New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 09:54 AM

Urdu Section ( 14 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Hamas is Israel's Creation حماس اسرائیل کی پیدا وار ہے

 

فاروق سولہریا

29 نومبر 2012

(انگریزی سے ترجمہ  ۔  مصباح الہدیٰ، نیوایج اسلام)

ناکہ بندی  نے غزہ پٹی میں فلسطینیوں  کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا ہے  ۔خود ناکہ بندی ہی وہ   بنیادی وجہ  ہے کہ حماس اب  تک اقتدار میں ہے۔

حماس کے کارکنوں نے میرے  والد کو  اشارہ کیا  کہ اب میں ایک عورت ہونے والی ہوں  ،  اور یہ  میرے اسلامی حجاب پہننے کا وقت ہے  ۔  میں نے انکار کر دیا یہاں تک کہ انہوں نے    مجھے دھمکانا شروع کردیا کہ  جو جو ان عورت حجاب پہننے سے انکا کرتی ہے  حماس اس کے چہرے پر  تیزاب پھینک دیتے ہیں ، یہ باتیں وفا نے کہیں ۔

وفا جمیل Nakba سے تعلق رکھنے والی  تیسری نسل کی فلسطینی پناہ گزین ہے ۔ در اصل  اس کے  خاندان کا  تعلق  Akkā (جو کہ اب 'اسرائیل'میں  ہے)  سے ہے  ۔ وہ 1975میں  غزہ میں پیدا ہوئی تھی۔ اور 1994 میں وہ میڈیا کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے  Birzeit یونیورسٹی رملہ چلی گئی ۔ وہ ایک دستاویزی فلم کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتی ہیں ۔مزید  پڑھیں :

کیا آپ مختصر طور پر اس بات کی وضاحت کر سکتی ہیں کہ غزہ  میں کس طرح کی  زندگی ہوتی ہے اور اسرائیلی جارحیت وہاں کی زندگی پر کس قدر  اثر انداز ہے؟

میں ستمبر 2000 سے غزہ جانے  کے قابل   نہیں ہوں ۔اولاً میری ID کی وجہ سے میرے لئے وہاں میرے خاندان سے ملنے کے لئے جا نا ممکن نہیں ہے  ۔ 2000 میں ،میں رملہ میں قانونی طور پر رہنے کے لئے اسے مغربی کنارے کی ID میں تبدیل کرنے کے قابل تھی ، لیکن اسرائیلی کمپیوٹر نے  اب بھی مجھے 2011 تک غزہ کے شہری کے طور پر رجسٹرڈ کیا ہوا ہے ۔  جب کہ  میری ID کچھ اور کہتی ہے  اور اسرائیلی کمپیوٹر کچھ اور ، اگر میں واپس غزہ گئی تو  مغربی کنارے پر جانے کی میری کوئی  ضمانت نہیں ہے ۔

2008 میں میں نے"فلسطین کے تحت حماس" نام کی ایک  فلم بنائی ،جس میں  اسرائیلی ، حماس اور فتح  کے قبضے پر تنقید  کی گئی  تھی۔ اس کے بعد حماس نے مجھے دھمکی دی ،اور یہ اب بھی غزہ جانا  میرے لئے  خطرناک ہے ۔ لیکن غزہ میں میرا پورا خاندان ہے: خاندان کے ساتھ چار بہن اور دو  بھائی (پورے 40 سے زیادہ افراد)۔

ہم روزانہ فون کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں ۔ حالیہ حملے کے دوران جب میں نے یہ جاننے کے لئے کہ  وہ سب محفوظ ہیں یا  نہیں  فون پر رابطہ کیا تو  مسلسل ڈرون حملوں اور کبھی کبھار دھماکے کی آوازسننا  واقعی بہت دردناک تھا ۔ اگر راستے  میں کوئی محاصرہ یا چیک پوائنٹ نہ ہو تو  میرے خاندان والوں کا  گھر رملہ سےکار کے ذریعہ  صرف ایک گھنٹے کی دوری پر ہے  ۔لیکن وہ ابھی بھی بہت دور محسوس ہوتا ہے۔ اپنے چاہنے والوں کے اتنے قریب ہوتے ہوئے  اتنی دور ہونا بڑی مایوسی اور محرومی کی بات ہے ، خاص طور پر جب وہاں پر جنگ چل رہی ہو  اور آپ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ہر ایک فضائی حملے کا اندازہ لگارہے ہوں  کہ وہ  گولہ باری اس جگہ سے کتنی  دور ہے جہاں آپ کا خاندان رہتا ہے۔

عام طور پر، غزہ شہریوں کی  زندگی اوسط سے بہت  زیادہ مشکل ہو گئی  ہے  اس لئے کہ حماس نے بڑا اثر و رسوخ حاصل کرنا  شروع کر دیا ہے۔ اس تناظر میں ہمیں یہ  یاد ہونا چاہئے کہ حماس اسرائیل کی ہی پیداور  ہے۔ یہ سچائی فلسطین کےباہر اچھی طرح   مشہور و معروف نہیں ہے۔ اسرائیل نے  چاہا  کہ اسلامی تحریک حتمی شکل اختیار کرے،مضبوطی حاصل کرے ،فلسطینی سیکولر حریفوں کو چیلنج پیش کرنا شروع کرے اور اس کے بعد حماس نے جو شکل اختیار کیا وہ آج ہے ۔ اسرائیل نے  غزہ کے اسلام پسندوں، کو روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے PLO اور یاسر عرفات کی الفتح کی بیخ کنی کرنے کے لئے کئی سالوں سے انہیں برداشت کیا اور ان کی  اور حوصلہ افزائی کی ۔ یہ اسی طرح کی ایک کہانی ہے کہ امریکہ نے کس طرح  ،افغانستان میں سوویت یونین سے لڑنے کے  لئے  اسامہ ے بن لادن کو مسلح کیا  اور اس طرح ایک پیدا کیا گیا راکشس بعد میں خود  اپنے پیدا کرنے والے  کے خلاف ہو گیا  ۔

جب میں سن بلوغت کو پہونچی تو غزہ میں میری ذاتی زندگی حماس سے متاثر ہو نی شروع ہو گئی ۔ حماس کے کارکنوں نے میرے  والد کو  اشارہ کیا  کہ اب میں ایک عورت ہونے والی ہوں  ،  اور یہ وقت   میرے اسلامی حجاب پہننے کا ہے  ۔  میں نے انکار کر دیا ۔ میں نے  اسلامی حجاب پہننے سے  انکار کر دیا اور حماس کے ہمدردوں  نے میرے  خاندان والوں  کے گھر کی دیوار پر میرے متعلق برے الفاظ لکھنے شروع کر دئے ۔ میرے والد نے میرے فیصلے کی حمایت کی ۔ تو میں نے اپنے بال ڈھکنے سے  انکار کر دیا یہاں تک کہ   مجھے دھمکانا شروع کردیا کہ  جو جو ان عورت حجاب پہننے سے انکا کرتی ہے  حماس اس کے چہرے پر  تیزاب پھینک دیتے ہیں ۔ لہذا ہائی اسکول کے زمانے میں ہی مجھے  عوام میں اسکارف پہننے پر مجبور کیا گیا تھا۔ جیسے ہی فلسطینی اتھارٹی 1994 میں غزہ میں داخل ہوئی  میں نے  ہیڈ اسکارف پہننا چھوڑ دیا۔

لیکن دراصل ،  غزہ کے لوگوں کے لئے سب سے بڑی پریشانی اسرائیلی محاصرہ  ہے۔ ناکہ بندی  نے غزہ پٹی میں فلسطینیوں  کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر   دیا ہے۔  یہ ان کو ان کی  مصنوعات کی درآمد اور برآمد اور ان کے اپنے ملک کے اندر اور باہر  سفر کرنے سے  روک دیتا ہے یہ انہیں ان کی  کاشتکاری کی  زمین اور ماہی گیری کی جگہ  تک رسائی سے روک دیتا ہے ۔ ناکہ بندی ایک ایسی  اجتماعی سزا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے لئے خود کی حمایت کرنا ، خوراک کی محفوظ رسد ، طبی دیکھ بھال ، تعلیم، پینے کا  پانی اور ثقافتی تبادلے وغیرہ نا ممکن ہیں ۔ محاصرہ کلی  طور پر عوام کو حماس کے قبضے میں کر دیتا ہے ، جس کا  آج مصر  کے سرنگوں اور غیر ملکی امداد کی تقسیم سے  لیکر عوام میں خواتین کے کپڑے پہننے کے طریقے تک  ہر چیز پر  پر کنٹرول ہے ۔ خود ناکہ بندی ہی وہ   بنیادی وجہ  ہے کہ حماس اب  تک اقتدار میں ہے۔

آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اس وقت  غزہ پر اسرائیل نے حملہ کیا ہے؟

سرکاری طور پر اسرائیل نے  اپنے حفاظت کی بنیاد پر فلسطینیوں پر جارحیت کا جوازپیش  کیا ہے  ۔ لیکن اسرائیل ٹینکوں، محافظوں سے لیس گاڑیوں ، آلات حرب ، بندوق سے لیس ہیلی کاپٹر اور ایئر فورس کے ساتھ 7.5 ملین لوگوں کا  ایک ملک ہے۔ اور غزہ 1.7 ملین لوگوں کا  ایک چھوٹا سا مقبوضہ علاقہ ہے جس کے  پاس  کوئی بھاری ہتھیار نہیں  ہے ۔

اور حقیقت میں، غزہ کے  عام شہریوں نے  حماس کے بجائے اسرائیلی حملے کی قیمت ادا کی تھی ۔

لہذا غزہ پر حملے کی حقیقی وجہ کیا تھی؟ میں کہوں گی کہ  یہ اسرائیل میں آئندہ انتخابات کی سیاست ہے ۔ غزہ میں حماس کے مقتول  رہنما  فوری طور پر صلح اور جنگ بندی پر دستخط کرنے کے لئے تیار تھے۔جب حماس مذاکرات کے لئے مکمل طور پر تیار ہے، تو  نیتن یاہو کیوں ایک حملے کو اہم تنازعہ بنائیں گے ؟ متاثرین یہاں غزہ کے لوگ ہیں،اور جو شخص  اس تشدد کا اصل  ذمہ دار ہے وہ اسرائیل کا وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو ہے۔ یہ اسرائیلی انتخابات سے ٹھیک پہلے ہو رہا ہے، اور نیتن یاہو کی حمایت توقع سے بھی  زیادہ کم ہے  ۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اس قاتلانہ چال کے ذریعہ ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آخری بات جو  نیتن یاہو چاہتے ہیں وہ  امن ہے، کیونکہ موجودہ اسرائیلی قیادت کے ایجنڈے میں  امن نہیں ہے۔حماس ہی  ایک ایسامفید آلہ کار ہے جسے  نیتن یاہو نفرت بھڑکانے اور مزید جنگ کے لئے اسرائیلی شہریوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔

عالمی میڈیا  کی اہم علامات ، بی بی سی ‘‘BBC ’’اور سی این این ‘‘CNN ’’، اس ' تنازعہ' کو ایک لامتناہی جنگ کے طور پر مسلسل پیش کر رہے  ہیں۔  اسی طرح، عرب کو معمول کے مطابق مغربی پروڈکشن میں خاص طور پر ہالی وڈ میں ویلن کی طرح  پیش کیا جا رہا ہے ، فلسطین کے سوال کی میڈیا میں کی تصویر کشی  پر ایک فلم ساز کے طور پر آپ کس طرح کا تبصرہ کریں گی؟

11 ستمبر کے بعد، اور اس سے قبل بھی، عربوں کی تصاویر منفی رہی ہیں : اگر وہ ایک مرد  ہے تو  وہ ایک دہشت گرد یا بیوی کو پیٹنے والا ہے. اگر وہ ایک عورت ہے، تو  اس کی تصویر کشی پردے کے  شکار کے طور پر کی گئی ہے۔ "کمیونزم" کے زوال کے بعد، مغربی دنیا کو ایک نئے دشمن کی ضرورت ہے۔ اسی طرح جیسے موساد  نے حماس کو پیداکیا ، سی آئی اے ‘‘CIA ’’نے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو پیدا کیا ۔

دوسری بغاوت  کے آغاز میں اسرائیلی اور بین الاقوامی میڈیا میں عام کہانی یہ تھی: فلسطینی ماں اپنے بچے کو شہید ہونے اسرائیلی چوکی پر بھیج رہی ہے ۔ اور یہ  حقیقت کو مسخ کرنا ہے۔شاید ہی ایسی کوئی ماں ہو گی جو نو ماہ تک صرف اس لئے  حاملہ رہے کہ  وہ  ایک شہید کو جنم دے گی ۔  اور اکثر  فلسطینی بچے  مظاہروں اور احتجاج میں  اسرائیلی فوجیوں پر اس خوف  کے رہتے ہوئے پتھر پھینکنے  جا رہے ہیں کہ  ہلاک کر دئے جائیں گے یا سالوں  کے لئے جیل بھیج دئے جا ئیں گے، اور وہ ایسا  ان کے والدین کے علم کے بغیر کرتے ہیں۔ جب میں نے نوجوان کے طور پر ایسا ہی کیا تو میرے  والدین کو اس کاکوئی اندازہ  نہیں تھا  کہ میں کیا کر رہی تھی ، اور اگر انہیں یہ  معلوم ہوتا تو یقیناً وہ  مجھے روکنے کی کوشش کر تے  ۔ پوری  دنیا کے والدین کی طرح، فلسطینی بھی  اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کر نا  چاہتے ہیں۔

کسی بھی ماں کے لئے اس کی اولاد کو کھونا ایک المیہ ہے۔ لیکن ایک فلسطینی کے سیاق و سباق میں، جب کوئی  بچہ اسرائیلیوں کے ذریعہ ہلاک کیا جاتا ہے، تو یقیناً اس کی ماں کونقصان پہونچے گا  اوروہ  واضح  طور پر سوچنے کی یا "معمول کے مطابق " کام کرنے کے قابل نہیں ہو گی۔ پڑوس میں تمام خواتین "شہداء" کی  ماں کا احترام کریں گی  اور اسے سکون پہونچانے  کی کوشش کریں گی ۔ اور سماجی قوانین  کا کہنا ہے کہ ماں کو مضبوط ہونا چاہئے ،اور انہیں اس بات پر  خوشی اور فخر کا اظہار  کرنا چاہئے کہ ان کا بیٹا یا بیٹی شہید ہوگئی ۔یہ کسی بھی طرح سے ان خواتین کے حقیقی جذبات کی عکاسی نہیں کرتے جن کے بچے ہلاک ہو ئے  ہیں  ۔ میں اسے خود  اپنے گھر سے جانتی  ہوں: ایسا  میری دادی کے ساتھ ہوا۔ 1940s میں، اسرائیلی ریاست  اور Nakba سے پہلے ، میرے ایک چچا  کو ریاست Akkā میں ایک مارکیٹ میں صیہونی دہشت گردوں کے ذریعہ  ایک بم حملے میں مار دیا گیا تھا۔ اس حادثے سے  پر میری دادی کو کبھی افاقہ نہیں ہوا۔اور اس کے بیٹے کی موت ہی  ایک ایسی وجہ تھی  کہ ، صرف اس  درد سے چھٹکارا  حاصل کرنے کی کوشش میں  ، ان  کا خاندان Akkā سے Yāfā منتقل ہوگیا ۔

جبکہ پاکستانی میں عوام اسرائیلی جارحیت ناراض تھے، میڈیا نے غزہ پر حملے کو نظر انداز کیا ہے۔ پریس نے شہ سرخیوں کو اندرون  صفحات میں جگہ دی  ہے جبکہ ٹی وی چینلزنے  اس تنازع  کو شہ سرخیوں میں پانچواں یا چھٹا مقام دیا ہے  یہ خبر کمرشل میڈیا کے لئے زیاد پر کشش نہیں ہے  ۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ عرب میڈیا  کچھ مختلف تھا  ؟ اس کے علاوہ، کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ  اس   حقیقت کا ممنون  ہے کہ فلسطینی مقاصد  کے لیے یکجہتی میں  کمی آ رہی ہے ؟

