ میں ہی نامۂ اعمال دیا جائے گا، البتہ کفار کی شناخت یہ ہوگی کہ انہیں ان کا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ اس کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اعمال نامہ دینے والے فرشتے اُن کے مکروہ اور بدنما چہروں کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتے؛ یا یہ کہ انہیں دیکھنا فرشتوں کے لیے باعثِ نفرت ہوتا ہے؛ یا پھر اس لیے کہ وہ دنیا میں اللہ کی کتاب کو اپنے پیچھے پھینک دیا کرتے تھے، چنانچہ قیامت کے دن اُنہیں اُن کے اعمال نامے بھی اسی انداز میں پیٹھ کے پیچھے سے دیے جائیں گے ،  جیسا کہ ان کے عمل کی سزا۔‘‘

(ماخوذ از: روح المعانی، امام فخر الدین آلوسی، تفسیر سورۃ الانشقاق، آیات ۱۰ تا ۱۱؛ عربی سے اردو ترجمہ مع تلخیص و توضیح: غلام غوث صدیقی)

تفسیر طبری کی روشنی میں "نامۂ اعمال" سے متعلق آیات میں تضاد کے شبہے کا ازالہ

علامہ ابن جریر طبری نے سورۃ الانشقاق کی آیت ﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ﴾ کی تفسیر میں واضح فرمایا ہے کہ یہ آیت اور سورۃ الحاقہ کی آیت ﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ﴾ آپس میں متضاد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کو دو مختلف اسالیب سے بیان کرتی ہیں۔ وہ مزید  لکھتے  ہیں کہ قیامت کے دن مجرم کی دائیں ہاتھ کو اُس کی گردن سے جکڑ دیا جائے گا، اور بایاں ہاتھ اس کی پیٹھ کے پیچھے کر دیا جائے گا۔ اس حالت میں وہ اپنا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ سے، پیچھے سے حاصل کرے گا۔اسی لیے قرآنِ کریم نے کبھی یہ فرمایا کہ وہ اپنا نامہ اعمال "بائیں ہاتھ" میں پائے گا، اور کبھی فرمایا کہ "پیٹھ کے پیچھے سے" دیا جائے گا۔دونوں آیتیں  دراصل ایک ہی کیفیت کے دو پہلو ہیں۔

(تفسیر طبری ابن جریر طبری متوفی ۳۱۰ ھ، تفسیر سورۃ الانشقاق، آیت ۱۰ ،  عربی سے اردو ترجمہ مفہوما،  غلام غوث صدیقی)

تفسیر قرطبی میں ہے :

اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ﴾ (ترجمہ: "اور جسے اس کا نامۂ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا") کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ آیت اسود بن عبد الأسد (ابو سلمہ کے بھائی) کے بارے میں نازل ہوئی، جیسا کہ ابن عباسؓ نے فرمایا۔ بعد ازاں، اس کا حکم عام ہے، یعنی ہر مؤمن اور کافر پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں: مجرم اپنا دایاں ہاتھ بڑھائے گا تاکہ اپنا نامہ اعمال لے، لیکن ایک فرشتہ اسے جھٹکے سے کھینچ لے گا اور اس کا دایاں ہاتھ توڑ دیا جائے گا، پھر وہ اپنا نامہ اعمال اپنے بائیں ہاتھ سے، پیٹھ کے پیچھے سے لے گا۔ قتادہ اور مقاتل کہتے ہیں: مجرم کے سینے کی ہڈیاں اور پسلیاں کھول دی جائیں گی، اس کا ہاتھ اس میں سے گزارا جائے گا اور پھر پشت کی طرف سے نکالا جائے گا، اور وہ اسی ہاتھ سے اپنا نامہ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے لے گا۔

(الجامع لأحكام القرآن، تفسیر القرطبی، تحت آیت: الانشقاق، ۱۰، ترجمہ ، غلام غوث صدیقی)

تفسیر بغوی میں ہے:

آیتِ مبارکہ ﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ﴾ (ترجمہ: اور جسے اس کا نامۂ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا) کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ اس کی دائیں ہاتھ کو اس کی گردن سے جکڑ دیا جائے گا، اور اس کی بائیں ہاتھ کو اس کی پیٹھ کے پیچھے کر دیا جائے گا۔ پھر وہ اپنا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے اپنے بائیں ہاتھ میں لے گا۔ ایک قول یہ نقل کیا گیا کہ  اس کی بائیں ہاتھ کو الگ کر کے پیٹھ کے پیچھے سے نکالا جائے گا تاکہ وہ وہاں سے اپنا نامہ اعمال حاصل کرے۔

