New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 12:11 PM

Urdu Section ( 16 Jul 2018, NewAgeIslam.Com)

Parents’ Rights After Their Death from Islamic Perspective والدین کے انتقال ہونے کے بعداولاد پر والدین کے حقوق

 

 

 

 

 

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

والدین کے انتقال ہوجانے کے بعد اولاد پر والدین کے تئیں کیا حقوق ہیں؟

اس سوال کا جواب فتاوی رضویہ (تخریج شدہ) ج ۲۴ میں شامل رسالہ ‘‘الحقوق لطرح العقوق’’ صفحہ ۳۹۲ میں ہے ، جس میں سائل (منشی شوکت علی صاحب فاروقی ) نے اعلی حضرت امام احمد رضا سے سوال کیا کہ والدین کے فوت ہو جانے کے بعد اولاد پر کیا حق والدین کا رہتا ہے؟ اس کے جواب میں اعلی حضرت درج ذیل حقوق بیان فرماتے ہیں پھر اس کے بعد ان کے ثبوت میں ۲۱ حدیثیں بقدر کفایت ذکر کرتے ہیں ۔ہم بھی ان کے اس جواب کا اقتبا س اسی ترتیب سے تحریر کرتے ہیں، جس سے ہمارے سوال کا جواب ظاہر ہو گا اور کثیر فائدے حاصل ہو ں گے ۔ فرماتے ہیں :

 (۱) (والدین کے فوت ہونے کے بعد) سب سے پہلاحق بعدموت ان کے جنازے کی تجہیز، غسل وکفن ونماز ودفن ہے اور ان کاموں میں سنن ومستحبات کی رعایت جس سے ان کے لئے ہرخوبی وبرکت ورحمت ووسعت کی امیدہو۔

(۲) ان کے لئے دعاواستغفار ہمیشہ کرتے رہنا اس سے کبھی غفلت نہ کرنا۔

(۳) صدقہ وخیرات واعمال صالحہ کاثواب انہیں پہنچاتے رہنا، حسب طاقت اس میں کمی نہ کرنا، اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نمازپڑھنا، اپنے روزوں کے ساتھ ان کے واسطے بھی روزے رکھنابلکہ جونیک کام کرے سب کاثواب انہیں اور سب مسلمانوں کوبخش دینا کہ ان سب کو ثواب پہنچ جائے گا اور اس کے ثواب میں کمی نہ ہوگی بلکہ بہت ترقیاں پائے گا۔

(۴) ان پرکوئی قرض کسی کاہو تو اس کے ادا میں حددرجہ کی جلدی وکوشش کرنا اور اپنے مال سے ان کاقرض اداہونے کو دونوں جہاں کی سعادت سمجھنا، آپ قدرت نہ ہو تو اور عزیزوں قریبوں پھرباقی اہل خیر سے اس کی ادامیں امداد لینا۔

(۵) ان پرکوئی فرض رہ گیا توبقدرقدرت اس کے ادامیں سعی بجالانا، حج نہ کیاہوتو ان کی طرف سے حج کرنا یاحج بدل کرانا، زکوٰۃ یاعشر کامطالبہ ان پر رہا تو اسے اداکرنا، نمازیا روزہ باقی ہوتو اس کاکفارہ دینا وعلٰی ہذاالقیاس ہرطرح ان کی برأت ذمہ میں جدوجہد کرنا۔

(۶) انہوں نے جو وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو حتی الامکان اس کے نفاذ میں سعی کرنا اگرچہ شرعاً اپنے اوپر لازم نہ ہواگرچہ اپنے نفس پربارہومثلاً وہ نصف جائداد کی وصیت اپنے کسی عزیز غیر وارث یا اجنبی محض کے لئے کرگئے توشرعاً تہائی مال سے زیادہ میں بے اجازت وارثان نافذ نہیں مگر اولاد کومناسب ہے کہ ان کی وصیت مانیں اور ان کی خوشخبری پوری کرنے کو اپنی خواہش پر مقدم جانیں۔

