New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 01:52 PM

Urdu Section ( 27 Jun 2011, NewAgeIslam.Com)

I am a Witness to the Changes in Islam- Interview with Leading Islamic reformist Nasr Hamid Abu Zaid (1943-2010) میں اسلام کے اندر اصلاحات کا گواہ ہوں


Nasr Hamid Abu Zaid in an interview to Erhard Brunn

(Translated from English by: Md.Zafar Iqbal, NewAgeIslam.com)

"I am a Witness to the Changes in Islam"

 Leading Islamic reformist and literary scholar, Nasr Hamid Abu Zaid, believes that individual freedom is an essential prerequisite to faith. Everyone, therefore, also has the right to convert to another faith. He talked to Erhard Brunn about some of his ideas before his death on July 5, 2010 in Cairo.)

 The relationship between the Muslim and the non-Muslim worlds is one that is deeper and more historical than we think, believes Abu Zaid

Q: The question of what the Muslim attitude to violence is still one that very much preoccupies the West. You recently pointed out that recourse to the Koranic suras is totally misleading in today's context…

 Abu Zaid: Of course, the Koran sometimes uses very strong language in its exhortations to fight. Researchers have to question why the Koran employs such strong, persuasive language in this case. The context is crucial here. The Arabs who believed in Mohammed were to be convinced of the need to fight against their own families and, in so doing, to gainsay the pre-Islamic tradition.

 So it was forbidden for an individual to fight against his own tribe. But the arrival of Mohammed as prophet drew so many members of various tribes to him. When the time came for them to defend their new community, the threat came from their own tribes. The uncompromising tone of the Koran is understandable here.

 Islam was not born out of a world empire; it arose from a world of tribal tradition, tribal laws and pagan rules. Blood bonds and tribal ties did not hold the new community together. They came, after all, from many different tribes. They came together into a new kind of tribe, one that from the beginning was locked in conflict with other tribes. They had to defend themselves. All of this formed the Koran. The Koran is very much a product of its formative influences. This is why we cannot understand the Koran without knowledge of the historical background. These people did not follow a new spiritual leader in order to fight. They had somehow fallen out of the tribal system. But in the end they had to fight.

 Prof. Abu Zaid was born near the city of Tanta, Egypt, in 1943. After studying Arabic at the University of Cairo, he was appointed associate professor at the Institute of Arabic Language and Literature in 1987. His study of the Koran, in which he analyses the history of its formation, sparked a fiercely controversial reaction. Accused of apostasy by religious hardliners, he was forced to divorce his wife and, finally, to leave Egypt. Abu Zaid had been teaching in Leyden, in the Netherlands, since 2004. He died in Cairo on July 5, 2010)

Translated from the German by Ron Walker

 Source: © Qantara.de 2008

 URL for Full English Text: https://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/i-am-a-witness-to-the-changes-in-islam--interview-with-leading-islamic-reformist-nasr-hamid-abu-zaid/d/791


میں اسلام کے اندر اصلاحات کا گواہ ہوں

معروف اسلامی مصلح نصر حامد ابوزید کا انٹرویو

معروف اسلامی مصلح اور ادیب،نصر ابوزید کا ماننا ے کہ انفرادی آزادی ایمان کے لئے بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک کو مذہب تبدیل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے ارہارڈبرون (Erhard Brunn) کے ساتھ اپنے خیالات کااظہار کیا۔ نصر ابوزید کا ماننا ہے کہ اسلامی اور غیر اسلامی دنیا کے درمیان تعلقات بہت گہرے اور تاریخی رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے رجحانات اب بھی مغرب ہی کی طرح متشددانہ ہیں؟۔ آپ نے ابھی بتایا کہ آج کے حالات کے مطابق قرآنی سورت جنگ کے معاملہ میں لوگوں کی صحیح رہنمائی نہیں کر پارہا ہے۔

ابوزید: کبھی کبھی قرآن لڑائی کے سلسلے میں بہت ہی سخت لہجے استعمال کرتا ہے۔ محقیقین کا سوال ہے کہ قرآن اس سلسلے میں اتنا لہجہ کیوں اختیار کرتاہے اور اس پر اتنا زور کیوں دیتا ہے۔ یہاں سیاق و سباق بہت نازک ہے۔ جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا تھا ان لوگوں کو اپنے خاندان کے خلاف بھی جنگ کرنی پڑی جب کہ وہ اس سے ہچکتے تھے۔ اور اپنے ہی قبیلہ والوں سے جنگ کرکے ان لوگوں نے جاہلی روایات کی مخالفت کی۔