(معالم التنزیل ، تفسیر بغوی متوفی ۵۱۶ ھ،  تحت سورۃ الانشقاق، آیت  ۱۰، ترجمہ ، غلام غوث صدیقی)

تفسیر ابن کثیر میں بھی  ہے:

"اور اللہ تعالی کا قول: ﴿اور وہ شخص جس کو اس کا نامۂ اعمال پیٹھ کے پیچھے دیا جائے﴾ یعنی: اسے بائیں ہاتھ سے پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا، اس کا ہاتھ پیچھے کی طرف موڑا جائے گا اور اسی ہاتھ سے اس کو اس کا نامۂ اعمال دیا جائے گا۔"

(تفسیر ابن کثیر، تفسیر بر سورۃ الانشقاق، آیت  ۱۰، ترجمہ ، غلام غوث صدیقی)

مذکورہ بالا تفاسیر کی روشنی میں یہ حقیقت پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ سورۃ الانشقاق اور سورۃ الحاقہ کی متعلقہ آیات کے مابین کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ بلکہ ان آیات میں مجرم کی رسوائی، ذلت اور حسرت کو مختلف اسالیبِ بیان کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے، جو کہ بلاغتِ قرآنی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

علاوہ ازیں تفسیر جلالین، تفسیر بیضاوی (انوار التنزیل)، اور تفسیر نسفی (مدارک التنزیل) میں بھی یہی مفہوم واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ مجرموں کو ان کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں، پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔

معترضین نے جو یہ شبہ ظاہر کیا کہ سورۃ الحاقہ کی آیت ۲۵ میں صرف "بائیں ہاتھ" کا ذکر ہے اور سورۃ الانشقاق کی آیت ۱۰ میں "پیٹھ کے پیچھے" کا، اور اس فرق کو تضاد کا عنوان دیا، تو ان تفسیری اقوال اور محققانہ توضیحات نے اس شبہ کا  نہایت تسلی بخش انداز میں ازالہ  کر دیا ہے۔ اگرچہ ان تفاسیر کے اسلوبِ بیان اور نقلِ اقوال میں بظاہر کچھ اختلاف محسوس ہوتا ہے، تاہم ان کے پیش کردہ معانی اور مفاہیم اس نکتے پر متفق ہیں کہ ان دونوں آیات میں کوئی تعارض یا تناقض نہیں پایا جاتا، بلکہ دونوں ایک ہی حقیقت کو مختلف زاویوں سے اجاگر کرتی ہیں۔ اس لیے اس شبہ پر مزید گفتگو کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

----------------

Urdu Article Part1: Qur’anic Descriptions of the Punishment of the People of Thamūd: Perceived Contradiction or Mastery of Divine Wisdom? قومِ ثمود پر عذاب کی قرآنی تعبیرات: تضاد کا وہم یا حکمت کا کمال؟

Urdu Article Part 2Understanding the Qur'an and the Doubts of Contradiction: An Intellectual and Faith-Based Invitation to Reflection – Part 2 فہمِ قرآن اور شبہاتِ تضاد: ایک فکری اور ایمانی دعوتِ تدبر

Urdu Article Part 3Refuting Alleged Contradictions in the Noble Quran – Part 3: Clarifying the Misconception About the Creation of the Heavens and the Earth قرآنِ مجید میں تضاد کے شبہ کا علمی اور عقلی ازالہ – قسط سوم: تخلیقِ زمین و آسمان کے تضاد کا وہم

Urdu Article Part 4Creation of the Universe in Six or Eight Days? Refuting the Alleged Contradiction in the Quran – Part 4 قرآنِ مجید میں تضاد کے شبہ کا علمی اور عقلی ازالہ ، قسط چہارم:تخلیقِ کائنات کے چھ دن یا آٹھ؟ قرآن، سائنس اور تفسیر کی روشنی میں تطبیق

Urdu Article Part 5Refutation of the Alleged Contradiction Between the Quranic Verses on the Punishment of Fornication – Part 5 قرآن مجید میں بدکاری کی سزا سے متعلق آیات کے درمیان تضاد کے شبہے کا علمی ازالہ، قسط پنجم

URL: https://newageislam.com/urdu-section/refutation-alleged-quranic-contradiction-verses-part-6/d/136367

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..