ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام
( قسط دوم)
3جولائی 2026
آریوں کے مذہبی، معاشرتی اور سیاسی حالات
اس بابت پروفیسر موصوف نے اپنی کتاب میں یہ بحث کی ہے کہ آ ریوں کا وطن کونسا تھا؟ اسی طرح ان کا مذہب کیا تھا؟ انہوں نے لکھا ہے کہ:
" نوع انسانی کی وہ نسل جو آ ریہ کے نام سے مشہور ہے غالباً تین ہزار سال قبل مسیح یا اس سے بھی پہلے اس ملک میں داخل ہوئی ، یہ لوگ شمال مغرب کے پہاڑی دروں سے آ ئے اور اولا پنجاب کے دریاؤں کے کنارے آ باد ہوئے، یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ ان کا اصلی وطن کونسا تھا ۔ غالباً یہ لوگ یورپ اور ایشیا کے درمیان بحیرہ ارال اور بحیرہ اسود کے کنارے کے وسیع مرغزاروں میں زندگی بسر کرتے تھے۔ یہاں یہ ایک مدت تک رہے ، اس کے بعد یہ یہاں سے چلدئے ان میں بعض قبیلے یورپ کی طرف نکلے اور بعض قبیلے ایران اور افغانستان پہنچے، اور یہاں سے سوات ، کابل، کرم اور گومل ندیوں کی گھاٹیوں سے گزر کر ہندوستان میں داخل ہوئے یہاں ان کو قدیم ہندوستان کے باشندوں سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ البتہ انہیں غلبہ حاصل ہوا کیونکہ یہ فنون جنگ سے واقف تھے ۔ اس طرح سے انہوں نے پورے ملک میں سکونت اختیار کرلی"
اس ضمن میں مصنف نے ایک بحث یہ کی ہے کہ آ ریوں کا مذہب کیا تھا۔ چنانچہ موصوف نے لکھا ہے کہ:
" ابتداء میں ان کا مذہب نہایت صاف اور سادہ تھا ، وہ قدرت کے مناظر اور اس کی طاقتوں کو پوجتے تھے۔ سورج ،چاند ،سحر کی روشنی ، بجلی ، طوفان ، آ گ اور ہوا کی پوجا کرتے تھے۔ اسی طرح سے اندر باش اور وایو ہوا کے دیوتا سمجھے جاتے تھے۔ پجاری لوگ ان دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے اور ان کے قہر سے بچنے کے لئے قربانی کرتے اور دعائیں مانگتے تھے ۔ ان کا اعتقاد تھا کہ مرنے کے بعد نیک اور اچھے آ دمیوں کی روحیں یم کے ساتھ سچائی اور نور میں رہتی ہیں۔ ہر برے آ دمیوں کی روحیں ہمیشہ تاریکی اور ظلمت میں پڑی رہتی ہیں۔ البتہ مرور زمانہ کے ساتھ ان کے مذہبی اعتقادات بدل گئے۔ نئے دیوتاؤں کا اضافہ ہوگیا ، پڑھے لکھے لوگوں کا یہ ایمان ہوگیا کہ ان تمام قوتوں پر ایک زبردست قوت ہے جس کے تحت میں یہ سب کام کرتی ہیں ۔ واضح رہے کہ اس دور میں نہ مندر تھے اور نہ مورتی پوجا"
( ایضاً ،صفحہ 22- 23)
گویا ابتدا میں آ ریوں کے یہاں مناظر قدرت کی پرستش ہوتی تھی اور لوگ انہیں دیوتا تصور کرتے تھے۔ لیکن یہ بات صاف ہے کہ اس دور میں مورتی پوجا کا چلن نہیں تھا ۔ آ ریہ قوم کی طرز معاشرت اور سماجی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے :
" ہندوستان میں آ باد ہوجانے کے بعد آ ریہ قوم نے زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کی ۔ عام لوگ تو مٹی بانس اور چھپروں سے تیار کیے ہوئے مکانوں میں رہتے تھے لیکن مالدار لوگ بڑے بڑے محل بنواتے تھے۔ جن میں عمدہ قسم کے دروازے اور ستون ہوتے تھے۔ ان کی عام غذا دودھ ، مکھن ، غلہ ، ترکاریاں اور پھل تھی ۔ گوشت کھاتے تھے ۔ مگر کثرت سے نہیں ،جانوروں کا شکار بھی کرتے تھے ،ناچ گانے کے شوقین تھے، شراب نوشی ،قمار بازی بھی موجود تھی ۔ جو لوگ چوری اور ڈاکہ زنی کرتے تھے وہ برادری سے خارج کردیے جاتے تھے۔ کپڑا بننا جانتے تھے اور اون ،سوت اور چمڑا لباس کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ کشتیاں تیار کرتے اور دریاؤں کو انہیں کے ذریعہ عبور کرتے تھے۔ اس زمانے میں سکوں کا رواج نہ تھا اور لین دین کا طریقہ یہ تھا کہ ایک جنس کے بدلے دوسری جنس مل جاتی تھی۔ آ ریہ سوسائٹی میں عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مذہبی رسومات کی ادائیگی میں اکثر وہ مردوں کے ساتھ شاملِ ہوتی تھیں بہت سے منتر ایسے ہیں جو عورتوں کی طرف منسوب ہیں۔ اسی طرح گھر کی مکمل دیکھ بھال اسی کے ذمہ ہوتی تھی۔ بچپن کی شادی کا رواج نہ بیوہ عورتوں کی بھی شادی ہوتی تھی۔ دان وخیرات کرنا اچھا سمجھا جاتا تھا۔ مردو عورت دونوں رنگین کپڑے پہنتے تھے " ( ایضاً , صفحہ 21-22)
گویا یہ کہنا مناسب ہے کہ آ ریہ قوم کے اندر ، معاشرتی اقدار، مذہبی و دینی شعور اور سیاسی سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی۔ ہاں یہ درست ہے کہ ان کی اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنا نظام تھا ۔ مذہب کے متعلق جو روایات پائی جاتی تھیں ان میں نمایاں بات یہ ہیکہ مورتی پوجا اور مندرکے نام سے کوئی بھی عبادت خانہ نہیں تھا۔ اس لئے آ ریہ قوم کو اس اعتبار سے امتیاز حاصل ہے۔
ذات پات کا تصور
پروفیسر موصوف نے اپنی کتاب میں ایک بحث یہ کی ہے کہ ذاتوں کی تقسیم کا کیا فلسفہ ہے۔ اس کے پس پردہ کیا وجوہات ہیں۔ وہ رقم طراز ہیں کہ :
" ذاتوں کی تقسیم بہت پرانی ہے اور اس ملک کی زندگی میں اس طرح پیوست ہوگئی ہے کہ ایک دم اس کا دور کرنا ناممکن ہے لیکن بہر حال ہم یہ کوشش کرسکتے ہیں کہ رفتہ رفتہ اس کی بندشوں کو ڈھیلا کریں ، کیونکہ اس سے کسی کو انکار نہیں کہ اس ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے" ( ایضاً صفحہ 31)
انہوں نے مزید لکھا ہیکہ:
" ایک ذات والا دوسری ذات والے کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ایسے حالات میں یہ ناممکن ہے کہ برادرانہ تعلقات پیدا ہوسکیں یا لوگ مل کر ملک کی بھلائی کے لیے کوئی کام کرسکیں ۔ہر شخص کو وہی پیشہ اختیار کرنا پڑتا ہے جو اس کے بزرگوں کا تھا ، چاہے فطرتاً وہ اس کے لیے موزوں ہو یا نہ ہو ۔ نیچی ذات والے ذلیل وخوار سمجھے جاتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیشہ وہ اور ان کی اولاد اسی طرح ذلیل اور خوار رہے گی ۔ کسی حالت میں بھی وہ اس پستی سے نہیں نکل سکتے ۔ بر خلاف اس کے اونچی ذات والے معزز خیال کیے جاتے ہیں ۔ وہ مغرور ہوجاتے ہیں اور اپنی شرافت نفس پر بے جا گھمنڈ کرنے لگتے ہیں" ( ایضاً صفحہ ۔ 31)
یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندو ازم میں ذات پات کا جو نظام ہے وہ کئی اعتبار سے مناسب نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ اس نظریہ سے سماج میں اونچ نیچ کا مزاج پیدا ہوتا ہے جو کسی بھی ترقی پذیرملک وقوم اور معاشرے کے لیے مفید نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہیکہ اس سے خود ان طبقات کے اندر احساس کمتری کا رجحان بڑھتا ہے جن کو نچلی ذات کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس تصور کو نابود کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ نوع انسانی کو ترقی وکامرانی کے یکساں مواقع حاصل ہوسکیں۔
رامائن مہابھارت اور گیتا کا عہد
پروفیسر موصوف نے بتایا ہےکہ:
