New Age Islam
Sat Feb 07 2026, 07:22 PM

Urdu Section ( 20 Jul 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A Comment on the Article "Men Are Not Always Cruel and Women Are Not Always Oppressed" کنیز فاطمہ صاحبہ کے مضمون ‘مرد ہمیشہ ظالم نہیں ہوتے اور عورت ہمیشہ مظلوم نہیں ہوتی’ پر ایک تبصرہ

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

20 جولائی 2023

جن تین واقعات کو کنیز فاطمہ صاحبہ نے اپنے مضمون میں پیش کیا ہے وہ یقینا سفاکیت اور مظلومیت کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں ۔ایسے واقعات بہت بڑی تعداد میں پیش آ رہے ہیں مگر پھر بھی آج کل ہمارے اکثر مصلحین و مفکرین  اپنی تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ عورتوں کے حقوق کی یک طرفہ باتیں کرتے ہیں مگر عورتوں کی اصلاح پر گفتگو نہیں کرتے ۔ آج طلاق کے موضوع پر ہر کسی کو بولنا بہت عمدہ لگتا ہے ۔ میں بھی اس بات سے متفق ہوں کہ جلدبازی میں طلاق دینا اور مصالحت کی کوشش سے باز رہنا  یقینا ایک احمقانہ اور قابل مذمت فعل ہے ۔ شریعت نے فریقین کی بعض ضروری اور انتہائی ناگزیر حالات میں  طلاق کی اجازت تو دی ہے مگر ساتھ ہی طلاق کے ساتھ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ہے ۔ اگرچہ شریعت نے طلاق کا دروازہ بند نہ کرکے مرد اور عورت کو ایک مجبور زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کیا  مگر ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک مباح چیزوں میں سب سے سے ناپسندیدہ عمل طلاق ہے ۔

عورتوں کے حقوق پر گفتگو کرنا یقینا ایک اچھا عمل ہے مگر یہاں اتنی غفلت برتنا  کہ مردوں کے حقوق کا خیال نہ رکھا جائے اور عورتوں کی اصلاح پر توجہ نہ دی جائے یہ ہمارے معاشرے کے لیے یقینا  عورتوں کے ذریعے مردوں پر کیے جانے والے مظالم  کو خاموش تعاون پیش کرنے کے مترادف ہے ۔ اصلاحی تحریکوں کے رپورٹس کو دیکھ کر معلوم پڑتا ہے کہ عورتوں  کی حقیقی جینڈر ہمدردری کرنے والا کوئی نہیں ، بلکہ کوئی صرف اسے ورغلانے اور بہکانے کی باتیں کرتا ہے ، جیساکہ کچھ لوگوں نے عورت کو محض نمائش اور تماشہ کا ذریعہ  بنا ڈالا ہے اور اس کی عزت و آبرو کو سر بازار نیلام کرنے کی تحریک چلانے میں جٹا ہوا ہے ۔اس کے بر عکس آج ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے کہ مردوں اور عورتوں کے مسائل پر جب بھی گفتگو کریں، جب بھی ان کے حقوق کی باتیں کریں ، تو عورتوں کو بھی ان کی اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جانا چاہیے ۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے ، موبائل گھر گھر پہنچا ہوا ہے ، جب ہمارے معاشرے کی چھوٹی بچیاں ان ویڈیو اور تقریروں کو سنتی ہیں ان کے ذہن پر بھی ایک منفی اثر پڑتا ہے کہ مرد اکثر سفاک و ظالم ہوتے ہیں اور پھر ان کے اندر  مردوں کے خلاف منفی اثرات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔

لہذا جب کبھی کسی مرد کو عورت کے حقوق کی تعلیم دی جائے تو  عورتوں  کو بھی تعلیم دینا ضروری ہے  کہ وہ اپنے حقوق  اور اپنی ذمہ داریوں کا خوب خیال رکھیں ۔ اس عمل کو محض تعلیم و تربیت کے فروغ کی  نیت سے کیا جانا چاہیے ۔ لیکن المیہ آج کی مکروہ ذہنیت زدہ  ثقافت کا عروج اس قدر چلن پا چکا کہ جب کسی مقام پر وہ اسلامی کتابوں میں عورتوں کی تربیت  اور دینی و دنیاوی فلاح و بہبود کی باتیں پاتے ہیں وہاں یہ ذہن دینا شروع کر دیتے ہیں  کہ اسلام میں عورتوں کو بہت دبا کر مجبور و مقہور بنا کر رکھا ہوا ہے ۔کچھ لوگوں کا مقصد صرف عورتوں کو بہکانا ہوتا ہے ان کی حقیقی اصلاح وکامیابی کی کوشش کبھی کبھی مخلص نہیں ہوتی ہے ۔

 طرح طرح کے اعتراضات کی پیچیدگیاں پیدا کی جاتی ہیں ، مثلا طلاق کا اختیار صرف مردوں کو ہی کیوں عورتوں کو کیوں نہیں ؟ میں بھی اکثر یہ سوچتا  ہوں کہ اس قانون اسلامی کے پیچھے کیا حکمت ہو سکتی ہے تو میرے ذہن میں یہ تشفی بخش جواب آتا ہے کہ اللہ کا کلام بر حق ہے اگرچہ اس کے بعض احکام کی حکمت مجھے سمجھ نہ آئے ، لیکن ایمان کا لازمی تقاضہ ہے  کہ اللہ کے کلام کو برحق مانا جائے اور اس کے احکام کو بھی بر حق اور درست  مانا جائے، کیونکہ یہی قرآن کریم کی تعلیم ہے ۔اگر ہم مسلمان و مومن ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو اللہ تعالی کے تمام احکام پر ایمان رکھنا، انہیں حق ماننا لازمی ہے  اور اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے جیساکہ قرآن مجید نے خود ایسی تعلیمات دی ہیں ۔ اور پھر یہ عقلی جواب ملتا ہے کہ اللہ تعالی نے نکاح کے بندھن میں بندھنے کے لیے دو راستوں کا انتخاب کیا ہے جبکہ اس بندھن سے آزاد ہونے کے لیے صرف ایک راستہ کو کھولا۔ اب سوال یہ ہے کہ صرف ایک راستے کو کیوں کھولا دونوں راستوں کو کیوں نہ کھولا ؟  تو ایک  جواب یہ ملتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے  کہ کبھی مرد اور کبھی عورت کو اس بات کی ضرورت پڑ سکتی ہے کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کو ختم کرکے امن و سلامتی کے ساتھ الگ الگ ہو جائیں ، کیونکہ بعض انسانی ضرورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جب کبھی مرد محتاج ہو سکتا ہے تو کبھی عورت محتاج ہوسکتی ہے ۔ اسلام نے اس مقام پر اعتدال کا مظاہرہ کیا اور  اس ازدواجی زندگی سے باہر آنے کے لیے صرف ایک دروازہ  کا تعین کیا  جو صرف مرد کی جانب سے کھلتا ہے اور عورت کی جانب سے بند رہتا ہے ، یعنی مرد کی طرف سے طلاق اور عورت اگر چاہے تو  مرد  کی رضامندی کے ساتھ خلع  لے سکتی ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ انتہائی ضروری حالت میں ازدواجی رشتہ سے باہر نکلنے کے لیے صرف ایک دروازہ ۔ مگر اس کے بر عکس نکاح کے رشتہ میں آنے کے لیے دو دروازے ۔ یعنی نکاح کے رشتے میں بندھنے کے لیے دونوں مرد اور عورت کو پورا اختیار ملا ہے کہ چاہیں تو نکاح کریں یا نہ کریں ۔  اب رب کی مشیت پر غور کیجیے کہ  انتہائی ضروری صورت میں رشتہ توڑکرکے باہر آنے کے لیے صرف ایک واسطہ بنایا  اور رشتہ جوڑکر اندر آنے کے لیے دو  واسطے بنائے  ۔رب کی مشیت پر غور کیجیے کہ رشتہ نبھانے کے دو ذرائع اور رشتہ توڑنے کا ایک ذریعہ  بنایا۔

اب سوال یہ کہ رشتہ توڑنے کا ذریعہ چاہے ایک ہی ہو ، کیوں کھلا چھوڑ دیا ؟ تو اس کی بہتر حکمت تو اللہ تعالی ہی جانتا ہے اور اس کے فضل سے ہماری عقل میں یہ بات آتی ہے کہ   اگر اسلام رشتہ توڑنے کا کوئی ایک بھی ذریعہ باقی نہ رکھتا تو اتنی بڑی آبادی ہونے کے باوجود  عورت یا مرد میں سے کوئی ایک ممکنہ طور پر  مظلوم  ومقتول زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا یا ہو جاتی  ۔اور اس کی مثال ہمارے ملک میں بھی ملتی ہے کہ بہت سارے واقعات  ایسے بھی پیش آ چکے ہیں کہ جن میں میاں نے یا تو بیوی کا قتل کیا یا پھر بیوی نے میاں کا قتل کر دیا ۔آخر قتل تک کی نوبت کیوں پہنچی ؟ اس کے اسباب پر غور کرنا ضروری ہے ۔ یہ مقولہ بالکل سچ ہے کہ کبھی انسان  کہلانے والا فرد درندہ بھی بن جاتا ہے ۔

اگر اسلام طلاق کا دروازہ بند کر دیتا تو  ایک بے وفا بیوی یا بے وفا شوہر کے ساتھ رہنے پر  پوری زندگی مجبور رہنا پڑتا ۔ مجبوری سے نکاح جیسا بہترین رشتہ کامیابی کی راہ نہیں چل سکتا ۔کامیاب ازدواجی زندگی وہی ہے جس میں دونوں کے قلوب ایک دوسرے سے راضی اور  پر سکون ہوں ۔

شریعت نے  رشتہ توڑنے کی اجازت تو دی مگر واسطہ صرف ایک بنایا ، یعنی طلاق کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے عورت کو نہیں ۔ لیکن جب نکاح میں لانا مقصد تھا تو شریعت نے دونوں کو رضامندی کا اختیار دیا ۔  جب رشتہ کی بنیاد رضامندی پر ہوگی تو وہ رشتہ مضبوط ہوگا ، تو مطلب یہ ہوا کہ  شریعت اسلام کی نظر میں رشتہ توڑنے سے زیادہ  رشتہ مضبوط کرنے کو پسند کیا جاتا ہے ، اسی لیے عورتوں کے اختیار کا بھی خیال رکھا اور بھرپور موقع دیا کہ جب بھی وہ اپنا شوہر چنیں تو پرہیزگار و متقی اور صالح مومن مسلم کو چنیں ، کیونکہ اس کے ساتھ عہد وفا نبھانے میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جو سچا مومن ہو اور صالح و متقی ہو ، جس کے لیے ظاہری  طور پر اچھا بننے کے ساتھ ساتھ باطنی طور پر اچھا بننا پڑتا ہے  اور پھر ظاہری اور باطنی طور اچھا بننے کے لیے علم دین کو پڑھنا اور کما حقہ سمجھنا بھی ضروری ہے ۔ منافق کا دل کچھ اور زبان کچھ اور کہتی ہے۔ جس کے اندر رب کا خوف نہیں  وہ ظاہر میں کتنا بھی اچھا ہو اس کے باطن پر اعتبار  یقینی طور پر درست نہیں ۔ سارے لوگ نیک نہیں تو یہ بھی حقیقت ہے کہ سارے لوگ بدی بھی نہیں۔ معلوم ہوا کہ رب کی مشیت ہے کہ مرد اور عورت اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو کما حقہ نبھا کر اپنی  ازدواجی زندگی کو مزید مضبوط کریں اور اس کے لیے مرد اور عورت دونوں کو اپنی اپنی سطح پر اصلاح کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا شروع کر دیں تو معاشرے میں صلح و امن کا پھیلاو ہوگا اور پھر ملک امن و شانتی کی مثال بنتا رہے گا ۔

۔۔۔

اسلامک ریسرچ اسکالر غلام غوث صدیقی، عالم و فاضل ، متخصص فی الادب العربی ، والعلوم الشرعیہ والنقلیہ ، اور مشہور عالمی ویب سائٹ ‘‘نیو ایج اسلام’’ کے مستقل کالم نگار اور متعدد زبانوں ، بالخصوص انگریزی ، عربی، اردو اور ہندی کے مترجم ہیں۔

-------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/comment-article-always-cruel-women/d/130258

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..