New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 09:46 PM

Urdu Section ( 10 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Iqbal in his Own Eyes اقبال اپنی نظر میں


فیض احمد فیض

8 نومبر 2020

اقبال کی نظر سے دنیا کو بہت لوگوں نے دیکھا ہے۔ اقبال کی نظر سے اقبال کا مطالعہ کسی نے نہیں کیا۔ یہ مضمون اسی بحث کا حرف ِ آغاز ہے۔ یہ بحث دو وجہ سے اہم ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ استحکام خودی، عقل و عشق، خدا اور انسان اور ایسے ہی دوسرے فلسفیانہ موضوعات کی طرف اقبال کی ذات بھی مرحوم شاعر کا ایک مستقل موضوع ہے۔ اور ان کے کلام کا کوئی دور ایسا نہیں جو اس موضوع سے عاری ہو۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میری رائے میں کلام اقبال کا سب سے پرخلوص، سب سے دلگداز، سب سے رسیلا جزو وہی ہے جو ان کی اپنی ذات سے متعلق ہے۔ یہ حصہ فلسفہ سے عاری لیکن جذبہ سے بھرپور ہے۔ اس میں خطابت کا جوش ناپید لیکن احساس کی شدت فراواں ہے۔ اس کلام پر اقبال کی حکیمانہ  بزرگی کا انحصار بہت کم ہے۔ اقبال کی شاعرانہ عظمت کا انحصار بہت زیادہ۔

اقبال مرحوم کے فلسفیانہ نظریات کا ارتقاء تدریجی ہے، انقلابی نہیں ہے۔ ان کے ابتدائی اور آخری افکار و خیالات میں ایک داخلی رابطہ اور تسلسل ہے جو ٹوٹنے نہیں پاتا۔ مختلف اوقات پر مرحوم شاعر نے جن نظریات کی تفسیر اور تشریح کی ہے، ان میں اختلاف تو ہے تناقض (تضاد، ایک دوسرے کی ضد ہونا) نہیں ہے۔ اقبال نے اپنی ذات کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس کی کیفیت بھی یہی ہے۔ ابتدائی کلام میں جن جن ذہنی الجھنوں اور جذباتی مسائل کا ذکر کرتے ہیں، جن کلفتوں اور مسرتوں، جس کرب یا سرور کااظہار کرتے ہیں، بعد کے کلام میں انہی کیفیات کی بازگشت بار بار سنائی دیتی ہے۔ اگر ہم اقبال کی نظر سے اقبال کی ذات کو دیکھیں تو ہمیں اس شخصیت کے چند ایک پہلو بہت نمایاں نظر آئیں گے۔

پہلی بات جو ہمیں متوجہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اقبال اپنی ذات کو دنیا و مافیہا سے الگ تھلگ ایک قطعی خودمختار اور مطلق العنان حقیقت قرار دے کر  اپنے دل و دماغ کا تجزیہ نہیں کیا کرتے تھے۔ وہ اپنی ذات کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں بیشتر کسی اور خارجی حقیقت سے کہتے ہیں۔ یوں کہہ لیجئے کہ اپنی ذات کے متعلق ان کا بیان بیشتر افسانہ ہوتا ہے۔ اس میں بیشتر اس تسکین یا اضطراب کا  تذکرہ ہوتا ہےجو شاعر کی ذات اور کسی اور شے کے باہمی تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ اور ’’شے‘‘ کبھی مناظر فطرت ہیں تو کبھی ابنائے روزگار، کبھی خاکِ وطن ہے تو کبھی ریگزارِ حجاز، کبھی کوئی فنی یا جذباتی یا اخلاقی نصب العین ہے کبھی خودی کا کوئی بلند تر مقام، کبھی خالق مسجود۔ اقبال کو اپنی ذات سے اگر دلچسپی ہے تو وہ داخلیت پسند اور جذبات پرست شعراء کی طرح محض اپنی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس نفع و ضرر کی وجہ سے ہے  جو اس ذات سے دنیا و ماورا کے لئے اور دنیا و ماورا سے اس ذات کے لئے مرتب ہوتے ہیں۔

