New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 08:59 AM

Urdu Section ( 27 Jun 2017, NewAgeIslam.Com)

Fina Fillah Hazrat Rabia Basri Rahmatullah Alaih فنافی اللہ ولیہ صادقہ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ

 

فاروق ارگلی

25جون،2017

آقائے نامدار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور صحابیات کرام رضی اللہ عنہ کے پاکیزہ حالات اور دین حق کی ترویج و تعمیر کے لیے ان کی خدمات او رکارنامے اسلام کی درخشاں تاریخ کے ماہ و انجم ہیں ۔ وہ پاکیزہ زندگیاں ایسی عظمتوں اور رفعتوں کی حامل ہیں جو ہر مسلمان عورت کے لئے مشعل راہ اور سرمایہ افتخار ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آل اطہار رضی اللہ عنہ کی محترم خواتین وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے براہ راست ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم و تربیت کی روشنی حاصل کی اور اپنے کردار و عمل سے اس روشنی کو قیامت تک زندہ رہنے والے مذہب اسلام کی اساس بنادیا ۔

اسلام نے انسانی تاریخ میں پہلی بار عورت کو جوعزت و وقار عطا کیا اس کے مظاہر ہر دور میں نظرآتے رہے اور ہر شعبۂ حیات میں مسلم خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ کارہائے نمایاں انجام دیتے ہوئے اسلامی معاشرے کی بنیادوں کومستحکم کیا ہے۔ تاریخ عالم صنف نازک کی ایسی ترقی ،بیداری ، احترام اورعزت اسلام کے علاوہ کسی اور قوم میں نظرنہیں آتی ۔ دراصل اسلام سے پہلے مہذب انسانی تاریخ کے جتنے بھی ادوار گزرے ہیں ،ان میں زیادہ تر عورت مرد کی نفسیاتی خواہشات کی تکمیل کاایک جاندار اور توالد نسل کا وسیلہ بھرتھی جب کہ اسلام نے اسے وہ حقوق واختیارات عطا کیے جن سے زندگی کے ہر میدان میں مسلمان عورت کو مردوں کی طرح عظمت ووقار حاصل ہوا۔

ْخالق کائنات سے قرب و عرفان حق اور روحانیت اسلام کی حقانیت کا اہم ترین پہلو ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے بعد بزرگان دین میں اگر مسلمان مردوں نے قرب الہٰی کے حصول اور عرفان حق کی راہ میں فنافی اللہ ہوکر روحانی رفعتیں حاصل کیں تو مسلمان عورتوں کو بھی وہ مقامات عالی حاصل ہوئے جنہیں سلوک ، طریقت اور معرفت کہا جاتا ہے۔

ساری دنیا کی مسلمان عورتوں کے لیے باعث فخر و ناز حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی اس کی روشن مثال ہے۔ بقول حضرت خواجہ شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ پر و نشینوں کی مخدومہ ، سوختۂ عشق الہٰی اور پاکیزگی میں مریم ثانی تھیں ۔ عبادت وریاضت اور معرفت الہٰی میں آپ ممتاز زمانہ تھیں اور تمام اہل اللہ کی نظرمیں معتبر اور ذی عزت تصور کی جاتی تھیں ۔ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ ولایت کے اس منصب عظمیٰ پر فائز تھیں جو اعلیٰ ترین مردصوفیائے کرام کا طرۂ امتیاز ہے۔

دنیائے اسلام کی اوّلین ولی کامل خاتون حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کی ولایت پہلی صدی ہجری کے آخری برسوں میں ہوئی ۔ کچھ تذکرہ نگاروں کے مطابق 95یا 98ہجری میں آپ بصرہ کے ایک مفلس مگر دیندار گھر انے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد اسماعیل ایک مفلوک الحال لیکن عابد و زاہد انسان تھے جومحنت و مشقت کر کے زندگی بسر کرتے تھے ۔ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش سے پہلے ان کی تین بیٹیاں تھیں ۔ جو چوتھی بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا نام ’’چوتھی‘‘ یعنی رابعہ رکھ دیا۔ جس رات رابعہ پیدا ہوئیں ، اسماعیل کے گھر کی حالت یہ تھی کہ چراغ میں تیل تک نہ تھا ۔ بیوی دردِ زہ سے تڑپ رہی تھی ۔ اس حالت میں اس نے شوہر سے کہا کہ وہ ہمسایہ سے تھوڑا سا تیل مانگ لائے جس سے روشنی ہوجائے۔ غیرت مند زاہد گھر سے نکل کر ہمسایہ کے دروازے تک پہنچے لیکن دستک نہ دے سکے کیونکہ اس مرد باخدا نے عہد کر رکھا تھا کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے کچھ طلب نہ کرے گا۔اسی کسمپرسی کی حالت میں بیوی نے بچی کو جنم دیا ۔ پریشان اور ذہنی اذیت کے عالم میں اسماعیل کی نیند آگئی تو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مژدہ سنایا کہ تیری دختر بہت مقبولیت حاصل کرے گی اور اس کی شفاعت سے میری امت کے ایک ہزار افراد بخشے جائیں گے۔

حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فقر وفاقہ اور صبر و قناعت کے ماحول میں ہوش سنبھالا ۔و ہ پیدائشی طور پر ذہین اور حساس تھیں ۔ انہوں نے اپنے ماں باپ کا فقر وفاقہ دیکھا تھا اس لیے صبر و قناعت ان کے مزاج کا حصہ بن گئی ۔ وہ عام لڑکیوں کی طرح کسی چیز کی فرمائش نہیں کرتی تھیں ۔ کھاناملتا تو تھوڑا سا کھا لیتیں ۔بچوں کی طرح کھانے میں بے صبری نہیں دکھاتی تھیں اور فراغت کے بعد اللہ کا شکر ادا کرتیں ۔ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتیں جو عبادت الہٰی میں محور رہتے ۔ ماں بوسیدہ لباس میں رہتی او ربچیوں کو دین کی تربیت دیا کرتیں ۔ حضرت رابعہ اپنی تینوں بڑی بہنوں کے ساتھ دین، عفت اور قناعت کی باتیں سیکھتیں ۔ان کے کانوں میں دعا کی آواز آتی تو گریہ وزاری میں ماں باپ کے ساتھ شریک ہو جاتیں ۔ بچپن سے ہی حال و حرام کے معنی انہوں نے سمجھ لیے تھے اور ابتداء سے ہی پرہیزگار بندوں کی باتیں ذہن میں رچ بس گئی تھیں۔ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ فطرتاً نہایت مہذب او رحلیم الطبع تھیں ۔ انہوں نے کبھی کسی کوبرانہیں کہا اورنہ کبھی کسی سے کبیدہ خاطر ہوئیں ۔ذہانت ایسی تھیں کہ ہر اچھی بات جو وہ سنتیں فوراً ازبر ہوجاتی تھی۔ ایک دن کہیں سے تحفے میں کھانا آگیا ۔ ان کے باپ،ماں او ربہنیں کھانے بیٹھے تو سب نے بڑ ے شوق سے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھائے مگر رابعہ رحمۃ اللہ علیہ دور کھڑی رہیں ۔ والد نے پوچھا:’’ بیٹی تم دستر خوان سے الگ کیوں کھڑی ہو؟‘‘

حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ بولیں : اباجان ، اللہ جانے یہ کھانا حلا ل ہے یا نہیں ۔‘‘ ان کے والد نے کہا : ’’ کیا تم نے کبھی ہمیں حرام کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھا ہے‘‘۔ اس پر رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ’’ ہمیں دنیا میں بھوک پر صبر کرناچاہئے تاکہ آخرت میں آگ پر صبر نہ کرنا پڑے‘‘ ۔ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد بیٹی کی باتیں سن کر حیران رہ گئے ۔ ایسی باتیں توانہوں نے عابدوں اور زاہدوں کی مجلسوں میں سنی تھیں ۔ انہیں اپنی بیٹی پر فخر کا احساس ہونے لگا کہ اس کا میلان طبع ابھی سے تقویٰ و پرہیزگاری کی طرف ہے۔ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ قرآن کی کوئی سورت خشوع و خصوع کے ساتھ اپنے والد کو سناتیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے اوروہ دل ہی دل میں کہتے ، یا اللہ تو نے اس لڑکی کو کس لیے پیدا کیا ہے، یہ تو عام لڑکیوں سے بالکل الگ ہے۔

واقعی یہ عام لڑکی نہیں تھیں ۔ قدرت انہیں آزمائشوں کی بھٹی میں تپا کر معرفت کاز ر خالص بنانے کی تیاری کررہی تھی ۔ ماں باپ جلدی جلدی دنیاسے رخصت ہوگئے۔ یتیمی ،بے بسی، مصائب اور زمانے کا طوفان ان کے سامنے تھا ۔ اسی سال خوفناک قحط پڑا۔ بھوک سے بلبلاتی ہوئیں تینوں بہنیں جانے کہاں کھو گئیں ۔ رابعہ ان کی تلاش میں بھٹک رہی تھیں تو کسی ظالم نے انہیں پکڑ کر کنیز بنا لیا ۔ چنددن بعد اس نے کسی اور کے ہاتھوں انہیں بیچ ڈالا ۔ ان کا مالک ان سے بے حد مشقت سے کام لیتا تھا اور ان کے بچپن او رزبوں حالی پر ذرا بھی رحم نہیں کرتا تھا ۔ ان کو محنت و مشقت سے جب وقت ملتا تو نمازمیں مشغول ہوجاتیں اور رو رو کر پروردگار سے کہتیں : ’’ اے خدایا! میں یتیم مبتلائے مصبیت ہوں،غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہوں، اور ظلم و ستم برداشت کررہی ہوں۔ اس کے باوجود میرے لیے تیری رضا جوئی مقدم ہے۔ پتہ نہیں تو مجھ سے راضی ہے یا ناراض ؟‘‘ اللہ تعالیٰ سے عرض حال کرتے ہوئے حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنی پکار کا جواب اثبات و رضا کی صورت میں سن رہی ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا انہیں اپنے آقا کے حکم پر سخت محنت و مشقت میں بے حد تکلیف کے باوجود کوئی احساس نہ ہوگا۔ رضائے الہٰی کی طلب نے انہیں ہر تکلیف و اذیت سے بے پرواہ کر دیا۔

ایک دن ان کے بے رحم مالک نے کسی چیز کی خریداری کے لیے بازار بھیجا ۔ راستے میں ایک انسان نما وحشی ان کے پیچھے پڑ گیا۔ حضرت رابعہ اس سے بچنے کے لیے ایک طرف دوڑیں توپھسل کر گر پڑیں او رایک ہاتھ ٹوٹ گیا ۔ اس رات وہ نماز کے لئے کھڑی ہوئیں تو چوٹ کے درد سے برا حال تھا ، رو رو کر اللہ کے حضور میں فریاد کرنے لگیں : ’’ اے دونوں جہاں کے مالک! میرا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے ، غلامی کے عذاب میں مبتلا ہوں ، میں سارے دکھ درد سہنے کے لئے تیار ہوں ،مگر میرے معبود! بتادے کہ تو مجھ سے راضی ہے یا نہیں؟ اے پروردگار ! اپنی اس ناچیز بندی کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروادے۔ میرے خدا تو جانتا ہے کہ میرا دل تیری اطاعت کا خواہاں ہے۔ میری آنکھیں تیری عبادت سے ٹھنڈی ہوتی ہیں، میرے بس میں ہوتا تو ایک لمحے کوبھی تیری عبادت سے الگ نہ ہوتی، مگر تو نے مجھے ایک سنگدل کے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔‘‘

آقا کے کانوں میں حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ کے یہ الفاظ پڑے تو وہ دہشت زدہ سا ہوگیا ۔ وہ گھر کے اس گوشے میں گیا جہاں رابعہ رحمۃ اللہ علیہ رہتی تھیں ،تو دیکھا رابعہ سجدے میں پڑی ہیں او ران کے گرد روشنی کا ایک ہالہ گردش کررہا ہے جیسے ان کے سر پر ایک چراغ روشن ہو جس سے کمرہ منور ہورہا تھا ۔ آقا کادل لرزنے لگا،اس نے اسی وقت کہا : ’’ رابعہ رحمۃ اللہ علیہ ! میری غلطیوں کومعاف کردے۔ آج سے تو آزاد ہے،چاہے تو میرے پاس رہ او رجی چاہے تو جہاں تجھے آرام اور راحت میسر ہو وہاں چلی جا۔‘‘

آزادی حاصل کرنے کے بعد آپ آبادی سے باہر ایک جنگل میں گوشہ نشین ہوکر ذکر و شغل میں مشغوہوگئیں ۔ بصرہ ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی مجالس وعظ میں شریک ہونے لگیں۔ اسی واسطے سے دوسرے بزرگوں سے بھی رابطے قائم ہوئے جو زہد واتقاء اور سلوک و عرفان کے مرحلے طے کرنے میں ان کے لئے زادِ راہ بن گئے ۔

حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ تاریخ عرب میں نہایت اہم ہے۔ ظہور اسلام کی ایک صدی گزرتے ہوئے دین حق ایران ،شام، ہندوستان اور دوسرے دور دراز ممالک تک پھیل رہا تھا۔ بصرہ عرب فاتحین کی نہایت اہم چھاؤنی تھی کیونکہ یہ ہندوستان ، ایران اور جزیرۂ عرب کی قریبی بندگاہ تھی ۔ بڑا فوجی مستقر اور تجارتی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ بصرہ علم دین کا مرکز بھی بن گیا تھا۔ علماء و محدثین یہاں آکر بس گئے تھے جو طرح طرح کے علوم کے ماہرین تھے ۔قرآن و حدیث کے بارے میں ان کی آراء بہت جلد اطراف و جوانب میں پھیل جاتی تھیں ۔ یہ لوگ مسلمہ کے لیے حیات فکر ی سرچشمے تھے ۔چونکہ مسلمانوں کو قرآن حکیم جیسے کامل و مکمل اور فصیح و بلیغ کتاب کی تفہیم و تشریح سے ایماناً و مزاجاً دلچسپی تھی اس لیے اس عہدکے فضلاء نے بہت سی کتابیں لکھیں او رشہر میں تعلیمات اسلامی کے مراکزقائم کیے ۔ فقہاء ، معلمین اور علمائے حق نے رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں وہاں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا، جس کی بہت سی شاخیں تھیں اور مختلف قبائل اور دیگر ممالک کے افراد جواسلام میں تازہ وارد تھے اس مدرسہ سے استفادہ کرنے لگے لیکن اس کے ساتھ ہی عثمانی،علوی، شامی، اُموی اور خوارج وغیرہ کا مذہبی تہذیبی اور فکری ٹکراؤ اسلامی وحدت فکر کومتاثر کرنے لگا۔شیعہ، سنی، اُموی اور خارجی گروہوں میں بنٹ گئے اور دینی امور میں شدید اختلافات رونما ہوگئے۔ مفسرین کے بھی دو گروہ بن گئے ، کچھ تقلید و اتباع کوبہتر راستہ مانتے تھے تو کچھ قیاس اور اجتہاد کواہمیت دیتے تھے ۔ ایسے ماحول میں یہ خدشہ بھی پیدا ہوا کہ مختلف نظریات کا ٹکراؤ دین کے روح کے لئے خطرہ نہ پیدا کردے۔ اس صورت حال کو سنبھالنے کے لیے فضلائے اسلام کی ایک جماعت کھڑی ہوگئی جس کے سرخیل حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ تھے ۔ آپ نے ہندوستانی اور ایرانی تہذیبوں کے ساتھ دین میں در آنے والی بدعات کے اثرات کو مٹانے میں نمایاں علمی خدمات انجام دیں۔ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت امام مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور اس عہد کے دوسرے اکابر صوفیاء و علماء کے مشن میں شامل ہوگئیں ۔ انہوں نے اپنی عمر شریف 95یا 99ہجری تا 180یا 185ہجری کے دوران عبادت، ریاضت اور مجاہدات کے ساتھ ساتھ اصلاح دین اور فروغ روحانیت کی جد وجہد میں بسر کی ۔ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے بعد حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی ہدایت و معرفت کی شمع فروزاں بن گئی ۔

جہاں تک زہد و ورع اور تقویٰ کا سوال ہے، حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ شب زندہ دار زاہدہ تھیں۔ تذکرۃ الاولیاء کے مطابق آپ شب و روز میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتی تھیں ۔ انہوں نے بالآخر اللہ تعالیٰ کی وہ رضا جوئی حاصل کرلی تھی جسے ولایت کہا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ آپ جب سفر حج کے لیے ایک قافلے کے ساتھ روانہ ہوئیں تو آپ کی سواری کا گدھا بہت لاغر اور نحیف تھا جو عین راستے میں مر گیا۔ اہل قافلہ نے حضرت رابعہ سے کہا کہ وہ فکر مند نہ ہوں ، ہم لوگ آپ کے لیے سواری کا انتظام کردیں گے ۔ اس پرحضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا : ’’ میں نے تم لوگوں کے بھروسے پر سفر نہیں کیا ہے۔‘‘ یہ سن کر قافلے والے آگے بڑھ گئے ۔ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے رب سے عرض کرنے لگیں :