(۷) ان کی قسم بعدمرگ (ان کی وفات کے بعد ) بھی سچی ہی رکھنا مثلاً ماں باپ نے قسم کھائی تھی کہ میرابیٹا فلاں جگہ نہ جائے گا یافلاں سے نہ ملے گا یافلاں کام کرے گا تو ان کے بعد یہ خیال نہ کرنا کہ اب وہ تو نہیں ان کی قسم کاخیال نہیں بلکہ اس کاویسے ہی پابند رہنا جیساان کی حیات میں رہتا جب تک کوئی حرج شرعی مانع نہ ہو اور کچھ قسم ہی پرموقوف نہیں ہرطرح امورجائزہ میں بعد مرگ بھی ان کی مرضی کا پابند رہنا۔

(۸) ہرجمعہ کو ان کی زیارت قبر کے لئے جانا، وہاں یٰس شریف پڑھنا ایسی آواز سے کہ وہ سنیں اور اس کا ثواب ان کی روح کوپہنچانا، راہ میں جب کبھی ان کی قبرآئے بے سلام وفاتحہ نہ گزرنا۔

(۹) ان کے رشتہ داروں کے ساتھ عمربھر نیک سلوک کئے جانا۔

(۱۰) ان کے دوستوں سے دوستی نباہنا ہمیشہ ان کااعزاز واکرام رکھنا۔

(۱۱)کبھی کسی کے ماں باپ کوبراکہہ کرجواب میں انہیں برانہ کہلوانا۔

(۱۲) سب میں سخت تر وعام تر ومدام تریہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کرکے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا، اس کے سب اعمال کی خبرماں باپ کوپہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں توخوش ہوتے ہیں اور ان کاچہرہ فرحت سے چمکتا اوردمکتاہے، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پرصدمہ ہوتاہے، ماں باپ کایہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔

اﷲ غفوررحیم عزیز کریم جل جلالہ صدقہ اپنے رؤف رحیم علیہ وعلٰی آلہ افضل والتسلیم کا ہم سب مسلمانوں کو نیکیوں کی توفیق دے گناہوں سے بچائے، ہمارے اکابر کی قبروں میں ہمیشہ نور وسرورپہنچائے کہ وہ قادر ہے اور ہم عاجز، وہ غنی ہے ہم محتاج،

وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل نعم المولٰی ونعم النصیر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم، وصلی اﷲ تعالٰی علی الشفیع علی الرفیع العفو الکریم الرؤف الرحیم سیّدنا محمّد واٰلہٖ واصحابہٖ اجمعین اٰمین والحمدﷲ ربّ العٰلمین۔

(فتاوی رضویہ تخریج شدہ ج ۲۴ ‘‘رسالہ الحقوق لطرح العقوق’’ نافرمانی کو ختم کرنے کے لیے حقوق کی تفصیل، ص ۳۹۲ تا ۳۹۴)

اس کے بعد اعلی حضرت ۲۱ حدیثیں ذکر کرتے ہیں جن سے انہوں نے مندرجہ بالا حقوق استخراج کئے۔

آپ خود فرماتے ہیں:

‘‘اب وہ حدیثیں جن سے فقیر (امام احمد رضا ) نے یہ حقوق استخراج کئے ان میں سے بعض بقدرکفایت ذکرکروں:

حدیث ۱ : کہ ایک انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے خدمت اقدس حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکرعرض کی : یارسول اﷲ ! ماں باپ کے انتقال کے بعد کوئی طریقہ ان کے ساتھ نکوئی کاباقی ہے جسے میں بجالاؤں ۔فرمایا :

نعم اربعۃ الصلاۃ علیھما والاستغفار لھما وانفاذ عھدھما من بعدھما واکرام صدیقھما وصلۃ الرحم التی لارحم لک الا من قبلھما فھذا الذی بقی من برھما بعد موتھما۔ رواہ ابن النجار ۱؎ عن ابی اسید الساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ مع القصۃ، ورواہ البیھقی۲؎ فی سننہ عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایبقی للولد من برالوالد الا اربع الصلٰوۃ علیہ والدعاء لہ وانفاذ عھدہ من بعدہ وصلۃ رحمہ واکرام صدیقہ۔

