New Age Islam
Wed Jun 03 2026, 05:01 PM

Urdu Section ( 3 Sept 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Maulana Maududi's Concept of Jihad جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کا جہاد کے متعلق تصور ان کے سیاسی عزائم اور ان کے اندر قرآن فہمی کے فقدان کی طرف غمازی کرتا ہے

 

مضمون  "اسلامی جہاد سے متعلق مولانا مودودی کا موقف" جو  کہ  نیو ایج اسلام میں شائع کیا گیا تھا،  کی تردید

 غلام غوث ، نیو ایج اسلام

31 اگست ، 2013

 اسلام میں جہاد پر جماعت اسلامی کے بانی نظریہ ساز  مولانا ابوالأعلیٰ مودودی کا مضمون (جیسا کہ اس سائٹ پر شائع  کیا گیا ہے، ذیل میں دئے گئے  لنک پر ملاحظہ کریں ) اسلام کو تلوار ، تشدد، انتہا پسندی اور جہادیت کے ایک  مذہب کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ مولانا  مودودی نے برائی سے نمٹنے کے نام پر غیر مسلموں اور دوسرے فرقوں کے مسلمانوں کے خلاف جنگ کو ہوا  دینے کے لئے  قرآن مقدس کی غیر متعلقہ آیات کو سیاق و سباق کے خلاف  پیش کیا ہے  جو کہ ایک ہی وقت میں قرآن مجید کی ایسی  دوسری آیات سے متصادم ہیں جو عالمی امن کو فروغ دیتی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے غیر حقیقی ایجنڈے کی تائید کے لئے من گھڑت حقائق کا استعمال کیا ہے ، جو کہ پوری انسانیت کے لئے  ضرر رساں ہے،  اور جو کہ محض ایک  پیچیدہ نظریہ ہے اور اب اس نے عملی طور پر دنیا کے تمام حصوں میں برائی کو پھیلانا شروع کردیا ہے  ۔

 جہاد کے تئیں مولانا مودودی کےنظریہ کا  مقصد، جہاد کی وضاحت جارحانہ اور غیر متحمل انداز میں کرتے ہوئے ہتھیاروں کی طاقت کے ذریعے غیر اسلامی نظام حکومت اور ظلم و زیادتی کو  ختم کرنا ہے ۔ مولانا مودودی کے مضمون کا عنوان مکمل طور پر قرآن کی غلط تشریح اور معنی سازی پر مبنی  ہے،  اس لئے کہ  انہوں  نے اپنے  من گھڑت نظریات کی بنیاد ایسی آیات پر رکھی  ہیں جو  کچھ خاص حالات کے لئے مخصوص ہیں ۔ انہوں نے تلوار اور جبر و تشدد کو اسلام کی اشاعت میں  نبی صلی اللہ علیھ وسلم اور ان کے مقدس صحابہ کے ساتھ ایک اہم کردار کے طور منسلک کیا ہے ، جنہیں اسلام کی پوری تاریخ میں نہ  تو کبھی جواز فراہم کیا  گیا اور نہ ہی  نافذ کیا گیا تھا  ۔

 مضمون کی تردید میں آگے بڑھنے سے پہلے مختصر طور پر ذہن میں یہ رکھنا ضروری ہے کہ مولانا ابو الاعلی مودودی کون تھے ۔ انہوں نے تقسیم سے قبل غیر منقسم  ہندوستان میں ایک اسلامی جماعت ، جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی جس میں آج  پاکستان اور بنگلہ دیش شامل ہے ۔ یہ جماعت  مصر میں اخوان المسلمون کی  ہی طرح تھی ۔ انہوں نے ایک اخبار کے ایڈیٹر کے طور پر کام کیا جن کے پاس  ایک عالم کے طور پر کوئی مذہبی بنیاد نہیں تھی  ۔ چونکہ اسلام پسند نظریہ  سازوں  پر انہیں  ایک اہم اثر و رسوخ حاصل  تھا، جبر و تشدد  پر مبنی  ان کے نظریات کو تقاریر، مضامین اور کتابچے وغیرہ کے ذریعے دعوت کے بہانے اب مساجد، محلوں  (شہر کے اندرونی علاقے  ) اور عوامی مقامات پر (اچھے اعمال انجام دینے کے لئے لوگوں کو مدعو کرنے کے لئے) پھیلایا جا رہا ہے۔

 نتیجتاً عام امت مسلمہ آسانی سے ان کے خیالات کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے یہ سوچتے ہوئے  کہ یہ خدا کے پیغامات اور  نبی صلی اللہ علیہ کی رویات  ہیں ۔ اس طرح کے نظریات نے  خاص طور پر مسلم نوجوانوں کو سخت متاثر کیا ہے اور زبردستی اسلامی نظام حکومت قائم کرنے پر انہیں مشتعل کیا ہے ۔ جس کی وجہ سے  مسلمان اور غیر مسلم دونوں یہ  سوچتے ہیں کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو تلوار سے پھیلا ہے ۔ اسی طرح  ایک طرف کچھ غیر مسلم غلط فہمی کا شکار  ہوجاتے ہیں اور  اس حقیقت سے  قطع نظر کہ مسلمانوں کی اکثریت اعتدال پسند مسلمانوں پر مشتمل ہے بغیر کسی استثناء کے پوری امت مسلمہ کے خلاف بغض اور حسد رکھتے ہیں ۔ دوسری طرف بعض مسلمان انتہا پسند بن جاتے ہیں، خودکش حملے کرتے ہیں اور عورتوں، بچوں اور بوڑھوں اور کمزور افراد  سمیت  معصوم شہریوں کا بے دریغ قتل کرتے ہیں ۔ اس طرح کے خیالات کے مہلک نتائج کے  مدنظر جن سےآج ہم دوچار ہیں ، مجھے اس  بات کی زبردست خواہش محسوس ہوتی ہے میں اپنی صلاحیت کے مطابق  قرآنی احکامات اور نبوی اقوال ( احادیث ) کی روشنی میں اس مضمون کی  تردید کروں ۔ ان کی شہرت سے پوری طرح واقف ہوتے ہوئے جو کہ  میری نظر میں ایک عظیم مذہبی عالم ہیں ، امید ہے کہ  یہ تردید (انشاءاللہ ) انتہا پسندی اور مطلق جہادیت کا جواز پیش کرنے والے  مضر خیالات کا سد باب کرنے میں  معاون ہوگی ۔ میں یہاں اسلامی جہاد اور ریاست کے  بارے میں مولانا مودودی کے خیالات کی تردید پیش کر رہا ہوں۔

 جارحانہ جہاد کے ذریعہ  غیر اسلامی ریاستوں کی بیخ کنی کرنے  کے مولانا مودودی کے نظریات

 مولانا مودودی کا ماننا ہے کہ ‘‘ اسلامی ریاست کو صرف " اسلام کا وطن " ہی ہونے تک ہی محدود نہیں رکھا جانا چاہئے ۔ یہ پوری دنیا کے لئے ہے۔ غیر اسلامی حکومتوں کو ختم کرنے اور دنیا بھر میں اسلامی ریاست کے قیام کے مقصد کے لئے  'جہاد' شروع کی جانی  چاہئے۔ وہ  لکھتے ہیں کہ ‘‘ وہ لوگ جو  مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں  محض مبلغین نہیں ہیں  بلکہ وہ اللہ کے کارکنان ہیں، ( تاکہ وہ  لوگوں کے لئے گواہ بن سکیں ، اور ظلم و زیادتی ، فساد، بد اخلاقی ، تکبر اور غیر قانونی استحصال کو ہتھیاروں کی طاقت کے ذریعے دنیا سےختم کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔ " دیوتاؤ " اور باطل ' خداؤں ' کے افسانوں کو پاش پاش کرنا  اور برے کی جگہ پر اچھائی کو بحال کرناان  کا مقصد ہے۔ پھر وہ درج ذیل میں مذکور  قرآن مجید کی تین مسلسل غیر متعلقہ آیات کو پیش کرتے ہیں:

 (1) " اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)۔ "( امام قران 2:193 )

(2) " ۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (ایک دوسرے کی حفاظت) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔۔۔" ( القران 8:73 )

(3) "وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں۔" ( القران 9:33 ) "

جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی اسلامی جہاد کو ایک  ہی وقت میں جارحانہ اور دفاعی دونوں مانتے ہیں ۔ یہ ثابت کرنے کے لئے انہوں نے کہا کہ : "یہ وہی حکمت عملی ہے جس کا نفاذ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے خلفاء ( رضی اللہ عنہم اجمعین ) کے ذریعہ کیا گیا تھا  جنہوں نے ان کی نیابت کی تھی ۔ "

 مولانا مودودی کے غیر متعلقہ سیاق و سباق کی تردید

 پہلی آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں  جزیرہ نما عرب میں کافروں کے  بارے میں آیات کے ایک تسلسل کے دوران نازل ہوئی  تھی ۔ شاید مولانا مودودی نے جان بوجھ کر آیت ( 2:190 ) کو نظر کر دیا ہے جس میں خدا صرف ان لوگوں سے لڑنے کا مسلمانوں سے مطالبہ کرتا ہے جو ان سے لڑتے ہیں اور انہیں کسی بھی طرح کے انحراف سے منع فرماتا ہے  ۔ قرآن کا فرمان ہے "اللہ نافرمانوں کو پسند نہیں کرتا " ۔ یہ اس  وقت تھا جب  کافروں نے آزادانہ طور پر مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کے انسانی حقوق سے محروم کر دیا تھا، انہیں ان کے آبائی وطن  مکہ سے نکال دیا تھا ، اور یہاں تک کہ ان پر ان کی نئی پناہ گاہ مدینہ منورہ میں بھی حملہ کیا۔ ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ اور ان کے مقدس صحابہ کو ان کی زندگی کا دفاع کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی ۔ انہیں ایک دہائی تک  جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان  کا ظلم و ستم تمام حدود سے متجاوز ہو چکا  اور محض ان کے وجود کی بقاء کےلئے بھی کوئی چارہ نہیں رہا تو اللہ نے کافروں کے ساتھ صرف دفاعی جنگوں کی اجازت دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم متعلقہ آیت میں یہ جملہ پاتے ہیں کہ " ان لوگوں سے لڑو  جو تمہارے  خلاف جنگ کرتے ہیں " اور " حد سے تجاوز نہ کرو " ۔ اگریہ آیت آنے والے تمام زمانوں کے لئے ہوتی تو خدا تعالی دفاعی جنگوں کی صورت میں  اسے کافروں تک ہی محدود نہیں رکھتا ۔

 موجودہ زمانہ کے کافروں کی طرف ان آیات کو منسوب کرنا مکمل طور پر بے معنی ہے۔ اسلامی علماء، فقہاء اور مفسرین قرآن  اس آیت کا اطلاق   دور جدید میں صرف دفاعی حالات میں کرتے ہیں اس لئے کہ یہ آیتیں اس وقت نازل کی گئیں تھیں  جب آزادانہ طور پر اسلام پر عمل کرنے کے لئے امید کی کوئی کرن باقی  نہیں رہ گئی  تھی ۔ یہ آیات آج مسلمانوں کو تشدد کے عمل  میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتیں ۔ جہاں تک دفاعی جنگ کا سوال  ہے ، یقیناً ہر ملک اور آئین لوگوں کو اپنی  زندگی کے حق کا دفاع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

