غلام غوث
صدیقی
30 ستمبر 2023
اس مضمون میں ایمان ، عقیدے اور عمل کے تناظر میں مسلم ثقافت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور مشرکین مکہ کے ملت ابراہیمی سے ہونے کے دعوے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
اہم نکات
1. اسلام
کا مقصد، جیسا کہ قرآن کہتا ہے، امن کو فروغ دینا، ناانصافی کو ختم کرنا، عبادات کو
فروغ دینا، خداتعالیٰ کے تمام بندوں کے درمیان ہم آہنگی اور امن و امان کو فروغ دینا
ہے۔
2. مسلمانوں
کی اسلام کے ساتھ پختہ وابستگی کے باوجود، اس بات کے واضح آثار ملتے ہیں کہ ان کے اعمال
اسلامی تعلیمات سے براہ راست متصادم ہیں۔
3. اس مضمون
میں شادی، طلاق اور وراثت کے اسلامی اعمال کا از سر نو جائزہ لینے کی بات کی گئی ہے،
اور علما و دانشوران سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ تنازعات اور ظلم و ناانصافی کو ختم کرنے
کے متعلق مسلمانوں اور غیر مسلموں کا موازنہ کرنے سے گریز کریں۔
4. اسلامی
معاشرے بڑے پیمانے پر طلاق، جہیز اور زمینی تنازعات جیسی برائیوں میں دھنستے چلے جا
رہے ہیں، جس سے خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔
5. ہندوستان
میں، مسلم خاندانوں کو جہیز، گھریلو تشدد اور جھوٹے جنسی الزامات کا بھی سامنا کرنا
پڑ رہا ہے، لیکن الزام لگانے والے مسلمان ایسا کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔
------
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب الفوز الکبیر میں مشرکین عرب اور ملت ابراہیمی کے بارے میں لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم
میں بنیادی طور پر پانچ علوم کا ذکر ہے جو دیگر کئی علوم کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔
"علم الجدل و المخاصمہ" کے تحت مصنف لکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے کئی سورتوں اور آیات میں چار فرقوں
(مشرک، یہودی، عیسائی اور منافق) کو بڑے پیمانے پر اجاگر کیا ہے۔
انہوں
نے کہا کہ قرآن کریم نے مشرکین عرب کی بڑی بڑی غلطیوں اور گمراہیوں کو اجاگر کیا ہے
اور انہیں واضح ثبوتوں اور آفاقی نشانیوں پر مبنی اصلاح کی پیشکش کی ہے۔ قرآن کی آیات
واضح کرتی ہیں کہ زمین وآسمان کی تخلیق، سورج، چاند اور ستارے کا اللہ تعالیٰ کے حکم
کے تابع ہونا، زمین پر پہاڑوں کا ٹکاؤ، کہ وہ انسانوں وغیرہ کے ساتھ حرکت نہیں کرتے،
یہ تمام باتیں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ اللہ تعالی ایک ہے، اس کے سوا کوئی معبود
نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی مذکورہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں مشرکین عرب کے پانچ بڑے گناہوں کا ذکر ہے: شرک، تشبیہ، تحریف،
روز قیامت یا بعث بعد الموت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار۔
شاہ محدث دہلوی کے لاتعداد پیروکاروں
میں عام مسلمان اور علما دونوں طبقے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ صاحب واضح طور پر
بیان کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے ان بڑی غلطیوں کا ذکر کس طرح کیا ہے؛ اسے بیان کرنے
کا قرآن کریم کا ادبی اسلوب کیسا تھا، مشرکین کے سوالات اور اعتراضات کیا تھے، اور