’’ اے دونوں جہاں کے مالک ! کیا ایک نادار اور عاجز کے ساتھ یہ سلوک مناسب ہے کہ پہلے تونے اپنے گھر کی جانب مدعو کیا ، پھر راستے میں میری سواری چھین لی او رمجھے جنگل میں تنہا چھوڑ دیا۔‘‘ ابھی ان کا شکوہ ختم بھی نہ ہوا تھا کہ مردہ پڑا ہوا گدھا اٹھ کر کھڑا ہوگیا او راس پر سوار ہوکر عازم مکہ ہوئیں ۔ آپ نے کئی بار حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ۔ ان زیارتوں میں کشف و الہام کے کئی واقعات ان سے منسوب ہیں ۔

تذکرۃ الاولیا ء کی روایت ہے کہ دو افراد حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے ۔ وہ دونوں بھوکے تھے ۔ انہوں نے آپس میں گفتگو کی کہ شاید حضرت رابعہ کھانا کھلادیں ۔ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ کے گھر اس وقت صرف دو روٹیاں تھیں جو ان کے سامنے رکھ دیں ۔ ابھی ان دونوں نے لقمہ بھی نہ توڑا تھا کہ دروازے پر کسی سائل نے صدا لگائی ۔ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں روٹیاں اٹھا کر سائل کودے دیں۔ یہ دیکھ کر دونوں مہمان حیرت میں ڈوب گئے ۔ کچھ ہی لمحے گزرہے تھے کہ ایک کنیزبہت سی تازہ روٹیاں لے کر وہاں آئی اور عرض کیا : ’’ میری مالکہ نے بھجوائی ہیں۔‘‘

حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان روٹیوں کو گنا تو تعداد میں 18تھیں ۔ یہ دیکھ کر کنیز سے فرمایا : ’’ تو شاید غلطی سے یہا ںآگئی ہے۔ کنیز نے و ثوق کے ساتھ کہا کہ میری مالکن نے آپ کے لیے ہی یہ روٹیاں بھیجی ہیں ۔ لیکن حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نہیں مانیں اور روٹیاں کنیز کے اصرار کے باوجود واپس لوٹادیں۔ کنیزنے مالکہ سے ساراماجرا کہا تو اس نے حکم دیا کہ روٹیوں میں دو کا اضافہ کر کے لے جاؤ۔ کنیز 20روٹیاں آپ کی خدمت میں لائی تو قبول کرلیں او رمہمانوں کے سامنے رکھیں او روہ محو حیرت ہوکر کھانے میں مشغول ہوگئے ۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ان لوگوں نے آپ سے اس واقعے کی نوعیت جاننا چاہی تو فرمایا : ’’ جب تم لوگ آئے تھے،مجھے علم ہوگیا تھا کہ تم بھوکے ہو،جو کچھ گھر میں تھا سامنے رکھ دیا ۔ اس دوران سائل نے آواز دیں ، میں نے وہ دونوں روٹیاں اسے دے دیں، پھر اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ تیرا وعدہ ایک کے بدلے دس دینے کا ہے او رمجھے اس کا یقین ہے۔ اس لیے جب کنیز 18روٹیاں لائی تو میں نے سمجھ لیا کہ اس میں ضرور سہو ہے۔ اس لیے واپس لوٹا دیں، پھرجب وہ 20روٹیاں لے کر آئی تو میں نے اللہ کے وعدے کی تکمیل میں قبول کرلیں ۔

آپ ایک حسین و جمیل خاتون تھیں لیکن شادی نہیں کی۔ اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا : ’’ تین فکر یں مجھے پریشان رکھتی ہیں ، اگر کوئی انہیں دور کردے تو یقیناًشادی کر لوں گی ۔ پہلی فکر یہ ہے کہ کیامعلوم میری موت اسلام پر ہوگی یا نہیں؟دوسری فکر یہ ہے کہ نہ معلوم قیامت کے دن اعمال نامہ میرے دائیں ہاتھ میں ہوگا یا بائیں میں، اور تیسری پریشانی یہ ہے کہ محشر میں ایک جماعت کو دائیں کی طرف سے اور دوسری کو بائیں طرف سے جنت میں داخل کیا جائے گا توپتہ نہیں میرا شمار دائیں طرف والوں میں ہوگا یا بائیں طرف والوں میں ۔‘‘

ایک بار کسی نے آپ سے کہا کہ خدانے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے، اسی لیے شرف نبوت صرف مردوں کو حاصل ہوا ہے، اس کے باوجود آپ اپنے زہد و تقویٰ پر غرور اور ریاکاری کرتی ہیں ۔ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس تلخ بات کے جواب میں فرمایا : ’’ تم ٹھیک کہتے ہو، لیکن یہ تو بتاؤ کہ کیا کبھی کسی عورت نے بھی خدائی کا دعویٰ کیا ہے او رکیا کوئی عورت کبھی مخنث ہوئی، جب کہ سینکڑوں مرد مخنث بنے پھرتے ہیں ۔‘‘

ایک بار کچھ اہل اللہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ان سے پوچھا : ’’ ان میں سے ایک نے جواب دیا:’’ دوزخ کے ڈر سے ۔‘‘ دوسرے نے کہا : ’’ جنت الفردوس کی آرزو میں ان کی بندگی بجا لاتے ہیں ۔‘‘ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ’’ دوزخ کے ڈر سے اور جنت کی آرزو میں بندگی کرنا بہت برا ہے‘‘۔ اس پر ان لوگوں نے کہا : کیا آپ کو اللہ سے امید اور خوف نہیں ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ عبادت الہٰی عین فرض ہے ، بالفرض اللہ جنت ودوزخ کو پیدا نہ کرتا تو کیا بندے اس کی بندگی سے منکر ہوجاتے ۔ ہمیں اپنے معبود حقیقی کی بلاواسطہ بندگی کرنی چاہئے ۔‘‘

