New Age Islam
Sun May 17 2026, 05:43 AM

Urdu Section ( 27 Apr 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Environmental Pollution in Islam- Part-6 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

( قسط ششم)

27 اپریل 2026

 اگر ٹھیک سے قدرتی وسائل کا تحفظ  کیا جائے تو لازمی طور پر ماحول کو آلودگی اور گندگی سے بچایا جاسکتا ہے ۔ سابقہ قسطوں میں ہم نے پڑھا کہ پانی ، ہوا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں اور قدرتی وسائل ہیں اس لیے پانی اور فضاء کو آلودہ ہونے سے محفوظ رکھنا ہے ۔ اسی طرح قدرتی وسائل کے زمرے میں زمین بھی آتی ہے ۔ زمین کا تحفظ اس لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے انسانیت کے لیے جائے قرار، رزق  کا ذریعہ ، متوازن اور نشان عبرت یعنی اللہ کی نشانی بنایا ہے ۔

زمین کو تحفظ کیسے کیا جائے اور اس کو آلودگی سے کیسے بچایا جائے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حتی المقدور سعی کرنی چاہیے کہ ہم زمین کو گندگی سے بچائیں تو وہیں ہمیں فساد و فتنہ برپا کرکے بھی زمین میں آلودگی نہیں پھیلانی چاہیے ۔

زمین اِنسانیت کے لیے جائے قرار اور بقا ہے

اللہ تعالیٰ نے زمین کی شکل میں انسانیت کو کتنی عظیم اور بڑی نعمت عطا کی ہے اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے ۔ تصور کیجیے! یہ  وہی زمین ہےکہ  ہم  جس پر رہتے ہیں ، زندگی گزارتے ہیں ، بڑے بڑے گھر بناتے ہیں ۔ فیکٹریاں بناتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ یہی نہیں بلکہ زمین جانداروں کی بقا میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے ۔ اسی لیے قرآن کریم نے زمین کو جانداروں کے قیام کا ذریعہ، جائے مسکن اور جائے قرار بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِى الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْـهَا مَعَايِشَ ۗ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ - ( الاعراف: 10)

"اور ہم نے تمہیں زمین میں جگہ دی اور اس میں تمہاری زندگی کا سامان بنا دیا، تم بہت کم شکر کرتے ہو۔"

اللہ تعالیٰ نے زمیں پر انسان کو بسایا اور اسے پھر یہ قوت و تصرف عطا فرمایا کہ اس میں ودیعت کیے ہوئے خزانوں کو شائستگی اور سلیقہ سے حاصل کرے تاکہ زمین آلودہ ہونے سے محفوظ رہے ۔ اس تناظر میں مفتی شفیع عثمانی کا ذیل کا اقتباس ملاحظہ کیجیے:

" اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرما کر حق کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب اس طرح دی گئی کہ ہم نے تم کو زمین پر پوری قدرت اور تصرف مالکانہ عطا کیا، اور پھر اس میں تمھارے لیے سامان عیش حاصل کرنے کے ہزاروں راستے کھول دیئے، گویا رب العالمین نے زمین کو انسان کی تمام ضروریات سے لے کر تفریحی سامان تک کا عظیم الشان گودام بنا دیا ہے، اور تمام انسانی ضروریات کو اس کے اندر پیدا فرما دیا ہے ، اب انسان کا کام صرف اتنا ہے کہ اس گودام سے اپنی ضروریات کو نکالنے اور ان کے استعمال کرنے کے طریقوں کو سیکھ لے انسان کے ہر علم و فن اور سانس کی نئی سے نئی ایجاد کا اصل اس کے سوا کچھ نہیں کہ خالق کا ئنات کی پیدا کی ہوئی چیزیں جو زمین کے گودام میں محفوظ ہیں، ان کو سلیقہ کے ساتھ نکالے اور صحیح طریقہ سے استعمال کرے ، بیوقوف اور بد سلیقہ آدمی جو اس گودام سے نکالنے کا  طریقہ نہیں جانتا، یا پھر نکال کر اس کے استعمال کا طریقہ نہیں سمجھتا وہ ان کے منافع سے محروم رہتا ہے، سمجھدار انسان دونوں چیزوں کو سمجھ کر ان سے سے نفع اٹھاتا ہے۔ "

( معارف القرآن ، جلد سوم: صفحہ: 524)

دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ زمین تمہارے لیے فرش بنائی اور اتنی ہموار ہے کہ تم اس پر بلا کسی پریشانی کے آرام کرسکتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّـٰهِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ ( البقرہ: 22)

" جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل نکالے، سو کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ حالانکہ تم جانتے بھی ہو۔"

آیت کے ذیل میں مفتی شفیع عثمانی نے لکھا ہے:

" ان آفاقی نعمتوں میں سے زمین کی پیدائش کا ذکر ہے، کہ اس کو انسان کے لیے فرش بنا دیا ، نہ پانی کی طرح نرم ہے ، جس پر قرار نہ ہو سکے ، اور نہ لو ہے ، پتھر کی طرح سخت ہے کہ ہم اسے اپنی ضرورت کے مطابق آسانی سے استعمال نہ کر سکیں، بلکہ نرمی اور سختی کے درمیان ایسا بنا یا گیا جو عام انسانی ضروریات زندگی میں کام دے سکے ۔

فراش کے لفظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین گول نہ ہو، کیونکہ زمین کا یہ عظیم الشان کرہ گول ہونے کے باوجود دیکھنے میں ایک سطح نظر آتا ہے ، اور قرآن کا عام طرز یہی ہے کہ ہر چیز کی وہ کیفیت بیان کرتا ہے جس کو ہر دیکھنے والا عالم ، جاہل ، شہری دیہاتی سمجھ سکے۔"

( معارف القرآن ، جلد اوّل ، صفحہ: 134)

زمین میں پائی جانے والی معدنیات ، انسانوں اور دیگر جانداروں کی زندگی کی بقاء کے لیے ضروری ہوتے ہیں ، بیشتر جاندار بشمول انسان اپنی غذا زمین سے حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں جو نعمتیں رکھی ہیں وہ انسانیت کے نفع کے لیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں راستے بنائے تاکہ تو اپنی ضرورت کے حساب سے ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے جاسکو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّسَلَكَ لَكُمْ فِيْـهَا سُبُلًا وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۖ فَاَخْرَجْنَا بِهٓ ٖ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّـٰى ۔( طہ 53)

"جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا، پھر ہم نے اس میں طرح طرح کی مختلف سبزیاں نکالیں."

زمین انسانیت کی بقا کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ زمین ہی سے اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی نعمتیں نکالی جن کو انسان اپنے لیے استعمال کرتا ہے ۔ اس لیے زمین کا تحفظ  ضروری ہے ۔ ہر اعتبار سے ضروری ہے ۔ ایک  ظاہری طور پر ہم مٹی کو گندہ ہونے سے بچائیں، دوسرے یہ کہ زمین میں فساد و فتنہ بپا کرکے ماحول کو آلودہ نہ کریں ۔

جب زمین میں کسی طرح کا فساد برپا ہوتا ہے تو صرف ماحول ہی آلودہ نہیں ہوتا ہے بلکہ انسانیت کا امن و سکون  بری طرح متاثر ہوتا ہے ۔ اس لیے لازمی طور پر ہم معاشرے میں ایسے اعمال سے گریز کریں جو کسی بھی طرح سے زمین کو آلودہ کرتے ہوں ۔

—-

مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

-----------

Part: 1- Environmental Pollution in Islam-Part-1 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part: 2- Environmental Pollution in Islam- Part-2 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part: 3- Environmental Pollution in Islam-Part-3 اسلام میں ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part: 4- Environmental Pollution in Islam-Part-4 ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

Part: 5- Environmental Pollution in Islam-Part-5 ماحولیاتی آلودگی کا جامع تصور

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/environmental-pollution-islam-part-6/d/139807

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..