New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 03:35 PM

Urdu Section ( 16 Aug 2009, NewAgeIslam.Com)

Shahrukh Case: Tough Stance is Necessary شاہ رخ معاملہ میں سخت موقف ضروری

I'm 'angry, humiliated': Shah Rukh

PTI 15 August 2009, 07:52pm IST

 

MUMBAI: Shah Rukh Khan on Saturday termed the incident at Newark Airport in the US as "uncalled" for saying the experience made him feel "angry and  humiliated".

"I was really hassled at the American Airport because of my name being Khan...The couple of hours of interrogation wanting to know if I know anyone in America while all around people were vouching for me from India and Pakistan," the Bollywood superstar said in a statement.

"Only these guys just would not let me through. Finally they allowed me to make a call, which I did and the Indian Consulate helped me through.

Khan, who was on his way to Chicago to attend an Independence Day function was detained at the Newark Airport and questioned for about two hours before the Indian mission intervened and secured his release.

"It was absolutely was uncalled for I think, me having just finished working there for more than a month...just a couple of weeks ago. They said I have a common name which is causing the delay...checked my bags...I felt angry and humiliated," Khan, who had just finished shooting of his latest movie "My Name is Khan", said.

URL of this page: http://www.newageislam.com/NewAgeIslamUrduSection_1.aspx?ArticleID=1658

 An editorial in Urdu Sahara17 August 2009        

دنیا بھر میں ‘کنگ خان’ کے نام سے مشہور ہندوستانی فلموں کے مایۂ ناز ادا کار شاہ رخ خان کے ساتھ نیویارک میں جو کچھ ہوا، وہ جس قدر شرمناک ہے، اتنا ہی باعث تشویش بھی۔ شرمناک اس لئے کہ ہندوستان کی اہم شخصیات کو امریکی ہوائی اڈ وں پر تلاشی کے نام پرپریشان کرنے اور ان کی توہین کرنے کا سلسلہ کسی طرح رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور پوری قوم جس میں ہماری حکومت بھی شامل ہے، اسطرح کے حالات پر محض کچھ بیانات دینے اور چندر رسمی کارروائیوں کے کچھ نہیں کرپاتی۔ شاہ رخ کے ساتھ پیش آنے والا و اقعہ باعث تشویش اس لیے ہے کہ کسٹم افسران نے ان کے مسلمان ہونے کے سبب یہ رویہ اختیار کیا اور اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ براک او بامہ لاکھ یہ بیان دیتے رہیں کہ وہ عالم اسلام سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں ، مسلمانوں کے لیے ان کے اور امریکہ کے دل میں نرم گوشہ ہے،لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے اور خود شاہ رخ خان بھی یہ مانتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے سبب ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا گیا ۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ ایشیائی لوگوں کے ساتھ ہمیشہ ہی متعصّبانہ اور نسلی امتیاز پر مبنی رویہ اپناتی رہی ہے۔11/9کے بعد مسلمانو ں کے ساتھ بھی امریکہ اور یوروپی ممالک میں جو تعصب بڑھا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہاں اس فہرست کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جو ان اہم ہندوستانی شخصیات سے متعلق ہے کہ جنہیں امریکی ہوائی اڈوں پر کسٹم افسران کے ہتک آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا،لیکن یہ بات بہر حال قابل ذکر ہے کہ خود شاہ رخ خان کے ساتھ بھی ایسا توہین آمیز رویہ کئی بار اختیار کیا گیا ہے،جس کا انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘‘یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب میرے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہو’’۔سوال یہ ہے کہ جب شاہ رخ خان جیسی شخصیت کہ جنہیں نہ صرف ہندوستان ، بلکہ پوری دنیا کے فلم شائقین جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں ، یہ رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے تو عام آدمی پر کیا گزرتی ہوگی اور انہیں امریکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی کس قدر ذلت اور توہین کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا؟شاہ رخ خان کا معاملہ اسی لیے حکومت اور عوام کے سامنے آگیا کہ وہ ایک بڑے فلم اسٹار ہیں، امریکہ میں ہندوستانی سفارت خانے سے لے کر ہندوستانی حکومت تک اس معاملے میں شاہ رخ کی نہ صرف مدد کی ،بلکہ جو سخت موقف اختیار کیا، اس کے سبب نئی دہلی میں امریکی سفیر ٹمو تھی جے ووئمر تک کو یہ بیان دینا پڑا کہ شاہ رخ ایک بین الاقوامی اسٹار ہیں اور امریکہ میں قابل خیرمقدم مہمان ہیں۔’’لیکن امریکی سفیر کا یہ بیان یا ہندوستانی وزارت خارجہ کا اس سلسلے میں اختیار کیا گیا موقف اصل مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ایسے معاملات کو محض سفارتی وضاحتوں کے بعد ختم کردینا اس لیے مناسب نہیں ہے کہ ایسی تمام وضاحتوں کے باوجود امریکہ کے رویہ میں کوئی فرق نہیں آتا ہے اور ایک کے بعد دوسرا واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم امریکی حکام کی متعصب ذہنیت کو بدلنے میں ناکام ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس طرح کے واقعات کوروکنے کے لئے کیا قدم اٹھائے جائیں؟ اس سلسلے میں پہلا کام تو یہ ہوسکتا ہے کہ پروٹوکال اور ضابطوں سے آگے بڑھ کر ہندوستان کی اہم شخصیات کے ساتھ بدسلوکی کرنے کے لیے ذمہ دار حکام کے خلاف سخت کارروائی کے لیے ہندوستان کی حکومت سخت سفارتی اقدامات کرے۔ مثلاًسابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کی توہین کرنے والی ایئر لائن پر پروٹوکول کی خلاف ورزی کے الزام میں جرمانہ عاید کیا جائے اور واقعہ کے لیےذمہ دار افسران کے خلاف سخت تعزیری کارروائی کے لئے مذکورہ ایئر لائن اور امریکی حکام پر دباؤ ڈالا جائے اور اگر اس میں کامیابی نہ ملے تو مذکورہ ایئر لائن کو ہندوستان سے بستر بوریا سمیٹنے کے لیے کہا جائے۔ امریکی ہوائی اڈوں پر ہونے والے واقعات کے لیے بھی ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کے لیے امریکی سرکار سے دوٹوک بات کی جائے اور اگر اس طرح کے سفارتی اقدامات کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا ہے تو پھر آخری حل وہ ہے جس کا ذکر وزیر اطلاعات ونشریات محترمہ امبیکا سونی نے کیا ہے۔ امبیکا سونی کا کہنا ہے کہ ‘‘جس طرح ہماری جانچ ہوتی ہے ہمیں ان کے ساتھ ویسا ہی کرنا چاہئے’’۔ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ کسی اہم غیر ملکی مہمان کی توہین کی جائے ،لیکن اگر قانون اور ضابطوں کے حوالے سے جارج فرنانڈیز کے جوتے اور موزے اس کے باوجود اتروائے جاسکتے ہیں کہ وہ اس وقت ہندوستان کے وزیر دفاع تھے اور سرکاری دورے پر امریکہ گئے تھے تو ہمیں بھی اسی اصول پر چلتے ہوئے امریکہ کے اہم عہدے داروں کی تلاشی سے گریز کیوں ہو؟اگر شاہ رخ جیسے بڑے فلم اسٹار کو نیویارک ہوائی اڈے پر دو گھنٹے تک کسٹم افسران کی حراست میں رکھا جاسکتا ہے تو کسی امریکی اداکار ، کھلاڑی یا آرٹسٹ کو ہندوستان کے ہوائی اڈوں پر خصوصی مراعات کیوں دی جائیں ؟

بہر حال یہ بات طے ہے کہ جب تک ہم ایسے معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیں گے اور انہیں روکنے کے لیے سخت موقف اختیار نہیں کریں گے ،تب تک ہندوستان کی اہم شخصیات کی امریکی ہوائی اڈوں پر ہونے والی توہین کے واقعات جارہی رہیں گے۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/shahrukh-case--tough-stance-is-necessary-شاہ-رخ-معاملہ-میں-سخت-موقف-ضروری/d/1658

 

 

Loading..

Loading..