عرب میڈیا  میں ایک الگ کہانی تھی۔ جب غزہ پر حملے شروع ہوئے ، انہوں نے اسے ایک بڑا مدعا بنا دیا  ۔  اکثر اس کی اچھی صحافت نے  براہ راست کوریج دیا گیا تھا  لیکن جنگ بندی کے بعد، غزہ شہ سرخیوں سے غائب  ہو گیا۔ معاملہ ایسا تھا: " کوئی لاش نہیں - کوئی اسٹوری  نہیں." میری  اصل  تنقید مرکزی دھارے میں شامل عرب میڈیا کوریج کے خلاف ہے ، اس لئے کہ وہ راکٹ، فضائی حملوں اور لاشوں کی طرف  کچھ زیادہ ہی  توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے ۔وہ اسٹوریز اور   ان لوگ کے  نفسیاتی درد پر  جو زمین پر زندہ  بچ گئے ، بمباری سے تباہ  فیکٹریوں اور انفراسٹرکچر  پر بھی تھوڑی زیادہ توجہ دے سکتے تھے ۔ ایک اور بات جس نے  مجھے حیرت زدہ کر دیا تھا  وہ یہ ہے تھا کہ اسلامی ایجنڈا عرب میڈیا کو کتنا متاثر کر رہا ہے ۔توجہ صرف حماس پر تھی  ، ان  دوسرے فلسطینی باغیوں  پر نہیں  جنہوں  نے  غزہ میں لڑائی کی  تھی  ۔اور وہ جنگ بندی کی اسٹوری اس طور پر بتاتے ہیں  گو کہ یہ  یہ حماس کے لئے ایک بڑی کامیابی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور حماس دونوں ناکام رہے۔

میرے لئے یہ بات انتہائی پریشان کن تھی جب حماس نے جنگ بندی کے دو دن کے بعد اس بات کا اعلان کیا کہ وہ 1967 کی سرحدوں کا احترام کرتے ہیں  ۔ میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنا نفرت انگیز سمجھتی ہوں اور در  اصل فلسطین واپس آنے کے حق کو چھوڑنا سمجھتی ہوں ۔

سوشل سائٹس پر بعض لبرل ہمیشہ فلسطین کی حمایت میں تحریک کے لئے بائیں بازو کا مذاق اڑاتے ہوئے  پائے جاتے ہیں. دوسرےایسے ہیں جو اس  بات پر  حیرت زدہ ہیں کہ  فلسطین نے کیوں اتنی توجہ دی  جب کہ  اس وقت صرف چند لوگ ہلاک ہوئے تھے  اور  افریقہ میں قتل عام پر  کسی کا دھیان نہیں گیا ۔ ایک  فلسطینی ہونے کی بنا پر  اس قسم کی  تنقید پر  آپ کا  کیا رد عمل ہے ؟

ایک طرح سے میں اس تنقید کو سمجھ سکتی ہوں  ۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ان  تمام لوگ کے ساتھ  یکجہتی دکھانی چاہئے جو اذیت جھیل رہے ہیں  اور دنیا بھر میں جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ہم فلسطینی ہو نے کی حیثیت سے  افریقیوں سے  سے زیادہ اہم نہیں ہیں۔لیکن میں میڈیا کے ایک کارکن کے طور پر یہ  سمجھتی ہوں کہ  ڈرامائی نقطہ نظر سے فلسطین کانگو کنشاسا سے زیادہ " sexy " ہے۔ لیکن یہ با ت بھی ہے کہ امریکی افریقہ کے مقابلے ، مشرق وسطی اور اسرائیل / فلسطین میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ مثلاً ،  اگراوباما اپنے  دوبارہ انتخاب کو محفوظ بنانا  چاہتے ہیں : تو وہ اپنا  دم اسرائیلی لابی کے لئے ہلائیں گے ۔تاریخی ، جغرافیائی و سیاسی وجوہات کی بناء پر فلسطینی / اسرائیلی مسائل اکثر بائیں  بازو  اور سیاسی گروپ دونوں کی  جانب سے زیادہ توجہ حاصل کر لیتے ہیں ۔

وفا جمیل کے بارے میں مزید تفصیلات کے لئے   http://www.wafajamil.net/en_index.htm پر کلک کریں ۔

فاروق سولہریا   فی الحال میڈیا کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں . اس سے پہلے انہوں نے سٹاک ہوم ہفتہ وار Internationalen کے ساتھ کام کیا ہے. پاکستان میں، انہوں نے The Nation ، The Frontier Post ، The News ، اور the Pakistan کے ساتھ کام کیا ہے۔ اور  انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے ماس کمیونیکیشن میں ایم اے MA کیا  ہے۔ وہ  بین الاقوامی سطح پر  Znet اور بائیں محاذ  کے  مختلف publications سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

ماخد  http://www.viewpointonline.net/hamas-is-israels-creation.html

:

--فاروق-سولہریا/hamas-is-israel-s-creation---حماس-اسرائیل-کی-پیدا-وار-ہے/d/10008

 

Loading..

Loading..