New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 07:42 PM

Urdu Section ( 31 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Tolerance and Religion رواداری اور مذہب

 

فیصل باری

 1اگست، 2014

رمضان المبارک کے مہینے میں آنے والے ایک مہمان سے میں نے پوچھا کہ کیا وہ کچھ تناول کرنا پسند کریں گے۔ ایک میزبان کی حیثیت سے میں نے ان سے یہ پوچھنا اپنا فرض سمجھا۔ انہوں نے میرے اس سوال سے حیرت زدہ ہو کر ایک گلاس پانی کے لیے کہا۔ اس نے کہا کہ اگر چہ انہیں پیاس لگی تھی اور گرمی میں اتنی دوسر سے چل کر آئے تھے لیکن انہیں پانی مانگنے میں جھجھک محسوس ہو رہی تھی۔ انہیں یہ محسوس ہوا کہ رمضان کے مہینے میں میں اگر ان سے ایک گلاس پانی مانگوں تو ہو سکتا ہے کہ مجھے اچھا نہ لگے۔

میں نے یہ ظاہر کرنے کے لئے اپنے ایک دوست سے اس واقعے کا ذکر کیا کہ ایک معاشرے کے طور پر ہم کتنے عدم روادار بن چکے ہیں اور عدم روادار رویہ رکھنے کے عادی بن چکے ہیں۔ ایک شو روم کے مالک میرے دوست نے کہا کہ حال ہی میں اسے بھی ایسا ہی ایک تجربہ ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کی دکان پر ایک عیسائی کلائنٹ آیا تھا۔ میں نے اپنے سیلزمین کو اس کلائنٹ کے لئے شربت لانے کو کہا۔ اس کلائنٹ نے کہا کہ اگر چہ وہ دوپہر بہت زیادہ گرم تھی لیکن اسے شربت مانگنے میں ڈر محسوس ہو رہا تھا اس لیے کہ وہ مسلمانوں کے ردعمل سے خوف زدہ تھا۔

گزشتہ رمضان کے مہینے میں ایک گارڈ کو جسے جولائی کی گرمی میں 8 سے 10 گھنٹے تک کھڑے ہو کر ڈیوٹی دینی تھی بھڑکے ہوئے لوگوں کی ایک بھیڑ نے بہت بری طرح سے زد و کوب کیا اس لیے کہ وہ روزہ نہیں نہیں رکھ رہا تھا اور ڈیوٹی کے وقت پانی پینے کی کوشش کی تھی۔ کیا اس سے مارنے پیٹنے والوں کا ایمان مضبوط ہو گیا یا ان لوگوں کا ایمان مضبوط ہوا جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا یا اس کے بارے میں پڑھا یا سنا؟ میرے لئے اس کا نتیجہ بالکل برعکس تھا کیوں کہ مجھے اس سے شرمندگی محسوس ہوئی۔

میرے ایک استاذ نے ایک گھریلو ملازم کو کام پر رکھا تھا اور رمضان کے مہینے میں اپنے کے ملازم کے لئے اپنے ہاتھوں سے چپاتی بناتے تھے۔ انہوں نے اپنے ملازم کو سارے دن بھوکا نہیں رکھنا چاہا اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے گھر میں کسی اور سے یہ کرنے کے لیے کہنا اور یہ تاثر دینا پسند نہیں کیا کہ وہ یہ ذمہ داری کسی او ر پر ڈال رہے ہیں۔

رجعت پسندانہ نظریات کے ساتھ اختلاف کا دائرہ انتہائی محدود ہو چکاہے۔

ماہ رمضان المبارک کا احترام آمرانہ قیادت، ظلم و ستم اور عدم رواداری میں کب سے تبدیل ہو گیا؟ ایک مہمان کی کو عزت سے نوازا جانا چاہئے۔ کسی کے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے سے کسی بھی طرح مذہبی جذبات کو کیوں چیلنج پیش آئے گا؟ ہم اتنا غیر محفوظ کیوں محسوس کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں ہمیں ریستوران اور ہوٹلوں کو بند کرنے کی ضرورت پیش آئے؟ کیا ہمیں ایسا رویہ نہیں اختیار کرنا چاہیے کہ ہم صرف اپنے روزوں کی پرواہ کریں اور دوسروں کو ان کے روزوں کی پرواہ کرنے دیں؟

ہم غزہ میں فلسطینیوں کے قتل پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں جو کہ بجا طور پر درست بھی ہے۔ لیکن جب پاکستان میں احمدیوں یا شیعہ کمیونٹی کے افراد کو ہدف بنایا جاتا ہے تو ہم اسی غم و غصہ کا اظہار نہیں کرتے۔ جس طرح ہم اپنے مذہب کی تشریح اور اپنے قوانین خود بنا رہے ہیں اور انہیں نافظ کر رہے ہیں اس میں ہم کہیں نہ کہیں خطائے فحش کا شکار ہیں۔

حال ہی میں چار پاکستانی احمدیوں کو ان کے مذہب کی 'تبلیغ' کے مبینہ جرم میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ دریں اثنا، ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی مذہبی تعلیمات اور ہمارے پورے معاشرے میں موجود مذہبی و سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے ذریعہ پھیلائی جانے والی مذہبی تعلیمات سے کسی کا بچنا بہت مشکل ہے۔