اب یہ دیکھئے کہ اقبال نے مختلف اوقات میں اپنی ذات کے متعلق کیا کچھ محسوس کیا ہے۔ بانگ ِ درا کی دوسری نظم میں اقبال گلِ رنگیں سے مخاطب ہوکے فرماتے ہیں:

اس چمن ميں ميں سراپا سوز و ساز آرزو

اور تيری زندگانی بے گداز آرزو

مطمئن ہے تو ، پريشاں مثل بو ‘ رہتا ہوں ميں

زخمی شمشير ذوقِ جستجو رہتا ہوں ميں

یہ پریشانی اور اضطراب، یہ مسلسل جستجو اور آرزومندی اقبال کی شاعرانہ شخصیت کا جزوِ اعظم ہے۔ اس اضطراب کے اسباب اور اس جستجو کے مقاصد بدلتے رہے لیکن ان کیفیات کا احساس اقبال کے سارے کلام پر طاری ہے اور وہ اس کا اظہار مختلف پیرایوں میں کرتے ہیں۔ اقبال جب بھی مظاہر فطرت کی خنک آسودگی اور بے حس سکون کا مشاہدہ کرتے ہیں تو انہیں ہمیشہ اپنے دل کو تڑپ اور اپنے جذبات کو ناآسودگی کا شدت سے احساس ہوتا ہے:

تاروں کا خموش کارواں ہے

یہ قافلہ بے درا رواں ہے

خاموش ہیں کوہ و دشت و دریا

قُدرت ہے مُراقبے میں گویا

اے دِل! تُو بھی خموش ہو جا

آغوش میں غم کو لے کے سو جا

ہر یکے مانند ِ ما، بیچارہ ایست

در فضائے نیلگوں آوارہ ایست

ایں جہاں صید است و صیادیم ما

یا اسیرِ رفتہ از یا دیم ما

زار نالیدم صدائے برنخواست

ہم نفس فرزند آدم را کجااست

یہ مظرب اورپرسوز شخصیت جو اپنے اضطراب اور سوز و گداز کی وجہ سے مہ و مہر کی دنیا میں اپنے کو اجنبی اور تنہا محسوس کرتی ہے، انسانوں کی دنیا میں بھی اسی طرح  اجنبی اور تنہا ہے۔ اقبال کی نظر میں ان کا ہمعصر انسان بھی نباتات و جمادات کی طرح مردہ دل اور بے سوز ہے۔ اس لئے وہ اس انسان سے بھی اپنے کو اتنا ہی دور پاتے ہیں جتنا چاند ستاروں سے۔

یہ کیفیت ہے مری جانِ ناشکیبا کی

مری مثال ہے طفلِ صغیرِ تنہا کی

اندھیری رات میں کرتا ہے وہ سرود آغاز

صدا کو اپنی سمجھتا ہے غیر کی آواز

ہنوز ہم نفسے در چمن نمی بینم

بہار می رسد و من گلِ نخستینم

جہاں تہی ز دِل و مُشتِ خاکِ من ہمہ دل

چَمَن خوش است ولے درخورِ نوایَم نیست

سوز  اور تنہائی کا یہ احساس سینہ میں دبائے شاعر سکون اور رفاقت کی تلاش میں جگہ جگہ اور کو بہ کو سر بہ گرداں پھرتا ہے۔ لیکن یہ دولت نہ حرم و دیر میں میسر ہے نہ مدرسہ و خانقاہ میں، مسجدیں بھی اس سے خالی ہیں، میکدے بھی:

نہ ایں جا چشمک ساقی، نہ آنجا حرفِ مشتاقی

ز بزمِ صوفی و ملا بسے غمناک می آیم

ہوای خانہ و منزل ندارم

سر راہم غریب ہر دیارم

اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم‌ناک

نہ زندگی، نہ محبّت، نہ معرفت، نہ نگاہ!