 مولانا مودودی نے مسلح جدوجہد کے ذریعے اسلامی ریاست قائم کرنے کے لئے ان تینوں آیات کی غلط تشریح کی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے مضمون میں ذکر کیا ہے " اسی طرح ایک مسلمان کے لئے ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے تحت اسلامی نظام حیات پر عمل کرنے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہونا ناممکن ہے " ۔ اسی بنیاد پر مودودی غیر مسلموں سے اس وقت تک جنگ کی اجازت دیتے ہیں  جب تک کہ اسلامی حکومت  قائم نہ ہو جائے  ۔ ان کے مطابق ایک غیر مسلم حکومت  کے تحت اسلام پر عمل کرنا ایک مسلمان کے لئے ناممکن ہے۔ ہم یہ پاتے  ہیں کہ یہ نظریہ مکمل طور پر صورت حال کے حقائق کے برعکس ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہندوستان اور امریکہ یا یورپی ریاستوں جیسے ممالک غیر اسلامی ممالک ہیں لیکن ان  ممالک میں سعودی عرب جیسے مسلمانوں کی اکثریت والے ممالک سے کہیں زیادہ مسلمانوں کو  مذہبی حقوق اور ثقافتی تحفظ حاصل ہے ۔ مثال کے طور پر ہندوستان  میں ایک مسلمان پوری  آزادی کے ساتھ تمام اسلامی رسومات کو ادا کرتا ہے  اور  پیغمبر  اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  کا میلاد مناتا ہے جس کی انہیں  سعودی عرب میں اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اسی لئے مسلمانوں کو ایک اسلامی ریاست کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ انہیں  غیر مسلم اکثریت والے ممالک میں مذہب پر عمل کرنے کا پورا  حق اور سہولت حاصل ہے جس کے بارے میں وہ  مسلم ممالک میں سوچ بھی نہیں سکتے ہیں ۔

 متعلقہ آیات کے بارے میں مفسرین کی  رائے :

ایک عظیم مفسر ابن کثیر آیت 2:190 کی تشریح میں  لکھتے ہیں:

 "یہ جنگ کے بارے میں مدینہ میں نازل کی گئی  پہلی آیت تھی۔ جب اس آیت کا نزول  ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ان لوگوں سے لڑتے تھے جو ان کے خلاف جنگ کرتے تھے  اور غیر جنگجوؤں سے احتراز کرتے تھے  " ۔

اس کے بعد وہ حد سے گزرنے( ولا تعتدوا ) کے معنی کی وضاحت کرتے ہیں :

 الحسن البصری نے کہا کہ ( اس آیت جس کی طرف اشارہ ملتا ہے ) اس کے مطابق  حد سے گزرنا  ‘‘مردار کے قطع  عضو ، چوری، ان خواتین بچوں اور معمر افراد کے قتل جو  جنگ میں شامل نہیں ہوتے ، پادریوں  اور عبادت گاہوں کے رہائشیوں کو تباہ کرنے اور حقیقی  فائدہ کے بغیر درختوں کو جلانے اور جانوروں کو ہلاک کرنے ’’ کو شامل ہے  ۔''

ابن حجر عسقلانی کی لکھی ہوئی صحیح البخاری کی انتہائی قابل قدر سنی تفسیر فتح القدیر میں  اس آیت 2:190 کے حوالے سے یہ  بیان کیا گیا ہے :

 " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے جنگ کیا جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان  لوگوں سے جنگ نہیں کیا  جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ نہیں کیا  "

تفسیر طبری ، تفسیر بغوی ، فتح القدیر ، اور تفسیر قرطبی  ان تمام میں  حد سے گزرنے ( لا تعتدوا ) کی یہی وضاحت ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل میں پیش ہے :

 " حد سے تجاوز نہ کرو کا مطلب " عورتوں، بچوں، یا غیر جنگجوؤں کو قتل نہ کرو ۔ "

طبری نے بیان کیا کہ : ابن عباس نے اس آیت کی وضاحت اس طرح کی :

"عورتوں ، بچوں یا بوڑھے مرد کو اور ہر اس انسان کو مت مارو جو تمہارے پاس  امن کے ساتھ آئے اور اپنے ہاتھ کو جنگ سے روکتاہو ، اس لئے کہ اگر تم نے ایسا کیا، تو یقینی طور پر حد سے گزرنے والے ہوگے " ۔ ( تفسیر طبری 2:190 )

اس کے علاوہ " ایک عورت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک جنگ میں  ہلاک پائی گئی تھی  تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں اور بچوں کے قتل کی مذمت کی " ۔ ( صحیح سنن ابو داؤد 2668)

مندرجہ بالا تفسیر ی حوالوں سے یہ واضح ہے کہ یہ آیات غیر جنگجوؤں اور امن پسند لوگوں یا بے گناہ افراد کے بےدریغ قتل کی حمایت نہیں کرتیں ۔ بلکہ وہ ضرورت پڑنے پر  صرف دفاعی جنگ کی اجازت دیتی ہیں،  لہٰذا جارحانہ جنگ کی اسلام میں کوئی گنجائش  نہیں ہے ۔ لہٰذا جو کوئی بھی  ان قرآنی آیات کے خلاف جائے گا  اسے ایک حد سے تجاوز کرنے والا شمار کیا جائے گا ۔

ذرا سوچیں کہ  اگر جماعت اسلامی میں مولانا مودودی کی اطاعت  کرنے والے، مسلمانوں کے ذریعہ چلائی جانے والی ریاستوں سمیت غیر اسلامی ریاستوں کو تباہ کرنا شروع کردیں تو  کیا ہوگا ؟ قضیہ کی مضحکہ خیزی کے علاوہ انہیں معصوم غیر مسلموں کو (بشمول غیر  مسلموں کے جنہیں وہ دائرہ  اسلام سے خارج سمجھتے ہیں) بشمول عورتیں، بچے اور بوڑھے افراد کے قتل کرنا پڑے گا ۔ ایسا کئے بغیر ان کے لئے اپنے مقصد کو حاصل کرنا ناممکن ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستانی غیر مسلم غیر جنگجو ہیں لیکن مولانا مودودی کے مطابق ان کے ساتھ بھی جارحانہ جہاد ضروری ہے  تو سوچیں کہ  ایسی جنگ میں کیا ہوگا ؟ بڑے پیمانے پر معصوم جانوں کے قتل کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہوگا، اگر چہ جماعت اسلامی کے پاس جنگ لڑنے کی صلاحیت ہے لیکن وہ واضح طور پر ظاہر نہیں کرتی  اور نہ مستقبل میں ظاہر کرنے والی  ہے  ۔ ممکنہ طور پر یہ سب ہو سکتا ہے، اور جو ہو  رہا ہے وہ یہ ہے کہ 'سیمی' اور انڈین مجاہدین  کی طرح اس کی شاخیں   شاید دہشت گردی میں شامل ہو سکتی ہیں ۔ اس کے باوجود کہ  اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے والے خدا تعالی کی بارگاہ میں جوابدہ ہوں گے یہ وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن نافرمان کہتا ہے اور واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ خدا ان کو پسند نہیں کرتا ۔ لہٰذا وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ وہ  جنت میں اپنے لئے ایک مقام  محفوظ کر رہے ہیں، جیساکہ کوئی مشاہدہ کر سکتا ہے،  در اصل وہ جہنم میں اپنے لئے ایک کھائی تیار کر رہے ہیں۔

قرآن مجید کی روشنی میں مولانا مودودی کے نظریات کی ترید

 مندرجہ بالا قرآنی آیات جنہیں مولانا مودودی نے زبردستی اسلامی ریاست قائم کرنے اور  جارحانہ جہاد کا جواز پیش کرنے کے لئے نقل  کیا ہے وہ دیگر قرآنی آیات سے متصادم ہیں  اس لئے کہ ان کاتعلق ایک  غیر متعلقہ موضوع سے ہے۔ ہم ان آیات کا تجزیہ کرتے ہیں جو مودودی کے خیالات کی تردید کرتی  ہیں ۔

بار بار قرآن پاک میں یہ ذکر آیا ہے کہ جب غیر مسلم دعوت کو  قبول نہ  کریں اور اس سے  اعراض کریں تو خود اللہ کے رسول کو انہیں  اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ انہیں اپنے پیارے  چچا ابو طالب کے مسئلے میں بھی  اسلام قبول کروانے کے لئے  غیر معمولی زبردست  حجت  سے کام لینے  سے منع کیا  گیا تھا۔

اللہ تعالى نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے

"(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانیوالوں کو خوب جانتا ہے" ( 28:56 )۔

یہ آیت اس وقت نازل کی گئی جب ابو طالب کی  موت آ پہنچی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا سے بہت محبت کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دامن اسلام میں آنے کے لئے اپنے چچا سے پرجوش  التجاء کی تھی ۔ لیکن اس قسم کے ہلکے جذباتی دباؤ  کو بھی  دعوت  ( تبلیغ ، اسلام کی دعوت ) کے کام میں ممنوع  کر دیا گیا ۔ رسول لوگوں  کو ہدایت نہیں دیتے، بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے ، رسول کا مشن صرف پیغام کو پہنچا دیناہے۔

خدا تعالی کا فرمان ہے:

 " اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا کہ میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہو چکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے ہو) اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بے شک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مانیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ "( 3:20 )

 اس کے علاوہ :

" پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے۔ " (5:99)

 یہ آیات رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بھی زبردستی اسلام کی دعوت دینے سے منع کرتی ہیں، یہاں تک کہ ان کے اپنے چچا ابو طالب کو بھی ۔ لہٰذا کس طرح کوئی اور مذہب کے معاملے میں طاقت کا استعمال کر سکتا ہے ؟

 اللہ عزوجل نے مزید فرمایا کہ :

" دین (اسلام)میں کوئی جبر نہیں ہے " (2:256)

"تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر۔ " ( 109:7 )

‘‘اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں’’ (قرآن : 10:99 )

 " اے بنی نوع انسان ، بے شک ہم نے مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور آپ لوگوں اور آپ ایک دوسرے کو جانتے ہو سکتا ہے کہ قبائل بنا دیا ہے۔ بے شک، اللہ کی نظر میں تم میں سے سب سے زیادہ عظیم تم میں سے سب سے زیادہ صالح ہے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا اور واقف ہے۔ " (49:13 )

" اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔ لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا۔" (32:13 )

 " اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے" ( ہود 11:118 )۔

" وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے۔" (64:2)

 " اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں" ( 9: 6) ۔

"جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا"۔ ( 5:32 )

سیاق و سباق سے باہر جو بھی  آیتیں پیش کی گئی  ہیں اس میں قرآن کے پیغام کے نقطے کا فقدان ہے ۔ درج ذیل دو آیتیں یقینی   طور پر مولانا مودودی کے جارحانہ جہاد کے تصور کو مسترد کرتی ہیں :

‘‘جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا۔ خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔’’ ( 60:8 )

"اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے ( 8:61 )۔

مندرجہ بالا تمام آیات واضح طور پر جارحانہ جہاد کے ذریعہ  غیر اسلامی ریاستوں کی بیخ کنی کے مودودی کے نظریات کی تردید کرتی ہیں ۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ آیات ہمیں یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہیں کہ اسلام طاقت کے ذریعے نہیں پھیلایا گیا ہے ۔ قرآن کے مطالعہ کے بعد کوئی بھی باشعور انسان یہ محسوس کر سکتا ہے کہ جب  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی تبلیغ میں  کسی بھی قسم کے جبر سے منع کیا گیا ہے تو  کس طرح کوئی  اور اسلام کا غلبہ قائم کرنے کے لئے ایسا کر سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ہدایت یافتہ خلفاء  نے جارحانہ کے بجائے  صرف دفاعی جنگیں لڑی ۔

 غیر مسلم ریاستوں میں عدم رواداری کے مولانا مودودی کے نظریات

 ابو الأعلی مودودی کے مطابق، ایک مخالف نظریے کے تسلط کو برداشت کرنا ایک کمزور اور جھوٹے ایمان کی علامت ہے۔ ان کا کہنا ہے: " اگر تم  ریاست میں ایک مخالف نظریے کا تسلط قائم  کرتے ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہارا ایمان کمزور اور باطل ہے۔"

 تھوڑی سی بھی عقل و خرد کا مالک انسان آسانی کے ساتھ  مودودی کے عدم روادار نظریے کی مخالفت کر سکتا ہے ۔ خدا نے بار بار اہل ایمان کو سیکولر اور اعتدال پسند ہونے اور زمین میں امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ جیسا کہ آیات ( 28:56 )، ( 3:20 )، ( 5:99 )، ( 2: 256 )، ( 109:7 )، ( 10:99 )، ( 32:13 )، ( 11:118 ) ، ( 64:2 )، اور ( 9:6 ) مسلمانوں کے سامنے غیر مسلم اکثریتی ریاستوں میں رواداری کے تصور کو پیش کرتی ہیں ۔

 اس کے علاوہ قرآن کہتا ہے ‘‘جو چاہو سو کرلو۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔’’ (41:40)  اور  " جو عمل تم کیا کرتے ہو ان ہی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا " (66:7) ۔ ان دونوں آیات میں خدا نے واضح طور یہ بیان کر دیاکہ ہر نیک اور بد کام  انسان خود انجام دیتا ہے کسی کے اچھے اور برے کارناموں کا  جوابدہ کوئی  دوسرا  نہیں ہے  ۔ یہ ایک ایسی  آزادی ہے جسے خدائےتعالی نے بد اور  نیک اعمال کے لحاظ سے پوری انسانیت کو عطاء  کیا ہے ۔ ہر شخص کو اس کے اپنے اعمال کے مطابق جزا  یا سزا دی جائے گی ۔ یہ خدا کی مرضی ہے کہ اس نے  لوگوں کی آزمائش کے لئے برے اور اچھے دونوں طرح کے اعمال کو پیدا کیا اور اس وجہ سے کسی کو بھی  برائی کی بیخ کنی کے نام پر غیر مسلموں کو قتل کرنے کا حق نہیں ہے۔

 جہاں تک ایک  مومن کے کمزور اور مضبوط ایمان کی بات ہے تو یہ تقوی اور طہارت سے پیدا  ہوتا ہے، عدم رواداری سے نہیں ۔ اس کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے :

 اسلام کے بارے میں تین چیزیں بنیادی ہیں ۔ سب سے پہلا ایمان ہے، دوسرا عمل ہے اور تیسرا فضیلت و بزرگی کا اعلی مرحلہ (روحانی کمال ) ہے۔ عقیدہ  کو ایمان کے طور پر جانا جاتا ہے جس کا مطلب امن ہے ۔ عمل اسلام کے طور پر جانا جاتا ہے اس کا مطلب بھی امن ہے ۔ روحانی فضیلت اور برتری کو  احسان کے طور پر جانا جاتا ہے جس کا ترجمہ امن اور رحمت ہے ۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے حجت الوداع کے موقع پر لوگوں سے اس طرح  خطاب کیا " اے لوگو! اللہ فرماتا ہے کہ لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے ( 49:13 )

نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ قرآنی آیت کی روشنی میں کسی عرب کو کسی غیر عرب پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے ، اور نہ ہی ایک سیاہ فام کسی بھی طرح ایک سفیدفام  سے بہتر ہے یا اس کا برعکس ۔ فوقیت اور عزت کا واحد معیار تقوی کا عنصر ہے۔ ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ )

 ابو صریح سے مروی ہے: نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ:

 " خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، وہ مومن نہیں ہے، وہ مومن نہیں ہے، " کسی نے  پوچھا  یا  رسول اللہ کون مومن نہیں ہے ؟" آپ نے فرمایا وہ جو اپنے  پڑوسیوں کو امن اور تحفظ فراہم نہیں کر سکا ۔ " (صحیح البخاری ، جلد 8، نمبر 45)

 اس حدیث میں ہر طرح کے پڑوسی شامل ہیں خواہ وہ  مسلمان ہوں یا غیر مسلم، ایک مسلمان وہ ہے جو  ان کے مذہب  یا رنگ سے قطع نظر تمام پڑوسیوں کو  امن اور تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ یہ حدیث واضح طور پر غیر مسلم ریاستوں میں عدم رواداری اپنانے کے بارے میں مولانا مودودی کے نظریات کی تردید کرتی ہے ۔

 نتیجہ :

 مندرجہ بالا قرآنی آیات اور احادیث کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کسی پر بھی یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ  مولانا مودودی کے ذریعہ پھیلائے گئے عدم رواداری، انتہا پسندی، جارحانہ جہاد، غیر اسلامی ریاستوں اور ان ریاستوں کی بیخ کنی سے متعلق جو  مودودی کے لئے زیادہ اسلامی نہیں ہیں، نظریات کو اسلام مسترد کرتا ہے  ۔

 اب، ہمیں رواداری اور امن قائم کرنے کے لئے جماعت اسلامیں میں  مولانا مودودی کے پیروکاروں اور ان  جیسے ذہن رکھنے والے انتہا پسند مسلمانوں کو خدا کے پیغامات کی تشریح متعارف کرانا ہے۔ ورنہ مولانا مودودی کے ذریعہ پیدا کئے گئے  تشدد کو ان کے  پیروکار اسلام کے نام پر اسے اور متشدد بناتے رہیں گے ۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک ہم مرکزی دھارے میں شامل مسلمان، باقی تمام مسلم کمیونٹی کے سامنے پر تشدد انداز میں  تشریح کی  گئی اسلامی  تعلیمات کی مذمت نہیں کرتے ،  تب تک حتمی نتائج  دنیا کے مصائب ہی رہیں گے جیسا کہ  ہم ابھی  بنگلہ دیش، پاکستان ، شام، عراق اور مصر وغیرہ میں دیکھ رہے ہیں ،ہمیں پرامن طریقوں پر عمل کرنا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ  ایک مقدس مقصد ایک برے اور مجرمانہ راستے پر  چل کر  حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح امن کے مقاصد ظالمانہ اور جابرانہ طریقوں پر چل کر حاصل نہیں کئے جا سکتے اس موضوع پر اسلامی تعلیمات کی تلخیص درج ذیل آیات میں کی جا سکتی ہے ۔

 " عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو دوستی پیدا کردے۔ اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔" (60:7)

( بے شک، خدا سب سے بہتر جاننے والا ہے )

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ،  نیو ایج اسلام)

 حوالہ: Maulana Maududi on Jihad in Islam

http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/maulana-maududi-on-jihad-in-islam/d/1268

 

 نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار، غلام غوث تصوف اور روحانیت سے وابستہ  ایک عالم اور فاضل ( کلاسیکل اسلامی اسکالر) ہیں ۔ انہوں نے دہلی میں واقع صوفی نظریات کے حامل اسلامی ادارہ  جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء  ذاکر نگر ، نئی دہلی سے تخصص فی التفسیر، حدیث، عربی اور اسلام کے  کلاسیکی علوم کی تکمیل کی ہے ۔ انہوں نے عالمیت اور فضیلت بالترتیب جامعہ وارثیہ عربی کالج ، لکھنؤ اور جامعہ منظر اسلام ، بریلی ، یوپی سے مکمل کی ہے اور  جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے انہوں نے عربی میں گریجویشن کیا ہے۔

 

URL for English article:

https://newageislam.com/radical-islamism-jihad/jamaat-e-islami-founder-ideologue/d/13300

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/maulana-maududi-concept-jihad-/d/13342

 

Loading..

Loading..