New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 10:22 PM

Urdu Section ( 27 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Monk Who Sold His Ferrari: Part 1 بھکشو جس نے اپنی فراری بیچ دی

A story of fulfilling one's dreams and reaching one's destination

اپنے خوابوں کو پورا کرنے اور اپنی منزل تک پہنچنے کی ایک داستان

ترجمہ تلخیص۔ فاروق بانڈے

( پہلی قسط)      

13 مارچ،2022

(نوٹ: رابن شرما ایک کینیڈین مصنف ہیں جو اپنی کتاب The Monk Who Sold his Ferari کے لئے بہت مشہور ہوئے شرما ہند وستانی نژاد ہیں۔ ا س کے پا س قانون میں ماسٹرس ڈگری ہے۔ ابتدائی طور پر،انہوں نے ایک وکیل کے طور پر کام کیا، لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس میں اطمینان یا سکون نہیں مل سکا۔ شرما نے اپنے تحریر ی کیریئر کا آغاز 25 سال کے عمر میں کیا۔ وہ اپنی دوسری کتاب ’دی مونک ہوسیلڈہزفراری‘ کے لئے بڑے پیمانے پر مشہور ہوئے۔ اس کتاب کے ساتھ،انہوں نے خود کو ”زندگی کی گہری سمجھ“ کے طور پر دکھایا ان کی دوسری کتاب کے کامیاب ہونے کے بعد، اس نے وکیل کی حیثیت سے اپنا کیرئیر چھوڑ دیا او رکل وقتی مصنف بن گئے بعد میں انہوں نے عوامی تقریر بھی شروع کی او رایک مقرر کی حیثیت سے بھی مقبول ہوئے۔ کارپوریٹ دنیا کے بہت سے سی ای او اور دیگر لیڈران ان سے اپنے ملازمین کو متحرک رکھنے کے بارے میں مشورہ حاصل کرتے ہیں۔ اس نے نائکی، مائیکرو سافٹ،IBM،اور Fed Ex جیسی کئی کمپنیوں کے لئے تربیت بھی کی ہے۔ ییل یونیورسٹی، ہارورڈ بزنس اسکول، اور ناسا جیسی کئی تنظیمیں بھی انہیں عوامی تقریروں کے لیے بلاتی ہیں۔ کتاب گفتگو کی شکل میں دو کرداروں، جولین مینٹل اور اس کے بہترین دوست جان کے ارد گرد تیار کی گئی ہے۔ جولین ہمالیہ کے سفر کے دوران اپنے روحانی تجربات بیان کرتا ہے جو اس نے اپنے چھٹی والے گھر اور سرخ فیراری بیچنے کے بعد کیا تھا۔ اس کتاب کی اب تک 40 لاکھ سے زیادہ کتابیں فروخت ہوچکی ہیں۔)

پہلا باب۔ جاگنے کی آواز

وہ عدالت کے ایک کھچا کھچ بھرے کمرے کے بیچوں بیچ اچانک گر پڑا۔وہ اس ملک کے سب سے معزز ٹرائل وکیلوں میں سے ایک تھے۔ وہ ایک ایسے شخص بھی تھے جنہیں تین ہزار ڈالر کے اطالوی سوٹ زیب تن کرنے کے لئے اتنے ہی مشہور تھے جتنے کے قانونی جیتوں کی ایک لمبی قطار کے لئے۔ میں نے جو ابھی دیکھا تھا اس کی وجہ سے میں ایک فالج زدہ شخص کی طرح کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔

عظیم جولین منٹل بیماری کا شکار بن گیا تھا او راب وہ ایک بے بس شیر خوار بچے کی طرح زمین پر تڑپ رہا تھا اور ایک پاگل کی طرح کانپ رہا تھا اور پسینے سے شرابور تھا۔

اس وقت ایسا لگا جیسے کہ وقت کی رفتار دھیمی پڑگئی ہو۔’اے خدا جو لین مشکل میں ہے“ اس کے ایک ساتھی وکیل نے چلایا اور جذباتی طور پر ہمارا دھیان اس طرف کھینچا جو کچھ پیش آیا تھا۔جج گھبرا یا ہوا لگ رہا تھا اور اس نے فوراً اپنے نجی ٹیلیفون پر، جو اس نے کسی ہنگامی صورت حال کے لئے لگوایا تھا، دھیرے سے کچھ کہا۔ اور جہاں تک میرا تعلق تھا، میں وہاں پرپرپشان او رنہایت اُلجھن میں کھڑا رہ گیا۔ پلیز ابھی نہ مریں، ارے بوڑھے بیوقوف، ابھی آپ کی موت کا وقت نہیں ہے، آپ اس طرح کی موت کے مستحق نہیں ہیں۔