" ویدوں کے زمانہ کے بعد جو دوہزار قبل مسیح سے ایک ہزار قبل مسیح تک مانا جاتا ہے، رزمیہ نظموں کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔ اس عہد کے حالات معلوم کرنے کا ذریعہ رامائن اور مہابھارت ہیں اور سہولت کی وجہ سے ہم اس کو رامائن اور مہابھارت کا زمانہ کہتے ہیں۔ ان دونوں نظموں کے علاوہ غالبا ہندؤں کی دوسری مقدس کتابیں ، براہمن، آ رنیک اور اپنشد بھی اسی زمانہ میں مرتب ہوئیں ، ان کتب کے مطالعہ سے اس دور کے سیاسی، اخلاقی اور مذہبی حالات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔ رامائن اور مہابھارت کی تصنیف کی تاریخ ٹھیک طور پر نہیں بتلائی جاسکتی ہے۔ رامائن کے مصنف والمیک رشی ہیں۔ اس میں چوبیس ہزار اشعار ہیں۔ اکبر بادشاہ کے عہد میں گوسوامی تلسی داس نے رامائن کا ترجمہ ہندی میں کیا جو شمالی ہندوستان کے ہندو خاندانوں میں اب تک پڑھا جاتا ہے۔ مہابھارت کے مصنف ویاس جی ہیں اس میں بھی چوبیس ہزار اشلوک تھے لیکن بعد میں اضافہ کردیا گیا یہاں تک کہ ایک لاکھ ہوگئے۔ گیتا کے متعلق لکھا ہے کہ۔ شری کرشن جی نے مہا بھارت کی جنگ میں پانڈوں کا ساتھ دیا ۔ ہندو لوگ سری کرشن جی کو اوتار مانتے ہیں۔ لڑائی میں جب ارجن نے دیکھا کہ بہت آ دمی اپنے اور دشمن کے ہلاک ہوئے جاتے ہیں تو وہ لڑائی سے بیزار ہوگئے اور چاہتے تھے کہ کنارہ کشی اختیار کریں۔ لیکن سری کرشن جی نے ان کی ہمت افزائی کی اور بہت سے اپدیش دئیے ۔ ان کو بتایا کہ ایک چھتری کا کیا دھرم ہے۔ روح کبھی نہیں مرتی ۔ اگر ایک شخص مرگیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ روح اس کا جسم چھوڑ کر چلی گئی ۔ اس کے بعد پھر دوسرے جنم میں نمودار ہوگی۔ سچائی کے لئے لڑائی بھی جائز ہے۔ انسان کو اپنا ارادہ اور نیت ٹھیک رکھنا چاہئے ۔ ان اپدیشوں کے مجموعہ کا نام بھگوت گیتا ہے۔ اکبر بادشاہ کے دور میں فیضی نے اس کا ترجمہ فارسی میں کیا تھا" (ایضاً، صفحہ 24_25)
ان حقائق و شواہد کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پروفیسر شیخ خورشید صاحب نے اپنی معروف کتاب تاریخ ہند میں میں ہندو دھرم کے متعلق جو چیزیں پیش کی ہیں وہ بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ہندوستانی مشترکہ تہذیب خصوصا ہندو تہذیب و ثقافت کا کافی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ ان کی کتاب میں ہندو دھرم کے متعلق وہ بنیادی اور اہم نکات ملتے ہیں جن سے قدیم ہندو تہذیب کو سمجھنا بہت آ سان ہے۔ اس کتاب کا عمومی فایدہ یہ ہے کہ عوام میں جو اردو دان طبقہ ہے اسے ہندوستان کی مذہبی، سیاسی، سماجی و معاشرتی اور اخلاقی قدریں بآسانی معلوم ہوجائیں گی۔ خاص طور پر ہندو مذہب ، ان کی ثقافت سے واقفیت حاصل ہوجائے گی۔ کسی بھی مشترکہ تہذیب میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی تہذیب کو جاننے کے ساتھ ساتھ دیگر ہم عصر اور ہم معاشرہ تہذیبوں کا سنجیدگی اور رواداری سے نہ صرف مطالعہ کیا جائے بلکہ ان کی خوبیوں اور اچھائیوں کو بھی اجاگر کیا جائے۔ امید ہے یہ کتاب بہت حد تک اس امر کو پورا کرنے میں مدد کرے گی۔
—-
مضمون نگار: اسلامک اسکالر، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔
ایمیل: ubfzdqasmi@gmail.com
---------
Part1: Professor Sheikh Khurshid's Views on Hinduism-Part-1 ہندو دھرم سے متعلق پروفیسر شیخ خورشید کے افکار
URL: https://newageislam.com/urdu-section/professor-sheikh-khurshid-views-hinduism-part-2/d/140651
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism