New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 03:51 AM

Urdu Section ( 25 Dec 2018, NewAgeIslam.Com)

Hazrat Nizamuddin Aulia- His Life And Sayings حضرت نظام الدین اولیا محبوب الہی کی زندگی اور تعلیمات

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

 سلطان  المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ شیخ فرید الدین گنج شکر کے خلفا میں سے تھے۔آپ کا نام محمد بن احمد بن علی بخاری اور آپ کا لقب سلطان المشائخ نظام الدین اولیا تھا ۔اللہ تعالی کی بارگاہ میں محبوب اور مقرب تھے۔آپ کی برکات کے اثرات سے ہندوستان لبریز ہے ۔آپ کے دادا علی بخاری اور نانا خواجہ عرب دونوں اکٹھے بخارا سے  لاہور تشریف لائے ۔یہاں ایک طویل عرصہ رہنے کے بعد بدایوں چلے گئے اور وہاں مستقل سکونت اختیار کی ۔ (اخبار الاخیار، شیخ عبد الحق محدث دہلوی)

حضرت نظام الدین کے نانا کا نام  شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی تصنیف اخبار الاخیار کے مطابق خواجہ عرب اور والد کا نام  علامہ شاہ مراد سہروردی کی تصنیف محفل اولیا  کے مطابق خواجہ احمد عرب ہے ۔

محفل اولیا میں ہے کہ ‘‘آپ کے والد خواجہ احمد عرب بڑے باکمال صالح اور صاحب دل بزرگ تھے۔فرمان روائے وقت نے انہیں منتخب کرکے بدایوں کا قاضی مقرر کردیا تھا ۔آپ کی والدہ بی بی زلیخا بھی بہت بزرگ تھیں بدایوں ہی میں شادی ہوئی اور یہیں آپ پیدا ہوئے ۔ ۲۷ صفر ۶۳۴ ھ میں ادھر آپ پیدا ہوئے ادھر دہلی میں اگلے ہی مہینے اس سن میں حضرت قطب الاقطاب صاحب کا انتقال ہو گیا ’’۔

جب  حضرت نظام الدین پانچ ہی برس کے تھے کہ آپ کے والد ماجد دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ کا مزار بدایوں میں ہے جو زیارت گاہ خلائق بنا ہوا ہے ۔اس کے بعد آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو ایک مدرسہ میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے داخل کرایا ، جہاں آ پ نے قرآن کریم کے علاوہ دیگر دینیات پڑھنی شروع کیں۔

آپ کی والدہ محترمہ نے نہایت توجہ سے آپ کی تعلیم دلائی اور فارغ التحصیل ہو گئے ۔جب پچیس برس کی عمر ہو گئی تو آ پ اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ لے کر دہلی گئے اور پہلے پرانے قلعہ کے قریب ایک شخص کے دروازہ میں قیام کیا اور پھر ایک دوسرے کے خس پوش بام پر رہنے لگے ۔ مولانا شمس الدین شمس الملک جیسے نامور فاضل وقت کے درس میں شریک ہو گئے ۔مقامات حریری انہی سے پڑھی ۔مولانا کمال الدین زاہد سے مشارق الانوار پڑھی۔ (محفل اولیا)

اخبار الاخیار میں ہے کہ حضرت نظام الدین نے  صدر ولایت شمس الملک سے علم حدیث بھی پڑھی ۔اور آپ چونکہ علم منطق میں ماہر تھے اس لیے دوسرے طلبا آپ کو نظام الدین منطقی کہا کرتے تھے۔

یہ زمانہ بڑے فقر وفاقہ میں گزرا اور تنگی تو ابتدا ہی سے تھے ۔جب گھر میں فاقہ ہوتا تو ماں کہتیں کہ بیٹا آج روزہ ہے  اور آپ خوش ومطمئن ہو جاتے ۔ (محفل اولیا)

دہلی سے فراغت تعلیم کے بعد شیخ بابا فرید الدین گنج شکر کے شوق ارادت میں حضرت نظام الدین اولیا پاک پتن تشریف لے گئے اس وقت آپ کی عمر بیس سال کی تھی ، پاک پتن پہنچ کر آپ نے شیخ فرید سے قرآن کریم کے چھ پارے تجوید کے ساتھ پڑھے ، عوارف کے چھ باب کا درس لیا، تمہید ابو شکور سلمی اور بعض دیگر کتب بھی شیخ فرید الدین سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔(اخبار الاخیار)

حضرت نظام الدین نے بابا فریدالدین گنج شکر سے عرض کیا کہ ‘‘کیا اب ترک تعلیم کرکے مصروف عبادت رہوں ’’ تو جواب ملا ‘‘میں کسی کو تعلیم سے نہیں روکتا یہ بھی کرو وہ بھی کرو’’ پھر فرمایا،  ‘‘درویش کے لیے علم ضروری ہے  تاکہ وہ فریب شیطان سے محفوظ رہے’’ (محفل اولیا) ۔اس جوابی جملوں میں آج کے جاہل پیروں اور نام نہاد صوفیوں کے لیے مقام عبرت ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ علوم شرعیہ کے حصول کی انہیں کوئی ضرورت نہیں۔حضرت بابا فرید کا یہ جملہ کہ درویش کے لیے علم ضروری ہے سے یقینا علوم دینیہ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ انہی علوم سے شیطان کے فریب سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔واللہ اعلم بالصوا ب

۶۷۲ ھ میں حضرت نظام الدین کو خلافت بھی عطا کر دی گئی ۔آپ فرماتے ہیں کہ ان دنوں شیخ بابا فرید پر بڑی تنگی تھی ، مرید ہی اپنے ہاتھوں لکڑیاں پانی اور کریر لاتے اور وہ ابال کر سب کھاتے ایک روز میں نے تھوڑا سان نمک ڈال دیا تو آپ نے فرمایا مشتہ ہے نہیں کھاتا، حضرت نظام الدین نے عرض کی قرض لاکر نمک ڈالا ہے تو حضرت نے فرمایا درویش فاقوں سے مر جائیں گے مگر لذت نفس کے لیے قرض نہ لیں گے ۔اس لیے کہ قرض اور توکل میں بعد المشرقین ہے ۔لیکن مجھے چلتے وقت دعا دی کہ تو کسی کا محتاج نہ رہے گا ، اور دشمنوں کو خوش رکھنا اور جس سے کبھی قرض لیا ہو اسے ادا کرنا ۔(محفل اولیا )

 حضرت دہلی آکر پہلے جنگلوں میں مصروف عبات رہے پھر غیبی حکم سے آپ غیاث پورہ آ گئے اور ہدایت خلق میں مشغول ہو گئے ، ریاضات شاقہ کرتے رہے ، ہمیشہ روزہ دار رہے ، اور افطار کرتے بھی تو باسی روٹی کھاتے ۔بعض اوقات روزہ پر روزہ رکھا خادم زور دیتے تو فرماتے  درویش تو فاقے پڑے رہے ہیں اور میں حلق سے روٹی اتاروں یہ کیونکر ممکن ہے ۔(محفل اولیا)

محفل اولیا اور اخبار الاخیار دونوں کتابوں میں  یہ واقعہ مذکور ہے لیکن ہم اخبار الاخیار  اردو ایڈیشن کے الفاظ نقل کر رہے ہیں کہ جب غیاث پورہ میں حضرت کے قیام فرمانے کے بعد جب معز الدین کیقباد نے وہاں ایک نیا شہر آباد کرنا چاہا تو اس وقت لوگ بڑی کثرت سے میرے پاس آنے لگے ، یہاں تک بادشاہ ، رئیس وامیر سبھی لوگ میری طرف رجوع کرنے لگے تو میرے دل میں خیال آیا کہ اب یہاں سے بھی چلا جانا چاہیے ، میں اسی خیال میں تھا کہ ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد میرے پاس ایک نازک اندام خوبصور ت آدمی آیا اور اس نے یہ شعر پڑھا :

آں روز کہ مہ شدی نمی دانستی

کانگشت نمائے عالمے خواہی شد

یعنی جب آپ ماہتاب بنے تھے اس وقت یہ کیوں نہ سمجھا کہ تم دنیا کے انگشت نما بنوگے

پھر اس جوان نے کہا کہ طریقہ یہ ہے کہ اول تو مشہور ہی نہ ہونا چاہیے اور اگر شہرت عام ہو جائے تو پھر اس طرح رہنا چاہیے کہ کل کو محشر کے میدان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے ۔پھر فرمایا کہ یہ قوت اور حوصلہ کی بات نہیں کی مخلوق اللہ سے پوشیدہ ہو کر خدا کی یاد کی جائے ، بلکہ قوت اور حوصلہ تو یہ ہے کہ مخلوق اللہ میں رہ کر خدا کی یاد کی جائے ۔۔۔۔۔حضرت نظام الدین نے اس وقت اپنے دل سے عہد کر لیا کہ اب یہاں سے کسی اور جگہ نہ جاوں گا ۔(اخبار الاخیار)

حضرت محبوب الہی  نظام الدین اولیا او رمسئلہ سماع

ایک مرتبہ محبوب الہی حضرت نظام الدین اولیا نے فرمایا کہ سماع نہ مطلقا جائز ہے نہ مطلقا ناجائز وحرام ہے ۔لوگوں نے دریافت کیا ، حضرت سماع کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا جیسے سننے والے ہوں (پھر تفصیل سے فرمایا ) کہ سماع تو ایک خوش اوربہترین آواز کے سننے کا نام ہے اس لیے اسے ناجائز نہیں کہا جا سکتا البتہ وہ سماع جس میں مزامیر اور باجے وغیرہ ہوں وہ سب کے نزدیک مطلقا حرام وناجائز ہے (اخبار الاخیار)

اعلی حضرت فاضل بریلوی مسئلہ سماع بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

سیدمولانا محمدبن مبارك بن محمدعلوی کرمانی مریدحضورپرنورشیخ العالم فریدالحق والدّین گنج شکر وخلیفہ حضور سیّدنا محبوب الٰہی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کتاب مستطاب سیرالاولیاء میں فرماتے ہیں:

 حضرت سلطان المشائخ قدس سرہ فرماتے ہیں چندچیزیں ہوں توسماع مباح ہوگا(۱)مسمع یعنی سنانے والابالغ مرد ہو بچہ اورعورت نہ ہو(۲)مستمع یعنی سننے والاجوکچھ سنے وہ یادحق پرمبنی ہو(۳)مسموع(جوکچھ سناگیا)جوکچھ وہ کہیں وہ بیہودگی اور مذاق ولغوسے پاك ہو(۴)اسباب سماع:گانے بجانے کے آلات سارنگی،رباب وغیرہ،چاہئے کہ وہ مجلس کے درمیان نہ ہوں۔اگر یہ تمام شرائط پائی جائیں تو سماع(یعنی قوالی)حلال اورجائزہے۔(ت)

اُسی میں ہے: کسی شخص نے حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں یہ شکایت پیش کی کہ آستانہ کے بعض درویشوں نے اس محفل میں رقص کیا ہے جس میں چنگ ورباب اور مزامیراستعمال ہوئے آپ نے فرمایا انہوں نے اچھانہیں کیاکیونکہ جو کام نا جائزہے اسے پسندیدہ قرارنہیں دیاجاسکتا۔(ت)

اسی میں ہے: خود حضورپرنورسلطان المشائخ محبوب الٰہی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ملفوظات طیبات فوائدالفوادشریف میں ہے: مزامیر حرام ست’’ (مسائل سماع ، فتاوی رضویہ ج ۲۴ ۱۵۱ تا ۱۵۲)

ان اقتباسات کی روشنی یہ نقطہ واضح کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگ مزامیر اور باجے والے سماع کے جواز کی نسبت سلسلہ چشتیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ سرکار نظام الدین محبوب سبحانی اس کے مطلقا جواز کے قائل نہیں جیساکہ اوپر گزرا۔کہنا مقصود یہ ہے کسی عمل کو کرنا اور بات ہے مگر اس عمل کو کسی بزرگ کی طرف منسوب کرکے ناجائز کو جائز بنانا بہت بری بات ہے ۔

ملفوظات وارشادات

حضرت نظام الدین محبو ب الہی کی مستقل تصنیف کے بارے میں تحقیق نہیں لیکن مشہور بات ہے کہ آپ نے اپنے پیرو مرشد بابا فرید الدین گنج شکر کے ملفوظات  کو ‘‘راحت القلوب ’’ کے نام سے مرتب کیا تھا۔ہاں حضرت نظام الدین محبو ب الہی  کے خلیفہ حضرت امیر خسرو نے ‘‘افضل الفوائد ’’ اور خلیفہ حضرت امیر حسن علا سجزی نے ‘‘فوائد الفواد’’ کے نام سے دو کتابیں مرتب کئے جن میں حضرت نظام الدین محبو ب الہی کے ملفوظات وارشادات کو جمع کیا گیا ہے  جو ‘‘ہشت بہشت’’ نامی مشہور کتاب میں شامل ہیں۔ 

حسب ذیل چند ارشادات ہیں:

  • پوچھا گیاکہ محبت کی اصلیت کیا ہے تو فرمایا:‘‘دوستی کی صفائی ہے۔اس واسطے کہ محبانِ حق دنیا او رآخرت حاصل کرنے کواپنا شرف نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ وہ حق کو پالینے میں اپنا شرف جانتے تھے۔المرء مع من احبہ'' پھر پوچھا گیاکہ محبت میں مصیبت کیوں ہوتی ہے؟،فرمایا: ‘‘ہر ایک کمینہ اس کا دعویٰ نہ کرے۔اور جب اس پر مصیبت پڑے تو پیٹھ دکھاجائے۔’’

  • دانا اور عقل مند وہی شخص ہے جو پیش آنے والے سفر یعنی موت کے لیے تیاری کرے اور اپنے ساتھ کچھ توشہ لے۔

  • خوف (خوفِ الٰہی)بے ادب بندوں کے لیے تازیانہ ہے۔جس سے ان کی درستی کی جاتی ہے۔

  • جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ، خواہ لاکھوں ابلیس در پے کارہوں ،اسے ذرہ بھر ضرر نہیں پہنچتا۔

  • جب انسان کو کوئی شخص تکلیف دے یا کوئی چیز چھین لے ،اسے بد دعا نہیں کرنی چاہیے بلکہ دانت پیس کر رہ جانا چاہیے تاکہ اس کا مقصد حاصل ہوجائے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اقبال کو بڑی اچھی طرح جانتا ہے۔

  • شریعت میں خواہ دل حاضر ہو یا نہ ہو،نمازدرست ہوتی ہے۔مگر طریقت میں اصحابِ سلوک کہتے ہیں کہ جب دل حاضر نہ ہواور حق تعالیٰ کے سوا کسی اور کا خیا ل دل میں آئے،نماز جائز نہیں ہوتی،اسے پھر پڑھنا چاہیے کیوں کہ خیالات کا آنانمازکا فاسد ہے۔

  • عارف کی علامت یہ ہے کہ وہ خاموش رہتا ہے۔اگر بات کرتا بھی ہے تو حسبِ ضرورت۔

  • مَیں نے ایک بزرگ سے سنا ہے کہ جو شخص اپنے نفس کا عاشق بنتا اس پر خود پسندی ،حسد اور خواری عاشق ہو جاتے ہیں۔

  • اولیا کا ذکرکرنے سے راحت نازل ہوتی ہے۔

  • طاعت لازمی اور متعدی ہے۔لازمی وہ ہے جس کا نفع صرف کرنے والے کی ذات کو پہنچے۔اور یہ نماز،روزہ،حج،وِرد اورتسبیح ہے۔متعدی وہ ہے جس سے اَوروں کو فائدہ پہنچے،التفات،شفقت،غیر کے حق میں مہربانی کرنا وغیرہ اسے متعدی کہتے ہیں،اس کا ثواب بے شمار ہے۔لازمی طاعت میں اخلاق کا ہونا ضروری ہے۔تاکہ قبول ہو لیکن متعدی طاعت کا خواہ کس طرح کی جائے ثواب مل جاتا ہے۔

  • صدقے میں پانچ شرطیں ہوں توبے شک صدقہ قبول ہوتا ہے۔ان میں سے دو عطا سے پہلے،دو عطا کے وقت اور ایک(عطا کے) بعد میں ہوتی ہے۔عطا سے پہلے کی دو شرطیں (یہ)ہیں: اول:جو کچھ دے وہ حلال کی کمائی ہو۔دوم:دوسرے کسی نیک مرد کو دے جو اسے بُرے کام میں خرچ نہ کرے۔ عطا کے وقت کی دو شرطیں یہ ہیں: اول: تواضع اور ہنسی خوشی سے دے۔دوم:پوشیدہ دے۔ بعد کی شرط یہ ہے کہ جو کچھ دے اس کا نام نہ لے بلکہ بھول جائے۔ (ماخوذ از فوائد الفوائد اور افضل الفواد، ان ارشادات کی ٹائپنگ وسیم رضوی صاحب کے مضمون ‘‘حضرت خواجہ نظام الدین اولیا حالات،خدمات اور تعلیمات سے لی گئی ہے’’)

اخبار الاخیار میں ہے : حضرت محبوب سبحانی کا ارشاد ہے کہ چلنے والا کمال کی طرف متوجہ رہتا ہے ، یعنی سالک جب تک سلوک کے مراحل طے کرتا رہتا ہے تو کمال کا امید وار رہتا ہے ۔ امیدوار کی تین قسمیں : سالک ، واقف اور راجع ۔سالک وہ ہے جو راہ سلوک میں مسلسل چلتا رہے ۔واقف وہ ہے جس کی راہ سلوک میں کوئی وقفہ پیش آئے ، اس مقام پر لوگوں نے عرض کیا کہ کیا سالک کو بھی اس راہ میں وقفہ پیش آجاتا ہے ؟ فرمایا ہاں ! اس وقت اس وقت جب سالک کو عبادت کرنے میں کوئی کمی اور لغزش ہوجائے جس سے عبادت کا ذوق و لطف ختم ہوجائے تو اس وقت سالک کے لیے بھی وقفہ پیدا ہوجاتا ہے، اس حالت میں اگر سالک فوراً کوئی تدبیر کرکے اللہ کے حضور توبہ کرلے تو اپنی اصلی حالت پر رہ سکتا ہے اور اگر خدانخواستہ وہ اپنی موجودہ حالت پر ہی رہے تو پھر اس بات کا سخت خطرہ ہے کہ کہیں راجع نہ بن جائے اس کے بعد سالک سے جو سلوک کے راستہ پر چلتے ہوئے لغزشیں ہوجاتی ہیں ان کو بیان کیا کہ وہ کل سات ہیں۔ اعراض، حجاب، تفاصل، سلب مزید، سلب قدیم، تسلی، عداوت، پھر فرمایا کہ عاشق و معشوق دو دوست ہیں جو باہم دیگر ایک دوسرے کی محبت میں رہتے ہیں جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔

الفت کا جب مزا ہے کہ دونوں ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی

اسی حالت میں اگر عاشق سے کوئی ایسی چیزسر زد ہوجائے جو معشوق کو ناپسند ہو تو معشوق اپنے اس عاشوق سے اعراض کرتا ہے، یعنی اپنی توجہ اس کی طرف نہیں کرتا، اس لیے عاشق کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوراً ہی توبہ کرکے عذر خواہی کرے جس کے نتیجہ میں اس پر معشوق لازماً خوش ہوجائے گا اور عاشق اگر اپنی غلطی پر مصر  رہے اور معذرت نہ کرے تو یہ اعراض اس وقت حجاب بن جاتا ہے، یعنی معشوق اپنے اور عاشق کے مابین پردہ ڈال لیتا ہے، اس صورت میں عاشق پر ضروری ہے کہ گریہ و زاری، آہ و بکا کے ساتھ توبہ کرے، اگر اس مرحلہ میں ذرا سی کوتاہی سے کام لیا گیا تو یہ حجاب، تفاصل یعنی جدائی سے تبدیل ہوجائے گا، یعنی یوں ہوتا ہے  کہ معشوق اپنے عاشق سے جدا ہوجاتا ہے، اگر اس حالت پر بھی کوئی عذر خواہی نہ کرے تو پھر تفاصل، سلب مزید سے تبدیل ہوجاتا ہے، یعنی عاشق سے درود، وظیفہ، عبادت وغیرہ کا ذوق اور لطف ختم کردیا جاتا ہے، اب بھی اگر عاشق اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹا رہے اور کوئی عذر وغیرہ نہ کرے تو سلب مزید، سلب قدیم کی صورت اختیار کرلیتی ہے، یعنی عبادت ا طاعت کی راحت و ثواب جو پہلے سے حاصل تھا وہ چھین لیا جاتا ہے، اس حالت میں بھی اگر توبہ و استغفار میں کوتاہی سے کام لیا گیا تو سلب قدیم، تسلی بخش میں متشکل ہوجاتا ہے یعنی معشوق دل سے اپنے اس عاشق کی جدائی کا متمنی اور خواہش مند ہوجاتا ہے اس وقت بھی اگر توبہ و استغفار میں غفلت سے کام لیا گیا تو تسلی، عداوت سے متبدل ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو غلطیوں اور لغزشوں سے محفوظ رکھے۔ (اخبار الاخیار)

ایک مرتبہ فرمایا کہ کل قیامت کے دن کچھ لوگوں کو چوروں کی جماعت کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا یہ لوگ کہیں گے کہ (اے رب ذوالجلال) ہم نے تو (دنیا میں) کوئی چوری نہیں کی تھی (پھر ہمیں چوروں کے ساتھ کیوں کھڑا کیا گیا ہے) تو آواز آئے گی کہ تم نے جوان مردی کا لباس تو پہنا مگر عمل کوئی نہ کیا۔ آخرکار یہ لوگ بھی نیک لوگوں کی شفاعت سے نجات پائیں گے۔ (اخبار الاخیار)

شیخ نظام الدین اولیا نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں اپنے شیخ کے ساتھ کشتی میں سور تھا ، شیخ  نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میرے سامنے آو مجھے تم سے کچھ کہنا ہے ، سنو ، جب دہلی پہنچو ، مجاہدہ کرتے رہنا ، بے کار رہنے میں کوئی فائدہ نہیں ، روزہ رکھنا آدھی منزل ہے ، اور بقیہ اعمال مثلا نماز ، حج یہ دوسری آدھی منزل ہے ۔پھر ایک مرتبہ نے شیخ فرید نے فرمایا کہ میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ آپ اللہ سے جو مانگیں گے وہ مل جائے گا ۔ایک مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ اسے نظام الدین ہم نے تمہارے لیے اللہ سے دنیاوی قوت بھی مانگ لی ہے (اخبار الاخیار)

ایک مرتبہ محبوب سبحانی خواجہ نظام الدین اولیا نے فرمایا کہ ایک واقعہ میں مجھے خط دیا گیا جس میں لکھا تھا کہ جب تک اور جتنا ممکن ہو لوگوں کے دلوں کو آرام پہنچاو کیونکہ مسلمان کا دل حقیقت میں خدا کے ظہور کا مقام ہے ، قیمت کے بازار میں کوئی سامان اتنا مقبول نہ ہوگا جتنا دلوں کو آرام پہنچانا مقبول ہے ۔ (اخبار الاخیار)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/hazrat-nizamuddin-aulia--his-life-and-sayings--حضرت-نظام-الدین-اولیا-محبوب-الہی-کی-زندگی-اور-تعلیمات/d/117265

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..