ہاں چار باتیں ہیں : ان پرنماز، اورا ن کے لئے دعاء مغفرت، اور ان کی وصیت نافذ کرنا، اور ان کے دوستوں کی بزرگ داشت، اور جو رشتہ صرف انہیں کی جانب سے ہونیک برتاؤ سے اس کا قائم رکھنا، یہ وہ نکوئی ہے کہ ان کی موت کے بعد ان کے ساتھ کرنی باقی ہے (ابن نجار نے ابی اسید ساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مع قصہ کے روایت کیا۔ اوربیہقی نے اپنی سنن میں انہیں روایت کیا، اور بیہقی نے اپنی سنن میں انہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا، کہافرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے : والد کے ساتھ نیکی کی چارباتیں ہیں: اس پرنماز پڑھنا اور اس کے لئے دعامغفرت کرنا، اس کی وصیت نافذ کرنا، اس کے رشتہ داروں سے نیک برتاؤ کرنا، اس کے دوستوں کا احترام کرنا۔ت)

(۱؎ کنزالعمال   بحوالہ ابن النجار   حدیث ۴۵۹۳۴  موسسۃ الرسالۃ بیروت   ۱۶ /۵۷۹) (۲؎ السنن الکبرٰی  کتاب الجنائز  باب مالا یستحب لولی المیت الخ   دارصادر بیروت   ۴ /۶۱ و ۶۲)

حدیث ۲ـ : کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :

استغفار الولد لابیہ من بعد الموت من البر۔ رواہ ابن النجار عن ابی اسید بن مالک بن زر ارۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک سے یہ بات ہے کہ اولاد ان کے بعد ان کے لئے دعاء مغفرت کرے (ابن النجار نے ابی اسید بن مالک بن زرارہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)

(کنزالعمال   بحوالہ ابن النجار   حدیث ۴۵۴۴۹   موسسۃ الرسالۃ بیروت   ۱۶ /۴۶۳)

حدیث ۳ : کہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

اذا ترک العبد الدعاء للوالدین فانہ ینقطع عنہ الرزق ۔ رواہ الطبرانی فی التاریخ والدیلمی عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

آدمی جب ماں باپ کے لئے دعاچھوڑ دیتا ہے اس کارزق قطع ہوجاتاہے (طبرانی نے تاریخ میں اور دیلمی نے انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)

(کنزالعمال ، الطبرانی فی التاریخ والدیلمی عن انس حدیث ۴۵۵۵۶  موسسۃ الرسالۃ بیروت  ۱۶ /۴۸۲)

حدیث ۴ و ۵ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

اذا تصدق احدکم بصدقۃ تطوعا فلیجعلھا عن ابویہ فیکون لہما اجرھا ولاینقص من اجرہ شیئا۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط ۱؎ وابن عساکر۲؎ عن عبداﷲ بن عمر ورضی اﷲ تعالٰی عنہما ونحوہ الدیلمی فی مسند الفردوس ۳؎ عن معٰویۃ ابن حیدۃ القشیری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

جب تم سے کوئی شخص کچھ نفل خیرات کرے تو چاہئے کہ اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرے کہ اس کا ثواب انہیں ملے گا اور اس کے ثواب میں سے کچھ نہ گھٹے گا (اس حدیث کوطبرانی نے اوسط میں اور ابن عساکر نے عبداﷲ بن عمرورضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا اور ایسے ہی دیلمی نے مسند الفردوس میں معاویہ ابن حیدہ قشیرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)

(۱؎ المعجم الاوسط   حدیث ۶۹۴۶   مکتبۃ المعارف ریاض   ۷ /۴۷۹) (۲؎ الجامع الصغیر  بحوالہ ابن عساکر   حدیث ۷۹۴۳  دارالکتب العلمیہ بیروت   ۲ /۴۸۵) (۳؎ الفردوس بماثور الخطاب  عن معاویہ بن حیدۃ   حدیث ۶۳۴۲  دارالکتب العلمیہ بیروت  ۴ /۱۰۹)

حدیث ۶ : کہ ایک صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حاضرہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی میں نیک سلوک کرتاتھا اب وہ مرگئے ان کے ساتھ نیک سلوک کی کیا راہ ہے؟ فرمایا :

