New Age Islam
Wed Oct 20 2021, 04:06 PM

Urdu Section ( 10 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Beacon of the Largest Hindu Family in Urdu: Bisheshwar Prasad Munawar Lucknowi اردو کے سب سے بڑے ہندو خاندان کے چشم و چراغ:بشیشور پرشاد منور لکھنوی

فاروق ارگلی

10 اکتوبر،2021

گزشتہ بیسویں صدی کا اردو اُفق لاتعداد عہد آفریں شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کی کبھی ماند نہ پڑنے والی تانابیوں سے منور ہے۔ اگر صرف اردو شاعری کے حوالے سے بات کی جائے تو علامہ اقبال، برج نارائن چکبست، حسرت موہانی، فانی بدایونی، جوش ملیح آبادی، سیماب اکبر آبادی، فراق گورکھپوری،جگر مراد آبادی، اسرار الحق مجاز، اختر شیرانی، احسان دانش، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، دامق جونپوری، معین احسن جذبی، حفیظ جالندھری، مجروح سلطانپوری، مخدوم محی الدین، ساحر لدھیانوی، جگناتھ آزاد اور نریش کمار شاد سے لے کر اکیسویں صدی کے آغاز تک براجمان عالمگیر شہرت کے حامل شاعروں کے ناموں کی صرف فہرست ہی مرتب کی جائے تو اس کے لئے سینکڑوں صفحات کم پڑ جائیں گے۔ دراصل یہ پورا عہد ایک لامحدود کہکشاں ہے جس میں لاتعداد چاند، سورج اور ستارے اردو زبان، ادب اور تہذیب کے آسمان پرجگمگا رہے ہیں، اس جھرمٹ میں بعض اس قدر روشن ہیں کہ ان کی چکاچوندھ میں بہت سے سیارے وقت کی نظروں سے یا تو معدوم ہوگئے ہیں یاپھر تیز رفتار زمانہ سہواً یا عمداً انہیں نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔اسے مڑ کر پیچھے دیکھنے کی فرصت نہ ملی کہ شعر و ادب کے اس تاریخی منظر نامے پر ایک تخلیقی، تہذیبی اور لسانی قد اس قدر بلند ہے کہ اس کے عہد میں شہرت و عظمت کے بلند مینار بھی اس کی انفرادی خصوصیات کے لحاظ سے بہت چھوٹے نظر آتے ہیں۔گزشتہ صدی کے نصف آخر کے بن نامور شعراء کی بہت بڑی تعداد سرگرم او رمتحرک تھی اس میں ایک نمایاں ہستی علامہ بشیشور پرشاد منور لکھنوی کی بھی تھی جن کی علمیت،تخلیقیت اور عقبریت انہیں اپنے معاصرین میں امتیازی حیثیت عطا کرتی تھی۔ یہ طرہئ امتیاز بیسویں صدی کے کاملین میں شاید ہی کسی او رکو حاصل ہوا ہو جس کی شاعری فکر و ضمیر اور قلم کی حرمت برصغیر کے تمام مذاہب، عقائد، تہذیب و معاشرت کی ترجمانی اور اردو زبان کی عالمگیر سیکولر اقدار کے فروغ کے لیے اس طرح وقف کی گئی ہو۔

بشیشور پرشاد منور لکھنوی

------

یہ حقیقت تو پوری ادبی دنیاپر روشن ہے کہ منور لکھنوی نظم و غزل کے مسلم الثبوت، قادر الکلام اور استاد شاعر تھے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں وہ تمام معیارات، خوبیاں اور قوت اثر موجود ہے جو لکھنوی اور دہلی مکاتیب شعرہ سخن کے مشترکہ شعراء کی شناخت ہے لیکن علامہ بشیشیور پرشاد نے جس طرح سنسکرت، فارسی، جرمن، بنگالی اور دوسری زبانوں کے شاہکار اور ہندو دھرم، اسلام، سکھ اور عیسائی مذاہب کی مقدس کتابوں اور تعلیمات سے اردو شعر و ادب کو مزین کیا، یہ ایسے کارنامے ہیں جن کی نظیر اردو تاریخ میں آگے اور پیچھے دور دور تک کسی ایک شخصیت میں نظر نہیں آتی۔

