New Age Islam
Thu Mar 12 2026, 06:09 AM

Urdu Section ( 10 Nov 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Civil war in Sudan سوڈان میں خانہ جنگی

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

9 نومبر،2025

سوڈان افریقہ میں واقع ایک عرب مسلم ملک ہے جو عرب لیگ او راوآئی سی کا ممبر ہے۔مصر کے ساتھ سوڈان کا ایک بڑا حصہ صدیوں سے سلطنت عثمانیہ میں شا مل تھا۔ جب 1882 میں برطانیہ نے مصر پرقبضہ کیا توسوڈان بھی اس کے قبضے میں آیا۔ 2011 میں سوڈان ایک بار پھر تقسیم ہوئی اور سوڈان ”جنوبی سوڈان“ نامی ملک سوڈان سے کاٹ کر بنایا گیا۔آزادی کے بعد شروع کے سالوں میں سوڈان میں انتخابات کے ذریعے حکومتیں بنیں لیکن عالم عرب میں بعض دوسرے ممالک کی دیکھادیکھی جلد ہی سوڈانی فوج سیاست میں کود پڑی۔1971 میں جنرل جعفر نمیری نے صدر اسماعیل ازہری کی حکومت کا تختہ پلٹ کر 1985 تک حکومت کی۔ بعد میں جنرل سوار الذہب نے نمیری کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔ اس کے چار سال بعد جنرل عمر حسن البشیر نے جنرل سوارالذہب کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔اگلے تیس سال تک لگاتار حکومت کی۔ جنرل عمر حسن البشیر کے زمانے میں شمال مغربی صوبہ دار فور میں بہت مظالم ہوئے جس کی وجہ سے بین الاقوامی عدالت نے ان کو نسل کشی کاملزم گردانا او ران کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ 2019 میں ایک فوجی انقلاب نے ان کی حکومت ختم کردی پھر اکتوبر 2021 میں فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح برہان حکومت کا تختہ پلٹ کر صدر بن گئے۔

ریپڈسپورٹ فورس (قوات الدعم السریع) ایک پرانی ملیسیا (غیر سرکاری مسلح تنظیم) کا نیا نام ہے۔ یہ پہلے ”جنجوید“ کے نام سے جانی جاتی تھی۔ جنرل عمر حسن البشیر نے جنجو کو 2000 میں دارفور میں برسوں سے جاری مقامی سورش کو ختم کے لئے بنایا تھا۔ جنجو ید پر عوام کے بے تحاشا قتل، تشدد کابیجا استعمال، لوٹ مار او ر منظم زناکاری کاالزام لگایا گیا۔ ان مظالم کی وجہ سے تقریباً 25/لاکھ لوگ صوبہ دار فور چھوڑکر بھا گ گئے اور 3/لاکھ لوگ خانہ جنگی کے دوران قتل ہوئے۔دارفور کی خانہ جنگی 2008 میں ختم ہوئی۔2013 میں خانہ جنگی دوبارہ شروع ہوگئی۔ ریپڈ سپورٹ فورس نے 15/ اپریل 2023 کوجنرل برہان کے صدارتی محل پر  قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔اس کے بعد ملک میں مسلح خانہ جنگی شروع ہوگئی۔اس وقت سے مستقل خانہ جنگی جاری ہے جس کے دوران ہزاروں لوگ مارے گئے، دسیو ں لاکھ بے گھر ہوئے ہیں او رتقریباً 25 ملین سوڈانی بھکمری کاشکار ہیں۔

سوڈان میں خانہ جنگی بیرونی طاقتوں کے دخل اندازی او ر تائید سے چل رہی ہے۔ سوڈان کی فوجی حکومت کو اگر چہ وہاں کی قانونی حکومت سمجھا جاتاہے لیکن بیرونی طاقتوں میں سوڈانی حکومت کے تئیں سردمہری ہے۔ کیونکہ متعدد ممالک اس کو نہ صرف اسلام پسند بلکہ الاخوان المسلمون اور حماس کی حلیف سمجھتی ہیں۔دوسری طرف ریپڈ سپورٹ فورس کے قائد جنرل حمیدتی نے باہر کی طاقتوں،بالخصوص متحدہ عرب امارات، سے تعلقات بنالئے او ران سے سونے کے بدلے ہتھیار حاصل کرنا شروع کردیا۔ دارفور میں واقع سونے کی کانیں ریپڈ سپورٹ فورس کے قبضے میں ہیں۔ ریپڈ سپورٹ فورس پچھلی جولائی سے نیا لاشہر سے ایک متبال حکومت چلا رہی ہے جسے دنیا کی کوئی حکومت تسلیم نہیں کرتی ہے۔

ریپڈ سپورٹ فورس کو باہر کی مدد کے ساتھ بیرونی کرایہ کے فوجی بھی میسر ہیں جو موٹی موٹی تنخواہوں کے عوض دنیا کے کسی بھی حصے میں جاکر لڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ ریپڈ سپورٹ فورس کے ساتھ کولمبیا کے ہزاروں فوجی لڑرہے ہیں۔ ریپڈ سپوٹ فورس کالیڈر حمیدتی اسرائیل کا بڑا مداح ہے۔ وہ کہتاہے کہ اسے اسرائیل کی بڑی ضرورت ہے اورعرب ملک کو اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے۔

مصر میں عرب بہاریہ کے دوران امریکہ نواز حسنی مبارک کی حکومت گرنے اور الاخوان المسلمین کے 2012 کے الیکشن میں جیتنے سے امریکہ، اسرائیل اور خلیج کے ملکوں میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔ ایک سال کے اندر ہی امریکہ او راسرائیل کے رسوخ،فوجی وانٹیلی جنس طاقت اور خلیجی ممالک،بالخصوص متحدہ عرب امارات، کے پیسوں سے صدر مرسی کا تختہ الٹ دیا گیا اور پوری عرب دنیا میں الاخوان المسلمون او ران کے حامیوں کے خلاف سیاسی اور فوجی حملہ شروع ہوگیا۔غزہ میں حماس کو بے سہارا چھوڑنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عرب حکومتیں حماس کو الاخوان المسلمون کی ہی ایک شاخ سمجھتی ہیں۔ غزہ پراسرائیلی حملے کی تقریباً تمام عرب ممالک نے خاموشی سے تائید کی اور اسرائیل سے کہا کہ حماس کو تباہ کئے بغیر جنگ نہ بند کرنا۔ یہ بات مشہور امریکی صحافی بوب وڈ ورڈ نے اپنی حالیہ کتاب ’وار‘ میں کہی ہے۔

سوڈان کے باغیوں کو اسلحہ سپلائی کرنے کے بدلے امارات کو سونا ملتا ہے جو سوڈان کو سونے کی کانوں سے نکلتاہے جو ریپڈ سپورٹ فورس کے قبضے میں ہیں۔2021 میں سوڈان نے تین ہزار ملین ڈالر کا سونا برآمد کیا تھا۔ موجودہ خانہ جنگی سے پہلے بھی 2015 سے یمن میں جنگ کے لئے متحدہ عرب امارات، سوڈان سے دسیوں ہزار کرایہ کے فوجی لاکر یمن کی خانہ جنگی میں استعمال کررہا ہے۔متحدہ عرب امارات کی نظریں سوڈان کی زراعت پر بھی ہیں۔ اگر اس کی موید حکومت وہاں قائم ہوجاتی ہے تو وہاں کی زراعت امارات کیلئے ایک بہت بڑی کمائی کا ذریعہ ہوگی۔

18/ ماہ کے محاصرے کے بعد ریپڈ سپورٹ فورس نے دارفور کے دارالسلطنت الفاشر پرپچھلے 26اکتوبر کو قبضہ کرلیا جو اس کے ایک بڑی کامیای مانی گئی ہے۔ اس محاصرے کے دوران شہرالفاشر کے اندر 2/لاکھ 60/ہزار شہری محصور تھے، جن میں ایک لکھ تیس ہزار بچے تھے۔ شہر پرقبضے کے بعد ریپڈ سپورٹ فورس نے وہاں قتل عام کیا یہاں تک کہ سٹیلائٹ کی تصویروں میں شہر میں خون بہتاہوا دکھائی دے رہاہے۔ بیسوں ہزار لوگ اس کے بعد دوسرے علاقوں میں بھاگ گئے اور سینکڑوں بھوک اور علاج سے محرومی کی وجہ سے مر گئے۔گزشتہ 18/ماہ کی خانہ جنگی میں سوڈان کے مختلف علاقوں میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ ان میں سے 61/ہزار لوگ صرف راجدھانی خرطوم کے علاقے میں ہلاک ہوئے اور 14/ملین لوگ اپنے گھروں کو چھوڑکر ملک کے اندر دوسری جگہوں بلکہ چاڈ، لیبیاا ور مصر بھاگنے پرمجبور ہوئے ہیں۔ریپڈ سپورٹ فورس کاالفاشر پر قبضہ ایک بڑی فتح ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس سے جنگ کانقشہ بدل جائے۔سوڈانی فوج اب بھی ملک کے بڑے علاقے پرقابض ہے اور مختلف طریقوں سے، بالخصوص فضائیہ کے ذریعے، ریپڈسپورٹ فورس پر حملے کرری ہے۔موجود ہ خانہ جنگی کے دوران سوڈان میں اقتصاد، بینک، انڈسٹری، زراعت، تعلیم، ہسپتال، اسکول، یونیورسٹیاں وغیرہ سب متاثر ہوئے ہیں۔تقریباً 25/ملین سوڈانی بھکمری کاشکار ہیں اور تقریباً 10/ملین بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق موجودہ خانہ جنگی سے سوڈان کو 200بلین (200 ہزار ملین) ڈالر کانقصان ہوا ہے۔

کچھ طاقتیں،بالخصوص امریکہ او راسرائیل، مشرق وسطیٰ او رشمالی افریقہ کے مسلم ممالک کو چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کرناچاہتی ہیں تاکہ ان پر کنٹرول آسان ہوسکے، پورے علاقے میں اسرائیل کاکوئی حریف باقی نہ رہے۔ برسوں سے اس نئے پلان کے نقشے موجود ہیں جس کے تحت پاکستان،افغانستان، ایران،عراق، شام مصر، سعودی عرب، مصر، لیبیا اور سوڈان وغیرہ کو تقسیم کرکے وہاں علاقائی، قبائلی اورمسلکی بنیاد پر چھوٹے چھوٹے ملک بنائے جائیں گے۔مختلف ممالک میں پائی جانے والی مذہبی یا قبائلی اقلیتیں اس پلان کا خاص مہرہ ہیں۔ ان کے لئے چھوٹے چھوٹے ملک بنائے جائیں گے تاکہ وہ بیرونی مدد وتائید حاصل کرنے کے لئے مجبور ہوں۔ سوڈان کی خانہ جنگی میں غیر ملکی طاقتوں کی دلچسپی اسی پلان کا حصہ ہے۔

--------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/civil-war-sudan/d/137580

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..