ان من البربعد الموت ان تصلی لھما مع صلٰوتک وتصوم لھما مع صیامک۔ رواہ الدارقطنی۔

بعد مرگ نیک سلوک سے یہ ہے کہ تواپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لئے روزے رکھے (اسے دارقطنی نے روایت کیا۔ت)

(ردالمحتار  بحوالہ الدارقطنی   کتاب الحج   باب الحج عن الغیر  داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۳۷)

یعنی جب اپنے ثواب ملنے کے لئے کچھ نفلی نمازپڑھے یاروزے رکھے تو کچھ نفل نماز ان کی طرف کہ انہیں ثواب پہنچائے یانماز روزہ جونیک عمل کرے ساتھ ہی انہیں ثواب پہنچنے کی بھی نیت کرلے کہ انہیں ثواب ملے گا اور تیرا بھی کم نہ ہوگا،

کما یدل علیہ لفظ _مع_ انہ یحتمل لوجھین بل ھذا الصق بالمعیۃ۔

جیسا کہ لفظ __مع__ اس پر دال ہے کیونکہ اس میں مذکورہ دونوں احتمال ہیں بلکہ آخری وجہ معیت کو زیادہ مناسب ہے۔(ت)

محیط پھرتاتارخانیہ پھرردالمحتار میں ہے :

الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولاینقص من اجرہ شیئ۔

جوشخص نفلی صدقہ دے اس کے لئے افضل یہ ہے کہ تمام ایمان والوں کی نیت کرے کیونکہ انہیں بھی ثواب پہنچے گا اور اس کاثواب بھی کم نہ ہوگا۔ت)

(ردالمحتار  بحوالہ الدارقطنی   کتاب الحج   باب الحج عن الغیر  داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۳۶)

حدیث۷ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

من حجّ عن والدیہ اوقضی عنہما مغرما بعثہ اﷲ یوم القیٰمۃ مع الابرار ۔ رواہ الطبرانی ۱؎ فی الاوسط والدار قطنی ۲؎ فی السنن عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔

جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے یا ان کا قرض اداکرے روزقیامت نیکوں کے ساتھ اُٹھے (اسے طبرانی نے اوسط میں اور دارقطنی نے سنن میں ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)

(۱؎ المعجم الاوسط حدیث ۷۷۹۶ ، مکتبۃ المعارف ریاض   ۸ /۳۹۳) (۲؎ سنن الدارقطنی  کتاب الحج   باب المواقیت حدیث ۱۱۰  نشرالسنۃ ملتان   ۲ /۲۶۰)

حدیث ۸ : امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر اسی ہزار قرض تھے وقت وفات اپنے صاحبزادے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کو بلاکرفرمایا :

بع فیھا اموال عمر فان وفت والا فسل بنی عدی فان وفت والافسل قریشا ولاتعدھم۔

میرے دین (قرض) میں اول تومیرا مال بیچنا اگرکافی ہوجائے فبہا ورنہ میری قوم بنی عدی سے مانگ کرپوراکرنا اگریوں بھی پورا نہ ہو توقریش سے مانگنا اور ان کے سوا اوروں سے سوال نہ کرنا۔ پھرصاحبزادہ موصوف سے فرمایا : اضمنھا تم میرے قرض کی ضمانت کرلو، وہ ضامن ہوگئے اور امیرالمؤمنین کے دفن سے پہلے اکابر مہاجرین وانصار وگواہ کرلیا کہ وہ اسی ہزار مجھ پر ہیں، ایک ہفتہ نہ گزرا تھا کہ عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وہ سارا قرض ادافرمادیا۔

رواہ ابن سعد فی الطبقات عن عثمان بن عروۃ (اسے ابن سعد نے طبقات میں عثمان بن عروہ سے روایت کیا۔ت)

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکراستخلاف عمررضی اﷲ عنہ  دارصادر بیروت  ۳ /۳۵۸)

حدیث ۹: قبیلہ جہینہ سے ایک بی بی رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے خدمت اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضرہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! میری ماں نے حج کرنے کی منت مانی تھی وہ ادانہ کرسکیں اور ان کاانتقال ہوگیا کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں، فرمایا:

حجی عنھا ارأیت لوکان علی امک دین اکنت قاضیتہ اقضوا اﷲ فاﷲ احق بالوفاء۔ رواہ البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔

ہاں اس کی طرف سے حج کر، بھلاتو دیکھ توتیری ماں پر اگر دَین ہوتا تو تو اداکرتی یانہیں؟ یونہی خدا کادَین اداکرو کہ وہ زیادہ حق ادارکھتاہے(اسے بخاری نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)

( صحیح البخاری   ابواب العمرۃ   باب الحج والنذر عن المیت   قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۰) (صحیح البخاری   کتاب الاعتصام   باب شبّہ اصلاً معلوماً الخ   قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۱۰۸۸)

حدیث ۱۰ : فرماتے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:

اذا حج الرجل عن والدیہ تقبل منہ ومنھما واستبشرت ارواحھما فی السماء وکتب عند اﷲ برا۔ رواہ الدار قطنی عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

انسان جب اپنے والدین کی طرف سے حج کرتاہے وہ حج اس کی اور اس کے والدین کی طرف سے قبول کیاجاتا ہے اور ان کی روحیں آسمان میں اس سے شاد ہوتی ہیں، اور یہ شخص اﷲ عزوجل کے نزدیک ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا لکھاجاتا ہے(اسے دارقطنی نے زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)

(سنن الدارقطنی کتاب الحج  باب المواقیت   حدیث ۱۰۹  نشرالسنۃ ملتان ۲ /۲۶۰)

حدیث ۱۱ : کہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

من حج عن ابیہ وامہ فقد قضی عنہ حجتہ فکان لہ فضل عشر حجج۔ رواہ الدارقطنی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔

جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے ان کی طرف سے حج اداہوجائے اور اسے دس حج کا ثواب زیادہ ملے۔(دارقطنی نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)

(سنن الدارقطنی  کتاب الحج   باب المواقیت   حدیث ۱۱۲ نشرالسنۃ ملتان   ۲ /۲۲۰)

حدیث ۱۲ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

من حج عن والدیہ بعد وفاتھما کتب لہ عتقا من النار وکان للمحجوج عنھما اجر حجۃ تامۃ من غیران ینقص من اجورھما شیئا۔ رواہ الاصبھا نی فی الترغیب والبیھقی فی الشعب عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔

جو اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کی طرف سے حج کرے اﷲ تعالٰی اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھے اور ان دونوں کے واسطے پورے حج کاثواب ہو جس میں اصلاً کمی نہ ہو۔ (اسے ابہانی نے ترغیب میں اور بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)

(شعب الایمان   حدیث ۷۹۱۲  دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۶ /۲۰۵)

حدیث ۱۳ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

من برقسمھما وقضی دینھما ولم یستسب لھما کتب بارا و ان کان عاقا نی حیاتہ و من لم یبر قسمھما ولم یقض دینھما و استسب لھما کتب عاقا وان کان بارا فی حیاتھما۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن عبدالرحمٰن بن سمرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

جو شخص اپنے ماں باپ کے بعد ان کی قسم سچی کرے اور ان کا قرض اداکرے اور کسی کے ماں باپ کو براکہہ کر انہیں برا نہ کہلوائے وہ والدین کے ساتھ نکوکار لکھاجاتاہے اگرچہ ان کی زندگی میں نافرمان تھا اور جو ان کی قسم پوری نہ کرے اور ان کا قرض نہ اتارے اوروں کے والدین کو براکہہ کر انہیں برا کہلوائے وہ عاق لکھاجائے اگرچہ ان کی حیات میں نکوکارتھا (اسے طبرانی نے اوسط میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)

(المعجم الاوسط  حدیث ۵۸۱۵  مکتبۃ المعارف ریاض   ۶ /۳۸۴)

حدیث ۱۴ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

من زارقبر والدیہ اواحدھما فی کل یوم جمعۃ مرۃ غفراﷲ لہ وکتب برا۔ رواہ الامام الترمذی العارف باﷲ الحکیم فی نوادر الاصول عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔

جو اپنے ماں باپ دونوں یا ایک کی قبر پرہرجمعہ کے دن زیارت کوحاضرہوا ﷲ تعالٰی اس کے گناہ بخش دے اور ماں باپ کے ساتھ اچھابرتاؤ کرنے والا لکھاجائے (الامام الحکیم عارف باﷲ ترمذی نے نوادر الاصول میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)

