New Age Islam
Thu Mar 05 2026, 03:43 PM

Urdu Section ( 19 Jan 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

What Does Islam Think Of The Expanding Trend Of Khula by Muslim Women? Part -1 خلع کا بڑھتا چلن مگر دین اسلام کیا کہتا ہے ؟

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

(قسط-1)

خلع کا لغوی  معنی و مفہوم

عربی لغت میں خلع بضم الخاء (خاء کے پیش کے ساتھ) اور بفتح الخاء (خاء کے زبر کے ساتھ ) دونوں طرح آیا ہے۔ اس کے معنی ہیں نزع یعنی اتارنا ، الگ کرنا اور نکال ڈالنا ۔ قرآن مجید میں ایک مقام پر ہے ‘‘فاخلع نعلیک’’ یعنی اپنے دونوں جوتوں کو نکال دے ۔ عربی میں کہا جاتا ہے ‘‘خلع ثوبہ عن بدنہ’’ یعنی اس نے اپنے بدن سے کپڑے اتارے ۔

خلع کی وجہ تسمیہ ایک مناسبت ہے کہ قرآن کریم میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : ھن لباس لکم و انتم لباس لھن یعنی وہ (عورتیں) تمہارا لباس ہیں اور تم (مرد) ان کے لباس ہو۔ خلع کے ذریعہ میاں بیوی کا ایک دوسرے سے علیحدگی اور جدائی اختیار کرنا ازدواجی لباس اتار دینے کے مترادف ہے ۔ لہذا جب خلع کا استعمال باب الطلاق میں ہو تو خاء کو ضمہ (پیش) کے ساتھ پڑھا جائے گا اور جب لباس اور جوتے اتارنے کے معنی میں ہو تو وہاں خاء فتحہ (زبر) کے ساتھ پڑھا جائے گا ۔

   خلع کا اصطلاحی معنی و مفہوم

رشتہ زوجیت کو مال کے بدلے نکال دینے کے عمل کو خلع کہا جاتا ہے ۔ خلع میں بیوی کی جانب سے شوہر کو مال دیا جاتا ہے اور شوہر اس کے بدلے طلاق دیتا ہے۔مثلاً: بیوی نے اپنے  شوہر سے کہا کہ ”میرا مہر لے کر میری جان چھوڑدو“، اس کے جواب میں شوہر نے کہا: کہ ‘‘میں نے چھوڑدیا’’ تو خلع ہوگیا۔ اسی طرح اگر شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ ”میں نے تجھ سے مہر کے بدلے خلع کیا’’ پھر  بیوی نے جواب میں کہا کہ ‘‘میں نے قبول کیا’’ تو یہ بھی خلع ہے۔

 صاحب بنایہ نے خلع کے شرعی معنی اس طرح بیان کیے ہیں: عبارۃ عن اخذ مال من المراۃ بازاء ملک النکاح بلفظ الخلع ، یعنی لفظ خلع کے ذریعے ملک نکاح کے عوض بیوی سے مال لینے کا نام اصطلاح شرع میں خلع ہے  (بنایہ ۵، ۱۹۱)۔

علامہ حصکفی لکھتے ہیں: هو إزاله ملک النکاح المتوقفه علی قبولها بلفظ الخلع أو في معناه ولا بأس۔ یعنی  لفظ خلع کے ساتھ یا اس کے ہم معنی لفظ سے نکاح کی ملکیت کو ختم کرنا جو کہ عورت کے قبول کرنے پر موقوف ہے۔ ضرورت کے وقت خلع کرنے میں حرج نہیں۔ (حصکفی، الدر المختار، ۳:۴۳۹)

ہندیہ میں ہے : الخلع إزالة ملک النکاح ببدل بلفظ الخلع، وحكمه: وقوع الطلاق البائن إلخ یعنی لفظ خلع کے ساتھ کسی مال کے بدلے ملک نکاح کو زائل کرنے کو خلع کہا جاتا ہے ۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے طلاق بائن واقع ہوگی ۔(ہندیہ: ۱/۵۴۸)

خلع  کی بنیادی شرط یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں خلع پر اتفاق  کریں اور ایک ہی مجلس میں خلع کے الفاظ پائے جائیں۔ چونکہ لفظ خلع کنایات طلاق میں سے ہے اور الفاظ کنایہ کے ساتھ طلاق بائن واقع ہوتی ہے ، لہذا  خلع کا حکم یہ ہے کہ اس کے ذریعہ طلاق بائن  واقع ہوگی  یعنی بیوی فورا نکاح سے نکل جائے گی اور اس صورت میں شوہر کے لیے اس عورت سے  رجوع کا اختیار  بغیر تجدید نکاح نہیں ہوگا  اور جو مال عورت نے یا مرد نے بدلے میں  ذکر کیا ہے اس کی ادائیگی  عورت پر لازم ہوگی۔ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ جب لفظ خلع الفاظ کنایہ میں سے ہے تو اس میں نیت شرط ہونی چاہیے تھی حالاکہ خلع میں طلاق کی نیت شرط نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ خلع چند معنی کا احتمال رکھتا ہے  (۱) کپڑوں سے نکلنا  (۲) بھلائیوں سے نکلنا  (۳) نکاح سے نکلنا ۔ پس جب مال یعنی بدل خلع ذکر کر دیا گیا تو نکاح سے نکلنے کے معنی متعین ہو گئے اس وجہ سے نیت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

خلع کی مشروعیت  کی وجہ کیا ہے ؟

خلع عام حالات میں مکروہ ہے اور صرف اس حالت میں جائز ہے جب شوہر اور بیوی میں سے ہر ایک کو یہ یقین  ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے یعنی اللہ تعالی نے جو حقوق میاں بیوی کے درمیان ایک دوسرے کے تئیں متعین فرمایا ہے  انہیں پورا نہ کرنے کا یقین ہو تو ایسی صورت میں ہی خلع جائز ہے ۔ مثلا ، اگر میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا اور نااتفاقی حد سے بڑھ جائے اور باہمی نباہ اور تعلق زوجیت باقی رکھنا دشوار ہو اور شادی کا مقصد باہمی کشیدگی اور ناخوشگواری کے سبب فوت ہو رہا ہو اور حسن معاشرت تلخی کی نذر ہو رہا ہو تو ایسے موڑ پر اس میں شرعا مضائقہ نہیں کہ خلع کر لیا جائے ۔

(جاری )

--------

غلام غوث صدیقی نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ،  علوم دینیہ کے طالب   اور ہندی ، انگریزی ، اردو کے مترجم ہیں ۔

---------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/islam-expanding-khula-muslim-women-part-1/d/128912

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..