علامہ منور لکھنوی 8 جولائی، 1897 ء کو ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جسے فارسی اور اردو شعر و ادب کی تاریخ میں اردو زبان کا سب سے بڑا ہندو گھرانہ ہونے کا شرف حاصل ہے جس میں کئی پشتو ں سے شعر و ادب کا ماحول تھا۔ منور لکھنوی کے جداعلیٰ اُدے راج مطلع لکھنوی، پردادا ایشور پرشاد شفاعی، دادا پورن چند ذرّہ، والد منشی دوار کا پرشاد اُفق لکھنوی، چچامنشی رام سہائے تمنّا لکھنوی اور منشی ماتا پرشاد نیساں لکھنوی، بھائی مشہور اردد صحافی و شاعر رام شنکر پرشاد(ایڈیٹر اودھ اخبار) بشن پرشاد مقصد لکھنوی، ماموں منشی جگدمبا پرشاد قیصر لکھنوی اور جب ان کی شادی ہوئی تو فارسی اور اردو کے مشہور شاعر و ماہر تاریخ منشی لچھمن پرشاد صدر لکھنوی ان کے خسر ہوئے۔ ان کے برادران نسبتی بھی اردو کے خوش گوشاعر تھے۔ علامہ منور لکھنوی کو شعر و سخن کا ذوق ظاہر ہے کہ وراثت میں ملاتھا، اپنی اس شاندار وراثت پر وہ اس طرح فخر کا اظہار کرتے ہیں:

شاعری سے نہ منور گوہوکیونکر رغبت

پانچ پشتوں سے یہی شوق چلاآتا ہے

بشیشور پرشاد منور لکھنوی غیر معمولی ذہانت لے کر پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد اپنے وقت میں ادبی دنیا کی مشہور معروف شخصیت تھے۔ انہیں ملک الشعراء کا لقب حاصل تھا۔ انہوں نے اپنے مشہور اردو اخبار ’نظم‘ کے ذریعہ صحافتی میدان میں بھی شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ منشی جی نے ایک قافیہ میں گرو گوبند سنگھ کی سوانح حیات نظم کرکے اپنی شاعرانہ مہارت کا ثبوت پیش کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اعلیٰ درجہ کے مترجم بھی تھے۔ انہوں نے مطبع منشی نولکشور کے لئے مہابھارت، رامائن اور کرنل ٹاڈ کی ’تاریخ راجستھان‘ کو اردو کا لباس پہنا یا۔

منور لکھنوی نے ابتدائی تعلیم عظیم مثنوی نگار پنڈت دیاشنکر نسیم سے حاصل کی، بعد میں وہ مکتب میں داخل ہوئے جہاں اردو فارسی اور عربی پڑھی۔ اسکولی تعلیم کے دوران ہندی اور سنسکرت بھی سیکھ لی۔ وہ ایک غیر معمولی طالب علم تھے۔ 1919ء میں انہوں نے جس وقت پرائیویٹ انٹر ینس کا متحان پاس کیا اس وقت وہ اردو، ہندی، فارسی اور انگریزی زبانوں میں اپنے بے پناہ ذوق مطالعہ سے پوری طرح دسترس حاصل کر چکے تھے۔ شعر و ادب کا سلسلہ تو سات آٹھ برس کی عمر سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ اس زمانے میں ان کے والد دو سال بسلسلہ ملازمت لاہور میں اپنے کنبہ کے ساتھ مقیم رہے تھے۔ اس وقت منور آٹھ برس کے تھے لیکن اچھی خاصی شاعری کرنے لگے تھے۔ انہوں نے اس چھوٹی سی عمر میں لاہور کے ایک مشاعرے میں غزل پڑھی جس کی صدارت سر عبدالقادر نے کی تھی۔ شعرائے کرام میں حفیظ جالندھری اور پنجاب کے دوسرے نامور شاعر شامل تھے۔ اس زمانے میں وہ اپنا کلام اپنے والد اُفق صاحب کو ہی دکھاتے تھے، بعد میں وہ نوبت رائے نظر کے باقاعدہ شاگرد ہوگئے۔ منشی دواریکا پرشاد اُفق ایک مست مولا انسان تھے۔ انہوں نے جو کمایا وہ شاہ خرچی میں لٹادیا۔ حد سے زیادہ شراب نوشی نے قبل از وقت زندگی چھین لی۔

والد کے انتقال کے بعد منور صاحب نے دس روپیہ ماہوار پر’اودھ اخبار‘ کی نمائندگی کی، پھر کوشش کرکے ریلوے میں ملازم ہوگئے۔ اپنی ریاضت او رگہرے مطالعے کی وجہ سے وہ تیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ادبی دنیا میں اپنی خاص شناخت قائم کرچکے تھے۔ ان کی نثری تحریریں اور شعری تخلیقات برصغیر کے اخبارات ورسائل میں شائع ہوکر مقبول ہو چکی تھیں۔ 1927 ء میں ان کا تبادلہ لاہور ہوا تو وہاں کے علمی و ادبی ماحول میں اس وقت کے نامور احباب سے روابط قائم ہوئے۔ ان دنوں اصغر گونڈوی بھی لاہور میں تھے۔ ان سے دوستانہ مراسم ہوگئے۔ مولانا غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک جیسی شخصیات کی صحبتوں سے انہیں بہت فیض پہنچا۔اس زمانہ میں علامہ برجموہن داتاتریہ کیفی دہلوی بھی لاہور میں ہی تھے جن سے ان کی گہری دوستی قائم ہوئی، بعد میں ان کا تبادلہ دہلی ہوگیا۔ علم و ادب کے اس مرکز نے اس طرح دامن تھاما کہ دہلی کے ہی ہوکر رہ گئے۔ انہوں نے اسی شہر میں رہتے ہوئے 1947 ء میں فسادات کی ہولناکیاں دیکھیں، اسی دہلی میں رہتے ہوئے انہوں نے صدیوں پرانی مشترکہ ہندو مسلم تہذیب کو پامال ہوتے اور نفرت و تعصب کے نئے سیاسی طوفان کو امنڈتے ہوئے دیکھا۔ اسی شہر کے دریا گنج علاقہ کے پٹودی ہاؤس کے قریب ایک مکان میں رہتے ہوئے انہوں نے وہ علمی اور تخلیقی کارنامے انجام دیئے جو اپنی نظیر آپ ہیں۔

بشیشور پرشاد منور لکھنوی اگر چہ ایک اردو نواز کا یستھ خاندان کے فرد تھے لیکن مزاجاً وہ ایک راسخ العقیدہ برہمن کی طرح ہندو دھرم کے تمام اصولوں پر سختی سے کار بند رہنے والے دھارمک انسان تھے۔ پوجا پاٹھ اور دھارمک کاموں سے انہیں زبردست لگاؤ تھا۔دھرم میں وہ اتنے پختہ تھے کہ شروع میں وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے پانی بھی نہیں پیتے تھے دہلی کے ادبی ماحول میں رہ کر انہوں نے چھوت چھات چھوڑ دیا تھا، لیکن جہاں تک پوجا پاٹھ کا تعلق ہے زندگی کے آخری سانس تک وہ ا س کے پابند رہے۔ انہوں نے ایک سچے سناتن دھرمی ہندو کی طرح اپنی زندگی بستر کی، لیکن ان کی پشتوں سے چلی آرہی اردو تہذیب کا ہی یہ اثر تھا کہ تقسیم کے بعد مذہبی و سماجی دوریوں کا موسم بھی ان کے شفاف ذہن پر اثر انداز نہ ہوسکا۔

اردو کے مشہور شاعر اور دانشور ڈاکٹر شباب للت منورصاحب کے عزیز تلابذہ میں سے ہیں۔ انہوں نے تحقیقی مقالہ ’منو رلکھنوی: ایک مطالعہ‘لکھ کر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ہے۔ شباب صاحب کی یہ کتاب منور صاحب کی علمی، ادبی اور تخلیقی خدمات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا گرانقدر وسیلہ ہے۔ منور لکھنوی کے اجمالی تذکرے پر مبنی اس خاکے کی کچھ منتشر جھلکیاں شباب صاحب کی کتاب سے ہی ملخص اور ماخوذ ہیں۔ ڈاکٹر شباب للت نے منور صاحب کی دھارمکتا کے ساتھ ساتھ ان کی کشادہ ذہنی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ”منور صاحب نے اپنے کٹر سناتن دھرمی عقیدوں کے باوجود اپنے عزیز دوست گوپی ناتھ امن کی ترغیب و تلقین پر رفتہ رفتہ مسلمانوں کے ہاتھ کا چھوا کھانے سے اپنا احتراز چھوڑ دیا تھا، لیکن ماضی میں ایسے دقیانوسی خیالات رکھنے والے انہی منور صاحب نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کی سورتوں کے تراجم کیے۔ وہ اس مقدس صحیفے کو حد درجہ احترام کے ساتھ اپنے گھر میں سب سے اونچی جگہ رکھتے اور کمال خشوع و خضوع کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منقبتیں او رمرثیے کہتے اور فرماتے کہ قرآن شریف کے مطالعے سے میری روح کو بالیدگی ملتی ہے۔ مجالس عزا میں شریک ہوتے تھے۔انجیل مقدس کے ابواب کو اردونظم کے پیکر میں ڈھالنے والے ایسے بلند فکر اور عالمی ظرف انسان کو ہم حقیقی معنوں میں انسان بلکہ خصائل کے اعتبار سے فرشتہ قرار دیں گے۔ منور لکھنوی کی تعلیم اگر چہ میٹر یکولیشن تک تھی لیکن ذاتی مطالعے کی وساطت سے اردو، ہندی، فارسی، سنسکرت اور انگلش میں انہوں نے حیرت انگیز استعداد حاصل کرلی تھی۔ شریمد بھاگوت گیتا، گوسوامی تلسی داس کی ’دنے پیریکا‘، درگا سپت شنی‘ گپت گوونداور کالی داس کے سنسکرت ادب پاروں کے ساتھ ساتھ انہوں نے فارسی تصانیف، بنگلہ اور جرمن زبانوں کے شاہکاروں کے بھی بہترین ترجمے اردو زبان میں کیے۔ علامہ بشیشیور پرشاد منور لکھنوی کی نسیم عرفان (منظوم ترجمہ بھگوت گیتا) کالی داس کے ڈرامے کمار سنبھو کا منظوم ترجمہ،بدھ مذہب کی مقدس کتاب دھم پدکا ترجمہ، تاریخ کربلا کے موضوع پرنثری تالیف، مجاہدہ حسینی، حافظ شیرازی کے کلام کا منظوم اردو ترجمہ، وجدان حافظ کالی داس کے ڈرامہ ’شکنتلا‘ مالویکا گنی متر، ٹیگور کی شہرہ آفاق تخلیق گیتا نجلی کا منظوم اردو ترجمہ رگھوونش، وکرم اروشی اور جین دھرم سار کا اردو ترجمہ،کئی مغربی شاہکاروں کے اردو عکس جمیل اور ان کے علاوہ ان کی غزلیہ شاعری کے مجموعے نوائے کفر اور رائے کفر، تابانیاں، بساط فکر، شاخ مرجاں، تاثرات منور، رباعیات اور قطعات کا مجموعہ زہرہ گل اور متعدد دوری تالیفات و تراجم منور صاحب کو بیسویں صدی کی اردو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لئے کافی ہیں۔