(نوادرالاوصول للترمذی الاصل الخامس عشر  دارصادر بیروت   ص۲۴)

حدیث ۱۵ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

من زارقبر ابویہ اواحدھما یوم الجمعۃ فقرأ عندہ یٰس غفرلہ۔ رواہ ابن عدی ۳؎ عن الصدیق الاکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفی لفظ من زار قبروالدیہ اواحدھما فی کل جمعۃ فقرأ عندہ یٰس غفراﷲ لہ بعدد کل حرف منھا۔ رواہ ھو دالخلیلی وابوشیخ والدیلمی۱؎وابن النجار والرافعی وغیرھم عن ام المؤمنین الصدیقۃ عن ابیھا الصدیق الاکبر رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔

جو شخص روزجمعہ اپنے والدین یا ایک کی زیارت قبر کرے اور اس کے پاس یٰس پڑھے بخش دیاجائے (اسے عدی نے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ اور دیگر الفاظ میں۔ت) جو ہرجمعہ والدین یا ایک کی زیارت قبر کرکے وہاں یٰس پڑھے یٰس شریف میں جتنے حرف ہیں ان سب کی گنتی کے برابر اﷲ تعالٰی اس کے لئے مغفرت فرمائے (اسے روایت کیاترمذی، الخلیلی اور ابوشیخ اور دیلمی اور ابن نجار اور رافعی وغیرھم نے ام المومنین صدیقہ سے انہوں نے اپنے والدگرامی صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے۔ت)

(الکامل لابن عدی   ترجمہ عمربن زیادبن عبدالرحمان بن ثوبان   دارالفکر بیرو ت   ۵ /۱۸۰۱)

(۱؎ اتحاف السادۃ للمتقین   بحوالہ ابی الشیخ وغیرہ   بیان زیارۃ القبور والدعاء للمیت  دارالفکر بیروت   ۱۰ /۳۶۳)        

حدیث ۱۶ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

من زارقبر ابویہ اواحدھما احتسابا کان کعدل حجۃ مبرورۃ ومن کان زوارا لھما زارت الملئکۃ قبرہ۔ رواہ الامام الترمذی الحکیم وابن عدی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔

جو بہ نیت ثواب اپنے والدین دونوں یا ایک کی زیارت قبرکرے حج مقبول کے برابرثواب پائے، اور جوبکثرت ان کی زیارت قبرکیاکرتاہو فرشتے اس کی قبر کی زیارت کوآئیں(حکیم ترمذی اور ابن عدی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)

( نوادرالاصول للترمذی   الاصل الخامس عشر  دارصادربیروت  ص۲۴) (الکامل لابن عدی   ترجمہ حفص بن سلمہ الخ  دارالفکر بیروت   ۲ /۸۰۱)

امام ابن الجوزی محدث کتاب عیون الحکایات میں بسند خود محمدابن العباس وراق سے روایت فرماتے ہیں ایک شخص اپنے بیٹے کے ساتھ سفرکو گیا راہ میں باپ کا انتقال ہوگیا وہ جنگل درختان مقل یعنی گوگل کے پیڑوں کاتھا ان کے نیچے دفن کرکے بیٹا جہاں جاناتھا چلاگیا جب پلٹ کر آیا اس منزل میں رات کو پہنچا باپ کی قبر پر نہ گیا توناگاہ سنا کہ کوئی کہنے والاکہتاہے :

رأیتک تطوی الدوم لیلا ولاترٰی   علیک باھل الدوم ان تتکلما

وبالدوم ثا ولو ثویت مکانہ       فمر باھل الدوم عاج فسلما

(میں نے تجھے دیکھا کہ تو رات میں اس جنگل کو طے کرتاہے اور وہ جو ان پیڑوں میں ہےاس سے کلام کرنا اپنے اوپرلازم نہیں جانتا حالانکہ ان درختوں میں وہ مقیم ہے کہ اگر اس کی جگہ تو ہوتا اور وہ یہاں گزرتا تو وہ راہ سے پھرکر آتا اور تیری قبرپر سلام کرتا۔ت)

(شرح الصدور   بحوالہ عیون الحکایات   باب زیارۃ القبور علم الموتی     خلافت اکیـڈمی منگورہ سوات ص۹۱)

حدیث ۱۷ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

من احب ان یصل اباہ فی قبرہ فلیصل اخوان ابیہ من بعدہ۔ رواہ ابویعلٰی وابن حبان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔

جوچاہے کہ باپ کی قبرمیں اس کے ساتھ حسن سلوک کرے وہ باپ کے بعد اس کے عزیزوں دوستوں سے نیک برتاؤ رکھے(ابویعلٰی وابن حبان نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)

(مسند ابویعلٰی  حدیث ۵۶۴۳  مؤسسۃ علوم القرآن بیروت   ۵ /۲۶۰)

حدیث ۱۸ : فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

من البر ان تصل صدیق ابیک، رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔

باپ کے ساتھ نیکوکاری سے ہے یہ کہ تو اس کے دوست سے اچھابرتاؤ کرے۔ (طبرانی نے اوسط میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)

(المعجم الاوسط   حدیث ۷۲۹۹   مکتبۃ المعارف ریاض     ۸ /۱۴۹)

حدیث ۱۹ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

ان البر ان یصل الرجل اھل ود ابیہ بعد ان یولی الاب ۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری فی الادب المفرد و مسلم فی صحیحہ وابوداؤد والترمذی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔

بے شک باپ کے ساتھ سب نکوکاریوں سے بڑھ کریہ نکوکاری ہے کہ آدمی باپ کے بعد اس کے دوستوں سے اچھی روش پرنباہے (اسے ائمہ کرام احمد اور بخاری نے ادب المفرد میں اور مسلم نے اپنی صحیح میں اور ابوداؤد اور ترمذی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)

(صحیح مسلم   کتاب البر والصلۃ   باب فضل صلۃ اصدقاء الاب والام   قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۳۱۴)

(کنزالعمال   بحوالہ حم خذم ، د، ت  حدیث ۴۵۴۶۲  موسسۃ الرسالۃ بیروت   ۱۶ /۴۶۵)

حدیث ۲۰ : کہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

احفظ ودّ ابیک لاتقطعہ فیطفئ اﷲ نورک۔ رواہ البخاری فی الادب المفرد والطبرانی فی الاوسط والبیھقی فی الشعب عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔

اپنے ماں باپ کی دوستی پرنگاہ رکھ اسے قطع نہ کرنا کہ اﷲ تعالٰی نور تیرا بجھادے گا(اسے بخاری نے ادب المفرد میں اور طبرانی نے اوسط میں اور بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)

(المعجم الاوسط   حدیث ۸۶۲۸   مکتبۃ المعارف ریاض  ۹/ ۲۸۸)

(کنزالعمال  بحوالہ خد، طس، ھب عن ابن عباس   حدیث ۴۵۴۶۰  مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۶۴)

حدیث ۲۱ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :

تعرض الاعمال یوم الاثنین والخمیس علی اﷲ تعالٰی وتعرض علی الانبیاء وعلی الاباء والامھات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتھم ویزدادون وجوھھم بیضاء ونزھۃ فاتقوا اﷲ ولا توذوا موتاکم۔ رواہ الامام الحکیم عن والد عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

ہردوشنبہ وپنجشنبہ کو اﷲ عزوجل کے حضوراعمال پیش ہوتے ہیں اور انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والتسلیم اور ماں باپ کے سامنے ہرجمعہ کو، وہ نیکیوں پرخوش ہوتے ہیں اور ان کے چہروں کی صفائی وتابش بڑھ جاتی ہے، تو اﷲ سے ڈرو اور اپنے مردوں کو اپنے گناہوں سے رنج نہ پہنچاؤ (اسے امام حکیم نے اپنے والد عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)

(نوادرالاصول للترمذی   الاصل السابع والستون والمائۃ الخ  دارصادر بیروت   ص۲۱۳)

بالجملہ والدین کا حق وہ نہیں کہ انسان اس سے کبھی عہدہ برآہو وہ اس کے حیات ووجود کے سبب ہیں تو جوکچھ نعمتیں دینی ودنیوی پائے گاسب انہیں کے طفیل میں ہوئیں کہ ہرنعمت وکمال وجود پرموقوف ہے اور وجود کے سبب وہ ہوئے تو صرف ماں باپ ہونا ہی ایسے عظیم حق کاموجب ہے جس سے بری الذمہ کبھی نہیں ہوسکتا نہ کہ اس کے ساتھ اس کی پرورش میں ان کی کوششیں، اس کے آرام کے لئے ان کی تکلیفیں خصوصاً پیٹ میں رکھنے، پیداہونے میں، دودھ پلانے میں ماں کی اذیتیں، ان کا شکر کہاں تک ادا ہو سکتاہے، خلاصہ یہ کہ وہ اس کے لئے اﷲ ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سائے اور ان کی ربوبیت ورحمت کے مظہرہیں، ولہٰذا قرآن عظیم میں اﷲ جل جلالہ، نے اپنے حق کے ساتھ ان کا ذکرفرمایا کہ

‘‘ان اشکرلی ولوالدیک’’ ، ّ(ترجمہ ) حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔ (القرآن الکریم   ۳۱ /۱۴)

حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حاضر ہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! ایک راہ میں ایسے گرم پتھروں پر کہ اگرگوشت ان پرڈالا جاتاکباب ہوجاتا میں ۶میل تک اپنی ماں کو گردن پرسوار کرکے لے گیاہوں کیا میں اب اس کے حق سے بری ہوگیا۔

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :

لعلہ ان یکون بطلقۃ واحدۃ۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن بریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

تیرے پیداہونے میں جس قدر دردوں کے جھٹکے اس نے اٹھائے ہیں شاید ان میں سے ایک جھٹکے کابدلہ ہوسکے (اسے طبرانی نے اوسط میں بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)

(کنزالعمال   بحوالہ طس عن بریدہ   حدیث ۴۵۵۰۶   مؤسسۃ الرسالۃ بیروت  ۱۶ /۴۷۳) (مجمع الزوائد  بحوالہ الطبرانی فی الصغیر   کتاب البروالصلۃ باب ماجاء فی البر وحق الوالدین   دارالکتب ۸ /۱۳۷)

اﷲ عزوجل عقوق سے بچائے اور ادائے حقوق کی توفیق عطافرمائے

اٰمین اٰمین برحمتک یا ارحم الراحمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیّدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین اٰمین والحمدﷲ ربّ العٰلمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

(فتاوی رضویہ ج ۲۴ تخریج شدہ ، رسالۃ الحقوق لطرح العقوق ، ص ۳۹۴ تا ۴۰۳)

خلاصہ کلام یہ کہ والدین کے فوت ہونے کے بعد اولاد کو چاہیے کہ وہ ان کے جنازے کی تجہیز، غسل وکفن و نماز وتدفین کو سنن و مستحبات کی رعایت کے ساتھ ادا کریں ، ان کے لیے ہمیشہ دعاواستغفار کرتے رہیں ، صدقہ وخیرات واعمال صالحہ کا ثواب انہیں ہمیشہ پہنچاتے رہیں ، اپنی نماز اور روزوں کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھیں اور ان کے واسطے بھی روزے رکھیں، والدین پر کوئی قرض ہو تو اسے جلدی ادا کریں ، ان پر کوئی فرض رہ گیا ہو تو بقدر قدرت اسے پورا کریں مثلا ان کی طرف سے حج بدل کرانا وغیرہ ، اگر والدین نے کوئی وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو تو اس کے نفاذ کی حتی المقدور کوشش کرنا ، ان کی قسم پوری کرنا ، ہر جمعہ کو ان کی زیارت قبر کے لیے جانا ، وہاں یس شریف کی تلاوت کرنا اور اس کا ثواب ان کی روح کو پہنچانا ، والدین کے رشتہ داروں، دوستوں کے ساتھ عمر بھر نیک سلوک کرنا اور ان کا اعزاز و اکرام کرنا ،اور اسی طرح کوئی گناہ کرکے انہیں قبر میں ایذا نہ پہنچانا وغیرہ ۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/parents’-rights-after-their-death-from-islamic-perspective---والدین-کے-انتقال-ہونے-کے-بعداولاد-پر-والدین-کے-حقوق/d/115855

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..