اس مسلسل اور بے پایاں تنہائی کی وجہ سے رجائیت اور خوداعتمادی کے سب سے بڑے ترجمان کو آہستہ آہستہ ذاتی شکست اور ناکامی کا گہرا اور پردرد احساس ہونے لگا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس احساس کی شدت کم ہونے کے بجائے بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ اس شکست کو اقبال کبھی ناسازیٔ زمانہ پہ محمول کرتے ہیں:

بخاکِ ہند نوائے حیات بے اثر است

کہ مُردہ زندہ نہ گردد ز نغمۂ داؤد

کس ندانست کہ من نیز بہائے دارم

آں متاعم کہ شود دست زد بے بصراں

لیکن بیشتر اس شکست کا احساس اقبال کو اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ حصول منزل میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ نہ وہ خرد کی گتھیاں سلجھا سکے ہیں نہ عشق کا مقامِ محمود انہیں ہاتھ آیا ہے۔ ان کی بیقرار خودی کا اس حقیقت سے وصال نہیں ہوسکا جس کا وصال خودی کی تکمیل اور تسکین کا ضامن ہے۔ فن کی انتہا بھی خودی کی اس تشنگی کو نہیں مٹا سکی اور اس تشنگی کے باعث اظہار میں کامیابی کامیاب تبلیغ کا درجہ حاصل نہیں کرسکی:

وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بےنیازی

مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نَےنوازی

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں

کبھی سوز و سازِ رومیؔ، کبھی پیچ و تابِ رازیؔ

تھی کسی درماندہ رہرو کی صدائے دردناک

جس کو آوازِ رحیلِ کارواں سمجھا تھا میں

پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

جو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائے

اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اس احساس شکست کی وجہ سے اقبال اپنی جدوجہد کو لاحاصل تصور کرتےہیں یا اپنے ماحول سے مایوس اور بیزار ہوجاتے ہیں۔ ان کے کلام میں کہیں کہیں حزن اور اداسی تو ہے ، یاس اور قنوطیت کہیں نہیں ہے:

نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

چنانچہ مرحوم شاعر کو اگر کم نصیبی کا گلہ ہے تو کمالِ بے نیازی کا غرہ بھی ہے۔ اس کی طبیعت میں حلم اور انکسار بھی ہے غرور اور تمکنت بھی۔ جس طرح اقبال کا انکسار یاس انگیز نہیں اسی طرح ان کے غرور میں بھی خودسری اور درشتی نہیں ہے۔ اپنی غریب قوم کےعام افراد اور خاص طور سے نوجوانوں کو اقبال جب بھی خطاب کرتے ہیں تو ان کی ذات کاایک اور جذباتی پہلو واضح ہوتا ہے۔ یہ  جذبہ ایک بہت ہی پرخلوص اور مشفقانہ پیار کا جذبہ ہے جو ہمارے خودپسند شعراء میں مفقود ہے:

مرے نالۂ نیم شب کا نیاز

مری خلوت و انجمن کا گداز

اُمنگیں مری، آرزوئیں مری

اُمیدیں مری، جُستجوئیں مری

مری فطرت آئینۂ روزگار

غزالانِ افکار کا مرغزار

مرا دل، مری رزم گاہِ حیات

گمانوں کے لشکر، یقیں کا ثبات

یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر

اسی سے فقیری میں ہوں مَیں امیر

مرے قافلے میں لٹا دے اسے

لُٹا دے، ٹھکانے لگا دے اسے!

غرض اقبال کے کلام سے شاعر کی جو تصویر نمایاں ہوتی ہے اس میں فراق نصیب عاشق کا سا سوز و سازاور حسرت ہے ، پادشاہ کا سا غرور، گدا کا سا حلم، صوفی کا سا استغنا، بھائی کی محبت اور ندیم کی سی مودّت پائی جاتی ہے۔ 

(اقبال۔اپنوں کی نظر میں)

8 نومبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/iqbal-his-own-eyes-/d/123434


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..