قرآن کریم نے ان کا کیا جواب دیا، نیز قرآن کریم نے کس طرح تمام بنی نوع انسان کو آگاہ
کیا کہ اس مقدس کتاب میں ان اہل ایمان کے لیے واضح اشارے ہیں جو نہ صرف اپنی عقل کے
مطابق بلکہ اپنے دل کے مطابق بھی عمل کرتے ہیں اور جو نہ صرف عقیدہ رکھنے کے اہل ہیں
بلکہ اس کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔
قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے، جس
میں کسی طرح کا جبر، ظلم، زیادتی اور دہشت گردی نہیں ہے۔ اس کے بجائے اسلام انسانیت
کی فلاح و بہبود اور دنیا میں امن و اطمینان کی فضا پیدا کرنے کے لیے آیا ہے۔ لیکن
کچھ لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں۔ اسلام ناانصافی اور بدعنوانی، نیز گورے اور کالے کا
فرق ختم کرنے آیا ہے۔ اسلام مظلوموں کے دفاع اور کمزوروں اور محتاجوں کو تسلی دینے
کے لیے آیا ہے۔ یہ سچی اور پاکیزہ محبت کا پیغام لے کر آیا ہے۔ یہ ہر ایک کے لیے انصاف
اور حق کی بات کرتا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا نہ ہو۔ یہ ایمان والوں کو عبادت کے صحیح
طریقے سکھانے آیا ہے۔
اسلام تمام بنی نوع انسان
سے توبہ کا تقاضا کرتا ہے تاکہ ان کے گناہ معاف ہوں۔ اسلام لوگوں کو اس بات کی دعوت
دیتا ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھیں کہ انسان مرنے کے بعد زندہ کیے جائیں گے، قیامت قائم
ہو گی اور ان کے اعمال کا حساب ہوگا، اور اسلامی عقائد پر مضبوطی سے قائم رہیں اور
نیک اعمال کرتے رہیں۔
ایمان، عقیدہ، نماز، روزہ اور حج کی تعلیم دے کر، اسلام حقوق اللہ کی پاسداری
کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام زکوٰۃ کے ذریعے انسانی حقوق بالخصوص ضرورت مند وں کے حقوق
کی پاسداری کی تعلیم دیتا، جس کے تحت غریبوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے اور یہ
اہل ایمان پر فرض ہے۔
ان عوامل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اب شاہ صاحب کے دلائل کی طرف چلتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ مشرکین عرب اپنے آپ کو حنفاء
کہتے تھے، جو کہ حنیف کی جمع ہے۔ حنیف لفظی طور پر اس شخص کو کہتے ہیں جو نیک اعمال
کے علاوہ ہر طرح کے کفر و گمراہی سے پاک ہو۔ عرف عام میں ابراہیمی مذہب کے پیروکار
کو حنیف کہا جاتا ہے۔
مشرکین اپنے آپ کو حنفاء (حنیف کی جمع) یا ملت ابراہیمی کے پیروکار کہتے تھے، اس لیے شاہ
صاحب کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے واضح شواہد کی روشنی میں مشرکین کے اس دعوے کو رد کر
دیا ہے۔
شاہ صاحب کے مطابق عرب کے مشرکوں کو جن باتوں نے کفر اور گمراہی میں ڈالا
اور جن کی وجہ سے وہ ملت ابراہیمی سے دور ہوئے، وہ شرک، تشبیہ، تحریف، روز قیامت یا
بعث بعد الموت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار ہے۔
اس کے بعد شاہ صاحب نے تھوڑی سی مزید گہرائی میں جا کر یہ واضح کیا ہے کس
طرح تاریخ کے مختلف موڑ پر مشرکین عرب نے ملت
ابراہیمی کے بنیادی معتقدات و معمولات سے روگردانی کی۔ شاہ صاحب اپنے ذہین قارئین کے
اندر یہ خیال پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی چیز کے بارے میں دعویٰ کرنے سے وہ خود
بخود سچ نہیں ہو جاتا۔ بلکہ، دعویٰ کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے
اس کے دلائل کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
ملت ابراہیمی اپنی اصل شکل میں شرک، تشبیہ، تحریف اور انکارِ آخرت سے پاک
اچھے عقائد اور اعمال صالحہ کا نمونہ تھی۔ تاہم جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، عرب کے مشرکین
میں چوری، زنا، غصب، ناانصافی، ظلم اور سود جیسی برائیاں پھیلتی گئیں۔ جب اسلام آیا
تو اس نے نہ صرف عرب کے مشرکوں کو بلکہ باقی انسانیت کو بھی ملت ابراہیمی کی صحیح تعلیمات
سے روشناس کیا جس میں یہ غیر اخلاقی کام ممنوع تھے اور بعد میں اسلام میں بھی ممنوع
قرار پائے۔
اس مقالے کا بنیادی مقصد یہ
پیغام پہنچانا ہے کہ مسلمانوں کی اسلام کے ساتھ پختہ وابستگی کے باوجود، اس بات کے
واضح آثار ملتے ہیں کہ ان کے اعمال اسلامی تعلیمات سے براہ راست متصادم ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم اپنے دعووں کو ثابت کرنے سے قاصر ہیں، جس سے یہ ظاہر
ہوتا ہے کہ ہمارے دعوۂ اسلام کے باوجود، دراصل ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے
ہیں اور اسلام پر عمل کرنا چھوڑ چکے ہیں۔ ہمارے اخلاقی اور روحانی رویے کئی معنوں میں
فساد کا شکار ہیں۔ جب ہمیں پریشانی لاحق ہوتی
ہے تبھی ہم قادر مطلق خُدا کو یاد کرتے اور دعائیں کرتے ہیں
یہاں تک کہ ہماری پریشانی دور ہو جاتی ہے۔ تاہم، ہم اپنے اعمال، جو اکثر غیر اخلاقی ہوتے
ہیں، ان پر غور نہیں کرتے، اس لیے یہ کہنا
درست ہو گا کہ ہمارے موجودہ حالات ہمارے غیر اخلاقی اعمال کا نتیجہ ہیں۔
چونکہ ہم اسلامی کلمہ پڑھتے
ہیں اور تمام آسمانی کتابوں بشمول تورات [جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی]،
انجیل [جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی، قرآن، فرشتے، قیامت، یوم جزا اور یوم
حساب پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ان بنیادی باتوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے ہم مومن ہیں اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے جانے
جاتے ہیں۔ لیکن ہم محض برائے نام مسلمان ہیں کیونکہ ہمارے اعمال اور اخلاق اس قدر بگڑے
ہوئے ہیں کہ ان سے اسلام کی جھلک غائب ہے۔ ہماری عملی زندگی میں نہ صرف پنج وقتہ نمازیں
بلکہ اخلاقیات بھی ناپید ہو رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو
مسلمان کے طور پر پہچانے تو جاتے ہیں، لیکن ان کے طرز عمل ان کے اسلام ہی گواہی نہیں دیتے۔
بڑھتی
ہوئی جہالت اور غفلت کی وجہ سے اسلامی تعلیمات اور اسلامی اقدار کو نظر انداز کیا جا
رہا ہے۔ کچھ مسلمان چوری، سود، زنا، غیبت، دھوکہ دہی، جھوٹ، حسد، شک، غصہ، حقوق تلفی،
انسانوں کا دل توڑنے، انصاف کا گلا گھونٹنے، ظلم و ناانصافی میں شریک ہونے، لوگوں کو
نقصان پہنچانے اور ان کی زندگیوں میں ناانصافی کے پہاڑ ڈھانے جیسے جرائم کا ارتکاب
کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے غیر اخلاقی کاموں میں ملوث رہے تو انہیں نیک اور صالح مسلمان
کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اس مضمون کا مقصد