علامہ منور دہلوی کی شاعرانہ عظمت کا اندازہ اس حقیقت سے بہ آسانی کیا جاسکتاہے کہ ان کے متعدد تلامذہ میں مشہور و معروف دانشور تارہ چرن رستوگی، صحافی، ادیب اور شاعر پروفیسر بمل گرشن اشک جیسی نامور ہستیاں شامل ہیں۔ 24 مئی 1970 ء کو منور صاحب اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔ یہ المیہ ہے کہ اردو کے اتنے قدآور تخلیق کار، عالم و فاضل اور عبقری شخصیت کو اردو دنیا بڑی حد تک فراموش کرنے کی مرتکب ہوئی ہے، لیکن 1995ء میں مشہور شاعر، ماہر تعلیم، ناقد اور محقق جناب شباب للت نے پی ایچ ڈی کے لئے دقیع تحقیقی مقالہ لکھ کر اس المیہ کی تلادی کرنے کی بہر حال کامیاب کوشش ہے۔آنجہانی پروفیسر جگناتھ آزاد نے ان الفاظ میں ڈاکٹر شباب للت کو خراج تحسین پیش کیا ہے:

”بشیشور پرشاد منور ہمارے صف اوّل کے شعرا میں تھے۔ انہوں نے شاعری میں جو کارنامے انجام دئیے ہیں وہ اردو کے ادب العالیہ کے جاوے پر روشنی کے مینار ہیں، لیکن اس دور ناقدر شناس کو کیا کہئے کہ شعر وادب کو اپنا خون جگر دینے والوں کو بھی یہ دور اس طرح فراموش کردیتاہے کہ شاعر ہو یانثر نگار، اس کے انتقال کے بعد اس کے کام کے ساتھ ہی ساتھ اس کا نام بھی ذہنوں سے محو ہونا شروع ہوجاتاہے۔ ناقدر شناسی کا یہ رجحان اگر چہ وطن عزیز کی اور زبانوں میں بھی پایا جاتا ہے لیکن ہم اردو والے اس فراموش گاری او ربے اعتنائی کے معاملے میں دوسری تمام زبانوں کے اہل قلم سے آگے ہیں۔ خدا بھلا کرے ڈاکٹر شباب للت کا کہ انہوں نے اس قریب قریب گمشدہ ہیرے کو ماضی کے نہاں خانے سے بر آمد کرکے اور اس پر سے وقت کی گرد جھاڑ کے اسے اپنی اصل صورت یعنی درخشندہ ہیرے کی طرح پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔“

10 اکتوبر،2021،بشکریہ: روز نامہ چٹان، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/bashishwar-prasad-munawar/d/125549

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..