ایک فرد کے لئے اپنے خاندان سے جنگ کرنا حرام تھا۔ لیکن مختلف قبیلوں کے لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر مان لیا۔ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار وں کے سامنے اس نئی جماعت کی حفاظت کا مسئلہ آیا تو ان کے قبیلے والوں نے ان لوگوں کو دھمکی دی۔ یہاں جنگ پر ابھارنے میں قرآن کا تاکیدی لہجہ سمجھ میں آتا ہے۔

اسلام کا ظہور اس دنیا سے باہر نہیں ہوا، یہ قبائلی روایات، قبائلی قانون او ربت پرستی کے ماحول میں پروان چڑھا۔ خونی اور قبائلی روابط نے نئی قوم کو تقویت نہیں پہنچائی۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس طرح وہ لوگ ایک قبیلہ کی طرح ہوگئے۔ شروع سے ہی ان کو دوسرے قبیلہ کے ساتھ برسرپیکار ہوکر اپنی دفاع کرنی پڑی۔

نصر حامد ابوزید نے کہا: ”ہم قرآن کو بغیر اس کے تاریخی پس منظر کے علم کے نہیں سمجھ سکتے ہیں“۔ یہی وجہ ہے کہ بغیر تاریخی پس منظر کے قرآن کو نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ روحانی لیڈر کی پیروی لڑنے کے لئے نہیں کرتے تھے۔ اور بہت حد تک قبائلی نظام سے باہر تھے۔ لیکن ضرورت پڑنے پر جنگ بھی کرلیتے تھے۔

آپ نے بارہا جون (John) دمشقی کے ذریعہ لکھے گئے قرآن کی تفسیر کا حوالہ دیا ہے۔ اسلامی دور کے آغاز میں اس پادری نے اسلام میں کئی متضاد چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ آٹھویں صدی کے اس عیسائی عالم نے قرآن کی تشریح میں کیاکہا ہے۔

ابوزید: اس کے قرآن کے اشتعال انگیز تجزیہ کے پڑھنے سے پہلا سبق جو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ: یہ آٹھویں صدی کا ایک جوشیلا مناقشہ ہے۔ لیکن بہر حال یہ ایک تخلیق مناقشہ ہے۔ اس لئے کہ ابتدائی دور کے عالموں نے جون کے اس مناقشہ کو دھمکی کے طور پر نہیں بلکہ چیلنج کے طور پر قبول کیا۔

اسلام مخالف باتیں جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کارٹون،فتنہ اور دیگر فلمیں وغیرہ چیلنج کی طرح ہیں۔ میں ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہوں کہ ایک مسلم دوسرے مسلم کو چیلنج سمجھے۔کوئی بھی اس عظیم تہذیب کی دھمکی نہیں دے سکتا ہے۔ جو قبائلی،سامراجی،قومی ریاستی اور عالمی نظام جیسے مختلف سیاسی ادوا ر سے گذر کر صدیوں سے یہ زندہ ہے۔

جون (John) دمشقی اسلامی عالموں کی حوصلہ افزائی برتراشیاء کی طرف نہیں کررہا تھا۔ اس نے اسلامی اور غیر اسلامی دنیا کے درمیان کے تعلقات کو اجاگر کیا ہے۔ جو اتنے گہرے اور تاریخی ہیں کہ ہم اس کو محسوس بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ تصور کہ دوعلیحدہ دنیا کا وجود ہے۔بالکل غلط ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا ہے۔

ابوزید: اس طرح کہ اسلامی تہذیب دوسرے تہذیب سے گھل مل گئی۔ ساتویں صدی کے اختتام اور آٹھویں صدی کے آغاز میں پورے عالم میں مختلف تہذیب و تمدن نے ایک دوسرے کا اثر قبول کرلیاتھا۔ اسلامی فلسفہ اوراسلامی علم کو لاتینی زبان ترجمہ کیا گیا۔

مشہور عرب اسپینی فلسفی ایوروز (Averroes) کی مذمت کی گئی ہے۔ اس کے باوجودبھی مغرب میں اس کے افکار پھیلے ہوئے ہیں۔ تہذیب لہر کی طرح ہمیشہ حرکت میں رہتی ہے۔افریقہ یا پرانے عراق سے یونان تک، پھر وہاں سے مشرق وسطیٰ تک۔ یہ زمانہ ہیلنیٹک (Hellenistic) کا تھا۔عظیم سکندر اپنی سلطنت کو پورے علاقہ میں پھیلا نے کی زبردست کوشش کررہے تھے۔ تبھی اسلامی تہذیب کا ظہور ہوا۔ اور آخر کار جدید مغربی تہذیب نے جنم لیا۔ اس طرح آپسی تبدیلی کا آغاز ساتویں صدی ہی میں شروع ہو چکا تھا۔ اس نے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان بات چیت پر زور دیا ہے۔

اس سے اسلامی ناقدین کے دعووں کی مخالفت ہوتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کوئی سنجیدہ بات چیت یا تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ اسلام او رانفرادیت دومتضاد چیزیں ہیں۔

ابوزید: اس تصور کے خلاف یہ بہت بڑی دلیل ہے۔ مسلمانوں کا نظریہ یہ ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب کو مانناغلط ہے۔ اسلامی عالمو ں کا غالب گمان یہی ہے کہ ایک بار مسلم ہونے کے بعد اس کو ہمیشہ مسلم ہی رہنا پڑے گا۔

میرا ماننا ہے کہ پیغمبر اسلام نے لوگوں کواپنے عقیدہ کے ساتھ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ یعنی ان لوگوں کو خود اختیاری بھی حاصل تھی۔ جس کے پاس خود اختیاری نہ ہو اس کو دعوت دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو نئے روحانی لیڈر کی پیروی کرنے کا بنیادی حق ہے تو اسے اپنی رائے بدلنے کی بھی آزادی ہونی چاہئے۔

آپ نے ذکر کیا ہے کہ دنیا کے تاریخی عمل میں عالم اسلامی کا عہد لہر کی طرح تخلیقی او رمتحرک تھا۔ لیکن چودہویں اور پندرہویں صدی کے دوران یہ رفتار دھیمی ہوگئی۔ آپ کی نظر میں اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟

ابوزید: میں آپ کی بات سے پوری طرح متفق نہیں ہو۔ آپ پندرہویں،سولویں اور سترویں صدی کے افکار او راٹھارویں اور انیسوی صدی کے افکار میں بہت فرق پائیں گے۔ کچھ لوگ عربوں کے بارے میں خاص سوچ رکھتے ہیں۔ مقامی اعتبار سے ا ن کا ایک الگ امتیاز ہے۔سعودی عربیہ میں اور تونیسیا میں ان کا الگ امتیاز ہے۔ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں خارجی اصلاح کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ مسلم دنیا میں اصلاحی کام اور دیگر تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کی شروعات انیسویں صدی میں ہوئی۔ اور بیسوی صدی تک جاری رہی اس نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ ان اصلاحات سے آپ کو نقصان پہنچا ہے۔؟

ابوزید: ہاں، نقصان پہنچا ہے۔ لیکن میں ان تمام خوفناک چیزوں کے باوجود ہورہی تبدیلیوں کی گواہی دیتا ہوں۔ مشہور عرب اسپینی فلسفی ایوروز(Averroes) کی مذمت کی گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے نظریات مغرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اورلاتینی زبان میں اس کا ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ اسی نے چرچ کی تشکیل دی۔ ہم ہمیشہ مقامی او رعالمی تناظر پر دھیان دیتے ہیں۔ ہمیں بھول جاناچاہئے کہ عیسائی دنیا نے بھی بہت سے مفکروں کی مذمت کی ہے۔ تاہم اس میں حرکت باقی ہے۔

انٹرویو: ارہارڈ برون(Erhard Brunn)

پروفیسر ابوزید 1943 ء میں مصر کے شہر تانتا کے قریب پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی میں عربی کی تعلیم حاصل کی۔ اور 1987 ء میں انسٹی ٹیوٹ آف عربک لینگویز اینڈ لیٹریچر میں ایسوسی ایٹ پروفیسرکی حیثیت سے ان کی تقریری ہوگئی۔انہوں نے قرآن کا مطالعہ کیا۔ اور اس کی پوری تاریخ کا تجزیہ بھی کیا۔ اس کے اس غلط تجزیہ کی سخت مخالفت کی گئی۔ مذہبی متشددین نے ان پر مرتد ہونے کا الزام لگایا۔ بیوی کو طلاق دینے، او ربالآخر مصر چھوڑ نے پر بھی مجبور کیا گیا۔  2004ء میں ابوزید نیدرلینڈ کے لیڈن میں تعلیم دے رہے ہیں۔

(یہ رون والکر (Ron Walker) کے ذریعہ جرمن سے انگلش میں او رمحمد ظفر اقبال کے ذریعہ انگلش سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے)

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/erhard-brunn/i-am-a-witness-to-the-changes-in-islam-interview-with-leading-islamic-reformist-nasr-hamid-abu-zaid-1943-2010-میں-اسلام-کے-اندر-اصلاحات-کا-گواہ-ہوں/d/4922


Loading..

Loading..