ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام
5مئی،2026
ماحول اور معاشرے کو آلودگی سے پاک صاف رکھنے کے لیے بنیادی طور پر حسن اخلاق اور حسن معاشرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جب معاشرے میں بد اخلاقی یا تہذیبی آلودگی فروغ پاتی ہے تو اس کے اثرات ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے مرتب ہوتے ہیں ۔ بدکردار یا اخلاقی اقدار کی پامالی کے منفی نتائج کا ہم نے بارہا مشاہدہ کیا ہے ،اسی طرح دنیا یہ بھی بخوبی جانتی ہے کہ جن معاشروں نے حسن کردار و عمل اور حسن گفتار و اخلاق کو اختیار کیا ہے تو ان کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات میں جھلملا رہے ہیں ۔
جن رویوں اور کرداروں سے معاشرے میں بد امنی، آلودگی اور بد گمانی یا اس طرح کی دیگر سماجی برائیاں پھیلتی ہیں وہ اب ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوتے جا رہے ہیں ۔ یہ تمام ایسے عوامل ہیں جن کا تعلق بد اخلاقی اور بد تہذیبی سے ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ ماحول کو بگاڑنے کے لیے آج جتنے جتن کیے جارہے ہیں اگر ہم اس کا نصف بھی ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے کریں تو حالات بالکل بہتر اور ماحول خوشگوار ہو جائے گا ۔ رواں حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اب لوگوں کے اندر سے ذمہ داری کا احساس ختم ہورہا ہے، حق تلفی بڑھ رہی ہے، بڑوں کی عزت پامال کی جارہی ہے ، چھوٹوں پر شفقت کا معاملہ نہیں کیا جارہاہے ۔ خواتین کی عزت اور ان کے حقوق کو غصب کیا جارہا ہے ، صلاحیت مند اور اہل نوجوانوں کو مواقع نہیں مل رہے ہیں ، علم و فضل کی قدر گھٹ رہی ہے ، خیانت اور جھوٹ عام ہونے لگا ہے ۔ یہ اور اس طرح کے تمام منفی عناصر معاشرے کا توازن بگاڑ رہے ہیں ۔ ظاہر ہے جب معاشرے کا توازن بگڑتا ہے تو پھر اس کے سنگین نتائج نوع انسانی کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں ۔ اس لیے معاشرے کو آلودگی سے بچانے کے لیے اخلاقی اقدار پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ مذہب انسان کو ان خطوط کا پابند بناتا ہے جن سے معاشرے میں کسی بھی طرح کی آلودگی پیدا نہ ہو، لیکن انسان کے باغی مزاج نے ان تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا جس کی وجہ سے معاشرتی آلودگی پیدا ہورہی ہے ۔ چنانچہ مذہب اسلام نے نوع انسانی کی تربیت سازی ، کردار سازی اور اخلاق سازی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ واقعی معاشرتی آلودگی کے خاتمہ کے لیے کافی ہے ۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اسلام کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کریں ۔ اسلام نے سب سے پہلے انسان کو اس بات کی تلقین کی کہ وہ ایمان اختیار کرے ، اگر صحیح معنوں کوئی بھی انسان ایمان و عمل سے وابستہ ہو جائے تو واقعی وہ ان تمام عناصر سے محفوظ ہو جائے گا جن کی وجہ سے معاشرے میں آلودگی پیدا ہوتی ہے ۔ ایمان سے وابستگی یہ احساس بیدار کرتی ہے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے ۔ اسلام نے تمام سماجی برائیوں اور ناجائز رسومات کی سختی سے نکیر کی ہے ۔ اسی طرح ان تمام عناصر کے خاتمہ کی پالیسی تیار کی ہے جو معاشرے میں آلودگی پیدا کرتے ہیں ۔
ایمان کے ساتھ دوسری اہم چیز عمل صالح ہے کہ اگر انسان ایمان اور عمل صالح کا مجموعہ بن جائے تو معاشرے میں واقعی کسی بھی طرح کا پولیوش نہیں رہے گا ۔ آج المیہ یہی ہے کہ ہماری زندگی کے اعمال اور کردار میں مطابقت یا ہم آہنگی نہیں ہے ۔ جب عمل اور کردار میں ہم آہنگی اور مطابقت ہوجاتی ہے تو پھر وہی چیزیں صادر ہوتی ہیں جن سے معاشرے میں تعمیری افکار و خیالات پروان جڑھ سکیں ۔ اور ایک دوسرے کا خیال رکھا جائے ۔
