New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 03:54 PM

Urdu Section ( 18 March 2015, NewAgeIslam.Com)

Moderate Muslims Must Denounce Armed Jihad مسلح جہاد کی ملامت کرنا اعتدال پسند مسلمانوں کے لیے ناگزیر

 

 

 

 

 

 

 

فرزانہ حسن

12 مارچ 2015

منگل کے دن پارلیمنٹ میں اسلامو فوبیا، انتہا پسند اسلام اور مغربی معاشرے کے ساتھ اسلام کے ساتھ متنازع تعلقات کے تمام پہلوؤں پر زبردست بحث ہو ئی۔

وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر نے شہری تقریبات میں نقاب پر پابندی عائد کرنے کے اپنے موقف کا دفاع کیا جبکہ لبرل رہنما جسٹن ٹروڈو کہا کہ ایسی باتیں تمام مسلمانوں کی قدر کو گھٹاتی ہیں۔

اسلامو فوبیا سے لڑنے کے لیے اعتدال پسند مسلمانوں کے پاس سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ قدم آگے بڑھائیں اور ان حقیقی مسائل پر توجہ دیں جو کینیڈا میں اور بیرون ملک میں پھیل چکے ہیں اور جو مسلم کمیونٹی کے لیے ذلت و رسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔

اب تک اس طرح کی کوششیں بے دلی کے ساتھ انجام دی گئی ہیں جو کہ انتہا پسندوں کی فریب کن سحر انگیزیوں کے سامنے بڑی حد تک لاحاصل رہی ہیں۔

ایک تازہ کوشش عیسائیت سے اسلام کی طرف لوٹنے والے امام سٹیو روک ویل کی TTC اشتہار مہم ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ احمد دیدات کے شاگرد ہیں جو نوے کی دہائی تک مغربی ممالک میں اسلام کی اشاعت کی مشہور پالیسی کے ساتھ عیسائیوں کے ساتھ مذہبی مباحثے اور مکالمے میں سر گرم تھے۔

روک ویل ایک ہفتہ وار ٹی وی پروگرام "کال آف دی مینارات (Call of the Minaret)" کی میزبانی کرتے ہیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ناظرین کو تمام تعصبات کے پردوں کو ہٹا کہ غیر جانبداری کے ساتھ اسلام کو دیکھنے اور سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔

اس پروگرام میں ان مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے جو روک ویل کے مطابق اسلام کے بارے میں "غلط فہمیاں" ہیں۔

روک ویل کی تنظیم "مسلمز اگینسٹ ٹیرورازم (دہشت گردی کے خلاف مسلمان)" کا بھی یہ دعوی ہے کہ اس کا مقصد غیر مسلموں سمیت کینیڈا کے تمام باشندوں کی جانب سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔

اس تنظیم نے ٹورنٹو TTC اسٹیشن کے اندر ایک اشتہار شائع کیا ہے جس پر یہ مندرج ہے کہ : "جو مسلمان کینیڈا یا کسی کینیڈین کو تکلیف تکلیف دیتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے"۔

یہ اسلامی دہشت گردی کی مخالفت میں ایک زبردست بیان ہو سکتا ہے۔

روک ویل کو یہ امر واضح کرنا چاہئے کہ ان کی ترجیح کینیڈین کا دفاع کرنا ہے یا اسلام کا –اور کس طرح۔

اشتہار ریاست میں یہ بھی مندرج ہے کہ: "ہم، کینیڈا کے مسلمان آپ کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی نگہبانی کریں گے، اور آپ کی حفاظت کی ضمانت دینے کے لیے جو کچھ بھی بن سکے گا کریں گے۔ "

روک ویل کی یہ بات اس وقت تک محض ایک مسحور کن بیان ہے جب تک انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت حاصل نہ ہو۔

موصوف کاکہنا ہے کہ جب ان کی تنظیم یہ دیکھے گی کہ کوئی آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے جا رہا ہے یا کسی دہشت گردانہ سرگرمی کو انجام دینے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ حکام کو اس سے مطلع کرے گی ......اگر کسی کینیڈین کو تکلیف پہنچائی جائے تو یہ مسلم کمیونٹی کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں ہے۔ "

اگرچہ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو شخص بھی معتدل اسلام کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتا ہے اسے تمام حالات میں مسلح جہاد کا علیٰ الاعلان رد کرنا ضروری ہے۔

عصر حاضر میں دہشت گردی پیچیدہ انداز میں جہاد سے منسلک ہے۔

کیا روک ویل یہ مانتے ہیں کہ 21وی صدی میں یہ نظریے نامناسب ہے؟

جو بھی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا دعوی کرتا ہے اسے جہاد کے اسلامی تصور پر غور کرنا ضروری ہے اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ کس طرح اور کیوں دہشت گردوں نے اس کا استعمال شروع کیا۔

اسلام کی شبیہ کی حفاظت اور اسے فروغ دینے کے لیے روک ویل نے اپنے دیگر اغراض و مقاصد کا اظہار پرزور انداز میں کیا ہے۔

ٹورنٹو سن کے لیے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ: ‘‘مجھے لگتا ہےکہ اس ملک میں مسلمانوں کو پیچھے بیٹھ کر اسلام کی خود ساختہ اور متضاد تشریحات کو فروغ پاتا ہوا نہیں دیکھنا چاہیے۔ آئی ایس آئی ایس، طالبان اور بوکو حرام کے تمام تشدد جنہیں میڈیا سنسی خیز انداز میں پیش کر رہا ہے اور وہ چند مسلمان جو ان کے تئیں مثبت رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں اور (آئی ایس آئی ایس جیسی جماعتوں میں) شمولیت اختیار کر رہے ہیں، ان تمام امور سے ایک مسخ شدہ اسلام کی عکاسی ہوتی ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

لیکن اگر امام حقیقی معنوں میں اسلام پسند دہشت گردوں سے کینیڈینز کا دفاع کرنا چاہتے ہیں تو عوامی سطح پر انہیں اس بات کا بر ملا اظہار کرنا ہوگا کہ وہ کس طرح جہاد کے نظریے کا اطلاق اور انطباق کرتے ہیں۔

انہیں کھلے عام یہ اعلان کرنا ہوگا کہ یہ نظریہ غیر افادیت بخش اور معاصر دنیا کے لیے تباہ کن ہے۔

تب جا کر وہ کینیڈین حفاظت کے لئے کچھ کر پائیں گے۔

ماخذ:

http://www.torontosun.com/2015/03/12/moderate-muslims-must-denounce-armed-jihad

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/farzana-hassan/moderate-muslims-must-denounce-armed-jihad/d/101934

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/farzana-hassan,-tr-new-age-islam/moderate-muslims-must-denounce-armed-jihad--مسلح-جہاد-کی-ملامت-کرنا-اعتدال-پسند-مسلمانوں-کے-لیے-ناگزیر/d/102008

 

Loading..

Loading..