اس امر پر بحث کرنا نہیں ہے کہ یہ اسلامی قوانین کی نظر میں جرائم ہیں اور ان میں سے
کچھ ملکی قانون کی نظر میں بھی جرائم ہیں۔
آئیے غور کریں اور اپنے آپ سے پوچھیں۔ کیا ہم نے شادی اور طلاق، یا وراثت
میں زمین یا دیگر املاک کے حوالے سے اسلامی ہدایات و تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ نہیں
دیا ہے؟ طلاق کے واقعات پر بحث کرتے ہوئے ہمارے بعض دانشور مسلمانوں اور غیر مسلموں
کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پھر اچانک یہ دعوی کر بیٹھتے ہیں کہ دوسروں
کے مقابلے میں ہمارے درمیان طلاق کے واقعات بہت کم ہیں۔ کوئی موازنہ کیے بغیر، انہیں
یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اس طرح مسلم گھرانوں کے اندر طلاقوں، ناانصافیوں اور تنازعات
میں کمی نہیں آ سکتی۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا اصلاح کے لیے موازنہ ضروری
ہے بھی یا نہیں۔
ہمارے مسلم معاشرے میں طلاق عام ہے، اور جہیز کا مطالبہ زوروں پر ہے۔ جب
مسلمانوں کے گاؤں میں ایک بھائی کی زمین اور جائداد پر دوسرا بھائی ظلماً قبضہ کر لیتا
ہے، جیسا کہ اکثر بہار میں دیکھا جاتا ہے، تو بڑی بڑی مسلم پنچایتوں کے باوجود، گاؤں
کے مسلمان اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کے بجائے اس قسم کے تنازعات کا مزہ لیتے
ہیں۔
ذرائع کے مطابق، صرف بہار میں ہی ایسے بہت سے تنازعات پائے جاتے ہیں، اور
موجودہ حکومت کی چند کوششوں کے باوجود، انتظامیہ کے حکام وسیع سطح پر ان حالات پر قابو
پانے میں ناکام ہیں۔ جس کا نتیجہ جھگڑا و فساد، قتل و خونریزی اور خاندان کی تباہی
و بربادی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑے کو بہترین طریقے سے سلجھانے کے لیے اسلامی
ہدایات پر عمل کرنے کے بجائے، ایک مسلم خاندان دوسرے مسلمان خاندان کو جھوٹے الزامات
میں پھنسا کر سبق سکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تنازعات معمولی باتوں پر کھڑا
ہو جائے، لیکن ان میں الزامات اکثر سنگین، شدید اور ذہنی طور پر ہراساں کرنے والے ہوتے
ہیں، بشمول جہیز، گھریلو تشدد، اور جھوٹے جنسی الزامات کے۔ ہندوستان میں صرف مسلمانوں
کو ہی جہیز، گھریلو تشدد اور جھوٹے جنسی الزامات کا سامنا نہیں ہے، بلکہ الزام لگانے
والے بھی مسلمان ہیں جو ایسا کرتے وقت اللہ کا خوف نہیں رکھتے۔
سروے سے پتا چلا ہے کہ ایک
بڑی تعداد میں مسلم خاندان، جن میں بوڑھے، جوان، شوہر اور بیوی سب شامل ہیں، اپنی زندگی
کے کئی سال عدالتوں کے چکر کاٹنے میں ہی گنوا بیٹھے۔ بہت سے وکلاء تو صرف مقدمات کی
تاریخوں میں ہی اپنے مؤکلین کو الجھائے رکھتے ہیں، جب کہ ان میں سے کچھ ہی ایسے ہوتے
ہیں جو صحیح معنوں میں دو خاندانوں کے درمیان تنازعات کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتے
ہیں، خواہ ایسا کرنے میں ان کا ایک ساتھ آنا شامل ہو یا نہیں۔ قارئین ایسے مقدمات کی
تعداد جاننے کے لیے مزید تحقیقات کر سکتے ہیں۔
تاہم، جمعہ کے دن یہی مسلمان کرتہ پاجامہ ٹوپی پہنتے ہیں اور اپنے اسلام
کو ظاہر کرنے کے لیے خوشبو بھی لگاتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہم مسلم معاشرے کی
