New Age Islam
Sat Jun 27 2026, 06:47 AM

Urdu Section ( 26 Jul 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refutation of the Alleged Contradiction Between the Quranic Verses on the Punishment of Fornication – Part 5 قرآن مجید میں بدکاری کی سزا سے متعلق آیات کے درمیان تضاد کے شبہے کا علمی ازالہ، قسط پنجم

غلام غوث صدیقی

26 جولائی 2025

خلاصۂ مسئلہ

قرآن مجید کی دو آیات کو بنیاد بنا کر بعض معترضین یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ قرآن میں بدکاری کی سزا کے معاملے میں تضاد پایا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک مقام پر زانی عورت کو تا حیات قید کا حکم دیا گیا ہے جبکہ دوسرے مقام پر بدکاری کرنے والے مرد و عورت کو سو کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس اعتراض کا تفصیلی علمی، عقلی اور سائنسی جواب دیں گے تاکہ واضح ہو کہ قرآن میں تضاد نہیں بلکہ حکمت و تدریج کے اصول کے مطابق احکام کا ارتقاء ہے۔

قرآنی نصوص کا مطالعہ

پہلی آیت: سورۃ النساء  (۴ : ۱۵)

وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ، فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا

ترجمہ: اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنوں میں سے چار گواہ بنا لو، اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ ان کی موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ پیدا فرما دے۔

دوسری آیت: سورۃ النور (۲۴: ۲)

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ

ترجمہ: بدکاری کرنے والی عورت اور مرد، دونوں کو سو سو کوڑے مارو۔

اعتراض اور اس کا علمی ازالہ

 اعتراض کا خلاصہ: معترضین کہتے ہیں کہ جب ایک آیت میں عورت کو بدکاری پر موت تک قید کرنے کا حکم ہے اور دوسری آیت میں کوڑوں کی سزا ہے تو ان دونوں احکام میں تضاد کیوں ہے؟

 علمی جواب: ان دونوں آیات میں بظاہر اختلاف ہے، مگر حقیقت میں تضاد نہیں بلکہ تدریج اور نسخ کا اصول کار فرما ہے، جو قرآن کے فہم میں بنیادی اصولوں میں سے ہے۔

اولاً: سورۃ النساء کی آیت ایک عبوری حکم تھی

سورۃ النساء کی آیت اسلام کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی، جب معاشرہ زنا جیسے گناہ کی روک تھام کے لیے قانونی و سماجی طور پر مکمل طور پر تیار نہ تھا۔ لہٰذا اس وقت کی ضرورت کے مطابق عورت کو گھر میں محبوس کرنے کا حکم دیا گیا۔

آیت کے  الفاظ  "اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیلًا" (ترجمہ : یہاں تک کہ اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ پیدا فرما دے) میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ  یہاں  عارضی سزا کا بیان  ہے، اور آئندہ اللہ تعالیٰ کوئی مستقل قانون نازل فرمائے گا۔ یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ حکم دائمی نہ تھا بلکہ وقتی (temporary)  تھا۔

ثانياً: سورۃ النور کی آیت دائمی اور ناسخ حکم ہے

سورۃ النور میں بدکاری کی سزا کے طور پر سو کوڑوں کا جو حکم دیا گیا ہے، وہ حتمی اور قطعی(final)  قانون ہے۔ اس آیت نے سورۃ النساء کے عبوری حکم کو منسوخ کر دیا۔

حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں وضاحت

جب سورۃ النساء میں بدکاری کی مرتکب عورتوں کے لیے گھروں میں قید کرنے کا حکم نازل ہوا تو ساتھ ہی یہ واضح اشارہ بھی دیا گیا کہ یہ سزا عارضی ہے، اور آئندہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور "سبیل" یعنی راستہ مقرر فرما دے گا:)... اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً) "... یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ پیدا فرما دے۔" (النساء: ۱۵)

پھر جب سورۃ النور کی آیت نازل ہوئی جس میں زانی مرد و عورت کے لیے سو کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی، تو اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"خذوا عنی، خذوا عنی، قد جعل اللّٰہ لھن سبیلا، البکر بالبکر جلد مائۃ وتغریب عام، والثیب بالثیب جلد مائۃ والرجم" (صحیح مسلم، کتاب الحدود)

ترجمہ:"مجھ سے احکام لے لو! اللہ تعالیٰ نے ان (زانی مرد و عورتوں) کے لیے راستہ (سبیل) بیان فرما دیا ہے: کنوارا (مرد یا عورت) اگر زنا کرے تو اسے سو کوڑے مارو اور ایک سال کے لیے جلا وطن کرو،اور اگر شادی شدہ زنا کرے تو اسے سو کوڑے مارو اور رجم (سنگسار) کرو۔"

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے واضح فرما دیا کہ سورۃ النساء میں جس "سبیل" (راستے) کے نازل ہونے کی خبر دی گئی تھی، وہ سورۃ النور میں نازل ہو چکی ہے، اور اب اس حکم کو نافذ کیا جائے۔ اس لیے آپ نے دو بار تاکیداً فرمایا: "خذوا عنی، خذوا عنی" یعنی "مجھ سے احکام لے لو!"۔

یوں یہ حدیث دونوں آیات کے درمیان ربط کو صراحت کے ساتھ بیان کر دیتی ہے اور واضح کر دیتی ہے کہ سورۃ النساء کی آیت منسوخ اور سورۃ النور کی آیت ناسخ ہے۔

ائمہ و مفسرین کے اقوال

 علامہ زمخشری  تفسیر کشاف میں رقمطراز ہیں: "کان ذلک عقوبتھن فی اول الإسلام، ثم نسخ بقوله الزانیۃ والزانی" یعنی ابتدا میں سزا قید تھی، پھر سورۃ النور کی آیت سے منسوخ کر دی گئی۔

 امام جصاص احکام القرآن میں لکھتے ہیں: اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ زنا کی سزا میں تدریجی ترتیب اختیار کی گئی اور بعد میں حدود کا مستقل تعین کیا گیا۔

عقلی و سائنسی تجزیہ

۱۔ قانونی حکمتِ تدریج:

دنیا کے تمام قانونی نظاموں میں سخت سزائیں مرحلہ وار نافذ کی جاتی ہیں۔ اسلام بھی ایک فطری مذہب ہے، اس میں تدریج کے اصول کو اختیار کیا گیا تاکہ افراد اور معاشرہ اس کے احکام کو آسانی سے قبول کرے۔

۲۔ نفسیاتی حکمت:

ماہرینِ نفسیات کے مطابق جرم کے انسداد کے لیے مرحلہ وار سختی بہتر ہوتی ہے۔ ابتداء میں سماجی قید جیسی سزا نفسیاتی اثر ڈالتی ہے، جبکہ بعد میں کوڑوں جیسی سزا معاشرتی خوف پیدا کرتی ہے۔

۳۔ ثبوت کی سختی:

چونکہ ہماری گفتگو کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی دو آیات،  یعنی سورۃ النساء کی آیت اور سورۃ النور کی آیت، میں کوئی تضاد نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اس اشکال کو واضح کیا جائے کہ ان دونوں آیات میں بظاہر جو اختلاف محسوس ہوتا ہے، وہ درحقیقت تضاد نہیں بلکہ تدریج اور نسخ کے اصول کا اظہار ہے، جو قرآن فہمی کے بنیادی قواعد میں سے ہے۔ سورۃ النساء کی آیت میں جو حکم بیان ہوا وہ ایک ابتدائی، عبوری قانون تھا، جو سورۃ النور کی آیت سے منسوخ ہو گیا، جس میں زنا کی سزا کے لیے چار عینی گواہوں کی شرط عائد کی گئی۔ یہی حکم آخری، قطعی اور دائمی ہے۔ تاہم، بعض مستشرقین یہاں یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اسلامی شریعت میں زنا کے ملزمان کے لیے جو سخت شرائط رکھی گئی ہیں، خصوصاً چار گواہوں کی شرط، وہ عملاً ناممکن ہے، اور اس طرح یہ قانون غیر مؤثر یا محض نمائشی بن جاتا ہے۔

اس اعتراض کا مختصر اور مؤثر جواب یہ ہے کہ اسلام کا مقصد محض مجرم کو سخت سزا دینا نہیں، بلکہ جرم کی حقیقی روک تھام اور معاشرے میں بدکاری کی بیخ کنی ہے۔ اسی مقصد کے تحت اس بات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے کہ کہیں کسی بے گناہ شخص کو صرف الزام یا شک کی بنیاد پر اتنی سخت سزا نہ دے دی جائے، جو انسانی وقار کے خلاف ہو۔ چنانچہ زنا کے ثبوت کے لیے جو شرائط رکھی گئی ہیں، وہ اس لیے سخت ہیں تاکہ صرف وہی عمل "جرم" شمار ہو جو ثابت شدہ، مشاہدہ شدہ اور متعین ہو۔ یہ معیار محض قیاس، رائے یا خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ ناقابلِ انکار شہادت پر مبنی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ مغربی قوانین میں عدالتیں بھی جرم ثابت کرنے کے لیے شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں، مگر ان کے ہاں زنا عمومی طور پر "جرم" ہی شمار نہیں ہوتا، سوائے اس صورت کے جب اس میں جبر، تشدد یا کم عمری شامل ہو۔ اگر دو بالغ افراد باہمی رضامندی سے زنا کریں تو وہ اسے جرم نہیں مانتے۔ اس کے برعکس، اسلام زنا کو بہرحال جرم قرار دیتا ہے، کیونکہ اس کا تعلق صرف فرد کی مرضی سے نہیں بلکہ اخلاقی اقدار، خاندانی نظام اور معاشرتی توازن سے ہے۔ اسی لیے اسلام میں زنا کا ثبوت فراہم کرنا اگرچہ ایک مشکل امر ہے، لیکن اس مشکل کے پیچھے ایک بڑی اخلاقی و معاشرتی حکمت کارفرما ہے: یعنی حدِ زنا صرف ایک قانونی سزا نہیں بلکہ اخلاقی سدِّ باب اور فکری اصلاح کا ذریعہ ہے۔ اس کا اصل مقصد زنا کی قباحت کو نمایاں کرنا، حیا و عفت کی فضا کو قائم رکھنا، اور لوگوں کو گناہ سے دور رکھنا ہے۔

ثبوت کی سختی  اس امر کا مظہر ہے کہ اسلام کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ سماج کو پاکیزہ بنانا، جھوٹے الزامات کی حوصلہ شکنی کرنا اور افراد کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنا ہے۔ اگر زنا جیسے سنگین جرم کی سزا کو بغیر مکمل اور قطعی ثبوت کے نافذ کر دیا جائے، تو یہ قانون خود بگاڑ، فتنہ اور بے گناہوں کی رسوائی کا ذریعہ بن جائے گا۔ اس لیے اسلامی شریعت نے عدالت کو حکم دیا ہے کہ جب تک چار گواہ عدالت میں شرعی معیار کے مطابق گواہی نہ دے دیں، حد نافذ نہ کی جائے، اور جو جھوٹا الزام لگائے، اُسی کو سزا دی جائے۔ یہ اصول نہ صرف عدالتی توازن اور انصاف کی علامت ہے بلکہ انسانی معاشرے میں افواہوں، بدگمانیوں اور کردار کشی کے سیلاب کے سامنے ایک مضبوط دیوار بھی ہے۔

اب ہم اپنے مضمون کے موضوع کا اعادہ کرکے اس قسط کا خلاصہ پیش کرتے ہیں کہ معترضین کا یہ کہنا کہ قرآن مجید کی زنا سے متعلق آیات میں تضاد پایا جاتا ہے، سراسر غلط فہمی، فہمِ قرآن کی کمی اور اصولِ ناسخ و منسوخ سے ناواقفیت کا مظہر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سورۃ النساء کی آیت (آیت نمبر ۱۵) ، ایک عبوری اور ابتدائی حکم پر مشتمل ہے جو اسلامی معاشرے میں اولین مرحلے میں اصلاح اور ارتقاء کے اصول کے تحت نازل ہوا۔ یہ آیت اس وقت کے مخصوص سماجی حالات کے پیش نظر عارضی انتظام کے طور پر نازل ہوئی، تاکہ بدکاری جیسے سنگین جرم سے تدریجی طور پر نمٹا جا سکے۔

بعد ازاں سورۃ النور کی آیت (آیت نمبر ۲)  نازل ہوئی جو زنا کی سزا کے سلسلے میں قطعی، دائمی اور واضح قانون کا درجہ رکھتی ہے اور پہلی آیت کو منسوخ قرار دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان دونوں آیات کی تطبیق و تشریح فرما کر عملی اور قانونی پہلو کو واضح کر دیا، جس پر تمام فقہاء اور مفسرین کا اجماع ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں کوئی تضاد نہیں بلکہ حکمت، تدریج اور قانون سازی کے اصول کا کامل اور مکمل نظام کارفرما ہے، جو انسانی نفسیات، معاشرتی ضروریات اور اصلاحی تدریج کو ملحوظ رکھ کر آیاتِ احکام کو نازل کرتا ہے۔

مراجع و مصادر

القرآن المجید، سورۃ النساء، آیت ۱۵

القرآن المجید، سورۃ النور، آیت ۲

صحیح مسلم، کتاب الحدود

تفسیر کشاف، علامہ زمخشری

احکام القرآن، امام جصاص

تفسیر ابن کثیر، جلد ۱

اصول الفقہ، امام شاطبی، باب النسخ

----------

Urdu Article Part1: Qur’anic Descriptions of the Punishment of the People of Thamūd: Perceived Contradiction or Mastery of Divine Wisdom? قومِ ثمود پر عذاب کی قرآنی تعبیرات: تضاد کا وہم یا حکمت کا کمال؟

Urdu Article Part 2Understanding the Qur'an and the Doubts of Contradiction: An Intellectual and Faith-Based Invitation to Reflection – Part 2 فہمِ قرآن اور شبہاتِ تضاد: ایک فکری اور ایمانی دعوتِ تدبر

Urdu Article Part 3Refuting Alleged Contradictions in the Noble Quran – Part 3: Clarifying the Misconception About the Creation of the Heavens and the Earth قرآنِ مجید میں تضاد کے شبہ کا علمی اور عقلی ازالہ – قسط سوم: تخلیقِ زمین و آسمان کے تضاد کا وہم

Urdu Article Part 4Creation of the Universe in Six or Eight Days? Refuting the Alleged Contradiction in the Quran – Part 4 قرآنِ مجید میں تضاد کے شبہ کا علمی اور عقلی ازالہ ، قسط چہارم:تخلیقِ کائنات کے چھ دن یا آٹھ؟ قرآن، سائنس اور تفسیر کی روشنی میں تطبیق

URL: https://newageislam.com/urdu-section/refutation-alleged-quranic-verses-punishment--part-5/d/136302

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..