اس کا ربط اس تصور سے ہے کہ ہم نے ایک قوم اور شہریت کے ہمارے تصور کی تعمیر کس طرح کی ہے۔ اس کا ربط میرے گزشتہ کالم کے ساتھ بھی ہے جو میں نے سیاست میں مذہب کے کردار کے عنوان پر تحریر کی ہے۔ خصوصی طور پر مذہب کسی قوم کی پہچان کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ ایک مذہبی نقطہ نظر سے قرآن پاک نے بھی اس کی وضاحت کر دی ہے۔ ہر نبی نے اپنے زمانے کے لوگوں کی مخالفتوں اور مزاحمتوں کا سامنا کرتے وقت بھی انہیں اپنی قوم ہی کہہ کر پکارا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرکسی مذہب کو ماننا ہی قومیت کی بنیاد ہوتی تو انبیاء اس وقت تک ان لوگوں اپنی قوم نہ کہتے جب تک کہ وہ ان سچائیوں اور حقائق پر وہ ایمان نہ لے آتے جن کے ساتھ انبیاء مبعوث کیے گئے تھے۔

ہم مذہب ہونا صرف ایک مشترکہ شناخت کی ایک بنیاد ہو سکتی ہے۔ ہم مذہب ہونا ہی کسی قوم کی تشکیل کی بنیاد نہیں بن سکتی اس لیے کہ ثقافت، زبان، نسل، جغرافیائی محل وقوع اور دوسرے بہت سے مشترکات مل کر ایک قوم کے طور پر ہماری شناخت کی بنیاد بنتے ہیں۔ معاشرے کے ایک طبقے کو دوسرے پر فوقیت دینا ایک کثیرثقافتی، کثیر لسانی اور کثیر مذہبی معاشرے میں تباہی و بربادی کا عندیہ ہے۔

کیا اس سے دو قومی نظریہ کی حیثیت کا سوال پیدا ہوتا ہے؟ جی ہاں واضح طور پر اس سے دو قومی نظریہ کی حیثیت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایک بہت بڑا موضوع ہے جس پر آج پاکستانیوں کو عصر حاضر کے تناظر میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اب ہم اس کالم میں اس بات پر زیادہ توجہ صرف نہیں کریں گے۔

واضح طور پر یہ کام بہت بڑا ہے۔ ہم نے نہ صرف یہ کہ ایسے قوانین بنائے ہیں جو مذہب کی بنیاد پر شہریوں کے درمیان امتیاز پیدا کرتے ہیں اور عبادت اور مذہب کی تبلیغ کے مختلف حقوق مرتب کرتے ہیں اور خاندانی اور ذاتی شعبہ حیات میں بھی مذہب کی بنیاد پر مختلف قوانین فراہم کرتے ہیں بلکہ ہم اس طرز فکر کے عادی بھی ہو گئے ہیں۔ یہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں نمایاں ہے۔

حال ہی میں ایک رکن پارلیمنٹ نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ عیسائیوں کے لئے بھی شراب کو ممنوع قرار دیا جائے۔ اگر انہوں نے اخلاقی بنیاد یہ بات کی ہوتی تو کسی کے پاس اس مسئلے پر گفتگو کرنے کی وجہ ہوتی۔ لیکن ان کی دلیل اس بات پر تھی کہ چونکہ شراب پینا مسلمانوں کے لئے حرام ہے لہٰذا ملک میں تمام طبقات پر شراب کی پابندی لگا دی جانی چاہئے۔ ہم بارہا ایسی باتیں سنتے رہتے ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف یہ دلیل اور یہ حقیقت نہیں ہے کہ ایک رکن پارلیمنٹ نے اسے پیش کرنے کے قابل سمجھا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے شہری بھی اسی طرز فکر کے عادی ہو چکے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ آج اس مروجہ طرز فکر سے اختلاف کا دائرہ تنگ ہو چکا ہے۔

کیا اب اس راستے سے قدم پیچھے کھینچنا ممکن ہے؟ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ اب یہ ممکن نہیں ہے اور ہمیں عدم روداری اور مذہبی تعصب کے قعر عمیق میں جانے کی مذمت کی جاتی ہے۔ لیکن ہماری رفتار کے باوجود کیا ہمارے راستے قابل اصلاح نہیں ہیں؟ کیا اس مسئلہ پر کھل کر گفتگو کرنا اور دیکھنے کی کوشش کرنا بہتر نہیں ہوگا کہ کیا اسلام کی مروجہ روایت کو کسی بھی طرح چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ تاہم یہ صرف ایک کوشش ہے جو ناکافی ہے۔

فیصل باری اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن، پاکستان، میں ماہر مشیر ہیں۔ اور ایل یو ایم ایس (LUMS) میں معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور آئی ڈی ای اے ایس (IDEAS) لاہور میں وزٹنگ فیلو ہیں۔

ماخذ:

http://www.dawn.com/news/1122456/tolerance-and-religion

:URL for English article

http://newageislam.com/islam-and-tolerance/faisal-bari/tolerance-and-religion/d/98374

URL for this article:

 

Loading..

Loading..