ڈاکٹر خواجہ افتحار احمد
24اپریل،26 20
صورتحال کتنی ہی جنون زدہ اور زخم خوردہ کیوں نہ ہو غیور قومیں نہ ہوش کا دامن چھوڑتی ہیں اور نہ ہی عقل سے بالاتر کوئی منطقی مفاہمت انہیں قائل کرپاتی ہے۔ایمان جس کی عمارت میں عزت نفس، خودداری اور خوف خدا جیسے جواہر پارے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں وہ نہ صرف حوصلے کی دولت عطا کرتے ہیں بلکہ خود اعتمادی کو اس انتہائی کیفیت تک لے جاتے ہیں کہ جہاں خوف خدا کے سوا کوئی دیگر خوف دل و دماغ نفسیات میں گھر کرنے کے لائق ہی نہیں رہتا۔آج ایرانی قوم جس جذبے سے سرشار ہے، ایثار وقربانی کی وجوداستان وہ رقم کررہی ہے وہ محض تاریخ نہیں بلکہ ایک تہذیب کی نمائندہ ہے۔
دشمن شاطر، ناقابل بھروسہ ہے۔پل پل میں اپنا موقف بدلتاہے۔ ایک طرف امن وداعی بن کراپنے آپ کو پیش کرتاہے تو اس سانس میں جنگ کو جاری رکھنے اور ایک ہرے بھرے چمن کو نیست ونابود کرنے کی بات بھی کرتاہے۔ شاید اسی بے یقینی نے آج اس کی ساکھ کی یہ حالت کردی ہے کہ جس میں اسے نہ باعزت راہ فرار میسر ہے او رنہ ہی راہ قرار۔کہاں دنیا کی سب سے بڑی خلائی،ایٹمی،معاشی اور دفاعی قوت جس کو اپنی طاقت کا نہ صرف گمان وزعم ہے بلکہ اس حوالے سے اس کی خدائی دعوے بھی ہیں اورکہا ں ایک چھوٹا ملک ایران؟ ہرگمراہ یہ یادرکھے کہ خداخدا ہے۔ اس کا نہ صرف دعوے پرحق ہے بلکہ مداوا بھی ا س کا ہدایت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
آج ایران او ر امریکہ۔اسرائیل جنگ مکمل نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے یہ جنگ تین ممالک کے درمیان ایک دوسرے پربالادستی قائم کرنے تک محدود نہیں، کسی مخصوص فتح تک بھی محدود نہیں، اس کے رنگ و خد وخال نے تو تمام دنیا کو تجارتی، سفارتی او ربالادستی کے معیارات کو ایک نئی نہج پرپہنچا دیاہے۔ جنگ کا تو نام ہے مگر وہ مقاصد جواب ننگے ہوکر سامنے آچکے ہیں ان کا سیدھا تعلق عالمی اقتصادی راہداری اور اجارہ داری سے براہ راست جڑ چکا ہے۔آبنائے ہرمز او ربحراحمر جو بنیادی طور پر ایران کے پہلا براہ راست او ردوسرا بالواسطہ کنٹرول میں ہیں، جہاں سے اجتماعی طور پر 32فیصد تیل کی رسد اور 60فیصد سے زائد دنیا کی تجارت سیدھے متاثر ہوتی ہے۔ اس پرامریکہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اتناہی نہیں بلکہ وہ ایران کی تمام قدرتی تیل کی دولت پربھی قبضہ کرناچاہتا ہے۔بالکل اس طرح جیسے اس نے وینزویلا کے ساتھ کیا ہے۔صدر امریکہ فی الوقت ایک ایسے گھوڑے پرسوار ہیں جو انہیں آج کے دور کا سکندر بنادے۔یادرکھیں یہ دنیا دورہے، اس کے نئے تقاضے ہیں، اس کی زمین اس وقت سے جدا بھی ہے او رمنفرد بھی۔ اب اگر ایک طرف عالمی قوت ہے تو سامنے والا بھی اتناکمزور نہیں کہ کوئی اسے وینزویلاہی سمجھ لے؟ ایران وینزویلا نہیں، اس نے ہر محاذ پراپنی علمی اور عقلی بالادستی کو تمام دنیا سے تسلیم کرایاہے۔ اپنی دفاع حکمت عملی کا لوہا امریکہ اوراسرائیل جیسی دوبڑی دفاعی قوتوں سے نہ صرف منوایاہے بلکہ وہ اسرائیلی ریاست جس کو اپنی تکنیکی بالادستی پریایوں کہیے کہ اس کی اجارہ داری پرناز تھا وہ اس مرتبہ زمین پرپارہ پارہ ہوتی دکھائی دی۔ اس کا کوئی شہراور بنیادی تنصیبات ایران کی زد سے باہرنہ پائی گئیں؟ نہ امریکہ اسرائیل کو اس کا اندازہ تھا اورنہ ہی اس پایہ کی تیاری کا کسی اور کوہی۔40 برس سے ایک دفاعی حکمت عملی کے تحت ایران اپنے کو تیار کررہا تھا۔ شاید اس کے حکمرانوں کو اس بات کا مکمل علم و اندازہ تھا کہ ایک دن یہ معرکہ ہونا ہے او رانہیں اس کو سربھی کرناہے۔ وہ طاقتیں جو یہ سمجھ بیٹھی تھیں کہ 24گھنٹے اور جھٹکے میں ہم اس ایران کی پوری سیاسی اور عسکری قیادت کو ختم کرکے وہاں موجود اسلامی نظام رفع دفع کردیں گے او رکسی غلامان غلام کو اقتدار سو نپ کر اپنے مذموم عزائم حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
یہ سچ ہے کہ منصوبہ انسان بناتا ہے،مگر یہ حق ہے کہ کائنات کا نظام اللہ رب کریم اور اس کی حکمت ومشیت چلاتی ہے۔ ہرفرعون کو ایک دن غرق ہوناہوتاہے مگر جب فرعون پرفرعونیت غالب ہوتی ہے تو وہ خود کو خدا سمجھ بیٹھتاہے۔ تاریخ عالم شاہد ہے کہ کسی فرعون کو بقا نہیں، بقا صرف اس ذات وخدہ لاشریک کو ہے جو اس کائنات کا خالق،مالک، احکم الحاکمین اور قادر مطلق ہے۔ وہ سوال جہاں عقل ناکام ونامراد ہوجاتی ہے وہاں ایمان نہ صرف جواب دیتاہے بلکہ تسلی بھی دیتاہے او ر فتح کل کی نوید بھی بخشتاہے۔انشاء اللہ مستقبل یہی رقم کرے گا۔آمین!
پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں مذاکرات کاپہلا راؤنڈ امریکہ اورایران کے مابین اپنے باہمی مفادات پرمبنی اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا مگر خوش آئند پہلو یہ تھاکہ بات چیت جاری رکھنے اور دوبارہ مذاکرات کی میز پربیٹھنے کو لے کر دونوں فریقین کے درمیان کم یا زیادہ اتفاق رائے ضرورموجود تھی۔ البتہ دوسرے دور کے مذاکرات کو میز تک آتے آتے صدر امریکہ کے بیانات اور دھمکی آمیز بیانیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر فضا کو اونچا نیچا کرتا رہا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے دھونس ودھمکی پرزور زیادہ ہے۔ مکالمے جب کہ مفاہمت پر صرف چال بازیوں سے ہی کام لیا جارہاہے۔آبنائے ہرمز میں امریکہ کی طرف سے کی جانے والی فوجی کارروائی اوراس کی ناکہ بندی،ایران کے ایک جہاز پر کیا جانے والاقبضہ، لبنان سے متعلق اسرائیل کی دھمکیاں اور ایران سے متعلق اس کی ایٹمی تنصیبات کے مستقبل کے حوالے سے کارروائی کو لے کر کھلی تیاری او رانجام دینے کا عندیہ اس سب نے فضا کو شطرنج کا کھیل بنا کر چھوڑ دیا۔ کون کس پربھروسہ کرے کیسے اور کتنا کرے یہ اپنے آپ میں بہت بڑا سوال بن کرایران کے سامنے کھڑا ہوگیا؟گفتگو اور مکالمہ فریقین کے درمیان ایک بھروسہ چاہتا ہے۔ فریقین کے مابین اتفاق رائے دوسرے دور کی مکمل زمینی، سفارتی اور سفر کی تیاری تک چیزیں آجانے کے باوجود آخری لمحات میں ایران کی جانب سے مذاکرات سے وقتی دستبرداری کے اعلان نے صورتحال کو واپس لوٹادیا پھر الف پر پہنچا دیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے مگر عارضی طور پر یہ معطل ہے۔ پاکستان کی سفارش پر صدر امریکہ نے جنگ بندی کی مدت کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیاہے تاکہ ایرانی قیادت کو اتنا وقت مل جائے کہ وہ معاہدے کی اس شکل پراتفاق رائے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں جس میں ایران کی اجتماعی قیادت او ر تمام متعلقہ شراکت داروں کی رضامندی اور اتفاق رائے شامل ہو۔تاکہ جو صورتحال وجود میں آئے وہ جامع ہو اور مذاکرات کے سنجیدہ عمل کو اس کے منطقی انجام تک لے جاسکے؟ یقینا یہ صورتحال اس حد تک خوش آئند ہے کہ جنگ فی الحال ٹل گئی ہے۔ دونوں فریقین کو مزید معاملات کو سمجھنے او راپنے اندر درکار لچک کو پیدا کرنے کا وقت مل گیاہے۔جس کے نتیجے میں خدا کرے کہ کوئی بہتر او رقابل قبول و مقبول صورت پیدا ہوجائے جو دونوں فریقین کے لیے جیت کی شکل رکھتی ہو؟
امریکہ اور اس کی موجودہ قیادت جن چیلنجز سے نبرد آزما ہے، قومی و بین الاقوامی دونوں سطح پر اس کی ساکھ داؤ پرلگی ہوئی ہے۔ اس کے اتحاد ی اس کے منہ کو آرہے ہیں، اسے کھلے طور پر چیلنج کررہے ہیں، اس کی پالیسیوں کو لے کر بدترین ناقدین کی شکل میں دنیا کے سامنے ہیں۔ یہ دور امریکہ نے نہ کبھی سوچا تھا او رنہ ہی کبھی دیکھا تھا۔ ادھر نومبر میں وسط مدتی انتخابات صدر امریکہ کے سامنے کھڑے ہیں اتنا ہی نہیں بلکہ ان کو اس مواخذے کا بھی خطرہ لگاہواہے جو ان سے صدارتی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی صدارت کاعہدہ نہ چھین لے۔آج جتنا پریشر امریکہ اور اس کی قیادت کی حیثیت پرہیبت کی شکل میں طاری ہے وہ ایران کے لیے اپنے معاملات کوبہتر سے بہتر انداز میں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے نہایت موضوع ہے۔ جیسا میں نے شروع میں کہا کہ ایرانی قوم جس کا جنون آج اپنی انتہا پرہے مگر وہ جنون سے نہیں ہوش سے کام لے گی۔ اتنی زرخیز صو رتحال سفارت کاری میں کم دیکھنے کو ملتی ہے جیسی آج ایران اور اس کی قیادت کو ملی ہے۔ میں آخر میں وارثین اہل بیت کو اتنا ہی کہناچاہتا ہوں کہ ہمت مرداں مدد خدا۔
-----------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/peace-dignity-iran-changing-global-conflict/d/139789
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism