New Age Islam
Sat Jun 27 2026, 09:54 AM

Urdu Section ( 17 Jul 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Creation of the Universe in Six or Eight Days? Refuting the Alleged Contradiction in the Quran – Part 4 قرآنِ مجید میں تضاد کے شبہ کا علمی اور عقلی ازالہ ، قسط چہارم:تخلیقِ کائنات کے چھ دن یا آٹھ؟ قرآن، سائنس اور تفسیر کی روشنی میں تطبیق

غلام غوث صدیقی

17 جولائی 2025

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اگلے شبہے میں یہ اعتراض پیش کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید کی متعدد سورتوں میں یہ تصریح موجود ہے کہ آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا گیا۔ ان آیات کا مطالعہ کرنے کے بعد بظاہر دو اہم اشکالات سامنے آتے ہیں:

اولاً، موجودہ سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ بات ثابت شدہ ہے کہ کائنات، بشمول آسمان و زمین، کی تخلیق کا عمل اربوں سالوں پر محیط رہا ہے۔

ثانياً، خود قرآن کے بعض مقامات، بالخصوص سورۂ فُصِّلَت (آیات۹ تا ۱۲) ، میں تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر کرتے ہوئے بظاہر مجموعی طور پر آٹھ دنوں کی مدت بیان ہوئی ہے، جو پہلی تصریح یعنی ’چھ دن‘ سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان آیات کے مابین تطبیق کس طرح دی جائے؟ اور یہ بظاہر تضاد جو ذہن میں خلجان پیدا کرتا ہے، اس کی علمی و معقول توجیہ کس طرح ممکن ہے؟

شبہے کا جواب: قرآنِ مجید کی کئی سورتوں میں بارہا یہ بیان آیا ہے کہ اللہ ربّ العزت نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ان کے اندر موجود تمام مخلوقات کی تقدیر مقرر فرمائی۔ ان آیات میں سے چند یہ ہیں:

﴿إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ ترجمہ: ’’یقیناً تمہارا ربّ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔‘‘(  الْأَعْرَاف، ۷  :۵۴)

﴿وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ ترجمہ : ’’اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔‘‘ (هُود، ۱۱ : ۷)

﴿الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ ترجمہ : ’’وہی ذات جس نے آسمانوں، زمین اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔‘‘ (  السَّجْدَة، ۳۲ :۴)

﴿اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ترجمہ : ’’اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔‘‘ (  ق، ۵۰  : ۳۸ )

﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ ترجمہ : ’’اور بے شک ہم نے آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔‘‘ (  ق، ۵۰  : ۳۸ )  (دوسری مرتبہ بھی یہی آیت ہے)

﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ ’’وہی (اللہ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔‘‘( الْحَدِيد، ۵۷ : ۴)

تخلیق کے چھ دن اور سائنسی مدت میں کوئی تعارض نہیں

آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے لیے قرآن مجید میں "چھ دنوں" کی جو مدت بیان کی گئی ہے، اور دوسری طرف سائنسی تحقیق جس کے مطابق یہ عمل  اربوں سالوں پر محیط رہا، ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک "یوم" یعنی دن کا مفہوم اور اس کی مدت وہ نہیں ہے جو دنیا میں انسانوں نے تقویم (کیلنڈر) اور وقت کے پیمانوں میں طے کی ہے۔

قرآنِ مجید میں اس حقیقت پر واضح دلائل موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

۱۔حضرت عُزیر کا واقعہ : موت کے بعد زندگی، دنوں  کا فرق اور اللہ کی قدرت پر دلیل

﴿أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾

’’یا اُس شخص کی مانند (سمجھو) جو ایک ایسی بستی پر گزرا جو اپنی چھتوں پر گری ہوئی ویران پڑی تھی، اُس نے کہا: اللہ اس بستی کو اس کی موت کے بعد کس طرح زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے اسے ایک سو سال کے لیے موت دے دی، پھر اسے زندہ فرمایا، فرمایا: تم کتنی مدت (مُردہ) رہے؟ اس نے کہا: ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ اللہ نے فرمایا: (نہیں) بلکہ تم سو سال تک رہے ہو، پس اپنے کھانے اور پینے کی چیز کو دیکھو وہ بدلی ہی نہیں، اور اپنے گدھے کو دیکھو، اور ہم تمہیں لوگوں کے لیے نشانی بنانا چاہتے ہیں، اور ان ہڈیوں کو دیکھو ہم کس طرح ان کو جوڑتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ جب اسے یہ سب کچھ واضح ہو گیا تو اس نے کہا: میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