حالت زار سے اس قدر پریشان ہیں کہ جس کا اظہار ہم الفاظ میں بھی نہیں کر سکتے؟ یہ مسلمان
عفو و درگزر، انصاف، قرابت داری اور حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے اسلام کے تمام احکام
کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔
مشرکینِ عرب نے ایمان اور عمل دونوں لحاظ سے ملت ابراہیمی کی پیروی ترک
کر دی تھی، جب کہ مسلمانوں کے اس چھوٹے سے گروہ نے ایمان کے اعتبار سے اسلام کو نہیں
چھوڑا اور اب بھی ایمان کے لحاظ سے اسلام پر ہی کاربند ہیں، لیکن اعمال کے لحاظ سے
اسلام کو ترک کر چکے ہیں۔ لہٰذا، ان برے اعمال کا ارتکاب کرنے والے مسلمانوں کا موازنہ
مکمل طور پر مشرکین عرب سے نہیں کیا جا سکتا۔
اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ کچھ مسلمان اسلامی معمولات کی اپنی تشریح
میں اس قدر بنیاد پرست ہو چکے ہیں کہ وہ پوری دنیا میں "جہادی"، "اسلام
پسند" اور دہشت گرد کے نام سے مشہور ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض مسلمان جب تبلیغ
کے اپنے مشن پر نکلتے ہیں تو مساجد میں چولہے اور گیس کا استعمال
بھی کرتے ہیں۔ مسجدوں کے اندر ہی کھاتے پیتے، اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے ہیں۔ جب
کوئی شخص تنہا اس مسجد میں نماز پڑھ رہا ہو تو کبھی کبھار بغل میں سوئے اس تبلیغی شخص
کے خراٹے سے اسے تکلیف بھی ہو سکتی ہے۔
چند برے ا عمال، بد اخلاقی اور بد کرداری کے باوجود ان مسلمانوں کا مشرکین عرب سے مکمل طور
پر موازنہ نہیں کیا جا سکتا، لیکن بلاشبہ ضروری ہے کہ اس سے سبق حاصل کیا جائے۔ ہمیں
رک کر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اندر کتنی برائیاں داخل ہو چکی ہیں۔ ہم
یا تو اسلام کی عملی تعلیمات اور اخلاقی اقدار سے محروم ہو چکے ہیں یا ہم پر غفلت کی
شب دراز ہو چکی ہے، اور یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات سے عملی طور
پر کس حد تک دور ہو چکے ہیں۔ اسے کیسے سمجھا جائے؟ ہمیں کیسے پتہ چلے کہ ہمارے یہ دعوے
کہ ہم اسلام کے راستے پر چل رہے ہیں، جھوٹے ہیں؟
اگرچہ غیر اخلاقی اور حرام کاموں میں ملوث ہونا ہماری اسلامی ثقافت کا حصہ
ہو گیا ہے، لیکن ہم وہ لوگ ہیں جو صرف جمعہ کے دن ٹوپیاں پہن کر، عطر لگا کر اور کُرتا
پاجامہ پہن کر نکلتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہم میں سے اکثر
لوگ سال بھر لاپرواہی میں اور اسلامی اقدار اور اخلاقیات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زندگی
بسر کرتے ہیں، اور صرف جمعہ کے دن یا رمضان کے مہینے میں جب شیطان قید ہو جاتا ہے تو
مسجدوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ وہ بطور مسلمان کیسے بہتر ہو
سکتے ہیں۔
ہم مسلمان کب ان باتوں کو سمجھیں گے؟ اسلام کے بنیادی عقائد کے علاوہ اسلام
کی اخلاقی اور معنوی تعلیمات پر زور دینا ضروری ہے، مثلا نیک کام کرنا اور اچھے اخلاقی
کا حامل ہونا۔ تب جا کر ہماری ثقافت کو دین، عقیدے اور عمل کے لحاظ سے اسلامی مانا
جائے گا۔
English
Article: Reformation Is Urgently Needed As Muslim Community's
Actions Blatantly Violate Islamic Principles
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism