New Age Islam
Wed May 06 2026, 05:46 PM

Urdu Section ( 6 May 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Secularism, Muslims, and the Contemporary Scenario سیکولرزم ، مسلمان اور عصری منظر نامہ

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

6مئی،2026

 اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہندوستان ایک سیکولر  ریاست ہے۔ اس ریاست کا ایک دستور ہے جو روح اور جسم دونوں کے اعتبار سے جمہوری اور سیکولر اقدار کا سچا پکا علمبردار ہے ۔ سیکولر ریاست کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ  حکومت کسی مذہب کے تابع نہیں ہوگی ۔ البتہ ریاست میں رہنے والے افراد کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی اور پسند کے حساب سے کسی بھی دھرم ، تہذیب اور کلچر کو اختیار کریں ۔ ہندوستان  کی شناخت کثرت میں وحدت ، ثقافتی تنوع ، سماجی رسومات کا تعدد زبانوں کی کثرت ببانگ دہل یہی دہائی دیتی ہے کہ یہاں سیکولرزم اور جمہوریت کے انمٹ نقوش موجود ہیں ۔ بھارت  کے اس امتیاز اور تشخص کو کوئی بھی مٹا نہیں سکتا ہے ۔  سماجی روایتیں ، مشترکہ تہذیب اور تمدن و معاشرت میں ہم آہنگی کے  ایسے  ان گنت آثار ہیں  جو ہمیں قدم قدم پر باور کراتے ہیں کہ ہندوستان ایک مستحکم سیکولر ملک ہے ۔

 آزادی سے لے کر اب تک کے سیاسی اور سماجی احوال کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ  مسلم کمیونٹی نے ہندوستان کے سیکولر تانے بانے اور اس کے تحفظ کے لیے حتی المقدور سعی کی ہے ۔ اسی  کے ساتھ اس صداقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا جسے جناب مشیرالحق ( سابق وائس چانسلر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی ) نے اپنی کتاب  "مسلمان اور سیکولر ہندوستان"  میں لکھا ہے:

"ہمارے ہندوستانی سیکولر حضرات نے ، خواہ وہ مذہبا ہندو ہوں یا مسلمان مسلم عوام کے مذہبی جذبات کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کبھی نہیں کی ۔ اور رفتہ رفتہ اپنی تقریروں اور تحریروں سے اُنھوں نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی کہ عوام کو یہ یقین آگیا کہ سیکولرزم اور مذہب میں جنم جنم کا بیر ہے ، اور اگر وہ مسلمان باقی رہنا چاہتے ہیں تو پھر سیکولر مسلمانوں کے بجائے اُنھیں اپنی اُمیدیں علماء ہی سے وابستہ رکھنی چاہئیں۔"

مذہب اور سیکولر ازم کی اس تفریق کے جو اثرات مرتب ہوئے یا ہورہے ہیں وہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہیں ۔

اگر سیکولرزم کو مذہب کا مخالف کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہوتا تو شاید نتائج کچھ اور ہوتے ۔

سیکولر  طرزِ حکومت مذہب کا مخالف نہیں ہے اس کی وضاحت سید عابد حسین نے اپنی کتاب " ہندوستانی مسلمان آئینہ ایام میں " اس طرح کی ہے:

" سیکولر انداز نظر یا سیکولرزم کے بارے میں عام طور پر ہمارے ملک کے لوگوں اور خصوصاً مسلمانوں کو بڑی غلط فہمی ہے۔ وہ اس سے ایسا انداز فکر مراد لیتے ہیں جو سرے سے مذہب کا اور اس کی اعلیٰ قدر و قیمت کا منکر ہو، مگر در اصل سیکولرزم لازمی طور پر مذہب کا مخالف یا اس سے بیگانہ نہیں ہے ۔ بہت سے لوگ  جو علمی اور سیاسی سیکولرزم کے قائل ہیں ، مذہب کو زندگی کی اعلی قدر سمجھتے ہیں اور اس کے سامنے سر نیاز خم کرتے ہیں۔"

گویا ایک نظریہ ہمارے سامنے وہ ہے جو سیکولرزم کو مذہب کا مخالف نہیں سمجھتا اور ایک فکر یہ ہے کہ جو سیکولرزم کو مذہب کا مخالف متصور کرتی ہے ۔ اس کشمکش اور نظریاتی یا فکری تفریق نے ارباب سیاست کو ایک موقع فراہم کیا اور انہوں نے اسے اپنے لیے فال نیک سمجھ کر میدان میں کود گئے جس کی وجہ سے عوام میں یہ پیغام دیا گیا کہ سیکولرزم اور مذہب دو الگ الگ دھارے اور دو الگ الگ راستے ہیں ۔ اس سے عوام میں تو مذہب بنام سیکولرزم تفریق پیدا ہوئی مگر سیاسی جماعتوں کو خوب فائدہ ملا ۔  جب کہ یہ سچائی ہے کہ سیکولرزم واقعی مذہب کا مخالف نہیں ہے ۔ بقول ڈاکٹر رادھا کرشنن :

"  سیکولرزم نہ تو نا مذہبیت ہے اور نہ دہریہ پن ، سیکولرزم کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دنیاوی آسائش پر پوری توجہ صرف کردی جائے۔ سیکولرزم  تو روحانی اقدار کی اس عالمگیریت پر زور  دیتا ہے جو مختلف لوگ مختلف ذرائع سے حاصل کرتے ہیں.۔"

اس کے علاوہ جمعیة  علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی اپنی تقاریر اور خطبات میں کتنے زور و شور کے ساتھ ہندوستان کی جمہوریت اور اس کے سیکولر نظام کی خوبیوں کو بیان کرتے ہیں:

"سیکولرزم کا مطلب ہے کہ ہر آدمی کو اپنے پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق ملے۔ اور ہندوستان میں دستور نے سبھی کو یہ اختیار دیا ہے۔ ہندوستان میں حکومت کا کوئی اپنا مذہب نہیں ہے۔ ہم اپنے اس دستور کو مانتے ہیں، ہر آدمی کو اپنی پسند کے مطابق اپنے مذہب کو اختیار کرنے کا حق ہے۔ حکومت ایک ہی طرح کا اصول ماننے کے لیے سبھی مذاہب کے لوگوں کو مجبور نہیں کر سکتی۔ یکساں سول کوڈ کا مطلب ہے ایک قانون کو نافذ کرنا، یہ کسی بھی طرح مناسب نہیں۔"

متذکرہ بالا تمام شواہد یقیناً اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہندوستان کی سیکولر قدروں اور یہاں کی قومی روایتوں کو مخدوش نہیں کیا ۔ ایک طویل عرصہ سے مسلمانوں کا عمل اور ان کا رویہ اس بات کی شہادت دیتا ہے ۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ملک میں سیکولرزم کو ختم کرنے اور معاشرے میں مذہب و دھرم کے نام پر نفرت پھیلانے کی کوشش ہوتی ہے ۔ مذہب کو دیکھ کر تشدد کرنا ، یا امتیاز برتنا بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ اس سے ہندوستان کا سیکولر ڈھانچہ بری طرح متاثر ہورہا ہے ۔

رواں حالات میں اگر سیاسی احوال کا تجزیہ کیا جائے تو یہی کہنا پڑتا ہے کہ  اب محض مفادات ، بالا دستی کی جنگ ہے ۔ اس میں سیکولرزم اور  ہندوسانیت کہیں نظر نہیں آتی ہے ۔ اور جب یہ دونوں قدریں مجروح ہوں گی تو پھر تمام طرح کے مسائل پیدا ہوں گے  ۔  اب بنیادی طور پر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کی کیا صورت ہوگی جس کی بنیاد پر تمام طبقات مل جل کر رہ سکیں اور ایک وحدت کے طور پر نظر آئیں جو ہماری تہذیب اور ثقافت کا اٹوٹ حصہ رہا ہے ۔ اس کے لیے ہمیں سیاسی مفادات سے اوپراٹھ کر عوام  کے مفادات اور حقوق کے لیے جد وجہد کرنی ہوگی ۔ اس میں مذہب یا نسل و ذات کی تفریق کو بالائے طاق رکھنا ہوگا۔

مگر معاشرتی احوال جو بتارہے ہیں ان میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت ایک فضاء بنی ہوئی ہے جس میں مسلم مخالفت  کے اثرات نمایاں ہے۔

اسی کا اثر ہے کہ سماج میں آئے دن مذہبی اور دینی جذبات کو مجروح کرنا ، ہندو مسلم منافرت کے نعرے لگانا اور اس پر فخر محسوس کرنا عام ہوگیا ہے ۔

اس منفی کردار سے ہوسکتاہے کہ  کسی کو سیاسی فائدہ حاصل ہو جائے لیکن سچ بات یہ ہے کہ اس کے نقصانات زیادہ ہیں ۔ اس لیے نفرت آمیز بیان دینے سے قبل یہ سوچنا ہوگا کہ معاشرے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔ ہر طرح کے مفاد سے اوپراٹھ کر اگر ہم ملک کی عظمت، جمہوری نظام اور آئینی اقدار کو رکھیں گے تو یقیناً اس سے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں پیدا ہوں گی جن کا لازمی اثر یہاں کی سیکولر قدروں کو مستحکم کرے گا۔  ہندوستان میں اس وقت جو نظریہ اور فکر غالب نظر آرہی ہے اس کی روپ ریکھا تفریق ، امتیاز اور منافرت جیسے عناصر سے تشکیل دی گئی ہے ۔ اس میں مسلم منافرت کا تڑکا بہت تیزی سے کام کررہا ہے حتیٰ کہ یہ یقین کرادیا گیا ہے کہ اگر سیاسی نتائج کچھ اور ہوئے تو پھر اس سے ہندوؤں کے لیے خطرہ ہے ۔ جب کہ اس کا حقائق سے کوئی علاقہ نہیں ہے ۔ محض یہ ایک سیاسی فریب ہے ۔ اس لیے عوام کو اس  نفرت آمیز سیاست کو سمجھنا ہوگا تبھی جاکر سیکولر نظام کی عظمت و جلالت محفوظ رہ سکے گی ۔  ہندوستانی سیکولرزم کی عظمت اور اس کی ہمہ گیریت کا جامع تصور اسی وقت معرض وجود میں آسکتا ہے جب کہ ہم ان خطوط اور اقدار کے مطابق اپنے سیاسی  مفادات کو ترتیب دیں جن کی بجا آوری سے سیکولر دستور اور ہندوسانیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے ۔ اگر ہم اپنے سیاسی مفادات کی خاطر سیکولر قدروں اور جمہوری نظام کو پامال کررہے ہیں تو پھر ہمیں اپنے سیاسی مفادات کو ترک کرنا ہوگا تاکہ ہندوستان میں اتحاد و یکجہتی کی فضاء ہموار رہے اور نفرت و بیزاری کا ماحول کسی بھی طرح پنپنے نہ پائے ۔

مذہبی تفریق کے ابھرتے ہوئے رجحان کو اگر فوری طور پر کم نہیں کیا گیا ، مزید اس کو بڑھا وا دیا جاتا رہا تو معاشرے میں سیاسی ، اخلاقی اور تہذیبی بحران پیدا ہوگا جو سماج کی تعمیر و ترقی کے لیے سد باب ہے ۔

سوال یہ بھی ہے کہ بھارت میں ہم مل جل کر آج سے ہی نہیں رہ رہے ہیں بلکہ ایک زمانہ سے رہتے آئے ہیں ۔ پھر اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ ہم مذہب ، ذات پات اور رنگ و نسل کے نام پر ایک دوسرے کو ستانے لگے۔ 

سیاسی مفادات تو محبت کے ساتھ بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔  نفرت اور کسی بھی طرح کی تفریق و امتیاز کو بالائے طاق رکھ کر بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہم نفرت کی آبیاری کریں ۔

—-

مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

----

URL: https://newageislam.com/urdu-section/secularism-muslims-contemporary-scenario/d/139912

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..