جمہور مفسرین کے نزدیک مذکورہ بالا  سورۂ بقرہ، آیت  ۲۵۹  میں جس بستی پر گزر کرنے والے شخص کا ذکر ہے، وہ حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں، اور بستی سے مراد بیت المقدس ہے، جو بخت نصر کے ہاتھوں ویران ہو چکی تھی۔ حضرت عُزیرایک دن بیت المقدس کے ویران کھنڈرات سے گزرے۔ آپ کے ساتھ ایک برتن میں کھجوریں، ایک پیالہ انگور کا رس اور ایک گدھا تھا۔ جب آپ نے شہر کی بربادی دیکھی تو آپ کو تعجب ہوا اور آپ نے فرمایا: ﴿أَنّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا﴾ "اللہ اس بستی کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟"

یہ کہنا کفر نہ تھا بلکہ تعجب اور اللہ کی قدرت کو مزید جاننے کا اظہار تھا۔ اسی وقت اللہ نے آپ کو سو سال کے لیے وفات دے دی، اور آپ کا گدھا بھی مر گیا۔ سو سال بعد اللہ نے آپ کو دوبارہ زندہ فرمایا۔ پوچھا: ﴿كَمْ لَبِثْتَ﴾ "کتنی دیر یہاں ٹھہرے ہو؟" حضرت عُزیرنے اندازہ لگا کر عرض کیا: ﴿لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ﴾ "ایک دن یا اس کا کچھ حصہ۔" تب اللہ نے فرمایا: ﴿بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ﴾ "نہیں، بلکہ تم سو سال ٹھہرے ہو۔"

یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ اللہ کے نزدیک دن کا مفہوم انسانی دن سے مختلف ہوتا ہے۔ حضرت عُزیرکی نظر میں ایک دن کا کچھ حصہ گزرا، حالانکہ دنیا میں پوری ایک صدی بیت چکی تھی۔اللہ نے آپ کو اس بات کا ظاہری ثبوت بھی دیا: آپ کا کھانا اور مشروب تازہ تھا، گویا ابھی ابھی رکھا گیا ہو۔ مگر گدھا مکمل طور پر گل سڑ چکا تھا، اس کی ہڈیاں بکھری ہوئی تھیں۔ پھر اللہ نے حضرت عُزیرکے سامنے گدھے کے جسم کو دوبارہ تخلیق کر کے زندہ کیا۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے اس کی ہڈیاں جڑیں، گوشت چڑھا، کھال آئی، اور روح پھونکی گئی، یہاں تک کہ وہ گدھا زندہ ہو کر آوازیں نکالنے لگا۔ اس عظیم مشاہدے پر حضرت عُزیر بے ساختہ پکار اٹھے:﴿أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ﴾ "میں جانتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔"

پھر جب آپ اپنی بستی لوٹے تو آپ کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، لیکن عمر وہی۴۰  سال رہی۔ کوئی آپ کو پہچان نہ سکا۔ صرف ایک بوڑھی نابینا خادمہ جو پہلے آپ کو جانتی تھی، اس کے ساتھ آپ کی پہچان ہوئی۔ حضرت عُزیرنے دعا کی اور اس کی بینائی اور معذوری دونوں بحال ہو گئیں۔ وہ عورت گواہی دینے لگی کہ یہ واقعی حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔جب آپ کو اہلِ محلہ کے سامنے پیش کیا گیا تو ابتدائی انکار کے بعد آپ کے جسم پر موجود سیاہ ہلالی نشان اور یادداشت سے تورات کی تلاوت کی بنیاد پر سب نے مان لیا کہ یہی حضرت عُزیرہیں۔ بعد ازاں دفن شدہ نسخہ تورات کو نکالا گیا اور آپ کے زبانی یاد کیے ہوئے نسخے سے ملایا گیا تو ایک حرف کا فرق نہ پایا گیا۔

مرکزی نکات پر غور کریں تو جمہور مفسرین کے مطابق یہ واقعہ حضرت عُزیر سے متعلق ہے۔یہ واقعہ مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کی عینی دلیل ہے۔حضرت عُزیر نے اللہ کی قدرت کا ظاہری مشاہدہ کیا۔دنیا میں ایک صدی بیت چکی تھی، مگر حضرت عُزیرکے لیے وہ محض ایک دن یا اس سے بھی کم محسوس ہوا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ بندوں کے دن اور اللہ کے دن میں بہت فرق ہوتا ہے۔یہ واقعہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی دلیل ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ وقت کا ادراک محدود انسانی فہم سے ماورا ہے، اور اللہ ہی حقیقی وقت کے راز جاننے والا ہے۔

پس انسان کے حساب سے یہاں "ایک دن کا کچھ حصہ" حقیقت میں سو برس پر محیط ہو گیا، یعنی تقریباً ۳۷۰۰۰ دن! یہی معاملہ اصحابِ کہف کے واقعے میں بھی دیکھا گیا، جنہوں نے جس مدت کو محض ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سمجھا، وہ شمسی حساب سے تین سو سال اور قمری تقویم کے لحاظ سے تین سو نو (۳۰۹)  سال پر مشتمل تھی۔

۲۔اصحاب کہف کا واقعہ

﴿قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ﴾

’’ان میں سے ایک نے کہا: تم کتنی مدت یہاں ٹھہرے رہے؟ وہ کہنے لگے: ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہوں گے۔ انہوں نے کہا: تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی مدت ٹھہرے۔‘‘ ( الکہف،۱۸ : ۱۹)

اسی سورہ کہف کی کچھ اگلی آیتوں میں ہے: ﴿وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا * قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا﴾ ’’اور وہ اپنے غار میں تین سو (۳۰۰)  سال تک ٹھہرے، اور مزید نو سال کا اضافہ کیا گیا۔ فرما دیجیے: اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت ٹھہرے۔‘‘ ( الکہف، ۱۸  :  ۲۵، ۲۶)

 اہلِ کہف نے محسوس کیا کہ انہوں نے فقط ایک دن یا کچھ وقت گزارا، جبکہ حقیقت میں وہ  شمسی حساب سے تین سو سال (۳۰۰) اور قمری تقویم کے لحاظ سے تین سو نو (۳۰۹)  سال غار میں سوئے رہے۔یہ فرق انسانی شعور اور ربانی وقت کے فرق کو واضح کرتا ہے۔

۳۔قیامت کے دن مجرموں کا وقت کا احساس

اسی طرح صور پھونکے جانے کے دن، یعنی قیامت کے دن، کچھ مجرم یہ گمان کریں گے کہ وہ دنیا میں صرف دس راتیں ہی رہے تھے، جبکہ ان میں سے کچھ اور لوگ سمجھیں گے کہ وہ دنیا میں ایک دن سے بھی زیادہ نہیں ٹھہرے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا۝١٠٢}

ترجمہ: "جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن نیلی آنکھوں (یعنی اندھی یا خوف سے زرد نیلی) کی حالت میں جمع کریں گے۔" {يَتَخَافَتُونَ بَيْنَهُمْ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا۝١٠٣} "

وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کریں گے کہ تم تو صرف دس (راتیں) ہی ٹھہرے تھے۔"

{نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا۝١٠٤}

"ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے، جب ان میں سے سب سے زیادہ سمجھ دار کہے گا: نہیں، تم تو صرف ایک دن ہی ٹھہرے تھے۔" (سورۃ طٰہٰ: آیات  ۱۰۲ تا ۱۰۴)

یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ قیامت کے دن دنیا کی عمر اور قیام (یعنی دنیا میں ٹھہرنے )  کی مدت انسان کو نہایت مختصر محسوس ہوگی، جو دراصل اللہ تعالیٰ اور بندوں کے وقت کے درمیان  فرق کو ظاہر کرتی ہے۔

۴۔ اللہ کے ہاں ایک دن  انسانی زندگی کے  ہزار سال

﴿وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ﴾

’’اور یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں، حالانکہ اللہ ہرگز اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس کے برابر ہے۔‘‘ ( الحج،  ۲۲ :۴۷)

یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ مذکورہ آیت کے ”کألف سنة“  میں تشبیہ کا حرف استعمال کیا  گیا ہے جس سے  یہ معنی حاصل ہوتا ہے کہ یہاں "ہزار سال" کی مدت کو کوئی قطعی یا مقررہ وقت نہیں بتایا گیا، بلکہ صرف ایک مثال پیش کیا گیا ہے  یعنی "جیسے ہزار سال یا ہزار سال کی مانند"    تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ اللہ کے ہاں دن کا مفہوم ہمارے تصورِ وقت سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا اصل دورانیہ اس دنیا میں ہمارے لیے مخفی رکھا گیا ہے، اور ہم اپنی زمینی پیمائشوں سے اس کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اسی لیے یومِ قیامت (جزا کا دن)، ایّامُ اللہ (اللہ کے دن) اور وہ چھ دن جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ،  ان سب کی حقیقی مدت کیا ہے، یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، اور ہماری دنیاوی گھڑیوں یا کیلنڈروں سے اس کا احاطہ ممکن نہیں۔

۵۔سائنسی اعتبار سے "یوم" (دن) کی مختلف جہات

جدید سائنسی دریافتوں نے یہ بات  واضح کر دی ہے کہ "یوم" یعنی دن کا مفہوم اور اس کی پیمائش محض۲۴  گھنٹوں تک محدود نہیں۔ سائنس نے یہ انکشاف کیا ہے کہ مختلف اشیاء جیسے آواز اور روشنی مختلف رفتار سے سفر کرتی ہیں، اور یہ کہ روشنی کا ایک سال کا سفر جسے نوری سال (Light Year) کہا جاتا ہے ، زمین کے پیمانے سے ایک بے حد طویل فاصلہ ہے۔ ان سائنسی پیمانوں نے وقت اور دن کے مفہوم میں تنوع اور فرق کو ایک مسلمہ حقیقت بنا دیا ہے۔

مثال کے طور پر آواز کی رفتار (Speed of Sound) وہ رفتار ہے جس سے آواز کسی ذریعہ، جیسے ہوا، پانی یا کسی ٹھوس چیز میں سفر کرتی ہے، اور اس کی اوسط رفتار ہوا میں تقریباً ۳۴۳ میٹر فی سیکنڈ (m/s) ہوتی ہے۔ اسی طرح روشنی کی رفتار (Speed of Light) وہ رفتار ہے جس سے روشنی خلا میں سفر کرتی ہے، جس کی مستقل رفتار تقریباً ۲۹۹٬۷۹۲٬۴۵۸ میٹر فی سیکنڈ یعنی تقریباً ۳ لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔

مزید برآں، زمن الضوء یا سنة ضوئية Light Year) ) جسے اُردو میں نوری سال کہا جاتا ہے،  اُس فاصلے کو کہتے ہیں جو روشنی خلا میں ایک سال کے عرصے میں طے کرتی ہے۔ روشنی چونکہ تقریباً ۳ لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے، اس لیے جب وہ پورے ایک سال تک یوں سفر کرے، تو جو فاصلہ طے ہوتا ہے، اُسے نوری سال کہا جاتا ہے۔ نوری سال یعنی روشنی کا ایک سال کا فاصلہ تقریباً ۹٫۴۶ کھرب کلومیٹر (۹٫۴۶ trillion kilometres) بنتا ہے۔ یہ دراصل فاصلے کی ایک اکائی ہے، وقت کی نہیں، اور اسے عموماً دور دراز ستاروں، سیّاروں اور کہکشاؤں کے درمیان فاصلے ماپنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان سائنسی پیمانوں کی روشنی میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ "یوم" (دن) کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ لازماً ہمارے زمینی کیلنڈر کے مطابق ۲۴ گھنٹے پر مشتمل ہو۔ بلکہ "یوم" کا مفہوم مختلف سیاق و سباق، جیسے زمینی، فلکیاتی یا الٰہی نظامِ حساب کے تحت مختلف ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں جب "یوم" کا ذکر ہوتا ہے تو وہ عام دنیاوی دن کے برابر نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے خاص نظامِ تکوین کے مطابق متعین کیا گیا ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ" (سورہ الحج: ۴۷)، یعنی: "اور بے شک تمہارے رب کے ہاں ایک دن تمہارے شمار کے مطابق ہزار سال کے برابر ہے"۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں "یوم" کی پیمائش ہماری دنیاوی وحداتِ وقت کے دائرے میں نہیں آتی، بلکہ وہ ایک لامحدود، پیچیدہ اور بامقصد الٰہی نظام کا حصہ ہے، جس کی حقیقی نوعیت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ یہی اصول ہمیں سمجھاتا ہے کہ "وقت" اور "دن" کی پیمائش مختلف نظاموں میں مختلف ہو سکتی ہے؛ چنانچہ اللہ کے ہاں "چھ دن" ممکنہ طور پر  تخلیقِ کائنات کے وہ مراحل بھی ہو سکتے ہیں جو انسانی اندازے کے مطابق اربوں سال پر محیط ہیں۔ اس لیے قرآنِ مجید میں بیان کردہ چھ دنوں کی تخلیق اور سائنسی تحقیق کے مطابق اربوں سال کا دورانیہ، درحقیقت آپس میں متضاد نہیں بلکہ مختلف پیمانوں کی تعبیرات ہیں، اور اللہ کا وقت انسان کے وقت سے سراسر مختلف ہے ،  اس کی حقیقت صرف وہی جانتا ہے۔

آٹھ دن یا چھ دن؟ قرآن فہمی کی ایک اہم وضاحت

مذکورہ بالا سطروں میں  سوال کے پہلے حصے کا جواب تھا۔اب ہم سوال کے دوسرے حصے کی وضاحت کرتے ہیں، جو اس اعتراض پر مبنی ہے کہ بعض قرآنی آیات سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق آٹھ دن میں ہوئی ہے، حالانکہ قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر تخلیق کا عمل چھ دن میں مکمل ہونے کا ذکر ہے۔ یہ شبہ سورۂ فصّلت (آیات ۹ تا ۱۲) کے مطالعے سے پیدا ہوتا ہے، جہاں زمین کی تخلیق، اس کی ترتیب، اور آسمانوں کی تشکیل کا ذکر الگ الگ دنوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔

قل أئنكم لتكفرون بالذي خلق الارض في يومين وتجعلون له اندادا ذلك رب العالمين (۹)

ترجمہ: فرما دیجیے: کیا تم اس ذات سے کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا فرمایا، اور تم اس کے لیے شریک ٹھہراتے ہو؟ وہی تمام جہانوں کا رب ہے۔

وجعل فيها رواسي من فوقها وبارك فيها وقدر فيها اقواتها في اربعة ايام سواء للسائلين (١٠)

ترجمہ: اور اس (زمین) میں اوپر سے پہاڑ بنائے، اس میں برکت رکھی، اور اس میں تمام مخلوقات کے لیے ان کا رزق اندازے سے مقرر فرمایا — یہ سب چار دنوں میں پورا ہوا ،  دریافت کرنے والوں کے لیے برابر طور پر۔

ثم استوى الى السماء وهي دخان فقال لها وللارض ائتيا طوعا او كرها قالتا اتينا طائعين (١١)

ترجمہ: پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ (ابھی) دھواں (دھند) کی حالت میں تھا، تو اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا: تم دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی! دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں۔

فقضاهن سبع سماوات في يومين واوحى في كل سماء امرها وزينا السماء الدنيا بمصابيح وحفظا ذلك تقدير العزيز العليم (١٢)

ترجمہ: پھر اس نے ان کو سات آسمان بنا دیا دو دنوں میں، اور ہر آسمان میں اس کا حکم نازل فرمایا۔ اور ہم نے قریب ترین آسمان کو چراغوں (ستاروں) سے مزین کیا اور محفوظ بنا دیا۔ یہ زبردست اور علم والے (رب) کا مقرر کردہ نظام ہے۔ (سورہ فصلت: ۹ تا ۱۲ )

ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں پیدا فرمایا۔ پھر اس زمین میں پہاڑ بنائے، اس میں برکت رکھی، اور تمام مخلوقات کے لیے رزق کا نظام متعین کیا   اور ان تمام امور کی مدت کو چار دن کہا گیا۔ بعد ازاں آسمانوں کی تخلیق کا ذکر آتا ہے، جنہیں دو دن میں سات آسمانوں کی شکل دی گئی۔ یہاں بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ۲ دن (زمین کی تخلیق)،  ۴ دن (زمین کی ترتیب)،  ۲ دن (آسمانوں کی تخلیق)= کل ۸ دن،  جو دیگر قرآنی آیات (مثلاً: سورۂ اعراف، یونس، اور حدید) کے بیان کردہ چھ دن کے بیان سے مختلف نظر آتا ہے۔

لیکن حقیقت کیا ہے؟

اصل میں یہ اعتراض فہم کی ایک سادہ غلطی پر مبنی ہے۔ سورۂ فصّلت میں جو "چار دن" کا ذکر ہے (فی أربعة أیام)، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ چار دن الگ ہیں، بلکہ اس میں پہلے کے دو دن شامل ہیں۔ یعنی:

۲ دن زمین کی پیدائش

۲ دن پہاڑ، برکت، رزق وغیرہ

= کل ۴ دن — جن میں زمین کی تخلیق اور اس کی ترتیب شامل ہے۔

پھر مزید ۲ دن آسمانوں کی تخلیق کے لیے بیان کیے گئے، تو مجموعی مدت بنتی ہے:

۲ دن (زمین) + ۲ دن (زمین کی ترتیب) + ۲ دن (آسمان) = کل ۶ دن

مفسرین کی رائے:

علمائے تفسیر نے بھی اس شبے کے ازالے پر خوب روشنی ڈالی ہے۔ امام قرطبی فرماتے ہیں:

 "  في أربعة أيام  مثاله قول القائل : خرجت من البصرة إلى بغداد في عشرة أيام وإلى الكوفة في خمسة عشر يومًا ، أي في تتمة خمسة عشر يومًا " [ الجامع لأحكام القرآن ] ج۱۵ ص۳۴۳ )

ترجمہ: یہاں "فی أربعة أیام" سے مراد مجموعی مدت ہے، نہ کہ مزید چار دن۔ وہ اس کی مثال یوں دیتے ہیں جیسے کوئی کہے:"میں بصرہ سے بغداد دس دن میں گیا، اور پھر کوفہ پندرہ دن میں"،یعنی پندرہ دن میں دونوں مرحلے شامل ہیں، نہ کہ دس دن + پندرہ دن = پچیس دن۔

اسی طرح کی مثال پیش کرتے ہوئے امام بدرالدین زرکشی لکھتے ہیں کہ"فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ" سے مراد وہی چار دن ہیں جن میں پہلے دو دن بھی شامل ہیں۔ جیسے کوئی کہے: "میں بصرہ سے بغداد دس دن میں پہنچا، اور کوفہ تیرہ دن میں گیا"، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کل تیرہ دن، نہ کہ الگ سے دس + تیرہ۔(البيان في دفع التعارض المتوهم بين آيات القرآن، د. محمد أبو النور الحديدي، مكتبة الأمانة، القاهرة، ۱۴۰۱ھ / 1981م۔ملخصا)

تفسیر کشاف میں ہے:

 فِى أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاء } فذلكة لمدة خلق الله الأرض وما فيها، كأنه قال: كل ذلك في أربعة أيام كاملة مستوية بلا زيادة ولا نقصان...... وقال الزجاج: فى تتمة أربعة أيام، يريد بالتتمة اليومين " (الكشاف ،ج٣ ص ٤٤٤)

ترجمہ: (فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً) یعنی: "یہ عبارت زمین کی تخلیق اور اس کی تمام ترتیب و تنظیم کی مجموعی مدت کو سمیٹتی ہے، گویا فرمایا گیا: 'یہ تمام مراحل : زمین کی پیدائش، اس میں پہاڑوں کا نصب ہونا، برکت کا رکھا جانا، اور رزق کی تقسیم ، چار مکمل دنوں میں مکمل کیے گئے، نہ ان میں کمی ہوئی، نہ زیادتی۔اسی طرح امام زجاج بھی یہی وضاحت پیش کرتے ہیں کہ"فی أربعة أیام" سے مراد چار دنوں کی تکمیل ہے، جس میں ابتدائی دو دن بھی شامل ہیں۔  یعنی تخلیقِ زمین اور اس کی ترتیب تمام چار دنوں میں مکمل ہوئی ،  یہ چار دن الگ الگ نہیں، بلکہ ابتدائی دنوں کا ہی تسلسل ہیں، اس میں کوئی اضافی دن شامل نہیں کیا گیا۔

نتیجہ: قرآنِ مجید کی تمام آیات میں تخلیقِ آسمان و زمین کی مدت کو چھ دن قرار دیا گیا ہے۔ سورۂ فصّلت کی آیات بھی اسی کی وضاحت کرتی ہیں — نہ کہ اس کے خلاف کوئی دلیل پیش کرتی ہوں۔ اس لیے یہ کہنا کہ قرآن میں تضاد ہے یا دنوں کی تعداد میں اختلاف ہے، محض ایک سطحی فہم اور سیاق و سباق سے لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا ہر بیان حکمت، ترتیب اور وحدت پر قائم ہے، اور اس میں کوئی تعارض نہیں ، جیسا کہ خود اللہ فرماتا ہے:

"أفلا يتدبرون القرآن، ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافًا كثيرًا" (تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے)  [سورۃ النساء: ۸۲]

خلاصہ کلام  یہ کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے ایام سے متعلق قرآنِ مجید کے تمام بیانات نہایت ہم آہنگ، واضح اور حکمت پر مبنی ہیں، جن میں کسی قسم کا کوئی تضاد موجود نہیں۔ "چھ دن" کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے، اور سورۂ فصّلت میں بیان کردہ "چار دن" دراصل انہی ابتدائی دو دنوں سمیت ہیں، نہ کہ ان کے علاوہ۔ یوں تمام آیات باہم مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہیں۔ مزید یہ کہ "یوم" (دن) کا مفہوم اللہ کے ہاں انسانی تقویم سے مختلف ہے، جیسا کہ قرآن، سنت اور سائنسی حقائق سے واضح ہوتا ہے۔ لہٰذا تخلیقِ کائنات کے دنوں سے متعلق یہ شبہ، محض فہم کی سطحیت کا نتیجہ ہے، جس کا کوئی علمی یا عقلی جواز نہیں۔

۔۔۔

 مصادر و مراجع

1.     محمد ابو النور الحديدی، البيان فی دفع التعارض المتوہم بين آيات القرآن، قاہرہ: مکتبۃ الأمانۃ، ۱۴۰۱ھ/۱۹۸۱ء۔

2.     حمدی زقزوق، حقائق الإسلام فی مواجهة شبهات المشككين، قاہرہ: المجلس الأعلى للشؤون الإسلامية، طبع چہارم، ۱۴۲۷ھ/۲۰۰۶ء، ص ۲۸۰–۲۸۴۔

3.     بيان الإسلام للرد على الافتراءات والشبهات، عنوان: ’’توہمِ تناقضِ قرآن مجید—آسمان و زمین کی تخلیق کے ایام کی تعداد کے متعلق‘‘، دستیاب:https://bayanelislam.net/Suspicion.aspx?id=01-01-0052#_ednref2

4.     كتاب شبهات المشككين [متعدد مؤلفین]، عنوان: ’’مدتِ تخلیقِ آسمان و زمین‘‘، دستیاب:https://shamela.ws/book/434/40

5.     امام قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، جلد ۱۵، ص ۳۴۳، قاہرہ: دار الکتب المصریہ۔

6.     امام زمخشری، الکشاف عن حقائق التنزیل و عیون الأقاویل فی وجوہ التأویل، جلد ۳، ص ۴۴۴، بیروت: دار احیاء التراث العربی۔

7.     اعلی حضرت امام احمد رضا خان ، کنز الایمان (اردو ترجمۂ قرآن)۔

8.     علامہ نعیم الدین مرادآبادی، تفسیر خزائن العرفان۔

----------------

Urdu Article Part1: Qur’anic Descriptions of the Punishment of the People of Thamūd: Perceived Contradiction or Mastery of Divine Wisdom? قومِ ثمود پر عذاب کی قرآنی تعبیرات: تضاد کا وہم یا حکمت کا کمال؟

Urdu Article Part 2Understanding the Qur'an and the Doubts of Contradiction: An Intellectual and Faith-Based Invitation to Reflection – Part 2 فہمِ قرآن اور شبہاتِ تضاد: ایک فکری اور ایمانی دعوتِ تدبر

Urdu Article Part 3Refuting Alleged Contradictions in the Noble Quran – Part 3: Clarifying the Misconception About the Creation of the Heavens and the Earth قرآنِ مجید میں تضاد کے شبہ کا علمی اور عقلی ازالہ – قسط سوم: تخلیقِ زمین و آسمان کے تضاد کا وہم

URL: https://newageislam.com/urdu-section/creation-universe-refuting-alleged-quran–part-4/d/136195

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..