صوفیت اورروحانی زندگی میں یہ درجہ ولایت کوئی مردوں تک محدودنہ تھا کہ عورتوں کی وہاں تک رسائی نہ ہوتی کیونکہ تاریخ کی کتابیں اس قسم کی باتوں اور عجائبات سے بھری پڑی ہیں جو صالح مومنات سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے مردوں کی طرح مجاہدات کیے ،نفوس کو پاک کیا او رایمان و طہارت کو مضبوط کیا حتیٰ کہ وہ اولیا ء اللہ رحمۃ اللہ علیہ میں شامل ہوگئیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نور بصیرت عطا فرما کر ان کے ہاتھوں سے کرامات کاظہور کیا۔

حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ جنہیں دین و ایمان نے پاکیزہ بنا دیا تھا،جن کا تصوف بے غل و غش تھا ، جنہوں نے تقویٰ و تعبد خالصتاً لوجہ اللہ تعالیٰ اختیار کیا تھا۔ ان پر دعائے مستجاب کی بدولت منکشف ہوگئی اور خداوندی برکتیں نازل ہونے لگیں تو وہ قوم میں امانت و تجروروحانی سے مشہور ہوگئیں ۔ لوگوں نے ان کی اصلاح و کرامات پربھروسہ کیا اور ان کی رضا مندی و محبت کی طلب میں ان کے پاس آتے جاتے او ر ہدیے پیش کرتے کہ انہیں قبول کریں تو وہ انکار کر کے شکریے سے واپس کردیتیں ۔

ایک دن حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کے لیے آئے تو دیکھا کہ ایک تاجر دروازے پر خاموش وپریشان کھڑا ہے ۔ حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ وجہ دریافت کی تو کہنے لگا : ’’ میں دیناروں کی ایک تھیلی حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ کے لیے بطور ہدیہ لایا ہوں تاکہ وہ اسے خرچ میں لائیں مگرمیں ڈرتا ہوں مبادادہ اسے رد کرکے واپس کردیں۔ کیا آپ انہیں ہدیہ لینے پر راضی کرسکتے ہیں ؟‘‘

دو مرد حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے اور دونوں نے کچھ دینار پیش کیے تو انہوں نے روتے ہوئے آسمان کی طرف ہاتھ بڑھا ئے او رکہنے لگیں : ’’ وہ جانتا ہے کہ میں اس سے دنیا مانگتے شرماتی ہوں حالانکہ وہ ساری دنیا کا مالک ہے تو ایسے شخص سے کیونکر لے لوں جو اس کا مالک نہیں ۔‘‘

ایک روز وہی تاجر ہزار طلائی درہم لایا او رایک مکان بطور نذرانہ پیش کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتبہ انہوں نے اس کی الحاح وزاری قبو ل کرلی اور اس مکان سے چلی گئیں ۔تھوڑی ہی دیر ٹھہری تھیں کہ مکان کے سنہرے نقش نگار میں ان کا دھیان بٹ گیا۔ وہ استغفار پڑھتی ہوئی فوراً نکل کھڑی ہوئیں اور یہ کہہ کر مالک مکان کو ہدیہ واپس کردیا : ’’ مجھے ڈر ہے مبادا میرادل تیرے مکان میں منہمک ہوجائے اور آخرت کے کاموں سے روک دے۔ میری تمام تر آرزو یہ ہے کہ عبادت کے لیے فارغ رہوں ۔‘‘

حضرت عبدالواحد عامری رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے تھے کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کی مزاج پرسی کے لیے حاضر ہوئے تو کچھ ایسے مرعوب ہوئے کہ لب کشائی کی ہمت ہی نہ ہوسکی حتیٰ کہ رابعہ نے خود ہی فرمایا کہ کچھ گفتگو کیجئے ۔ توہم دونوں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کا مرض دور فرمادے ۔ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کیا کہ مرض تو خدا ہی کا عطا کردہ ہے او رمیں اس کی عطا کردہ شے کا شکوہ کیسے کرسکتی ہوں، کیونکہ یہ کسی دوست کے لیے بھی مناسب نہیں کہ رضائے دوست کی مخالفت کرے، پھر حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کہ کیا آپ کو کسی چیز کی خواہش ہے؟ فرمایا کہ تم صاحب معرفت ہو کہ ایسا سوال کرتے ہو اور بصرہ میں کھجور کی ارزانی کے باوجود بارہ سال سے کچھ کھانے کی خواہش ہے لیکن میں نے محض اس لیے نہیں چکھی کہ بندے کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی کام نہیں کرناچاہئے ۔ کیونکہ رضائے الہٰی کے بغیر کوئی کام کرنا کفر کے مترادف ہے۔ پھر حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے لیے دعا کی درخواست کی تو فرمایا کہ اگر تمہارے اندر حب دنیا نہ ہوتی تو تم نیکی کا مجسمہ ہوتے ۔ انہوں نے عرض کیا کہ یہ کیا فرمارہی ہیں؟ آپ نے کہا کہ سچی بات کہہ رہی ہوں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تم کم عقلی کی باتیں نہ کرتے ۔ اس لیے جب تمہیں یہ علم ہے کہ دنیا فانی ہے اور فانی شے کی ہر شے فانی ہوا کرتی ہے اس کے باوجود بھی تم نے یہ سوال کیا کہ تمہاری طبیعت کس چیز کو چاہتی ہے۔ یہ سن کر حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے محو حیرت ہوکر بارگاہ الہٰی میں عرض کیا کہ اے اللہ میں تیری رضا کا جو یا ہوں ۔ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ’’ تمہیں رضائے الہٰی کی جستجو کرتے ہوئے ندامت نہیں ہوتی جب کہ تم خود اس کی رضا کے طالب نہیں ہو’’۔

حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے کہ میں ایک مرتبہ بغرض ملاقات رابعہ رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک ٹوٹا ہوا مٹی کا لوٹا تھا جس سے آپ وضو کرتی ہیں او رپانی پیتی ہیں اور ایک بوسیدہ چٹائی ہے جس پر اینٹ کا تکیہ بنا کر استرا حت فرماتی ہیں، میں نے عرض کیا کہ میرے بہت سے احباب مالدار ہیں اگر اجازت ہوتو ان سے آپ کے لیے کچھ طلب کرلوں ۔ آپ نے سوال کیا کہ کیا مجھے اور تمہیں اور دولت مندوں کو رزق عطا کرنے والی ایک ہی ذات نہیں ہے؟ تو پھر کیا درویشوں کو ان کی غربت کی وجہ سے اس ذات نے فراموش کردیا ہے اور امراء کو رزق دینا یاد ر ہ گیا ہے،میں نے عرض کیا کہ ایسا تو نہیں ہے، فرمایا کہ جب وہ ذات ہر فرد کی ضروریات سے واقف ہے تو پھر ہمیں یاد دہانی کی کیا ضرورت ؟ او رہمیں اسی کی خوشی میں خوش رہنا چاہئے ۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ، مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ اور شفیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ رابعہ کے مکان پر صدق و صفا کے موضوع پر تبادلۂ خیال کررہے تھے تو حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’ جو غلام اپنے آقا کی ضرب کو ناقابل برداشت تصور کرے وہ اپنے دعویٰ صدق میں کا ذب ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ’’ یہ قول خود پسند ی کا آئینہ دار ہے۔ ‘‘ پھر شفیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ’’ جو غلام اپنے آقا کی ضرب پر شکر ادا نہ کرے وہ اپنے دعویٰ صدق میں جھوٹا ہے۔‘‘ اس پر حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : ’’ صادق ہونے کی تعریف کچھ اس سے اور زیادہ بلند ہونی چاہئے۔‘‘ پھر مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ نے صدق کی تعریف میں فرمایا : ’’ جو غلام اپنے آقا کی ضرب میں لذت محسوس نہ کرے اس کا دعویٰ صدق باطل ہے۔‘‘ لیکن رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ نے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ اس سے بھی افضل واعلیٰ کوئی اور تعریف بیان کی : ’’ جو مالک کے دیدار پر اپنے زخموں کی اذیت فراموش نہ کر سکے وہ اپنے دعویٰ صدق میں جھوٹا ہے۔ دیدار خداوندی میں شدت تکلیف کو فراموش کردینا کوئی تعجب کی بات نہیں جب کہ حسن یوسف کو دیکھ کر مصری عورتوں نے اپنی انگلیاں تراش لیں اور تمنائے دیدار میں تکلیف کا قطعاً احساس نہ ہوسکا ۔‘‘

مشائخین بصرہ میں سے ایک شیخ آپ کے یہاں جاکر سرہانے بیٹھتے ہوئے دنیا کی شکایت کرنے لگے تو حضرت رابعہ نے فرمایا : ’’ غالباً آپ کو دنیا سے بہت زیادہ لگاؤ ہے کیونکہ جو شخص جس سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اس کا ذکر بھی بہت زیادہ کرتاہے۔ اگر آپ کو دنیا سے لگاؤ نہ ہوتا تو آپ کبھی اس کاذکر نہ چھیڑتے ۔‘‘

حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ شام کو ایسے وقت حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں پہنچے جب کہ وہ چولھے پر سالن تیار کر رہی تھیں لیکن آپ کی گفتگو سن کر فرمانے لگیں کہ یہ باتیں سالن پکانے سے کہیں بہتر ہیں ۔ نماز مغرب کے بعد جب ہانڈی کھول کر دیکھی تو سالن خود بخود تیار ہوچکا تھا ۔ چنانچہ آپ نے اور خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے ساتھ مل کر گوشت تناول کیا۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ ایسا لذید گوشت میں نے زندگی بھر نہیں کھایا۔‘‘

حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اکثر یہ فرمایا کرتے کہ ایک شب کو میں حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں پہنچا تو وہ پوری شب مشغول عبادت رہیں اور میں بھی ایک گوشہ میں نماز پڑھتا رہا ۔ پھر صبح کے وقت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عبادت کی توفیق عطا کیے جانے پر ہم کسی طرح معبود حقیقی کا شکر ادا نہیں کرسکتے او رمیں بطور شکرانہ روزہ رکھوں گی۔ اکثر آپ یہ دعا کیا کرتیں کہ یا خدا اگر روز محشر تو نے مجھے نار جہنم میں ڈالا تو میں تیرا ایک ایسا راز افشا کردوں گی جس کو سن کر جہنم مجھ سے ایک ہزار سال کی مسافت پر بھاگ جائے گی او رکبھی یہ دعا کرتیں کہ دنیا میں میرے لیے جو حصہ متعین کیا گیا ہے وہ اپنے معاندین کو دے دے اور جو حصہ عقبیٰ میں مخصوص ہے وہ اپنے دوستوں میں تقسیم فرمادے کیونکہ میرے لیے تو صرف تیرا وجود ہی بہت کافی ہے اور اگر میں جہنم کے ڈر سے عبادت کرتی ہوں تو مجھے جہنم میں جھونک دے ، اور اگر خواہش فردوس وجہ عبادت ہوتو فردوس میرے لیے حرام فرمادے ۔ اور اگر میری پرستش صرف تمنائے دیدار کے لیے ہو تو پھر اپنے جمال عالم افروز سے مشرف فرمادے۔ لیکن اگر تو نے مجھے جہنم میں ڈال دیا تو میں شکوہ کرنے میں حق بجانب ہوں گی کہ دوستوں کے ہمراہ دوستوں ہی جیسا برتاؤ ہونا چاہئے ۔ اس کے بعد ندائے غیبی آئی کہ تو ہم سے بدظن نہ ہو، ہم تجھے اپنے ایسے دوستوں کے قرب میں جگہ دیں گے جہاں تو ہم سے ہم کلام ہوسکے گی۔ پھر آپ نے خدا تعالیٰ سے عرض کیا : ’’ میرا کام تو بس تجھے یاد کرنا اور آخرت میں تمنائے دیدار لے کر جانا ہے۔ ویسے مالک ہونے کی حیثیت سے تو مختار کل ہے ۔‘‘ ایک رات حالت عبادت میں آپ نے خدا سے عرض کیا : ’’ مجھے یا تو حضوری قلب عطا فرمایا پھر بے رغبتی کی عبادت کو قبولیت عنایت کردے۔‘‘

جس طرح حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کے سال ولادت سے متعلق مورخین و محقیقین میں اختلاف رائے ہے اسی طرح وفات سے متعلق بھی ان کی آراء مختلف ہیں ۔ علاوہ ازیں ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جنہوں نے تاریخ وفات کا ذکر ہی نہیں کیا، یا وہ پتہ نہ لگا سکے ۔ بہر حال اس پر سب کا اتفاق ہے کہ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ نے طویل عمر پائی ۔ چونکہ اس کی زندگی مجاہدات اور خیر و تقویٰ سے بھر پور تھی اس لیے وہ اُمّ الخیر کہلائیں بلکہ ان کی شب بیداری نے انہیں دہری عمر عطا کردی۔

ابن خلکان ، ابن شاکر، ابن عماد حنبلی نے بیان کیا ہے کہ اس کی وفات 185ھ میں ہوئی۔ بعض مؤرخین تاریخ رحلت 180ھ بیان کرتے ہیں ۔منادی نے ’’ طبقات الصوفیہ ‘‘ میں ایسا لکھا ہے ۔ تصوف و سوانح کی مشہور کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ روحانی زندگی کے آخری مرحلے میں بیماری و سوزش عشق سے بڑی تکان محسوس کرتی تھیں ۔ وہ روتی رہتی تھیں ، تکلیف سے نہیں بلکہ حسب عادت ۔ ایک دن کسی نے پوچھا : ’’ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ ! تم کیوں روتی اور آہ واویلا کرتی ہے ؟‘‘

انہوں نے جواب دیا: ’’ افسوس ! جو بیماری مجھے ہے ا س کا علاج کوئی طبیب نہیں کرسکتا ۔ اس کی دوا تو دیدار خدا ہے۔ میں جو یہ تکالیف برداشت کررہی ہوں صرف اس امید پر کہ آخرت میں مقصود پالوں گی‘‘۔ ان کے ایک دینی بھائی نے بہ اصرار رونے سے روکا تو اس نے کہا : ’’ میں ڈرتی ہوں ، کہیں آخری گھڑی یہ آواز بلند نہ ہوجائے کہ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ ہمارے سامنے کھڑی ہونے کے قابل نہیں ’’۔

وہ انتہا ئی گرمی کے دنوں میں گوشہ نشین رہتیں ۔ ایک دن ان کی خادمہ اور مخلص سہیلی نے کہا : ’’میری مالکہ! اس گوشہ نشینی کو چھوڑ دو ۔ میری ساتھ چلو ۔ آؤ قدرت الہٰی کی نشانیاں دیکھیں ۔‘‘

حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ’’ بلکہ تو اندر آجا اورقدرت کا نظارہ کر۔ پر کہنے لگیں:’’ میرا مقصود تو نظارۂ قدرت ہے جہاں کہیں بھی ہو۔‘‘

وہ ہر چیز میں قدرت کا نظارہ کرتیں۔ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ گو شہ نشینی کے دنوں میں بھی نظارۂ قدرت سے باز نہ رہیں ۔ وہ اپنے ماحول میں قدرت کے کرشمے دیکھتیں او رماورائے وجودمیں منہمک ہوجاتی تھیں ۔ جب خلوت میں جاتیں تودیر تک عبادت کرتی رہتیں ۔ نہ بیماری کی پرواہ کرتیں نہ تکلیف کی ۔ ان کی تندرستی تو صلوٰۃ و تسبیح میں تھی ۔ یہ دعا وہ اکثر خلوت گاہ میں پڑھا کرتی تھیں : ’’ اے میرے آقا ! مقرب بندے خلوتوں میں تیرا قرب ڈھونڈتے ہیں ۔ تیری عظمت کے گیت سمندر میں مچھلیاں گاتی ہیں اور تیرے مقدس جلال کی وجہ سے موجیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں ۔ دن روشنی ،رات کی تاریکی ، گھومنے والے آسمان اور بحر ذخار ، منور چاند ، چمکیلے تارے سب تیرے سامنے سجدہ کرتے ہیں او رہر چیز ایک اندازکے مطابق ہے کیونکہ توقہار ہے۔‘‘

حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کا جسم بیماری سے گھلنے لگا مگر دل بیدار ہوتا چلا گیا، کیونکہ وہ خیال کرتی تھیں کہ راہ خداوندی میں مختلف مقامات کا امتیاز نظر سے دشوار اور زبان کے ذریعے سے وہاں تک رسائی مشکل ہے ۔ اس لیے صوفی کا دل ہمیشہ بیدار رہناچاہئے تاکہ وہ دل کی آنکھوں سے راستہ دیکھ کر منزل تک پہنچ سکے ۔ وہ ہفتہ بھر میں تھوڑا سی غذا تناول کرتی تھیں کیونکہ بیماریوں کے باوجود رات دن نماز تسبیح میں مشغول رہتی تھیں ۔ جب عبادت کا بوجھ نہ اٹھتا او ربھوک ستاتی تو پنڈلیاں جواب دے جاتیں اور تمام اعضاء ٹوٹنے لگتے ۔ اس وقت تھوڑا سا کھانے پینے کے لیے راضی ہوجاتیں ۔ حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کو گوشت سے رغبت نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ سبزی پسند کرتی تھیں۔

حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ گوشۂ عزلت سے بہت کم نکلتیں ۔ جب ان کی قوم کا کوئی آدمی مل جاتا اور پہچان لیتا تو ان سے دعا کا طالب ہوتا۔ وہ پریشان ہوکر دیوار یا ستون سے چمٹ کر کھڑی ہوجاتیں اور سائل کو اس طرح جھڑکتیں : ’’ میں کون ہوں، اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، خدا کی بندگی کر اور دعا مانگ کیونکہ وہ پریشان حال کی دعا سنتا ہے۔‘‘

حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ خود کو صاحب کرامات کہنے سے روکتی تھیں ۔ انہیں خوف تھا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ لوگ انہیں خالص و مخلوق کے درمیان واسطہ بنالیں ا س لیے مجاہدات کی تلقین کرتیں اور کہتیں : ’’ عبادت کرو، خدا سنے گا۔‘‘

جب بیمار شدید ہوگئی تو وہ گھر میں پڑی رہنے لگیں ۔ صوفی مردوزن او رمعتقدین ہر روز عیادت کے لیے آتے تاکہ اس کی زندگی سے قلوب مطمئن کریں ۔ جب وہ کوئی بات دریافت کرتے تو وہ رو پڑتیں ۔ آنسو رخساروں پر بہنے لگتے او رکبھی اس قدر روتیں کہ سینے پر اور سامنے اشکوں کا تار بندھ جاتا ۔

حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کے چھوٹے سے گھر میں فارسی بانس کی دو گز لٹکن کے سوا کچھ نہ تھا ۔ اس پر بھی ان کا کفن پرا رہتا تھا کہ ہمیشہ آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ بستر کچی اینٹوں کا تھا جس پر و ہ سوتیں او رنماز پرھتی تھیں ۔ کبھی زمین پر چٹائی یا پرانا چمڑا بچھا لیتی تھیں ۔زندگی کے آخری دنوں میں کھانا بالکل چھوڑدیا تھا ۔ جب موت کے نزدیک آجانے کا احساس ہوگیا تو خادمہ عہد ہ بنت ابی شوال کو وصیت کردی کہ وفات کا علم کسی کو نہ ہو، با لوں کا جبہ جو وہ اوڑھنی تھیں اسی کا کفن دیا جائے اور سر صوفیانہ کالی چادر سے ڈھانپ دیا جائے ۔

وفات کے وقت آپ نے مجلس میں حاضر مشائخین و صوفیاء سے فرمایا کہ آپ حضرات یہا ں سے ہٹ کر ملائکہ کے لیے جگہ چھوڑ دیں چنانچہ سب باہر نکل آئے اوردروازہ بند کردیا۔ اس کے بعداندر سے یہ آواز سنائی دی ’’ اے مطمئن نفس اپنے مولا کی جانب لوٹ چل ‘‘ اور جب کچھ دیر بعد اندر سے آواز آنی بند ہوگئی تو لوگوں نے جب اندر جاکر دیکھا تو روح قفس عنصری سے پروازکر چکی تھی ۔ مشائخین کا قول ہے کہ حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہ نے خدا کی شان میں کبھی کوئی گستاخی نہ کی اور نہ کبھی دکھ سکھ کی پرواہ نہ کی ۔ او رمخلوق سے کچھ طلب کرنا تو درکنار اپنے مالک حقیقی سے کبھی کچھ نہیں مانگا اور انوکھی شان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئیں ۔

کسی بزرگ نے حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کو خواب میں دیکھ کر دریافت فرمایا کہ منکر نکیر کے ساتھ کیسا معاملہ رہا ۔ جواب دیا کہ نکیرین نے مجھ سے سوال کیا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو میں کہا کہ واپس جاکر اللہ سے عرض کردو کہ جب تو نے پوری مخلوق کے خیال کے باوجود ایک ناسمجھ عورت کو کبھی فراموش نہیں کیا تو پھر وہ تجھے کیونکر بھول سکتی ہے اور جب دنیامیں تیرے سوا اس کاکسی سے تعلق نہ تھا تو پھر ملائکہ کے ذریعہ جواب طلبی کے کیا معنی ۔

حضرت محمد اسلم طوسی اور نعمی طرطوسی نے بیابانوں میں تیس ہزار راہگیروں کو پانی پلایا اور رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر آکر کہا کہ تیرا قول تو یہ تھا کہ میں دو جہاں سے بے نیاز ہوچکی لیکن آج تیرے وہ بے نیازی کہاں رخصت ہوگئی، چنانچہ مزار سے آواز آئی کہ جس چیز کا میں مشاہدہ کرتی رہی اورفی الوقت بھی کررہی ہوں اور میرے لیے بہت ہی باعث برکت ہے۔ رحمۃ اللہ علیہا (’ تذکرۃ الا ولیاء ‘ از حضرت خواجہ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ ، اڑھائی قلندر ‘ از حکیم لیاقت علی سہر وردی )

25جون،2017 بشکریہ : روزنامہ ہمارا سماج، نئی دہلی


URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/farooq-argali/fina-fillah-hazrat-rabia-basri-rahmatullah-alaih--فنافی-اللہ-ولیہ-صادقہ-حضرت-رابعہ-بصری-رحمۃ-اللہ-علیہ/d/111688


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..