عدالت کا مہر رجو اب تک ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کسی بت کی طرح کھڑا کیا گیا ہو، فوراً حرکت میں آیا اور زمین پر پڑے قانونی ہیرو پر سی پی آر(اس کی چھاتی کو دبانے لگا) کرنا شروع کیا۔ اس کی ساتھی وکیل اس کے پاس ہی کھڑی تھی، اس کے لمبے سنہرے، گھنگرالے بال جولین کے سرخ چہرے پر جھول رہے تھے، وہ اسے اطمینان دلانے کے لئے کچھ لفظ نرم انداز میں کہہ رہی تھی، جو ظاہر ہے کہ اسے سنائی نہیں دے رہے تھے۔

میں گذشتہ سترہ برس سے جولین کو جانتا ہوں۔ ہماری ملاقات پہلی بار اس وقت ہوئی تھی جب میں قانون کا ایک جواں سالہ طالب علم تھا اور اس کے ایک ساتھی نے گرمیوں میں مجھے بطور ریسرچ انٹرن رکھاتھا۔ اس وقت بھی اس کے پاس یہ سب کچھ تھا۔ وہ ایک قابل، خوبصورت او ربے خوف جرح کرنے والے وکیل تھے جس کے پاس اونچا ئیوں کو چھونے والے خواب تھے۔ جولین فرم میں سب سے چھوٹا تھے اور مستقبل میں بلند یاں حاصل کرنے کے انتظار میں تھا۔مجھے اب بھی یاد ہے جب میں آفس میں دیر رات کام کرنے کے دوران اس کے شاندار آفس کے پاس سے گذرتے وقت میں نے اس کی میز پر فریم میں جڑی ایک کوٹیشن کو کنکھی نظروں سے دیکھا۔ یہ نسٹن چرچل کی تھی او راس آدمی، جولین، کے بارے میں بہت کچھ بتارہی تھی۔

(مجھے پورا یقین ہے کہ آج ہم اپنی تقدیر کے خود مالک ہیں، جو کام ہمارے سامنے رکھا گیا ہے وہ ہماری طاقت سے بالاتر نہیں ہے، او را س کی تکلیف برداشت سے باہر نہیں ہے۔ جب تک ہمیں اپنے مقاصد پر اعتماد ہے او رکامیابی حاصل کرنے کی ناقابل تسخیر خواہش ہے، جیت سے ہمیں کوئی محروم نہیں کرسکتا ہے۔)

جولین نے اسی کو اپنا شعار بنایا تھا۔ وہ ایک سخت او رمضبوط مزاج رکھتا تھا اورکامیابی حاصل کرنے کے لئے، جسے وہ اپنا مقدر سمجھتا تھا، دن میں 18 گھنٹے کام کرنا پسند کرتے تھے۔ میں نے لوگوں سے سنا تھا کہ اس کے دادا جان ایک ممتاز سنیٹر اور اس کے والد فیڈرل کورٹ کے ایک معزم جج تھے۔ اس سے یہ واضح ہوجاتا تھاکہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اورا س کے ارمانی پہنے سوٹ کے کندھوں پر خاندان کو بہت زیادہ توقعات تھیں۔ پھر بھی ایک بات تسلیم کروں گا، وہ اپنی دوڑ خود دوڑتا تھا۔ اس نے اپنے طریقے سے کام کرنے کا عزم کر رکھا تھا او راسے دکھا وا بھی بہت پسند تھا۔

جولین کی عدالت میں اشتعار انگیز ڈرامہ بازی اخباروں میں پہلے صفحہ کی سرخیاں بنتی تھی۔ جب بھی شہر کے امیر اور مشہور لوگوں کو کسی جارحانہ پہلو رکھنے والے او ربہتر ین قانونی حربہ کار کی ضرورت پڑتی ہے تو اسی کے پاس آتے ہیں۔ اس کی ’غیر نصابی‘ حرکتیں بھی شاید اتنی ہی مشہور تھیں۔ رات گئے شہر کے بہترین ریستورنٹوں میں سیکسی فیشن ماڈلز کے ساتھ جانا یا غنڈہ دلالوں کے ساتھ بے تحاشہ شراب نوشی کرنا، جنہیں وہ اپنی مسمار ٹیم، کہتے تھے، فرم میں افسانے بن چکے تھے۔

13 مارچ،2022، بشکریہ: روز نامہ چٹان،سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/monk-sold-ferrari-story-dreams-part-1/d/126884

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..