ایمان اور عمل صالح سے معاشرے میں جو حسن پیدا ہوتا ہے وہ اپنے آپ میں بڑی اہمیت اور افادیت کا حامل ہے ۔ اس لیے ایک صحت مند اور مہذب سماج تشکیل دینے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں رہنے والے تمام ہی افراد ایمان اور عمل صالح کو ترجیحی طور پر اختیار کریں ۔ ایمان اور عمل صالح کے متعلق قرآن مجید میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بھی تقاضا یہی ہے کہ سوسائٹی میں حسنات اور اخلاقی اقدار بحال ہوں ۔
ایمان اور عمل صالح کو اختیار کرنے والوں کو کامیاب اور اس کے بر عکس رویہ اختیار کرنے والوں کو قرآن مجید خسران میں شمار کرتا ہے ۔ سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے سنگم سے انسان کے اندر اخلاقی اور تہذیبی قدریں جاگزیں ہوتی ہیں اور جب وہ ان قدروں کا اظہار اپنی زندگی میں کرتا ہے تو پھر اس کے نتائج بڑے امید افزا اور اطمینان بخش ہوتے ہیں ۔ جب ہم سماج میں ایمان اور عمل صالح سے متصف شخص کا کسی ایسے فرد سے تقابل کرتے ہیں جو ان خصوصیات سے وابستہ نہیں ہے تو پتہ چلتا ہے کہ عمل صالح کے مثبت اثرات کیا ہیں اور بدکرادی کے اثرات کیا ہیں ۔
اسلام نے حسن اخلاق اور بہتر تربیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے حکم دیا ہے ۔ حسد ، جلن ، بغض ، کینہ پروری ماحول کو صرف آلودہ ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے سماج میں بد امنی بھی پیدا ہوتی ہے ۔ اس لیے اس طرح کی باتوں سے بچنا نہایت ضروری ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حسد کسے کہا جاتا ہے ۔ چنانچہ حسد کی تعریف علماء نے اس طرح کی ہے:
" دوسرے شخص کی نعمت کے زوال کی تمنا کرنا حسد کہلاتا ہے ۔ اور یہ حرام ہے۔" اہم بات یہ ہے کہ خدا نے کسی کو کوئی نعمت عطا کی ہے تو اس نعمت کے زوال کی خواہش کسی دوسرے کے دل میں کیوں پیدا ہورہی ہے۔ ؟ خدا کی دی ہوئی نعمت کو کوئی کیسے روک سکتا ہے ۔ اگر کوئی حسد جیسے گناء کا ارتکاب کر رہا ہے تو وہ یقیناً بد اخلاقی کا مظاہرہ کررہا ہے اور اس کا یہ عمل معاشرے میں آلودگی پیدا کرتاہے ۔ اسلامی تعلیمات میں حسد کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَآ اٰتَاهُـمُ اللّـٰهُ مِنْ فَضْلِـهٖ ۖ ۔ ( النساء: 54)
"یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے۔"
اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد سے بچنے کی ہدایت کی ہے اور اس کے نقصان کو بھی بتایا ہے ۔ چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ۔
( سنن ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فی الحسد)
"ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو"
حسد کے علاوہ عناصر جو معاشرے میں آلودگی اور فساد و فتنہ برپا کرتے ہیں ان میں غیبت اور الزام تراشی بھی شامل ہے ۔ اسی وجہ سے اسلام نے غیںت کرنے اور کسی پر بہتان باندھنے سے بھی روکا گیا ہے ۔ تاکہ لوگوں کی عزت و آبرو کا احترام ہوسکے ۔ غیبت اور بہتان لگا کر ماحول کو آلودہ نہیں کرنا چاہیے ۔ مگر غیبت آج کل کا فیشن بن گیا ہے ۔ اسی طرح بلا ثبوت کے یوں ہی ہم ایک دوسرے پر الزام عائد کردیتے ہیں ۔ اس لیے اگر معاشرے کو آلودگی سے بچانا ہے تو غیبت اور الزام تراشی جیسے گناہوں سے خود کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے ۔
آج بد اخلاقی اور اس سے مرتب ہونے والے اثرات و مظاہر سے معاشرہ اور ماحول بری طرح آلودہ ہوتا دکھ رہا ہے ۔ آلودگی کے منفی اثرات نے نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر اہم افراد کو بھی کسی نہ کسی حد تک اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس لیے بنیادی طور پر ہمیں ان خطوط پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جن پر چل کر معاشرہ بد اخلاقی سے بچ جائے ۔
—-
مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔
--------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/environmental-pollution-moral-values/d/139899
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism