New Age Islam
Thu Apr 30 2026, 01:32 PM

Urdu Section ( 6 Jul 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Positive Effects Will Now Come From Consciousness Rather Than Noise اب شور نہیں شعور کام آئے گا

ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد

2 جولائی 2023

کسی  قانون کا بننا یا نہ بننا لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی علیحدہ علیحدہ اکثریتی رائے پر موقوف ہوتا ہے۔ اگر دونوں ایوانوں میں حکمران جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہے یا وہ ایسا کرنے کی متحمل ہو تو قانون بننے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی- آج دیوار پہ کیا لکھا ہے یہ پڑھنے، سمجھنے اور اسکے مطابق ادراک عمل کے لئے موجود ہے۔ یہ اہم نکتہ کسی بھی رائے زنی یا مشاورتی عمل میں پیش نظر رہنا چاہئے-دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مسائل کا حل مخالفت برائے مخالفت، یکطرفہ موقف، ضد، ہٹ دھرمی ،محض احتجاج یا مخاصمت کو اختیار کرکے نہیں نکلتا - یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا سارا وقت اور تگ و دو تقریروں، بیانوں اور مضامین لکھنےکے ارد گرد گزار دیا جائیگا؟ بعد میں سب کچھ ہوجانے کے بعد ہاتھ ملنے کو اپنا مقدر سمجھ کر تسلیم کر لیا جائیگا۔‘جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے‘ یاپھر آج کی قومی قیادت کے سامنے آپ سب ملکر کسی ایسے موقف کو رکھنے کا اپنے آپکو متحمل بنا سکیں گے جس میں لچک، معاملہ فہمی اور منطقی بنیادوں پر مبنی ادراک عمل کی جزئیات شامل ہوں جو حکومت وقت کو آپکے موقف سے کسی حد تک قائل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

آج کل کامن سول کوڈ ایک آئینی، قومی و ملی موضوع کے تناظر میں ہر سطح اور ہر مکتب فکر میں مختلف حوالوں اور زاویوں سے فکری گردان کا شکار ہے۔ عقلی و شعوری تقاضے ایک طرف اپنی منطق اور دلائل رکھتے ہیں تو دوسری طرف دائیں بائیں او ر وسطی بازو کی سیاست کی اپنی حدود اور سیاسی تقاضے ہیں۔ ادھر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی متعدد مقتد ر مسلم و غیر مسلم شخصیات ،تنظیمیں اور ادارے اپنے اپنے موقف کے ساتھ میدان میں موجود ہیں- چھوٹے بڑے دھڑےبھی بازار سیاست میں موجود ہیں جن کے لئے ذاتی مفادات زیادہ اہم ہیں جن کووہ ملی مفادات کے لبادے میں پیش کرتے ہیں۔

 آئینی پس منظر میں یہ موضوع ہمارے دستور میں دئے گئے ہدایتی اصول  (Directive principles) جن کا تعلق آرٹیکل ۴۴ سے ہے ‘ میں شامل ہے۔ریاست ہندوستان کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں تمام متعلق فریقین کے ما بین اتفاق رائے پیدا کرنے کی متواتر کوشش کرتی رہے تاکہ پورےملک میں ایک ہی عائلی قانون یکساں طور پر نافذ العمل ہو سکے- یہاں یہ نکتہ بھی قابل غورہے کہ تمام ہندوستانی شہریوں کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ قوانین اور آئندہ بننے والے تمام قوانین کی پاسبانی، پاسداری اور عمل درآمد کے پابند ہیں۔ اس کے بر خلاف عمل قانون شکنی کے زمرے میں آئے گا جس پر قانون کی گرفت قائم ہوگی- آئین ہند ایک مقدس دستا ویز ہے جس کی قسم کھاکر ہم اس پر اپنی آن بان شان اور جان قربان تک کرنے کے اخلاقی و آئینی طورپر پابند ہیں۔

 اختلاف رائے ، بحث و مباحثے، مکالمے؛ نجی و ادارہ جاتی سطح پر اتفاق یا اختلاف کے حوالے سے اظہار آزادی حتی کہ احتجاج یا حمایت درج کرانے کے متعدد مواقع جمہوریت میں موجود رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے دونوں مرکزی قانون ساز ادارے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں براہ راست یا بالواسطہ چنے ہوئے عوامی نمائندے کسی بھی قانون سازی سے پہلے سیر حاصل بحث کرتے ہیں‘ اپنی انفرادی ترامیم پیش کرتے ہیں جن پر متعلقہ ایوان کا قائد ووٹنگ کے ذریعہ اعدادی حمایت و مخالفت کے مطابق انہیں تسلیم یا رد کرنے کا اختیار رکھتا ہے- ساتھ ہی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ سول سوسائٹی اور سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں بھی پریشر گروپ اور مشاورتی عمل کا حصہ بنتے ہیں تب کہیں جاکر ایک قانون مستحکم وجود حاصل کرتا ہے-

پرسنل لایعنی عائلی قوانین کے مضامین کیا ہیں؟ شادی بیاہ؛ طلاق، علیحدگی، نان نفقہ، نا بالغ اولاد کی کسٹڈی، پرورش، کفالت اور سر پرستی ، گود لینا، وصیت کی موجودگی یا عدم موجودگی، حقوق وراثت، جوائنٹ فیملی اور پار ٹیشن وغیرہ یہ وہ بنیادی مضامین ہیں جو یونیفارم سول کوڈ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ’ایک صحیح العقیدہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں دین حنیف ‘ دین متین اور دین فطرت کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا نہ صرف پابند ہوں بلکہ اس کے لئے اللہ کے سامنے جوابدہ بھی ہوں- ہمارے ایمان و عمل کی بنیاد پر ہی اللہ کے ہاں ہمارے مراتب ہیں، جنت و جہنم کے فیصلے ہیں اور سب سے بڑھ کر آخرت میں نجات کا معاملہ موقوف ہے- نجی و دینی اعتبار سے ہر مسلمان صرف اللہ کے سامنے اپنے اعمال کےلئے جوابدہ ہے۔ قرآن کریم اور احادیث مقدسہ بنی نوع انسان کے لئے ہدایت کا آخری اور قطعی سر چشمہ ہیں۔اللہ نےاس میں مکمل داخل ہونے، مکمل عمل کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے - ایسے میں کیا کسی دیگر قانون پر عمل داری کا جواز ہے؟یہ وہ سوال ہے جس کے گرد یونیفارم سول کوڈ پر مسلمان اور اسلام کےتناظر میں بحث و مباحثہ و مکالمے کی زمین بنتی ہے- بد قسمتی سے دنیا میں میں ۵۷ مسلم ممالک میں ایک بھی ایسا ملک نہیں جس میں اسلام اپنی مکمل تفصیل کے ساتھ لاگو ہو- رہی بات ان مسلمانوں کی جو ایسی ریاستوں کے شہری ہیں جہاں وہ اقلیت میں ہیں امن، صلح و سلامتی کو ملحوظ رکھتے ہوئے، معاشرے میں امن عامہ اور بیجا فتنے فساد کی زمین کو ممکنہ حد تک کم کرنے کے لیے جس ملک کے آپ شہری ہیں اس کے آئین کی پابندی آپ پر لازم ہے- ایسا ہی کچھ مسلمانان ہند کابھی معاملہ ہے۔ نجی حیثیت اور اسکی نجی سطح پر آزادی کے درمیان قانون نہیں آتا‘ تا وقتیکہ آپ اس کو عوامی مسئلہ نہ بنائیں اور اس کو تبلیغ و دعوت کے زمرے میں نہ لائیں جیسا سوویت یونین،؛مشرقی یوروپ، چین، تمام کمیونسٹ ریاستوں یا ایسی کئی دیگر جگہوں پر دیکھنے کو ملا۔ یوں بھی ایک سیکولر ریاست میں مذہب کو ایک شہری کی نجی ملکیت تصور کیا جاتا ہے- اب آئیے سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے حوالے سے کچھ نظر ڈالیں - اپنے پورے سیاسی سفر میں جن سنگھ سے بھارتیہ جنتا پارٹی تک ہر دور کی قومی قیادت نے یونیفارم سول کوڈ، دفعہ ۳۷۰ اور ایودھیا میں رام مندر کو اپنے قومی ایجنڈے میں رکھاہے- پہلے پالیسی میں کچھ خرد برد کو زمین حاصل تھی لیکن موجودہ قیادت میں کسی کو اچھا یا برا لگے موقف واضح ، شفاف و مستحکم ہے- یہ جماعت اور اس کی قیادت اپنے ایجنڈےاور وعدوں کے عین مطابق اپنا کام کررہی ہے-

وہ کہاں ہیں جو ۳۷۰ کو ہٹانےکے خلاف تھے ۔راجیہ سبھا میں ان کی اکثریت تھی پھر بل کیسےپاس ہوا؟ تین طلاق کا بل اور اب کامن سول کوڈبل بھی پاس ہوگا۔ہندوستان کےمسلمانوںاوران کی آواز کا دم بھرنے والے کہاں ہیں ‘وہ جنھوں نےہمارے کندھوں پر ساٹھ برس راج کیا اور تمہیں ہندوستان کی سب سے مفلس، نادار، پست ترین قومی وحدت کا سرٹیفکیٹ ہاتھ میں د یکر سرخ رو کر دیاکہاں ہیں؟

آخر میں آپ سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہوں کہ ایک بار پھر خوب شعلہ بیانی ہوگی، دھمکیاں ہوں گی، زمین آسمان ایک کرنے کےدعوے ہوںگے مگر معاملہ فہمی کا تقاضہ پورا ہوتاہوا حسب سابق کہیں دیکھنے کو نہیں ملے گا- جب حقیقت دیوار پر لکھی ہو تو دانش، فراست، عقلیت، علمیت، ادراک کے کچھ مشترکہ تقاضے ہوتے ہیں :پہلا جو منوانا ممکن ہے اس کو منوالیجئے۔ دوسرا جو موخر کرواسکتے ہیں اس کو موخر کر والیجئے۔ تیسرا‘ ایک حکمت عملی یہ بھی ہوتی ہےکہ جتنا بچایا جاسکے اتنا تو بچا لینا چاہئے!

جسے دیکھو آج وہ صلح حدیبیہ کی بات کرتا ہے ۔میرے آقا اس حوالے سے رہنمائی کے لئے اپنی سنت چھوڑ گئے ہیں۔ امن، صلح، سلامتی، امن عامہ، معاشرتی افہام تفہیم اور باہمی خوشگوار تعلقات کے لئے عفو و درگزر کی جن روایات کا آپ امت کو امین بنا گئے ہیں ذرا ان پر بھی کبھی سنجیدگی سےغور ہو-ایک ادنی مشورہ یہ ہے کہ کم بولیں اور اس سے بھی کم بیان یا بیانات دیں- اپنی زمین کے مطابق اپنی فکری جہتوں کو استوار کرنا جتنا جلدی سیکھ لینگے اتنی ہی آسانی ہو جائے گی- آخر میں ایک گذارش اللہ رب العزت نے فیضان مصطفی کی شکل میں وطن عزیز ہندوستان کو بالعموم اور مسلمانان ہند کو بالخصوص ایک ایسا قانونی ماہر عطاکیا ہے جس کی بصیرت سے ملک توفائدہ اٹھا ہی رہا ہے‘ کاش کہ میری قوم بھی اس سے استفادہ کرلے- یاد رکھیں جس کی جہاں مہارت ہوتی ہے وہاں وہی کام آسکتا ہے۔ باقی سب شور کرسکتے ہیں اور شور بے یقینی، بے ربطگی اور بے راہ روی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ رخ کو بےرخی عطا کرتا ہے اور فکر کو گمان! میں نے تمام مسائل پر صاحب رائے ہونے کے باوجود قصدا کسی بھی موضوع کو نہیں چھیڑا تاکہ جس کا یہ حق ہے وہ رہنمائی کرے اور پوری وحدت اسلامی اس کے ساتھ یک آواز ہو کر کھڑی ہو۔

2 جولائی 2023،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

---------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/positive-effects-consciousness-rather-noise/d/130146

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..