New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 05:03 AM

Urdu Section ( 8 May 2018, NewAgeIslam.Com)

Calling to Prayer with Loud Voice: Azan Is Fard Kifaya not Fard Ain لاؤڈ اسپیکر سے آذان پکارنا فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں

 

 

 

فہد الاحمری

6 مارچ، 2018

اس مضمون کو قلم بند کرنے سے پہلے میں نے خود سے یہ سوال پوچھا: کیا مجھے یہ ثابت کرنے کے لئے واقعی کسی تعارف کی ضرورت ہے کہ میں اسلامی عقیدہ پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہوں اور میں مرتد یا بے دین ، یا سیکولر یا لبرل یا مغربی تہذیب و ثقافت کا دلدادہ نہیں ہوں تاکہ قارئین اس موضوع پر میری رائے کو کسی تعصب کے بغیر قبول کر لیں۔

ذاتی طور پر میں مساجد سے آنے والی اذان کی آواز کو بڑی فرحت کے ساتھ سنتا ہوں اور اس سے مجھے زبردست ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ میں مساجد میں جماعت کے ساتھ نمازوں میں شامل بھی ہوتا ہوں ، حالانکہ یہ شرعی لحاظ سے مسلمانوں پر لازمی نہیں ہے ، جس میں میں نے تخصص کیا ہے۔

مغربی ممالک کے اپنے سفر کے دوران میں اسلامی مراکز کی زیارت کرنے کے لئے وقت نکالتا ہوں اور جمعہ کی نماز میں شرکت کرتا ہوں ، اگر چہ اسلام میں مسافروں کو نما جمعہ کی رعایت حاصل ہے۔ اور رمضان المبارک میں، میں غیر ملکی ممالک کے اندر مساجد میں افطار کرتا ہوں اور عید کی نماز میں شرکت بھی کرتا ہوں۔

میں اپنے ملک سے باہر ایک مسلم ملک میں چند سال رہ چکا ہوں۔ وہاں مقدار کے بجائے معیار میں اللہ کے گھروں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے اور میری فیملی کا مسجد سے آذان کی آواز سننا مشکل ہو گیا اور ہم نماز کے لئے آذان کی آواز سننے سے محروم ہو گئے جو کہ مؤمنوں کے لئے روح کی جلا ہے۔

نماز کا خیال رکھنا صرف بڑے بڑے میناروں والے مساجد کی تعمیر کرنا اور مختلف خدمات فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ مسجد اور اس کے ارد گرد کو صاف ستھرا رکھنا اور اسے نقصان دہ چیزوں سے بچانا بھی ہے۔ مؤذنوں اور اماموں کی خلل پیدا کرنے والی آواذ اور اس کے ساؤنڈ سسٹم کا غلط استعمال بھی ایسے ہی مسائل ہیں جن کا حل نکالا جانا ضروری ہے۔

مؤذن کی خوبصورت آواز میں آذان سے تمام لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں زیادہ تر مؤذنوں کی آواز پرکشش نہیں ہے اور ان کی تیز آوازیں نہ صرف یہ کہ خلل انگیز ہیں بلکہ ان سے وحشت بھی پیدا ہو جاتی ہے ، خاص طور پر صاف صفائی کے کام پر مامور ایسے عملہ کی آوازیں جنہیں مؤذن اپنی عدم موجودگی میں آذان دینے کے لئے مقرر کر دیتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ مساجد سے آنے والی آذان ، تلاوت قران اور اسلامی خطابات کی خلل انگیز تیز آواز کے بارے میں شکایت کرتے ہیں تو آپ کے اوپر شعائر اسلام اور ان کی حرمت سے لڑنے کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اذان کی حرمت قرآن پاک کی حرمت کی طرح ہے اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں بہ آواز بلند قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے کہ جب اس سے دوسروں کو خلل پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

اگر دیگر نمازیوں کی عبادت میں خلل واقع ہونے کی وجہ سے تلات قرآن میں بھی آواز بلند کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے تو تیز آواز کے ساتھ آذان اور نماز میں قرآن کی تلاوت بھی ممنوع ہونی چاہئے اس لئے کہ اس سے پڑوس میں رہنے والے مریضوں، چھوٹے بچوں اور عمردراز لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آذان نماز کا ایک لازمی حصہ نہیں ہے۔ مکہ میں تین سال اور ایک سال مدینہ میں بغیر آذان کے نمازیں ادا کی گئی ہیں۔

ماہرین فقہاء کی رائے ہے کہ آذان نہ تو نماز کے لئے کوئی بنیادی شرط ہے اور نہ ہی اس کے اصولوں اور بنیادوں میں داخل ہے۔ آذان فرض کفایہ ہے۔ بدقسمتی سے کچھ لوگ فرض کفایہ اور فرض عین کے ردمیان فرق کو نہیں سمجھتے اور شرط اور بنیاد کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرتے ، وہ ایسے عجیب و غریب خیالات پیش کرتے ہیں جن سے مسلمانوں کے درمیان ذہنی انتشار پیدا ہوتا ہے۔

لوگ مسجد کے پڑوس میں رہنے والے مختلف قسم کے لوگوں پر مسجدوں سے لاؤڈاسپیکر پر تیز آواز میں آذان پکارنے اور قرآن کی تلاوت کرنے کے نقصان دہ اثرت کے بارے میں نازیبا باتیں کرتے ہیں۔ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں بیٹھے ایک شخص نے مجھ سے ایک مرتبہ کہا کہ قریبی مسجد سے آذان کی تیز آواز مریضوں کے لئے سخت پریشانی کا باعث ہے۔ ایک اور شخص نے کہا کہ مسجد کے لاؤڈاسپیکر کا رخ مسجد کے قریب واقع اس کے گھر کی طرف ہے اور اس سے آنے والی آذان کی تیز آواز اس کی ضعیف العمر ماں کی نیند میں خلل پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب مسجد کے حکام نے اس لاؤڈاسپیکر کو ہٹانے سے انکار کر دیا تو میں نے اسے مسجد سے نکال کر پھینک دیا لیکن انہوں نے اسے پھر اسی جگہ لگا دیا اور میں نے پھر اسے وہاں سے نکال کر پھینک دیا۔ آخر کار وہ لاؤڈ اسپیکر کی سمت تبدیل کرنے پر راضی ہو ہی گئے اور اب میری ماں اچھی نیند سو سکتی ہیں۔

ایک بہن نے مجھ سے کہا کہ: "ایک بار میری دادی کو فجر کی آذان سننے کے بعد دورہ پڑ گیا تھا گویا کہ آذان کی تیز آواز نے ان کی جان ہی لے لی تھی۔ معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے مسجد کے باہر نئے لاؤڈ اسپیکر نصب کئے تھے جو کہ آس پاس میں رہنے والوں کے لئے وبال جان بن چکے تھے۔ عصر کے وقت پڑوس کے لوگوں نے امام سے اس ساؤنڈ سٹم کو تبدیل کرنے کے لئے کہا جو مسجد کے قریب رہنے والوں کے لئے دردسر بن چکا تھا۔"

ماخذ:

saudigazette.com.sa/article/529784/Opinion/Local-Viewpoint/Calling-to-prayer-with-loud-voice

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/fahd-al-ahmary/calling-to-prayer-with-loud-voice--azan-is-fard-kifaya-not-fard-ain/d/114934

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/fahd-al-ahmary,-tr-new-age-islam/calling-to-prayer-with-loud-voice--azan-is-fard-kifaya-not-fard-ain--لاؤڈ-اسپیکر-سے-آذان-پکارنا-فرض-کفایہ-ہے-فرض-عین-نہیں/d/115182

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..